أیسعیاہ ۴

۴:‏ ۲۔۶ باب ۴ کا باقی حصہ مستقبل میں مسیح کی شان دار بادشاہی کو دیکھتا ہے۔ آیت ۲ میں اِسے ’’روئیدگی‘‘ کہا گیا ہے جو ’’خوبصورت و شاندار‘‘ ہے۔ میتھیو ہنری نے اِن آیات کی تفسیر یوں کی ہے:‏

’’وہ ’خداوند کی شاخ‘ ہے‏، وہ آدمی یعنی وہ شاخ۔ یہ اُس کے نبوتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ’اپنا (‏خدا کا)‏ بندہ یعنی شاخ‏، (‏زکریاہ ۳:‏ ۸؛ ۴:‏ ۱۲)‏۔ ’صادق شاخ‘ (‏یرمیاہ ۲۳:‏ ۵)‏ ’صداقت کی شاخ‘ (‏یرمیاہ ۳۳:‏۱۰)‏‏، یسی کے تنے سے ایک کونپل … اور اُس کی جڑوں سے ایک … شاخ‘ (‏یسعیاہ ۱۱:‏ ۱)‏۔ اور بعض علما کا خیال ہے کہ جب اُسے ’’ناصری‘‘ (‏متی ۲:‏ ۲۳)‏ کہا گیا تو اِسی بات کا اِشارہ ہے۔ یہاں اُسے ’خداوند کی طرف سے روئیدگی‘ کہا گیا ہے کیونکہ اُسے خداوند یہوداہ نے لگایا ہے اور یہ اُسی کی ستائش کے لئے پھلے پھولے گی۔ قدیم کسدی یا کلدانی زبان میں اِس جملے کا ترجمہ ہے ’خداوند کا مسیح یا مسایاح‘ (‏مسیحِ موعود)‏۔‘‘

وہ زمین کا پہلا ’’پھل‘‘ بھی ہے جس میں بحال شدہ اسرائیلی فخر کرتے ہیں۔ اپنی دوسری آمد پر خداوند یسوع بے ایمانوں کو ہلاک کر دے گا۔ نجات یافتہ یہودیوں کے نام ’’یروشلیم کے زندوں میں‘‘ لکھے جائیں گے اور وہ مقدس کہلائیں گے۔ آیت ۴ میں جس دھونے اور گندگی دُور کرنے کا بیان ہے وہ خوش خبری / انجیل کے وسیلے سے نہیں بلکہ ’’روحِ عدل اور روحِ سوزان‘‘ (‏عدالت اور سزا)‏ کے وسیلے سے عمل میں آئے گی۔ کوہِ صیون پر دن کو بادل کا ایک سائبان ہو گا اور رات کو آگے کا روشن شعلہ ہو گا۔ یہ خدا کی محافظت اور پروردگاری کی علامت ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ اُس وقت سات عورتیں ایک مردکو پکڑ کر کہیں گی کہ ہم اپنی روٹی کھائینگی اور اپنے کپڑے پہنیں گی تو ہم سب سے صرف اتنا کر کہ ہم تیرےنام سے کہلائیں تاکہ ہماری شرمندگی مِٹے۔
۲ تب خداوند کی طرف سے روئیدگی خوبصورت و شاندار ہو گی اور زمین کا پھل اُن کے لیے جو بنی اسرائیل میں سے بچ نکلے گالذیذ اورخوشنما ہو گا۔
۳ اور یوں ہو گا کہ جو کوئی صیون میں چھٹ جائیگا اور جوکوئی یروشلیم میں باقی رہے گا بلکہ ہرایک جسکا نام یروشلیم کے باشندوں میں لکھا ہو گا مُقدس کہلائیگا ۔
۴ جب خداوند صیون کی بیٹیوں کی گندگی دور کریگا اور یروشلیم کا خون رُوحِ عدل اور رُوحِ سوزان کے ذریعہ سے دھو ڈالیگا۔
۵ تب خداوند پھر کوہ صیون کےہر ایک مکان پر اوراُس کی مجلس گاہوں پردن کو بادل اوردھواں اوررات کو روشن شعلہ پیدا کریگا۔ تمام جلال پر ایک سایبان ہو گا۔
۶ اور ایک خیمہ ہو گا جو دن کو گرمی میں سایہ دار مکان اور آندھی اور جھڑی کے وقت آرامگاہ اور پناہ کی جگہ ہو۔