(۹) اِسرائیل کی تادیب کے بعد واپسی سے تسلی (باب ۴۸)
۴۸: ۱، ۲ یہاں خدا بابل میں یہوداہ کے اسیروں کو مخاطب کرتا ہے۔ اُن میں سے اکثر برگشتہ ہو گئے ہیں۔ صرف تھوڑے سے ہیں جو یہوواہ کے وفادار ہیں۔ وہ شکایت کرتا ہے کہ تم اسرائیل (خدا کا شہزادہ) کہلاتے ہو، لیکن شہزادے ہو نہیں۔ تم یہوداہ (ستائش) کی نسل سے ہو، لیکن خدا کی حمد و ستائش نہیں کرتے۔ تم اِسرائیل کے خدا کا اِقرار کرتے ہو، لیکن اپنے گناہوں کا اِقرار نہیں کرتے۔ تم شہرِ قُدس کے لوگ کہلاتے ہو لیکن پاک نہیں ہو۔ تم اسرائیل کے خدا پر توکل کرتے ہو، لیکن دین دار اور خدا پرست نہیں ہو۔
۴۸: ۳۔۵ یہوواہ نے اُن کی تاریخ پیشتر سے بتا دی تھی اور ساری باتیں اُس کے کہنے کے مطابق وقوع میں آئیں۔ خدا اُن کے دل کی سختی اور ہٹ دھرمی کو جانتا ہے اِس لئے وہ بتا دیتا ہے کہ کیا کرے گا تاکہ جب وہ باتیں واقع ہو جائیں تو اُنہیں اپنے بتوں کا کارنامہ قرار نہ دیں اور اُن کی تعریف نہ کریں۔
۴۸: ۶۔۸ اب یہوواہ نئی چیزوں اور پیچیدہ باتوں کی پیش گوئی کرنے کو ہے، یعنی خورس کے دَورِ حکومت میں یہوداہ کی اسیری سے بحالی۔ خدا یہ اِس لئے کر رہا ہے تاکہ یہوداہ کہہ نہ سکے کہ دیکھ مَیں یہ سب کچھ پہلے سے جانتا تھا۔
۴۸: ۹۔۱۱ خدا یہوداہ کی اسیری اور جلاوطنی ختم کر دے گا، لیکن اُن کی کسی خوبی کے باعث نہیں بلکہ اپنی ہی خاطر۔ اُس نے اُن کو صاف کیا ہے، لیکن چاندی کی مانند لغوی معانی میں آگ میں نہیں بلکہ مصیبت کی کٹھالی (بابل کی اسیری) میں۔ اب وہ اُنہیں اپنی ہی خاطر بحال کرے گا۔ یعنی اپنے اُس نام کی خاطر جس کی وہ تکفیر کرتے رہے ہیں۔ ’’وہ اِس بحالی کے لئے بتوں کی تعریف نہیں ہونے دے گا۔ وہ اپنی شوکتدوسرے کو نہیں دینے کا۔‘‘
۴۸: ۱۲۔۱۶ اوّل اور آخر کا مطلب ہے کہ خدا ازلی و ابدی، قائم بِالذّات، کائنات کا خالق اور سنبھالنے والا، تاریخ کو مرتب کرنے والا اور نبوت کا خدا ہے۔ خدا اعلان کرتا ہے کہ مَیں اُسے برپا کروں گا جسے چاہتا ہوں (خورس) کہ وہ بابل کو شکست دے اور اِسرائیلیوں کو چھڑائے۔ غور کریں کہ آیت ۱۶ میں تثلیث کے تینوں اقانیم موجود ہیں __ خداوند خدا، اُس کا روح اور مَیں (مسیح)۔ یہاں موضوع غیر محسوس طور پر خورس سے گریز کر کے اُس کے اصل یعنی خداوند یسوع پر آ جاتا ہے جو اپنی دوسری آمد پر قوم کو دُنیا بھر میں پراگندگی سے چھڑائے گا۔
۴۸: ۱۷۔۱۹ خدا اِسرائیلی قوم سے ایک دفعہ پھر کہتا ہے کہ مَیں تمہارا فدیہ دینے والا تمہارا خدا، تمہیں تعلیم دینے والا اور تمہارا راہنما ہوں اِس لئے میری سنو۔ اگر تم نے میری بات مانی ہوتی تو سلامتی، صداقت، اولاد کی کثرت اور میرے ساتھ مستقل رفاقت سے لطف اندوز ہوتے۔
۴۸: ۲۰۔۲۲ وہ ایمان دار بقیہ سے کہتا ہے کہ بابل سے نکلو اور خوشی سے اعلان کرو کہ خداوند نے (ہمارا) فدیہ دیا ہے (دیکھئے مکاشفہ ۱۸: ۴)۔ آیت ۲۱ مصر سے خروج سے پوری ہوئی۔ اگر یہوواہ نے ایک دفعہ یہ کام کیا ہے تو دوبارہ بھی کر سکتا ہے۔ شریر اِسرائیلی جو خدا کا حکم ماننے سے اِنکار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بابل اور جن باتوں کی وہ نمائندگی کرتا ہے اُن سے الگ نہیں رکھتے اُن کے لئے سلامتی نہیں۔
مقدس کتاب
۱ یہ بات سنو اے یعقوب کے گھرانے جو اسرائیل کے نام سے کہلاتے ہو اور یہوداہ کے چشمے سے نکلےہو جو خداوند کا نام لیکر قسم کھاتے ہو اوراسرائیل کے خدا کا اقرار کرتے ہو پرا مانت اورصداقت سے نہیں۔
۲ کیونکہ وہ شہر قدس کے لوگ کہلاتے ہیں اوراسرائیل کے خدا پر توکل کرتے ہیں جسکا نام رب الافواج ہے ۔
۳ میں نے قدیم سے ہونے والی باتوں کی خبر دی ہے ہاں وہ میرے منہ سے نکلیں۔ میں نے انکو ظاہر کیا میں نا گہان انکو عمل میں لایا اوروہ وقوع میں آئیں۔
۴ چونکہ میں جانتا تھا کہ تو ضدی ہے اور تیری گردن کا پٹھا لوہے کا ہے اورتیری پیشانی پیتل کی ہے۔
۵ اس لیے میں قدیم سے ہی یہ باتیں تجھے کہہ سنائیں اور انکے واقع ہونے سے پیشتر تجھ پر ظاہر کردیا تا نہ ہو کہ تو کہے کے میرے بت نے یہ کام کر دیا اور میرے کھودے ہوئے صنم نے اور میری ڈھالی ہوئی مورت نے یہ باتیں فرمائیں۔
۶ تو نے یہ سنا ہے سو اس سب پر توجہ کر۔ کیا تم اسکا اقرار نہ کرو گے؟ اب میں تجھے نئی چیزیں اور پوشیدہ باتیں جن سے تو واقف نہ تھا دکھاتا ہوں ۔
۷ وہ ابھی خلق کی گئی ہیں ۔ قدیم سے نہیں بلکہ آج سے پہلے تو نے انکو سنا بھی نہیں تھا تا نہ ہو کہ تو کہے دیکھ میں جانتا ہوں۔
۸ ہاں تو نے نہ سنا نہ جانا ہاں قدیم ہی سے تیرے کان کھلے نہ تھے کیونکہ میں جانتا تھا کہ تو بالکل بے وفا ہے اور رَحِم ہی سے خطا کار کہلاتا ہے۔
۹ میں اپنے نام کی خاطر اپنے غضب میں تاخیر کرونگا اور اپنے جلال کی خاطر تجھ سے باز رہونگا کہ تجھے کاٹ نہ ڈالوں۔
۱۰ دیکھ میں نے تجھے صاف کیا لیکن چاندی کی مانند نہیں میں نے مصیبت کی کٹھالی میں تجھے صاف کیا۔
۱۱ میں اپنی خاطر ہاں اپنی ہی خاطر یہ کیا ہے کیونکہ میرے نام کی تکفیر کیوں ہو؟ میں تو اپنی شوکت دوسرے کو نہیں دینے کا۔
۱۲ اے یعقوب میری سن! اور اسے اسرائیل جو میرا بلایا ہوا ہے ! میں وہی ہوں میں ہی اول اور میں ہی آخر ہوں۔
۱۳ یقیناً میرے ہی ہاتھ نے زمین کی بنیاد ڈالی اور میرے دہنے ہاتھ نے آسمان کو پھیلایا۔ میں انکو پکارتا ہوں اور وہ حاضر ہو جاتے ہیں۔
۱۴ تم سب جمع ہو کر سنو ان میں سے کس نے ان باتوں کی خبر دی ہے ؟ وہ جسے خداوند نے پسند کیا ہے اسکی خوشی کو بابل کے متعلق عمل میں لائیگا اور اسی کا ہاتھ کسدیوں کی مخالفت میں ہو گا۔
۱۵ میں نے ہاں میں ہی نے یہ کیا میں ہی نے اسے بلایا میں اسے لایا ہوں اور وہ اپنی روش میں برومند ہو گا ۔
۱۶ میرے نزدیک آؤ اور یہ سنو میں نے شروع ہی سے پوشیدگی میں کلام نہیں کیا جس وقت سے کہ وہ تھا میں وہیں تھا اور اب خداوند خدا نے اور اسکی روح نے مجھے بھیجا ہے۔
۱۷ خداوند تیرا فدیہ دینے والا اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔
۱۸ کاش کہ تو میرے احکام کا شنوا ہوتا اورتیری سلامتی نہر کی مانند اورتیری صداقت سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی۔
۱۹ تیری نسل ریت کی مانند ہوتی اور تیرے صلبی فرزند اسکے ذروں کی مانند بکثرت ہوتے اور اسکا نام میرے حضور سے کاٹا یا مٹایا نہ جاتا۔
۲۰ تم بابل سے نکلو کسدیوں کے درمیان سے بھاگو ۔ نغمہ کی آواز سے بیان کرو اسے مشہور کرو۔ ہاں اس کی خبر زمین کے کناروں تک پہنچاؤ۔ کہتے جاؤ کہ خداوند نے اپنے خادم یعقوب کا فدیہ دیا۔
۲۱ اور جب وہ انکو بیابان میں سے لے گیا تو وہ پیاسے نہ ہوئے۔ اس نے انکے لیے چٹان سے پانی نکالا۔ اس نے چٹان کو چیرا اور پانی پھوٹ نکلا۔
۲۲ خداوند فرماتا ہے کہ شریروں کے لیے سلامتی نہیں۔