د۔ دیگر قوموں کے خلاف فیصلے (ابواب ۱۳۔۲۴)
(۱) بابل کے خلاف فیصلہ (۱۳: ۱۔۱۴:۳۲)
۱۳: ۱۔۵ اگلے گیارہ ابواب غیر اقوام کے خلاف نبوتوں پر مشتمل ہیں۔ پہلے بابل ہے۔ اِس عالمی طاقت نے اسور کو کچلا تھا (تقریباً ۶۰۹ ق م)۔ باب ۱۳ میں ہم دیکھتے ہیں کہ مادی فارسی اِس مملکت (بابل) کو فتح کر لیتے ہیں (۵۳۹ ق م)۔ تاہم بعض پیش گوئیاں اِس واقعے سے آگے بابل کی اُس مکمل تباہی و بربادی کو دیکھتی ہیں جو بڑی مصیبت کے اِختتام کے قریب ہو گی (مکاشفہ ابواب ۱۷،۱۸)۔
خدا مادی فارسی لشکر (’’اپنے مخصوص لوگوں‘‘) کو فراہم کرتا ہے کہ سرداروں کے دروازوں (بابل شہر) کے اندر جائیں اور تمام ملک کو برباد کریں۔
۱۳: ۶۔۱۳ یہاں آفت کی تباہ کاریوں اور خوف کا بیان کیا گیا ہے __ ڈر اور غمگینی، آسمان پر خوف ناک ابتری اور آبادی میں دہشت ناک کمی۔ اِن میں سے بعض آیات مادی فارسی فتوحات سے آگے خداوند کے دن کی بات کرتی ہیں جو ساری دُنیا کو متاثر کرے گا اور جب آسمان میں واقعی زبردست انقلاب برپا ہوں گے۔
۱۳: ۱۴۔۲۲ بابل سے بہت بڑی تعداد میں لوگ نکل جائیں گے۔ جلاوطن لوگ اپنے اپنے وطن کو واپس جائیں گے۔ جو پیچھے رہ جائیں گے اُنہیں ناقابلِ بیان ظلم اور بے رحمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آیات ۱۹۔۲۲ جزوی طور پر پوری ہو چکی ہیں، لیکن پورے طور پر اِن کی تکمیل مستقبل میں ہو گی۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ بابل شہر اور ملک دونوں کی تباہی کی پیش گوئیوں کی تشریح کرنے میں چند مشکلات ہیں (یسعیاہ ۱۳: ۶۔۲۲؛ ۱۴: ۴۔۲۳؛ ۲۱: ۲۔۹؛ ۴۷: ۱۔۱۱؛ یرمیاہ ۲۵: ۱۲۔۱۴؛ ۵۰ اور ۵۱ باب)۔ مثال کے طور پر ۵۳۹ ق م میں مادیوں نے شہر پر قبضہ کر لیا (یسعیاہ ۱۳:۱۷) لیکن وہ سدوم اور عمورہ کی طرح تباہ نہ ہوا (یسعیاہ ۱۳: ۱۹) اور نہ ہمیشہ کے لئے غیر آباد اور اُجاڑ ہوا (یسعیاہ ۱۳: ۲۰۔۲۲)۔ اور یہ کام شمال سے آنے والی قوم کے ہاتھوں نہ ہوا۔ مادی فارسی تو مشرق سے آئے تھے (یرمیاہ ۵۰:۳)۔ مزید برآں اِس کے نتیجے میں یہ بھی نہ ہوا کہ اِسرائیل یا یہوداہ سے زیادہ کا بقیہ خداوند کا طالب ہوتا اور صیون کو واپس آتا (یرمیاہ ۵۰: ۴،۵) اور اِس میں فصیل کو گرانے اور پھاٹکوں کو جلانے کا عمل بھی نہ ہوا (یرمیاہ ۵۱:۵۸)۔
جب ہمیں ایسی مشکل آ جائے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ سب سے پہلے تو خدا کے کلام پر اپنے ایمان اور یقین کو ازسرِ نو مضبوط کریں۔ اگر کوئی مشکل ہے تو ہمارے علم کی کمی کے باعث ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ انبیا اکثر فوری مستقبل اور مستقبل بعید کو باہم ملا دیتے ہیں اور وقت اور زمانے کا کوئی اشارہ نہیں دیتے۔ دوسرے لفظوں میں ایسی نبوت کی ایک تکمیل مقامی اور فوری ہوتی ہے اور دوسری اور مکمل تکمیل مستقبل بعید میں ہوتی ہے۔ بابل کے معاملے میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔ ساری پیش گوئیاں تو پوری نہیں ہوئیں۔ بعض ابھی تک مستقبل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ بابل ’’بڑی مصیبت‘‘ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ البتہ مکاشفہ باب ۱۷ اور ۱۸ میں اِس کے بُرے انجام کی تصویر بڑے واضح اور شوخ رنگوں میں پیش کی گئی ہے۔ بابل کی بربادی اور تباہی کی ساری پیش گوئیاں الف سے ے تک حرف بہ حرف پوری ہوں گی۔ جو باتیں آج ہمارے لئے دُھندلی اور غیر واضح ہیں اُن لوگوں کے لئے بالکل صاف اور واضح ہوں گی جو اُس زمانے میں موجود ہوں گے۔
مقدس کتاب
۱ بابل کی بابت بار بنوت جو یسعیاہ بن عاموس نے رویا میں پایا۔
۲ تم ننگے پہاڑ پر ایک جھنڈا کھڑا کرو۔ انکو بُلند آواز سے پکارو اور ہاتھ سے اشارہ کرو کہ وہ سرداروں کے دروازوں کے اندر جائیں۔
۳ میں نے اپنے مخصوص لوگوں کو حکم کیا ۔ میں نے اپنے بہادروں کو جو میری خداوندی سے مسرور ہیں بُلایا ہے کہ وہ میرے قہر کو انجام دیں۔
۴ پہاڑوں میں ایک ہجوم کا شور ہے ۔ گویا بڑے لشکر کا ! مملکتوں کی قوموں کے اجتماع کا غوغا ہے ! رب الافواج جنگ کے لیے لشکر جمع کرتا ہے ۔
۵ وہ دور کے ملک سے آسمان کی انتہا سے آتے ہیں ۔ ہاں خداوند اوت اسکے قہر کے ہتھیارتاکہ تمام ملک کو برباد کریں۔
۶ اب تم واویلا کرو کیونکہ خداوند کا دن نزدیک ہے۔ وہ قادر مطلق کی طرف سےبڑی ہلاکت کی مانند آئیگا۔
۷ اس لیے سب ہاتھ ڈھیلے ہوں گے اور ہر ایک کا دل پگھل جائیگا ۔
۸ اور وہ ہراسان ہوں گے جانکنی اورغمگینی ان کو آ لے گی وہ ایسے درد میں مبتلا ہوں گے جیسے عورت زہ کی حالت میں ۔ وہ سراسیمہ ہو کر ایک دوسرے کا منہ دیکھیں گے اور انکے چہرے شعلہ نما ہونگے۔
۹ دیکھو خداوند کا وہ دن آتا ہے جو غضب میں اور قہر شدید میں سخت درشت ہے تاکہ ملک کو ویران کرے اور گنہگاروں کو اس پر سے نیست و نابود کردے۔
۱۰ کیونکہ آسمان کے ستارے اور کواکب بے نور ہو جائیں گے اورسورج طلوع ہوتے ہوتے تاریک ہو جائیگا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا۔
۱۱ اور میں جہان کو اس کی برائی کے سبب سے اورشریروں کو ان کی بدکرداری کے سبب سزا دوں گا اور میں مغرورں کو نیست اور ہیبتناک لوگوں کا گھمنڈ پست کردونگا۔
۱۲ میں آدمی کو خالص سونے سے بلکہ انسان اوفیر کے کندن سے بھی کمیاب بناونگا ۔
۱۳ اس لیے میں آسمانوں لرزاونگا اوررب الافواج کے غضب سے اور اسکے قہر شدید کےزورسے زمین اپنی جگہ سے جھٹکی جائیگی۔
۱۴ اور یوں ہو گا کہ وہ کھدیڑے ہوئے آہو اور لاوارث بھیڑوں کی مانند ہونگے ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے لوگوں کی طرف متوجہ ہو گا اور ہر ایک اپنے وطن کو بھاگے گا۔
۱۵ ہر ایک جو مل جائے آر پار چھیدا جائیگا اور ہر ایک جو پکڑا جائے تلوار سے قتل کیا جائیگا۔
۱۶ اور انکے بال بچےانکی آنکھوں کے سامنے پارہ پارہ ہونگے ۔ انکے گھر لوٹے جائیں گے اور انکی عورتوں کیبے حرمتی ہو گی ۔
۱۷ دیکھو میں بادلوں کو انکے خلاف برانگیختہ کرونگا جو چاندی کو خاطر میں نہیں لاتے اورسونے سے خوش نہیں ہوتے۔
۱۸ انکی کمانیں جوانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینگی اور وہ شیر خواروں پر ترس نہ کھائینگے اور چھوٹے بچوں پر رحم کی نظر نہ کرینگے۔
۱۹ اور بابل جو مملکتوں کی حشمت اور کسدیوں کی بزرگیکی رونق ہے سدوم اورعمورہ کی مانند ہو جائیگا جنکو خدا نے الٹ دیا ۔
۲۰ اور وہ ابد تک آباد نہ ہو گا اور پشت در پشت اس میں کوئی نہ بسے گا۔ وہاں عرب ہرگز خیمے نہ لگائینگے اوروہاں گڈرے گلوں کو نہ بٹھائیں گے۔
۲۱ پر بن کے جنگلی درندے وہاں بیٹھینگے اور ان کے گھروں میں اُلو بھرے ہونگے ۔ وہاں شتر مرغ بسیں گے اور چھگمانس وہاں ناچینگے۔
۲۲ اور گیدڑ انکے عالیشان مکانوں میں اور بھیڑیے انکے رنگ محلوں میں چلائینگے۔ اسکا وقت نزدیک آ پہنچا ہے اور اسکے دنوں کو اب طول نہیں ہو گا۔