أیسعیاہ ۲

(‏۲)‏ پاک صاف ہونے کے وسیلے سے مستقبل میں برکت (‏ابواب ۲۔۴)‏

۲:‏ ۱۔۳ اب یسعیاہ بن آموص موجودہ ابتری سے آگے مسیحِ موعود کی جلالی بادشاہی کو دیکھتا ہے۔ اُن دِنوں یروشلیم دُنیا کے سیاسی اور مذہبی دارُالسَّلطَنَت کی حیثیت سے قائم کیا جائے گا۔ غیر قومیں صیون کی زیارت کو آیا کریں گی اور وہاں عبادت کیا کریں گی اور خدا کے کلام کی تعلیم پائیں گے۔

۲:‏ ۴ بادشاہ قوموں کے درمیان عدالت کرے گا۔ وہ بین الاقوامی مسائل کی ثالثی کیا کرے گا اور ’’قوموں‘‘ کے جھگڑوں کا فیصلہ کرے گا۔ اِس کے نتیجے میں ساری دُنیا میں ہتھیار شکنی ہو گی۔ جو رقمیں پہلے اسلحہ سازی پر خرچ ہوتی تھیں اب زرعی سازو سامان بنانے پر خرچ ہوں گی۔ یہ اِفتتاحی آیات میکاہ ۴:‏ ۱۔۳ کے مشابہ ہیں کیونکہ ایک ہی روح القدس کے الہام سے ہیں یا ایک نبی نے دوسرے سے اِقتباس کیا ہے۔ 

۲:‏ ۵ مسیح کی بادشاہی کے اِس پیشگی نظارے سے متاثر ہو کر یسعیاہ یہوداہ کے لوگوں کو پکارتا ہے کہ فوراً توبہ کریں۔ 

۲:‏ ۶۔۹ پھر نبی براہِ راست خدا سے مخاطب ہو کر وہ گناہ گنواتا ہے جن کے باعث قوم پر آفت آئی ہے۔ خداوند کا طالب ہونے کے بجائے لوگ ’’اہلِ مشرق‘‘ کے غیب بینوں سے صلاح مشورہ کرتے ہیں اور ’’فلستیوں کی مانند شگون لیتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے بے دین لوگوں سے اتحاد کر لئے ہیں جس کی ممانعت کی گئی تھی۔ خدا کی شریعت اور حکم کے خلاف اُنہوں نے سونے چاندی کے خزانے جمع کر لئے ہیں۔ وہ اپنے تحفظ کے لئے بے شمار گھوڑوں اور رتھوں پر بھروسا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہ وجوہات ہیں کہ خدا نے اُن کو پست حال اور شرمندہ کیا ہے اور اُن کو ’’معاف نہیں کرتا۔ ’’وہ اہلِ مشرق کی رسوم سے پُر ہیں۔‘‘ یہ جملہ آج کی حالت کا واضح اور صحیح بیان کرتا ہے کہ مغربی ممالک میں مشرقی مذاہب کیسے مقبول ہیں اور کس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

۲:‏ ۱۰‏، ۱۱ اپنے لوگوں سے مخاطب ہو کر نبی اُنہیں خبردار کرتا ہے کہ یہوواہ کے آنے والے غضب اور سزا کے خوف سے پناہ کی جگہ میں گھس جاؤ۔ یہ قہر و غضب ’’اِنسان کی اونچی نگاہ‘‘ جھکا دے گا یعنی اُس کا غرور توڑ دے گا۔ 

۲:‏ ۱۲۔۱۸ یک دم پہلو بدل کر یسعیاہ ’’رَبُّ الافواج کے دن‘‘ کی سزاؤں کی بات کرنے لگتا ہے جو مسیح کی بادشاہی سے پہلے ہوں گی۔ رَبُّ الافواج اِنسان کی ہر قسم کی سرکشی کی سزا دے گا۔ چاہے یہ سرکشی افراد (‏دیوداروں … اور بلُوطوں)‏ یا حکومتی (‏پہاڑوں اور ٹیلوں)‏ یا فوجی طاقت (‏بُرجوں اور فصیلی دیواروں)‏ یا کاروباری اور مالی حلقوں (‏جہازوں)‏ کی طرف سے۔ ہر اِنسان کا ’’تکبر … اور بلند بینی پست کی جائے گی۔‘‘ چنانچہ ’’اُس روز خداوند ہی سربلند ہو گا۔‘‘ بت بالکل ردّ اور ترک کر دیئے جائیں گے۔ 

۲:‏ ۱۹۔۲۲ لوگ جہاں ہو سکے پناہ ڈھونڈیں گے تاکہ خداوند کے قہر اور غضب سے چھپ جائیں۔ اُس وقت واضح ہو جائے گا کہ فانی اِنسان کسی بھروسے کے لائق نہیں۔ صرف خداوند ہی اِس لائق ہے کہ اُس کے لوگ صرف اُسی پر بھروسا اور توکل کریں۔

مقدس کتاب

۱ وہ بات جو یسعیاہ بن آموص نے یہوادہ اور یروشلیم کےحق میں رویا دیکھی ۔
۲ آخری دنوںمیں یوں ہو گا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائیگا اور ٹیلوں سے بُلند ہو گا اور سب قومیں وہاں پہنچینگی۔
۳ بلکہ بہت سی اُمتیں آئینگی اور کہینگی آو خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوب کے خداکے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُسکے راستوں پر چلیں گے کیونکہ شریعت صیون سے اور خداوند کا کلام یروشلیم سے صادر ہو گا۔
۴ اورقوموں کے درمیان عدالت کریگا اور بہت سی اُمتوں کو ڈانٹے گااور وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالینگے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھرکبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔
۵ اے یعقوب کے گھرانے آؤ ہم خداوند کی روشنی میں چلیں ۔
۶ تُو نے تواپنے لوگوں یعنی یعقوب کےگھرانے کو ترک کیا اس لیے کہ وہ اہل مشرق کی رسوم سے پُر ہیں اور فلستیوں کی مانند شگون لیتے اور بیگانوں کی اولاد کی مانند ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں ۔
۷ اور اُن کا مُلک سونے چاندے سے مالا مال ہےاور اُن کے خزانوں کی کُچھ انتہا نہیں اور اُن کا مُلک گھوڑوں سے بھرا ہے اور اُنکے رتھوں کا کُچھ شُمار نہیں۔
۸ اور اُنکی سر زمین بُتوں سے بھی پُر ہے وہ اپنے ہی ہاتھوں کی صعنت یعنی اپنی اُنگلیوں کی کاریگری کو ہی سجدہ کرتےہیں۔
۹ اِس سبب سے چھوٹا آدمی پست کیا جاتا ہے اوربڑا آدمی ذلیل ہوتا ہے اور تُو اُنکو ہرگز مُعاف نہ کریگا۔
۱۰ خداوند کے خوف سے اور اُسکے جلال کی شوکت سے چٹان میں گھُس جا اور خاک میں چھِپ جا۔
۱۱ اِنسان کی اونچی نگاہ نیچی کی جائیگی اور بنی آدمی کا تکبر پست ہو جائیگا اوراُس روز خداوند ہی سر بُلند ہو۔
۱۲ کیونکہ رب الافواج کا دن تمام مغرورں، بُلند نظروں اور مُتکبروں پر آئیگا اور وہ پست کئیے جائینگے ۔
۱۳ اورلُبنان کےسب دیوداروں پر جو بُلند اوراونچے ہیں اور بسن کے سب بلوطوں پر۔
۱۴ اور سب اونچے پہاڑوں اور سب ٹیلوں پر ۔
۱۵ اور ہر ایک اونچےبُرج پر اور ہر ایک فصیلی دیوار پر۔
۱۶ اورترسِیس کے سب جہازوں پر غرض ہر ایک خوشنما منظر پر۔
۱۷ اور آدمی کا تکبر ذیر کیا جائیگا اور لوگوں کی بُلند بینی پست کی جائیگی اور اُس روز خداوند ہی سر بُلند ہو گا۔
۱۸ اور تمام بُت بالکل فنا ہونگے۔
۱۹ اور جب خدواند اُٹھیگا کہ زمین کو شدت سے ہلائے تو لوگ اُسکے ڈر سے اور اُسکے جلال کی شوکت سے پہاڑوں کے غاروں میں اور زمین کے شگافوں میں گھُسینگے۔
۲۰ اُس روز لوگ اپنی سونے چاندی کی مورتوں کو جو انہوں نے اپنے پوجنے کے لیے بنائی چھچھُورندوں اور چمگادڑوں کے آگے پھینکیں گے ۔
۲۱ تاکہ جب خداوند زمین کو شدت سے ہلانے کے لیےاُٹھے تو اُسکے خوف سے اور اُس کے جلال کی شوکت سے چٹانوں کےغاروں اور نا ہموارپتھروں کے شگافوں میں گھُس جائیں۔
۲۲ پس تُم انسان سے جسکا دم اُسکے نتھنوں میں ہےباز رہو کیونکہ اُسکی کیا قدر ہے؟۔