۲۰: ۱۔۶ ۷۱۱ ق م میں سرجون شاہِ اسور کے کمانڈر ترتان نے فلستیوں کا شہر اشدود فتح کر لیا۔ اُس وقت خداوند نے یسعیاہ کو حکم دیا کہ تُو برہنہ (معمولی ستر پوشی) اور ننگے پاؤں پھرا کر۔ یہ مصریوں اور کوشیوں کی تین برس کی رسوائی اور ذلت کا نشان اور اچنبھا تھا جب شاہِ اسور اُن کو فتح کر لے گا۔ اُس وقت یہوداہ کے لوگ سمجھیں گے کہ اسور کے خلاف محافظت کے لئے ہم نے مصر پر بھروسا کر کے کیسی بڑی بے وقوفی کی ہے۔ (چند مفسرین کہتے ہیں کہ آیات ۵ اور ۶ کا اِشارہ فلستیوں یا یہوداہ اور فلستیوں دونوں یعنی فلستین کی پوری سر زمین کی طرف ہے)۔
مقدس کتاب
۱ جس سال سرجون شاہ اسور نے ترتان کو اشدود کی طرف بھیجا اور اس نے آ کر اشدود سے لڑائی کی اور اسے فتح کر لیا۔
۲ اسوقت خداوند نے یسعیاہ بن آموص کی معرفت یوں فرمایا کہ جا اور ٹا ٹ کا لباس اپنی کمر سےکھول ڈال اور اپنے پاؤں سے جوتے اتار۔ سو اس نے ایسا ہی کیا ۔ وہ برہنہ اور ننگے پاؤں پھرا کرتا تھا۔
۳ تب خداوند نے فرمایا جس طرح میرا بندہ یسعیاہ تین برس تک برہنہ اور ننگے پاؤں پھر کیا تاکہ مصریوں اور کوشیوں کےبارے نشان اور اچنبھا ہو۔
۴ اسی طرح شاہ اسور مصری اسیروں اور کوشی جلاوطنوں کو کیا بوڑھے کیاجوان برہنہ اور ننگے پاؤں اور بے پردی سُرنیوں کے ساتھ مصریوں کی رسوائی کے لیے لے جائے گا۔
۵ تب وہ ہراسان ہونگے اور کوش سے جو انکی اُمید گاہ تھی اور مصر سے جو انکا فخر تھا شرمندہ ہونگے۔
۶ اوراسوقت اس ساحل کےباشندے کہینگے دیکھوہماری اُمید گاہ کا یہ حال ہوا جس میں ہم مدد کے لیے بھاگے تاکہ اسور کے بادشاہ سے بچ جائیں۔ پس ہم کس طرح رہائی پائیں ؟ ۔