(۶) افریقہ کے بے نام علاقوں کے خلاف فیصلہ (باب ۱۸)
یہاں لفظ افسوس نہیں بلکہ آہ! ہے اور ایک نامعلوم دوست قوم کو پکارا گیا ہے جس کی شناخت نہیں کرائی گئی۔ یہ قوم اپنے ایلچی اسرائیل میں بھیجتی ہے (آیات ۲،۷)۔ ’’پروں کے پھڑپھڑانے کی سرزمین‘‘۔ ممکن ہے کہ اِس جملے سے یہودی لوگوں کو بچانے اور پناہ دینے کا اِشارہ ملتا ہے۔
اِسی دوران دوسری غیر اقوام خدا کے لوگوں کو شکار کریں گی جب وہ (خداوند) خاموشی سے دیکھ رہا ہے۔ لیکن بالآخر خدا اُنہیں نیست کرے گا اور اُن کی لاشیں شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کے لئے بے گور و کفن پڑی رہیں گی۔
اُس وقت اِسرائیل کوہِ صیون پر آئے گا۔ وہ رَبُّ الافواج کے لئے ایک ہدیہ ہو گا۔ آیت ۷ میں شاید یہ مراد نہیں کہ ’’اُس قوم کی طرف سے … ایک ہدیہ‘‘ بلکہ یہ کہ وہ قوم خود ہدیہ ہو گی۔ یہ مسیح کی دوسری آمد پر اسرائیل کی بحالی کا بیان ہے۔
مقدس کتاب
۱ آہ پروں کےپھڑپھرانے کی سرزمین جو کوش کی ندیوں کے پار ہے۔
۲ جو دریا کی راہ سے بردی کی کشتیوں میں سطح آب پر ایلچی بھیجتی ہے ۔ اے تیز رفتارایلچیو! اس قوم کے پاس جاؤ جو خوبصورت اور زور آور ہے۔ اس قوم کے پاس جو ابتدا سے اب تک مُہیب ہے۔ ایسی قوم جو زبردست اورفتحیاب ہے۔ جسکی زمین ندیوں سے منقسم ہے۔
۳ اے جہان کے تمام باشندو اور اے زمین کے رہنے والو! جب پہاڑوں پر جھنڈا کھڑا کیا جائے تو دیکھو اور جب نرسنگا پھونکا جائے تو سنو۔
۴ کیونکہ خداوند نے مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے مسکن میں تابش آفتاب کی مانند اور موسم درو کی گرمی میں شبنم کے بادل کی طرح سکون کے ساتھ نظر کروں گا۔
۵ کیونکہ فصل سے پیشتر جب کلی کھل چکے اور پھول کی جگہ انگور پکنے پر ہوں تو وہ ٹہنیوں کو ہنسوے سے کاٹ ڈالیگا اور پھیلی ہوئی شاخوں کو چھانٹ دیگا۔
۶ اور وہ پہاڑ کے شکاری پرندوں اور میدان کے درندوں کےلیے پڑی رہینگی اور شکاری پرندےگرمی کے موس میں ان پر بیٹھینگے اور زمین کے سب ڈرندے جاڑے کے موسم میں ان پر لیٹیں گے۔
۷ اس وقت رب الافواج کے حضوراس قوم کی طرف سے جو زورآوراورخوبصورت ہے اُس گروہ کی طرف سے جو ابتدا سے آج تک مہیب ہے۔ اس قوم سے جو زبردست اورظفریاب ہے جسکی زمین ندیوں سے منقسم ہے ایک ہدیہ رب الافواج کے نام کے مکان پر جو کوہ صیون ہے پہنچایا جائیگا۔