أیسعیاہ ۵۴

(‏۵)‏ مسیحِ موعود بحیثیت فدیہ دینے والا اور بحال کرنے والا (‏باب ۵۴)‏

۵۴:‏ ۱۔۳ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ باب ۵۴ نغمہ سرائی اور خوشی سے گانے کے موضوع سے شروع ہوتا ہے۔ یہ بالکل موزوں موضوع ہے کیونکہ اِس سے فوراً پہلے باب ۵۳ میں مسیح کی موت‏، تدفین جی اُٹھنے اور اقبال مندی و سرفرازی کا مضمون ہے۔

پہلی آیت میں الفاظ بے اولاد اور بے کس اِسرائیل کی اسیری کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ اِس کی ضد اور تقابل مخلصی یافتہ اور بحال شدہ اسرائیل کی اولاد والی اور شادمان قوم ہے۔ پولس نے گلتیوں ۴:‏ ۲۱۔۳۱ میں اِس آیت کے حوالہ سے زمینی یروشلیم اور عالمِ بالا کی یروشلیم کا تقابل پیش کیا ہے۔ ملک کی سرحدیں دُور دُور تک پھیل جائیں گی تاکہ آبادی میں تیز رفتار اضافے کی سمائی ہو سکے۔ اسرائیل قوموں کا سردار ہو گا اور خدا کے لوگ اُن شہروں میں آباد ہوں گے جو ویران ہو گئے تھے۔ 

۵۴:‏ ۴۔۸ ’’جوانی کا ننگ‘‘ یعنی مصر میں غلامی کی رسوائی اور بیوگی کی عار یعنی بابل میں اسیری کی شرمندگی بھول جائے گی کیونکہ یہوواہ اِسرائیل کی اپنے ساتھ رفاقت اور یگانگی کو بحال کرے گا۔ اسیری اور جلاوطنی خدا کے دم بھر کے قہر کو ظاہر کرتی ہے اور بحالی اُس کے بے حد رحم اور ابدی شفقت کا عملی ثبوت ہے۔

۵۴:‏ ۹‏، ۱۰ جیسے خدا نے نوح کے ساتھ عہدباندھا تھا اِسی طرح اب وہ عہد کرتا ہے کہ جب اِسرائیل ہزار سالہ دَور میں داخل ہو گا تو اُسے ملامت یا قہر کا پھر کبھی تجربہ نہ ہو گا۔

۵۴:‏ ۱۱‏، ۱۲ اگرچہ یروشلیم مصیبت زدہ اور طوفان کا مارا تھا مگر خدا اُسے بحال اور آراستہ پیراستہ کرے گا۔ اُس کے در و دیوار کی آرائش رنگارنگ بیش قیمت پتھروں سے ہو گی۔ اِنہی الفاظ سے یروشلیم کی نہایت خوبصورتی بیان کی جاتی ہے۔

۵۴:‏ ۱۳۔۱۵ خدا سب کو تعلیم اور ہدایت دے گا۔ سلامتی کا‏، خوش حالی کا دَور دورہ ہو گا۔ راست بازی سب کو پائیداری بخشے گی۔ ظلم‏، دشمن کے حملوں اور جلاوطنی کا خوف نابود ہو جائے گا۔ جو کوئی اِسرائیل کو تنگ کرے گا‏، سزا پائے گا۔

۵۴:‏ ۱۶‏،۱۷ خدا جس نے اسلحہ ساز (‏لُہار)‏ اور فاتح (‏غارت گر)‏ کو پیدا کیا وہ اپنی مخلوق کو قابو میں رکھنے پر بھی قادر ہے۔ یہوواہ نے ٹھہرا دیا ہے کہ اِسرائیل کے خلاف بنایا گیا کوئی ہتھیار کامیاب نہ ہو گا اور خود اِسرائیل ہر الزام لگانے والے کو مجرم ٹھہرائے گا۔ ملامت اور سزا کے حکم سے یہ آزادی اور یقینی فتح خدا کے بندوں کی میراث ہے۔ اِس طرح خدا اُنہیں سلامتی اور خوش حالی کے سنہری دَور میں راست باز ٹھہرائے گا۔

مقدس کتاب

۱ اےبانجھ توبےاولاد تھی نغمہ سرائی!تو جس نے ولادت کا برداشت نہیں کیا خوشی سے گا اور زور سے چلا کیونکہ خُداوند فرماتا ہے کہ بے کس چھوڑی ہوئی کی اولاد سے زیادہ ہے۔
۲ اپنی خیمہ گاہ کو وسیع کر دے ہاں اپنے مسکنوں کےپردے پھیلا۔ دریغ نہ کر۔اپنی ڈوریاں لمبی اور اپنی میخیں مضبوط کر۔
۳ اس لئے کہ تو دہنی اور بائیں طرف بڑھے گی اور تیری نسل قوموں کی وارث ہو گی۔اور ویران شہروں کو بسائے گی۔
۴ خوف نہ کر کیانکہ تو پھر پشیمان نا ہوگی۔تونہ گبھرا کیونکہ تو پھر رسوا نہ ہوگی اور اپنی جوانی کا ننگ بھول جائے گی ارو اپنی بیوگی کی عار کو پھر یاد نہ کرے گی۔
۵ کیونکہ تیرا خالق تیرا شوہر ہے۔اس کا نام رب الافواج ہے۔اور تیرا فدیہ دینے والا اسرائیل کا قدوس ہے۔وہ تمام روی زمین کا خدا کہلائے گا
۶ کیونکہ تیرا خدا فرماتا ہے کہ خُداوند نے تجھ کو متروکہ اور آزردہ بیوی کی طرح ہاں جوانی کی مطلوقہ بیوی کی منند پھر بلایا۔
۷ میں نے ایک دم کے لئے تجھے چھوڑ دیا لیکن رحمت کی فراوانی سے تجھے لے لوں گا۔
۸ خُداوند تیرا نجات دینے والا فرماتا ہے کہ قہر کی شدت میں میں نے ایک دم کے لئے تجھ سے منہ چھپایاپر اب میں ابدی سفقت سے تجھ پر رحم کروں گا۔
۹ کیونکہ میرے لئے یہ طوفان نوح کا سامعاملہ ہے کہ جس طرحمیں قسم کھائی تھی کہ پھر ز مین پر نوح کا سا طوفان کبھی نہیں آئے گا اُسی طرح اب میں قسم کھائی ہے کہ میں تجھ سے پھر کھبی آزردہ ہی ہوں گا تجھ کو گُھڑکُوں گا۔
۱۰ خُداوند تجھ پر رحم کرنے والا ہوں فرماتا ہے کہ پہاڑ تو جاتے رہیں اور ٹیلے ٹل جائیں لیکن میری سفقت کھبی تجھ پر سے جاتی نہ رہے گی اور میرا صلح کا عہد نہ ٹلے گا۔
۱۱ اے مصیبت زدہ اور طوفان کی ماری اور تسلی سے محروم دیکھ میں تیرے پتھروں کو سیاہ ریختہ میں لگائوں گا۔اور تیری بنیاد نیلم سے ڈالوں گا
۱۲ میں تیرے کنگروں کو لعلوں اور تیرے پھاٹکوں کو شب چراغ اورتیری ساری فصیل بیش قیمت پتھروں سے بناؤں گا ۔
۱۳ اور تیرے سب فرزند خُداوندسے تعلم پائیں گے اور تیرےفرزندوں کی سلامتی کا مل ہو گئ۔
۱۴ تو راست بازی سے پاک ہو جائے گا۔تو ظلم سے دور رہے گئ کیونکہ تُو بےخوف ہوگئ اور دہشت سے دور رہے گئ کیونکہ وہ تیرے قریب نہ آے گئ
۱۵ ممکن ہے کہ وہ اکھٹے ہوں پر میرے حکم سے نہیں۔جو تیرے خلاف جمع ہوں گےوہ تیرے ہی سبب سے گریں گے۔
۱۶ دیکھ میں نے لہار کو پیدا کیا جو کوئلوں کی اگ دھانکتا اور اپنے کام کے لئےہتھیار نکالتا ہےاور غارت گر کو میں ہی نے پیدا کیا کہ لوٹ مار کرے۔
۱۷ کوئی ہتھیار جو تیرے خلاف بنایا جائے کام نہ آئے گا اور جو زبان عدالت میں تجھ پرچلے گی تو اسے مجرم ٹھہرائے گئ۔ خُداوندفرماتا ہے یہ میرے بندوں کی میرث ہےاور ان کی راست بازی مجھ سے ہے۔