۵۔ غارت گر/ ا سُور پر افسوس (باب ۳۳)
۳۳: ۱۔۶ اسور کی غارت گری اور دغابازی اُلٹ کر اُسی پر آ پڑے گی (آیت ۱،۲)۔ پھر خدا کے لوگ مصیبت میں خدا سے رہائی کے لئے دعا مانگتے ہیں۔ جب خدا سرگرمِ عمل ہوتا ہے تو گرج دار آواز سن کر قومیں تتر بتر ہو جاتی ہیں۔ اب یہودیوں کی باری ہے کہ فرار ہوتے ہوئے دشمن کی لُوٹ کا مال پوری طرح بٹور لیں۔ مسیح تخت نشین ہوتا ہے اور ’’عدالت اور صداقت سے صیون کو معمور‘‘ کر دیتا ہے۔ اِس طرح زمانے میں امن قائم ہو جاتا ہے اور لوگ روحانی خزانے سے مالا مال ہوتے ہیں۔
۳۳: ۷۔۹ یہ آیات دوبارہ اُس زمانے کا ذکر کرتی ہیں جب حزقیاہ نے سنحیرب کے پاس ایلچی بھیجے تھے اور اُسے کہا گیا تھا کہ تاوان میں تین سو قنطار چاندی اور تیس قنطار سونا ادا کرے (۲۔سلاطین ۱۸: ۱۳۔۱۶)۔ لیکن اِس سے بھی اسور کے بادشاہ کو قائل اور راضی کرنے میں کامیابی نہ ہوئی۔ اُس نے یہوداہ پر چڑھائی کی اور تباہی، غارت گری اور خوں ریزی کا بازار گرم کر دیا۔
چونکہ یہوداہ کے ایلچیوں کا مشن ناکام ہو گیا ہے اِس لئے وہ ’’پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں۔‘‘ شاہِ اسور نے عہد شکنی کی اور یہوداہ پر حملہ کر دیا۔ نہایت خوبصورت اور خوش منظر مقامات ویرانی اور تباہی کی تصویر بن گئے ہیں۔
۳۳: ۱۰۔۱۲ عین وقت پر خداوند اُٹھتا اور دشمنوں سے دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ وہ اسوریوں کو کہتا ہے کہ ’’تم بھوسے سے باردار ہو گے اور پھُوس تم سے پیدا ہو گا۔‘‘ دوسرے لفظوں میں اُن کی تدبیریں اور منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ جس قسم کی ستم گری اُس (اسور) نے دوسروں پر روا رکھی وہ پلٹ کر اُسی کو سموچا نگل جائے گی۔ جلے چونے اور آگ میں ڈالے گئے کانٹوں کا مطلب پوری پوری سزا ہے۔
۳۳: ۱۳۔۱۶ بے دین قوموں (تم جو دُور ہو) اور صیون کے برگشتہ یہودیوں (تم جو نزدیک ہو) کو پیغام سنایا جاتا ہے۔ خدا کے غضب کی مہلک آگ اور اُس کے قہر کے ابدی شعلوں سے صرف وہی بچ سکتے ہیں جو راست رفتار اور درست گفتار ہوں اور ہر قسم کی بدی سے دُور رہتے ہیں۔
۳۳: ۱۷ ایمان دار بقیہ محفوظ، بے فکر اور مطمئن ہو گا۔ وہ ’’بادشاہ کا جمال‘‘ دیکھیں گے اور ’’دُور تک وسیع ملک پر‘‘ نظر کریں گے۔
۳۳: ۱۸،۱۹ وہ لمحے ایک بے ضرر یاد بن جائیں گے جب اسوریوں نے تاوان میں وصول شدہ سونا تولا، جب اُن کے جاسُوسوں نے حملے کی تیاری کے لئے شہر کے برج گِنے اور جب یہودیوں نے اپنے درمیان میں اسوریوں کی اجنبی زبان سنی۔
۳۳: ۲۰۔۲۲ ہزار سالہ دَور میں صیون میں مقررہ عیدیں دوبارہ منائی جائیں گی۔ شہر اُس خیمے کی مانند ہو گا جو مضبوطی اور پائیداری سے لگایا گیا ہے۔ خداوند صیون کے لئے وہ سب کچھ ہو گا جو ایک دریا کسی شہر کے لئے ہوتا ہے __ پناہ، تحفظ، تازگی اور حسن۔ چونکہ خداوند وہاں ہے اِس لئے دشمن کی ڈانڈ کی کوئی کشتی یا شاندار جہاز اُدھر سے نہ گزرے گا۔
۳۳: ۲۳،۲۴ مفسرین میں اِختلافِ رائے ہے کہ آیت ۲۳ الف کا اشارہ یروشلیم ہے یا اُس کے دشمن۔ اگر اشارہ صیون کے دشمنوں کا ہے تو ہر اُس جہاز کے حشر کی تصویر پیش کی گئی ہے جو شہر پر حملہ کرنے کی جرأت کرے گا۔ اگر اِشارہ یروشلیم کا ہے تو آیت ۲۳:
’’خود لوگوں کی کمزوری، ناتوانی اور ناقابلیت کا بیان کرتی ہے کہ جہاز یعنی اپنے ملک کو سیدھا چلانے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ یا غالب امکان یہ ہے کہ وہ اپنی سکونت کے خیمے کو درستی سے کھڑا نہیں کر سکتے۔ ضروری ڈوریوں، بانسوں اور کینوس کو مناسب طور سے اور ترتیب سے نہیں لگا سکتے۔‘‘
اِس بادشاہی میں لنگڑے بھی غنیمت پر قبضہ کر سکیں گے۔ بیماری کافور ہو جائے گی اور لوگوں کے گناہ بخشے جائیں گے۔
مقدس کتاب
۱ تجھ پر افسوس کہ تو غارت کرتا ہے اورغارت نہ کیا گیا تھا! تو دغابازی کرتا تھا اور کسی نے تجھ سے دغا بازی نہ کی تھی۔ جب تو غارت کر چکیگا اور تو غارت کیا جائیگااور جب تو دغابازی کر چکیگا تو اور لوگ تجھ سے دغابازی کرینگے۔
۲ اے خداوند! ہم پر رحم کر کیونکہ ہم تیرے منتظر ہیں ۔ تو ہر صبح انکا بازو ہو اور مصیبت ے وقت ہماری نجات۔
۳ ہنگامہ کی آواز سنتے ہی لوگ بھاگ گئے ۔ تیرے اٹھتےہیں قومیں تتر بتر ہو گئیں۔
۴ اورتمہاری لوٹ کا مال اسی طرح بٹورا جائیگا جس طرح کیڑے بٹور لیتےہیں۔ لوگ اس پر ٹڈی کی طرح ٹوٹ پڑینگے۔
۵ خداوند سرفراز ہے کیونکہ وہ بلندی پر رہتا ہے ۔ اس نے عدالتاورصداقت سے صیون کو معمور کر دیا ہے۔
۶ اورتیرے زمانہ میں امن ہو گا نجات و حکمت اور دانش کی فراوانی ہو گی ۔ خداوند کا خوف اسکا خزانہ ہے ۔
۷ دیکھ انکے بہادرباہر فریاد کرتے ہیں اورصلح کے ایلچی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں ۔
۸ شاہرائیں سنسان ہیں ۔ کوئی چلنے والا نہ رہا۔ اس نے عہد شکنی کی ۔ شہروں کو حقیر جانا اورانسان کو حساب میں نہیں لاتا۔
۹ زمین کڑھتی اور مرجھاتی ہے ۔ لبنان رسوا ہوا اور مرجھا گیا۔ شارون بیابان کی مانند ہے۔ بسن اور کرمل بے برگ ہو گئے۔
۱۰ خداوند فرماتا ہے اب میں اٹھونگا۔ اب میں سرفراز ہونگا۔ اب میں سر بلند ہو نگا۔
۱۱ تم بھوسے سے باردار ہو گے پھوس تم سے پیدا ہو گا۔ تمہارا دم آگ کی طرح تم کو بھسم کریگا۔
۱۲ اور لوگ جلے چونے کی مانند ہونگے۔ وہ ان کانٹوں کی مانند ہونگے جو کاٹ کر آگ میں جلائے جائیں۔
۱۳ تم جو دور ہو سنو کہ میں نے کیا کیا اورتم جو نزدیک ہو میری قدرت کا اقرار کرو۔
۱۴ وہ گنہگار جو صیون میں ہیں ڈر گئے ۔ کپکپی نے بے دینوں کو آ دبایا ہے۔ کون ہم میں سے اس مہلک آگ میں رہ سکتا ہے ؟ اور کون ہم میں سے ابدی شعلوں کے درمیان بس سکتا ہے؟ ۔
۱۵ وہ جو راست رفتار اور درست گفتار ہیں ۔ جو ظلم کے نفع کو حقیر جانتا ہے ۔ جو رشوت سے دست بردارہے جو اپنے کان بند کرتا ہے تاکہ خونریزی کے مضمون نہ سنے اور آنکھیں موندتا ہے تاکہ زیان کاری نہ دیکھے۔
۱۶ وہ بلندی پر رہیگا اسکی پناہ گاہ پہاڑ کا قلعہ ہو گا ۔ اسکو روٹی دی جائیگی اسکا پانی مقرر ہو گا۔
۱۷ تیری آنکھیں بادشاہ کا جمال دیکھیں گی اور وہ بہت دور تک وسیع ملک پر نظر کرینگی۔
۱۸ تیرا دل اس دہشت پر سوچیگا کہاں ہے وہ گننے والا؟ کہاں ہے وہ تولنے والا؟ کہاں ہے وہ جو برجوں کو گنتا تھا۔
۱۹ تو پھر ان تند خو لوگوں کو نہ دیکھے گا جنکی بولی تو سمجھ نہیں سکتا جنکی زبان بیگانہ ہے جو تیری سمجھ میں نہیں آتی۔
۲۰ ہماری عید گاہ صیون پر نظر کر۔ تیری آنکھیں یروشلیم کو دیکھیں گی جو سلامتی کا مقام ہے بلکہ ایسا خیمہ جو ہلایا نہ جائے گا۔ جسکی میخوں میں سے ایک بھی اکھاڑی نہ جائیگی اور اسکی ڈوریوں میں سے ایک بھی توڑی نہ جائیگی۔
۲۱ بلکہ وہاں ذوالجلال خداوند بڑی بڑی ندیوں اور نہروں کی مانند ہماری گنجائش کے لیے آپ موجود ہو گا کہ وہاں ڈانڈ کی کوئی کشتی نہ جائیگی اور نہ شاندار جہازوں کا گذر اس میں ہو گا۔
۲۲ کیونکہ خداوند ہمارا حاکم ہے۔ خداوند ہمارا شریعت دینے والا ہے۔ خداوند ہمارا بادشاہ ہے وہی ہم کو بچائیگا۔
۲۳ تیری رسیاں ڈھیلی ہیں۔ لوگ مستول کی چول کو مضبوط نہ کر سکے وہ بادبان نہ پھیلا سکے۔ سو لوٹ کا وافر مال تقسیم کیا گیا لنگڑے بھی غنیمت کر قابض ہو گئے۔
۲۴ وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ میں بیمار ہوں اور انکے گناہ بخشے جائینگے۔