۶۴: ۱۔۵ جو دعا ۶۳: ۱۵ میں شروع ہوئی تھی اب اِقرارِ گناہ میں بدل جاتی ہے۔ بقیہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ آسمان کو پھاڑ کر اُتر آ اور اپنے مخالفوں پر غضب ناک ہو۔ وہ اُن موقعوں کو یاد کرتے ہیں جب ماضی میں خدا نے مداخلت کی۔ وہ واحد حقیقی خدا کے بے مثال ظہور تھے جو اِنتظار کرنے والے کے لئے کام کرتا ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ خدا اُس پر رحمت کرتا ہے جو خوشی سے صداقت کے کام کرتا ہے، لیکن ہم نے اُسے غضب ناک کیا کیونکہ ہم گناہ کرتے رہے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم جیسے لوگ نجات پائیں گے۔
۶۴: ۶،۷ وہ اپنی ذاتی ناپاکی کا اِقرار کرتے ہیں اور مانتے ہیں کہ ہمارے بہترین اعمال (راست بازی) ناپاک لباس یا گندی دھجیوں کی مانند ہیں۔ چنانچہ تعجب کیسا کہ وہ مرجھائے پتوں کی مانند ہیں جنہیں اُن کی اپنی بدکرداری کی آندھی اُڑا لے جاتی ہے۔ اِسرائیل میں روحانی مُردنی ہے۔ شفاعت کرنے والے کہیں نہیں ملتے کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں ترک کر دیا ہے کہ اپنے گناہوں کے نتائج بھگتیں۔
۶۴: ۸،۹ تاہم خداوند اُن کا باپ ہے اور اُمید ہے کہ کمہار اِس مٹی کے ساتھ کچھ کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ التجا کرتے ہیں کہ غضب ناک نہ ہو۔ ہمارے گناہ معاف کر اور بھول جا اور ہمیں اپنے لوگ مان لے۔
۶۴: ۱۰۔۱۲ ملک کی ویرانی اور خاص طور سے یروشلیم اور ہیکل کی بربادی بڑی مضبوط دلیلیں یا وجوہات ہیں کہ خدا اپنا غصہ ترک کر دے اور اپنے بدحال اور مصیبت زدہ لوگوں کی خاطر فیصلہ کن اقدام کرے۔
مقدس کتاب
۱ کاشکہ تو آسمان کو پھاڑے اور اُتر آئےکہ تیرےحضورمیں پہاڑ لرزش کھائیں۔
۲ جس طرح آگ سوکھی ڈالیوں کو جلاتی ہے اور پانی آگ سے جوش مارتا ہے تاکہ تیرا نام تیرے مخالفوں میں مشہور اور قومیں تیرے حضور میں لرزان ہوں۔
۳ جس وقت تونے مہیب کام کئے جن کے ہم منتظر نہ تھے تو اُتر آیا اور پہاڑ تیرے حضور کانپگے۔
۴ کیونکہ ابتداہی سے نہ کسی نے سُنا نہ کسی کے کان تک پہنچا اور آنکھوں نے تیرے سوا ایسے خدا کو دیکھا جو اپنے انتظار کرنے والے کے لئےکچھ کر دکھائے۔
۵ تو اُس سے ملتا ہے جو خوشی سے صداقت کے کام کرتا ہے اور اُن سے جو تیری راہوں میں تجھے یاد رکھتے ہیں۔دیکھ تو غضب ناک ہوا کیونکہ ہم نے گناہ کیا اور مدت تک اسی میں رہے۔کیا ہم نجات پائیں گے؟۔
۶ اور ہم سب کے سب ایسے ہیں جیسے ناپاک چیز اور ہماری تمام راست بازی ناپاک لباس کی مانند ہے اور ہم سب پتے کی طرح کملا جاتے ہیں اور ہماری بدکرداری آندھی کی مانند ہم کو اُڑلے جاتی ہے۔
۷ اور کوئی نہیں جو تیرا نام لے۔جو اپنے آپ کو آمادہ کرے کہ تجھ سےلپٹا رہے کیونکہ ہماری بدکرداری کے سبب سے تو ہم سے روپوش ہوا اور ہم کو پگھلا ڈالا۔
۸ تو بھی اے خداوند! تُو ہمارا باپ ہے۔ہم مٹی ہیں اور ہمارا کمہار ہے اور ہم سب کے سب تیری دستکاری ہیں۔
۹ اے خداوند!غضبناک نہ ہوا اور بد کرداری کو ہمیشہ تک یاد نہ رکھ۔دیکھ ہم تیری منت کرتے ہیں۔ہم سب تیرے لوگ ہیں۔
۱۰ تیرے پاک شہر بیابان بن گئے۔صیون سنسان اور یروشلیم ویران ہے۔
۱۱ ہمارا خوش نما مُقدس جس میں ہمارے باپ داداتیری ستایش کرتے تھےآگ سے جلایاگیا ہماری نفیس چیزیں بربادہوگیئں۔
۱۲ اے خداوندتو اس پر بھی اپنے آپ کو روکے گا؟کیا تو خاموش رہے گااور ہم کو یوں بدحال کردے گا؟۔