أیسعیاہ ۴۵

(‏۶)‏ خدا کے ممسوح خورس سے تسلی (‏باب ۴۵)‏

۴۵:‏ ۱۔۶ خداوند خورس کو اپنا ممسوح کہتا ہے۔ (‏عبرانی میں یہ لفظ مسایاح ہے جس کا اُردو میں ترجمہ مسیحِ موعود کیا گیا ہے۔)‏ اُسے ممسوح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ فارس کا یہ شہنشاہ مسیحِ موعود کا مثیل تھا جو اپنے لوگوں کو مخلصی دے گا۔ یہوواہ وعدہ کرتا ہے کہ مَیں اُسے اُمتوں پر فتح بخشوں گا جن میں اہم ترین قوم بابل ہے‏، مَیں اُس کی فتوحات کی راہ سے رکاوٹیں دُور کروں گا اور ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے بڑی مقدار میں اُس کے حوالے کروں گا۔ خورس کو مخاطب کرتے ہوئے خداوند اپنے حق میں کہتا ہے کہ مَیں ہی واحد حقیقی خدا ہوں جس نے تجھے (‏خورس کو)‏ نام لے کر بلایا ہے اور تجھے ممسوح اور چرواہا (‏۴۴:‏ ۲۸)‏ کا لقب دیا ہے اور تجھے اُس کام کے لئے تیار اور کمربستہ کیا ہے جو تجھے کرنا ہے۔ خدا یہ سب کچھ اپنے لوگوں (‏اسرائیل)‏ کی خاطر کرتا ہے تاکہ ساری دُنیا جان لے کہ صرف وہی خداوند (‏یہوواہ)‏ ہے۔ 

۴۵:‏ ۷ آیت ۷ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اخلاقی بُرائی خدا نے پیدا کی ہے۔ بعض لوگ الفاظ کے ظاہر معنوں کے باعث یہ دعویٰ کرنے کی غلطی کرتے ہیں۔ ڈیلیش (‏Delitzsch)‏ بیان کرتا ہے کہ ابتدائی دَور کا مسیحی بدعتی مارقیون اور اِسی جیسے بدعتی اور غناسطی فرقے کے لوگوں نے اِس آیت کا بالکل غلط استعمال کر کے یہ تعلیم دی کہ پرانے عہدنامے کا خدا نئے عہدنامے کے خدا سے فرق ہستی ہے۔

بُرائی کے مسئلے (‏بلاشبہ بلا یا آفت سمیت)‏ پر بات کرتے ہوئے ڈیلیش کہتا ہے ’’اِس میں کوئی شک نہیں کہ بُرائی بہ حیثیت ایک فعل کے خدا کا براہِ راست کام نہیں بلکہ مخلوق کا اِختیاری کام ہے جسے آزادی عطا کی گئی ہے۔‘‘

زیر نظر سیاق و سباق میں تقابل روشنی اور اِس کی ضد تاریکی میں اور سلامتی اور اِس کی ضد بلا کے درمیان ہے۔ جس بات کی خدا اِجازت دیتا ہے اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ اُس نے پیدا کی ہے۔ بعض علما کا خیال ہے کہ روشنی اور تاریکی اُن دو اُصولوں کا حوالہ ہیں جن کی قادس کے لوگ بہ حیثیت دو خداؤں کے عملی طور پر تعظیم کرتے ہیں اور جو ہمیشہ ایک دوسرے سے برسرِپیکار رہتے ہیں (‏دوسرے علما توجہ دلاتے ہیں کہ ایسی کوئی شہادت نہیں کہ خورس اِس مذہب کی پیروی کرتا تھا)‏۔ جب خورس اپنی مہمات میں طوفان کی طرح آگے بڑھے گا تو اِسرائیل کے لئے سلامتی اور اُس کے مخالفوں کے لئے بلا (‏آفت)‏ ہو گی۔ خدا اِس ساری کارروائی کی نگرانی کرے گا۔

۴۵:‏۸ راست بازی (‏یا عدل / اِنصاف)‏ اور نجات (‏یا مخلصی/ رہائی)‏ کے مثالی حالات جن کا یہاں ذکر ہے وہ چھوٹے پیمانے میں اُس وقت پیدا ہوں گے جب خورس اسرائیل کی خاطر مداخلت کرے گا۔ اِن کی کامل تکمیل ہزار رسالہ بادشاہی کے دَور کی منتظر ہے۔ 

۴۵:‏ ۹۔۱۱ اِس شخص پر افسوس کا اعلان کیا گیا جو یہوواہ کے اِس حق پر اعتراض کرے گا کہ وہ یہوداہ کو چھڑانے کے لئے کسی اجنبی کو استعمال کر سکتا ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے مٹی کمہار سے کہے کہ تیرے تو ہاتھ نہیں تُو بے بس ہے۔ آیت ۱۱ میں پوچھے گئے سوالات کا جواب درکار نہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدا اُس سے پوچھتا ہے کہ تمہیں یہ سوالات پوچھنے کا کس نے حق دیا؟

۴۵:‏ ۱۲‏،۱۳ جس نے اِنسان کو پیدا کیا‏، آسمان کو تانا اور زمین بنائی‏، اُسی نے خورس کو برپا کیا تاکہ اُس کے اسیروں کو آزاد کرے اور اُس کا شہر یروشلیم تعمیر کرے۔ اگرچہ فی الواقع شہر کی تعمیر نَو کچھ عرصے بعد ارتخششتا بادشاہ کے فرماں سے ہوئی (‏نحمیاہ ۲:‏۸ ب)‏ تاہم خورس کی قیادت تھی جس نے اِس منصوبے کی بنیاد رکھی کیونکہ اُس نے یہودیوں کو بابل سے اپنے وطن واپس جانے کی اِجازت دی۔ 

۴۵:‏ ۱۴۔۱۷ اِسرائیل کے سابق دشمن ایک دن تحفے تحائف اور خراج لے کر اُس کے پاس آئیں گے اور اِقرار کریں گے کہ یہودیوں کا خدا ہی حقیقی خدا ہے اور اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ یہ وعدہ اور خدا کے دوسرے سارے سلوک نجات یافتہ بقیہ کو خدا کی حمد و ستائش کرنے پر اُبھارتے ہیں کیونکہ اُس کے فیصلے اِدراک سے پرے اور اُس کی راہیں دریافت سے باہر ہیں۔ جھوٹے معبودوں اور بتوں کے بنانے والے اور اُن کی پوجا کرنے والے سب ’’پشیمان اور سراسیمہ‘‘ ہوں گے‏، جب کہ اِسرائیل جسے خداوند نے ابدی نجات دی ہے وہ مسیحِ موعود کی دوسری آمد کے بعد کبھی پشیمان اور سراسیمہ نہ ہو گا۔

۴۵:‏ ۱۸‏،۱۹ جب خداوند نے زمین بنائی تو اُس نے اُسے عبث پیدا نہیں کیا۔ (‏یہاں جس لفظ کا ترجمہ عبث کیا گیا ہے وہ لفظ تُہُو ہے جو پیدائش ۱:‏۲ میں آیا ہے اور جس کا مطلب ہے‏، ’ویران و سنسان‘)‏‏، اُس نے زمین کو اِنسانوں کی آبادی کے لئے بنایا اور آراستہ کیا۔ پھر اُس نے اپنے آپ کو صاف اور قابلِ فہم زبان میں انسان پر ظاہر کیا۔ اُس نے نہ تو کچھ عبث پیدا کیا اور نہ عبث کوئی بات (‏گفتگو کے ذریعے رابطہ)‏ کی۔ بلکہ اُس نے سچائی اور راستی سے اپنے آپ کو ظاہر کیا کہ وہی قائم بالذات خدا اور اعلیٰ ترین ہستی ہے۔

۴۵:‏ ۲۰‏،۲۱ وہ غیر قوموں کو بلاتا ہے جو بے بس اور بے طاقت دیوتاؤں سے دعائیں مانگتی اور اُن کے بتوں کو بازوؤں میں اُٹھائے پھرتی ہیں۔ وہ اُن سے مطالبہ کرتا ہے کہ ثبوت لاؤ کہ تمہارے بت مستقبل کی پیش گوئیاں کر سکتے ہیں۔ ایسا صرف مَیں ہی کر سکتا ہوں۔ صادق القول اور نجات دینے والا خدا مَیں اور صرف مَیں ہوں۔

۴۵:‏ ۲۲۔۲۵ وہ غیر قوموں کو دعوت دیتا ہے کہ نجات پانے کے لئے میرے پاس آؤ اور فیصلہ صادر کرتا ہے کہ ہر ایک گھٹنا میرے حضور جھکے گا اور ہر ایک زبان میرا اِقرار کرے گی (‏دیکھئے رومیوں ۱۴:‏ ۱۱؛ فلپیوں ۲:‏ ۹۔۱۱)‏۔ یہ سب کچھ ہزار سالہ بادشاہی کے وقت پورا ہو گا۔ اُس وقت سب اِنسان تسلیم اور اِقرار کریں گے کہ خداوند یسوع راست بازی اور توانائی کا واحد سرچشمہ ہے۔ اُس کے سب دشمن پشیمان ہو کر اُس کے پاس حاضر ہوں گے اور اِسرائیل صادق ٹھہرے گا اور بتوں پر نہیں بلکہ یہوواہ پر فخر کرے گا۔

مقدس کتاب

۱ خداوند اپنے ممسوح خورس کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ میں نے اسکا دہنا ہاتھ پکڑ ا کہ امتوں کو اسکے سامنے زیر کروں اور بادشاہوں کی کمریں کھلوا ڈالوں اوردروازوں کو اسکے سامنے کھول دوں اور پھاٹک بند نہ کیے جائینگے۔
۲ میں تیرے آگے آگے چلونگا اور ناہموار جگہ کو ہموار بنادونگا میں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرونگا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالونگا۔
۳ اور میں ظلمات کے خزانے اور پوشیدہ مکانوں کے دفینے تجھے دونگا تاکہ تو جانے کہ میں خداوند اسرائیل کا خدا ہوں جس نے تجھے نام لیکر بلایا ہے۔
۴ میں نے اپنے خادم یعقوب اور اپنے برگذیدہ اسرائیل کی خاطر تجھے نام لیکر بلایا میں نے تجھے ایک لقب بخشا۔ اگرچہ تو مجھ کو نہیں جانتا۔
۵ میں ہی خداوند ہوں اور کوئی نہیں میرے سوا کوئی خدا نہیں۔ میں نے تیری کمر باندھی اگرچہ تو نے مجھے نہ پہچانا۔
۶ تاکہ مشرق سے مغرب تک لوگ جان لیں کہ میرے سوا کوئی نہیں میں ہی خداوند ہوں میرے سوا کوئی دوسرا نہیں۔
۷ میں ہی روشنی کا موجد اور تاریکی کا خالق ہوں۔ میں سلامتی کا بانی اور بلا کو پیدا کرنے والا ہوں میں ہی خداوند یہ سب کچھ کرنے والا ہوں۔
۸ اے آسمان اوپر سے پٹک پڑ! ہاں بادل راستبازی برسائیں۔ زمین کھل جائے اورنجات اورصداقت کا پھل لائے۔ وہ انکو اکٹھے اگائے۔ میں خداوند اسکا پیدا کرنے والا ہوں۔
۹ افسوس اس پر جو اپنے خالق سے جھگڑتا ہے! ٹھیکرا تو زمین کی ٹھیکروں میں سے ہے کیا مٹی کمہار سے کہے کہ تو کیا بناتا ہے؟ کیا تیری دستکاری کہے اسکے تو ہاتھ نہیں؟ ۔
۱۰ اس پر افسوس جو باپ سے کہے کہ تو کس چیز کا والد ہے؟ اور ماں سے کہے کہ تو کس چیز کی والدہ ہے؟ ۔
۱۱ خداوند اسرائیل کا قدوس اور خالق یوں فرماتا ہےکیا تم آنے والی چیزوں کی بابت مجھ سے پوچھو گے ؟ کیا تم میرے بیٹوں یا میری دستکاری کی بابت مجھے حکم دو گے ؟ ۔
۱۲ میں نے زمین بنائی اس پر انسان کو پیدا کیا اورمیں ہی نے آسمان کو تانا اور اسکے سب لشکروں پر میں نے حکم کیا۔
۱۳ رب الاافواج فرماتا ہے میں نے اسکو صداقت میں برپا کیا ہے اور میں اسکی تمام راہوں کو ہموار کرونگا وہ میرا شہر بنائیگا اور میرے اسیروں کو بغیر قیمت اور عوض لئے آزاد کر دیگا۔
۱۴ خداوند یوں فرماتا ہے کہ مصرکی دولت اور کوش کی تجارت اور سبا کے قد آور لوگ تیرے پاس آئینگے اورتیرے ہونگے وہ تیری پیروی کرینگے وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اپنا ملک چھوڑ کر آئینگے اور تیرے حضور سجدہ کرینگے۔ وہ تیری منت کرینگے اور کہینگے یقیناً خدا تجھ میں ہے اور کوئی دوسرا نہیں اور اسکے سوا کوئی خدا نہیں۔
۱۵ اے اسرائیل کے خدا اے نجات دینے والے یقیناً تو پوشیدہ خدا ہے۔
۱۶ بت خانے والے سب کے سب پشیمان اور سراسیمہ ہونگے ۔ وہ سب کے سب شرمندہ ہونگے۔
۱۷ لیکن خداوند اسرائیل کو بچا کر ابدی نجات بخشے گا تم ابدالآباد تک کبھی پشیمان اور سراسیمہ نہ ہو گے۔
۱۸ کیونکہ خداوند جس نے آسمان پیدا کیے وہی خدا ہے۔ اسی نے زمین بنائی اور تیار کی اسی نے اسے قائم کیا اس نے اسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اسکو آبادی کے لیے آراستہ کیا ۔ وہ یوں فرماتا ہے کہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔
۱۹ میں نے زمین کی کسی تاریک جگہ میں پوشیدگی میں تو کلام نہیں کیا۔ میں نے یعقوب کی نسل کو نہیں فرمایا کہ عبث میرے طالب ہو ۔ میں خداوند سچ کہتا ہوں اورراستی باتیں بیان فرماتا ہوں۔
۲۰ تم جو قوموں میں سے بچ نکلے ہو جمع ہو کر آؤ۔ ملکر نزدیک ہو ۔ وہ جو اپنی لکڑی کی کھودی ہوئی مورت لیے پھرتے ہیں اور ایسے معبود سے دعا کرتے ہیں جو بچا نہیں سکتا دانش سے خالی ہیں۔
۲۱ تم منادی کرو اور انکو نزدیک لاؤ ۔ ہاں وہ باہم مشورت کریں۔ کس نے قدیم سے ہی یہ ظاہر کیا؟ کس نے قدیم آیام میں اسکی خبر پہلے ہی سے دی؟ کیا میں خداوند نے ہی یہ نہیں کیا؟ سو میرے سوا کوئی خدا نہیں ۔ صادق القول اور نجات دینے والا خدا میرے سوا کوئی نہیں۔
۲۲ اے انتہایِ زمین کے سب رہنے والو تم میری طرف متوجہ ہو اور نجات پاؤ کیونکہ میں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔
۲۳ میں نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کلامِ صدق میرے منہ سے نکلا ہے اوریہ ٹلیگا نہیں کہ ہر ایک گھٹنا میرے حضور جھکے گا اور ہر ایک زبان میں میری قسم کھائیگی۔
۲۴ میرے حق میں ہر ایک کہے گا کہ یقیناً خداوند ہی میں رستبازی اورتوانائی ہے ۔ اسی کے پاس وہ آئیگا اور سب جو اس سے بیزار تھے پشیمان ہونگے۔
۲۵ اسرائیل کی کل نسل خداوند میں صادق ٹھہرے گی اور اس پر فکر کریگی۔