أیسعیاہ ۵۶

۵۶:‏ ۱۔۸ خدا کی طرف سے رہائی اور مخلصی کو قبل از وقت دیکھتے ہوئے جلاوطنوں کو تاکید کی گئی ہے کہ عدل اور صداقت کو عمل میں لائیں‏، سبت کو مانیں۔ بیگانہ (‏غیر یہودی)‏ اور خوجہ کو خدشہ نہیں ہونا چاہئے کہ مجھے مسیح کی بادشاہی کی کسی نعمت کا فائدہ اُٹھانے سے روک دیا جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خداوند کے کلام کو ماننے والا کوئی بھی ہو اُسے ترجیحی اور اِمتیازی درجہ دیا جائے گا۔ اُس وقت ہیکل ’’سب لوگوں (‏قوموں)‏ کی عبادت گاہ‘‘ ہو گی نہ کہ صرف اِسرائیل کی۔ خدا اسرائیل کے ساتھ ساتھ غیر قوموں کو بھی اپنے بھیڑخانہ میں جمع کرے گا۔

(‏۷)‏ مسیحِ موعود بحیثیت شریروں کا منصف (‏۵۶:‏ ۹۔۵۷:‏ ۲۱)‏

۵۶:‏ ۹۔۱۲ آیت ۹ پھر اِسرائیل کے اُن دنوں کا ذکر کرتی ہے جب وہ باغی تھے۔ قوموں (‏دشتی حیوانوں)‏ کو طلب کیا گیا ہے کہ اُن لوگوں (‏اُس قوم)‏ کو سزا دیں جس کے نگہبان خطرے کو نہیں دیکھتے۔ وہ گونگے کُتے ہیں جو لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے بھونک نہیں سکتے۔ اور اُونگھنے اور خواب دیکھنے کے دلدادہ ہیں۔ وہ زر دوست‏، لالچی‏، اپنے نفع کے طالب اور نادان چرواہے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں کو مے نوشی اور عیش و عشرت کے لئے مدعو کرتے ہیں اور کہتے ہیں کل بھی آج ہی کی طرح ہو گا بلکہ اِس سے بہت بہتر۔

مقدس کتاب

۱ خُداوندیوں فرماتا ہےکہ عدل کو قائم رکھواور صداقت کو عمل میں لاؤکیونکہ میری نجات نزدیک ہےاور میری صداقت ظایر ہونے والی ہے
۲ مبارک ہے وہ انسان جو اس پر عمل کرتا ہےاور وہ آدم زادجو اس پر قائم رہتا ہےجوسبت کو ماننا اور اُسے نا پاک نہیں کرتا اور اپنا ہاتھ ہر طرح کی بدی سے باز رکھتا ہے
۳ اور بےگانہ کافرزند جو خُداوند سے مل گیا ہرگزنہ کہے خُداوندمجھ پرکو اپنے لوگوں سے جدا کردےگااور خوجہ نہ کہے کہ دیکھو میں تو سوکھا درخت ہوں
۴ کیونکہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ خوجے جو میرے سبتوں کا مانتے ہیں اور اُن کاموں کو جو مجھے پسند ہیں اختیار کرتے ہیںاور میرے عہد پر قائم رہتے ہیں
۵ میں اُن کو اپنے گھر میں اور اپنی چاردیواری کے اندر ایسا نام و نشان بخشوں گا جو بیٹوں سے بھی بڑھ کر ہو گا۔میں ہر ایک کو ایک ابدی نام دوں گا جو مٹایا نہ جائے گا۔
۶ اور بے گانہ کی اولاد بھی جنہوں نے اپنے آپ ک خُداوند سے پیوستہ کیا ہے کہ اُس کی خدمت کریں اور خُداوند کے نام کو عزیز رکیھں اور اُس کے بندے ہوں۔وہ سب جو سبت کو حفظ کر کے اسُے نا پاک نہ کریں اور میرے عہد پر قائم رہیں
۷ میں اُن کو بھی اپنے کوہ مُقدس پر لائوں گا اور اپنی عبادت گاہ میں اُن کو شادمان کروں گا اور ان کی سوختنی قربا نیاں اور ان کے ذبیحے میرے مز بح پر مقبول ہوں گےکیونکہ میرا گھر سب کی عبادت گاہ کہلائے گا۔
۸ خُداوند خدا جواسرئٍیل کے پراگندہ لوگوں کو جمع کرنے و الا ہےوہ یوں فرماتا ہے کہ میں ان کے سوا جو اسی کے ہوکر جمع ہوئے اوروں کو بھی اُن کے پاس جمع کروں گا۔
۹ اے دشتی حیوانوتم سب کے سب کھانےکو ائو!ہاں اے جنگل کے سب درندو
۱۰ اُس کے نگہبان اندھے ہیں۔وہ جاہل ہیں۔ وہ سب گونگے کتے ہیں جو بھونک نہیں سکتے۔وہ کواب دیکھنے والے ہیں جو پڑے رہتے ہیں اور اُونگھتے رہنا پسندکرتے ہیں
۱۱ اور وہ لالچی کتے ہیں جو کھبی سیر نہیں ہوہوتے۔وہ نادان چرواہے ہیں۔وہ سب اپنی اپنی راہ کو پھر گئے۔ہر ایک ہر طرف سے اپنا ہی نفع ڈ ھونڈتا ہے۔
۱۲ ہر ایک کہتا ہے اور کل بھی آج ہی کی طرح ہو گا بلکہ اس سے بہتر۔