(۴) خداوند (یہوواہ) کے خادم سے تسلی (باب ۴۲)
۴۲: ۱۔۴ یسعیاہ نے خادم کا نام مسیحِ موعود کے لئے، پوری اِسرائیلی قوم کے لئے، دین دار بقیہ (۴۳: ۱۰) کے لئے اور خورس کے لئے استعمال کیا ہے۔ سیاق و سباق سے اکثر واضح ہو جاتا ہے کہ اِس سے کیاز مراد ہے۔ آیات ۱۔۴ میں یہ نام واضح طور پر خداوند یسوع کے لئے استعمال ہوا ہے جسے خدا نے سنبھالا، برگزیدہ کیا اور جس پر اپنا روح ڈالا۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔ وہ لوگوں کو ہنگامہ آرائی پر نہیں اُکسائے گا۔ وہ سچی توبہ کرنے والوں کو نہیں کچلے گا اور ایمان کی ٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائے گا۔ اور جب تک اپنی راست اور صادق سلطنت قائم نہ کر لے ماندہ نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا۔
۴۲: ۵۔۹ اب قادر اور خالق خدا مسیحِ موعود کو مخاطب کرتا ہے اور اُسے بتاتا ہے کہ وہ اُس کے وسیلے سے کیا کیا کام پورے کرے گا جسے اُس نے صداقت سے بلایا ہے۔ یہوواہ اپنے جلال میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرے گا اور کھودی ہوئی مورتوں کا تو ذکر ہی رہنے دیں۔ اُس کی پہلی پیش گوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور اَب وہ ایک دفعہ پھر مستقبل کو ظاہر کرتا ہے۔
۴۲: ۱۰۔۱۳ اِسرائیل دُنیا کی اِنتہائی دُور دراز کی قوموں کو بلاتا ہے کہ مسیحِ موعود کی حمد و ستائش میں شامل ہوں جب وہ جنگی مرد کی مانند آتا ہے کہ اپنے دشمنوں سے اِنتقام لے اور اُن پر غالب آئے۔ قیدار اور سلع کے ذکر کا مطلب ہے کہ اِس نئے گیت میں عربوں کی آوازیں بھی ہم آہنگ ہوں گی۔
۴۲: ۱۴۔۱۷ یہاں یہوواہ ہم کلام ہے۔ اُس نے اپنا غضب روکے رکھا، لیکن اب وقت گزر گیا ہے۔ اب وہ اپنا قہر اپنے دشمنوں پر اُنڈیلے گا، لیکن اسرائیل کے ایمان دار بقیہ کے ساتھ رحم سے پیش آئے گا اور سارے بت پرستوں کو بے حد شرمندہ کرے گا۔
۴۲: ۱۸۔۲۲ آیت ۱۹ میں خادم مسیحِ موعود نہیں ہے بلکہ اِسرائیلی قوم ہے۔ وہ یہوواہ کی باتیں سننے کو بہری اور اُس کے کام دیکھنے کو نابینا ہے۔ آیت ۱۹ کا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کون ایسا بہرا ہے جیسا وہ جسے کامل اعزاز یا استحقاق دیا گیا؟ یا کون ایسا بہرا ہے جیسا وہ جس پر مَیں نے بھروسا کیا؟ یا کون ایسا بہرا ہے جیسا وہ جس کی میرے ساتھ صلح ہے؟ خدا نے اِسرائیل کے ساتھ عہد کا رِشتہ قائم کیا، لیکن وہ اپنے اعلیٰ بلاوے کے مطابق نہیں چلتا تھا۔ خداوند نے شریعت کو بزرگی اور سرفرازی دی۔ وہ اُس کے لئے قابلِ تعظیم تھی، لیکن اِسرائیل نے اُس کی تحقیر اور نافرمانی کی چنانچہ خدا نے اُنہیں لٹیروں، غارت گروں اور قید خانوں میں ڈالنے والوں کے حوالے کر دیا۔
۴۲: ۲۳۔۲۵ یسعیاہ نبی پوچھتا ہے کہ ’’تم میں کون ہے جو اِس پر کان لگائے؟ … کس نے یعقوب کو حوالہ کیا کہ غارت ہو؟ … کیا خداوند نے نہیں جس کے خلاف ہم نے گناہ کیا؟‘‘ خدا نے اپنے قہر کی شدت اور جنگ کی آگ اِسرائیل پر اُنڈیلی لیکن کوئی اُس کی تادیب کی اہمیت اور مطلب کو نہ سمجھا یا خاطر میں نہیں لایا۔
مقدس کتاب
۱ دیکھو میرا خادم جسکو میں سنبھالتاہوں ۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔
۲ وہ نہ چلائیگا اورنہ شورکریگا اورنہ بازاروں میں اسکی آواز سنائی دیگی۔
۳ وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑیگا اورٹمٹماتی بتی کو نہ بجھائیگا۔ وہ راستی سے عدالت کریگا۔
۴ وہ ماندہ نہ ہو گا اور ہمت نہ ہارے گا جب تک کہ عدالت کو زمین پر قائم نہ کرلے۔ جزیرے اسکی شریعت کا انتظار کرینگے۔
۵ جس نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا جس نے زمین کو اور جو کچھ اس میں سے نکلتاہے پھیلایا اور جو اسکے باشندوں کو سانس اور اس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے یعنی خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔
۶ میں خداوند نے تجھے صداقت سے بُلایا میں ہی تیرا ہاتھ پکڑونگا اور تیری حفاظت کرونگا اور لوگوں کے عہد اور قوموں کے نور کے لیے تجھے دونگا۔
۷ کہ تو اندھوں کی آنکھیں کھولے اور اسیروں کو قید سے نکالے اور انکو جو اندھیرے میں بیٹھے ہیں قید خانے سے چھڑائے۔
۸ یہوواہ میں ہی ہوں۔ یہی میرا نام ہے میں اپنا جلال کسی دوسرے کےلیے اور اپنی حمد کھودی مورتوں کے لیے روا نہ رکھونگا۔
۹ دیکھو پرانی باتیں پوری ہو گئیں اورمیں نئی باتیں بتاتا ہوں۔ اس سے پیشتر کہ واقع ہوں میں تم سےبیان کرتا ہوں ۔
۱۰ اے سمندر پر گذرنے والو اور اس میں بسنے والو! اے جزیرو اور انکے باشندو خداوند کے لیے نیا گیت گاؤ۔ اور زمین پر سر تا سر اسکی ستائش کرو۔
۱۱ بیابان اور اسکی بستیاں۔ قیدار کے آبادگاؤں اپنی آواز بلند کریں۔ سلع کے بسنے والے گیت گائیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے للکاریں۔
۱۲ وہ خداوند کا جلال ظاہر کریں اور جزیروں میں اسکی ثنا خوانی کریں ۔
۱۳ خداوند بہادر کی مانند نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی غیرت دکھائیگا۔ وہ نعرہ ماریگا ہاں وہ للکاریگا وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئیگا۔
۱۴ میں بہت مدت سے چپ رہا ۔ میں خاموش رہا اور ضبط کرتارہا پر اب میں دردزہ والی کی طرح چلاونگا میں ہانپونگا اورزور زورسے سانس لونگا۔
۱۵ میں پہاڑوں اور ٹیلوں کو ویران کرڈالونگا اور انکے سبزہ زاروں کو خشک کرونگا اور انکی ندیوں کو جزیرے بناونگا اور تالابوں کو سکھا دونگا۔
۱۶ اور اندھوں کو اس راہ سے جسے وہ نہیں جانتے لے جاونگا میں انکو ان راستوں سے جن سے وہ آگاہ نہیں لے چلونگا۔ میں انکے آگے تاریکی کو روشنی اور اونچی نیچی جگہوں کو ہموار کر دونگا میں ان سے یہ سلوک کرونگا اور اور ان کو ترک نہ کرونگا۔
۱۷ جو کھودی ہوئی مورتوں پر بھروسہ کرتے اورڈھالے ہوئے بتوں سے کہتے ہیں تم ہمارے معبود ہو وہ پیچھے ہٹیں گے اور بہت شرمندہ ہونگے۔
۱۸ اے بہرو سنو اے اندھو نظر کرو تاکہ تم دیکھو۔
۱۹ میرے خادم کے سوا اندھا کون ہے؟ اور کون ایسا بہرا ہے جیسا میرا رسول جسے میں بھیجتا ہوں؟ میرے دوست کی اورخداوند کے خادم کی مانند نابینا کون ہے؟ ۔
۲۰ تو بہت سی چیزوں پر نظر کرتاہے پر دیکھتانہیں۔ کان تو کھلے ہیں پر سنتا نہیں۔
۲۱ خداوند کو پسند آیا کہ اپنی صداقت کی خاطر شریعت کو بزرگی دے اور اسے قابلِ تعظیم بنائے۔
۲۲ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو لٹ گئے اور غارت ہوئے۔ وہ سب کے سب زندانوں میں گرفتار اور قید خانوں میں پوشیدہ ہیں۔ وہ شکار ہوئے اور کوئی نہیں چھڑاتا۔ وہ لٹ گئے اور کوئی نہیں کہتا پھیر دو۔
۲۳ تم میں کون ہےجو اس پر کان لگائے؟ جو آیندہ کی بابت توجہ سے سنے؟ ۔
۲۴ کس نے یعقوب کو حوالے کیا کہ غارت ہو اوراسرائیل کو کہ لٹیروں کے ہاتھ میں پڑے؟ کیا خداوند نے نہیں جس کے خلاف ہم نے گناہ کیا؟ کیونکہ انہوں نے نہ چاہا کہ اسکی راہ پر چلیں اور وہ اسکی شریعت کے تابع نہ ہوئے۔
۲۵ اس لیے اس نے اپنے قہر کی شدت اور جنگ کی سختی کو اس پر ڈالا اور اسے ہر طرف سے آگ لگ گئی پر وہ اسے دریافت نہیں کرتا۔ وہ اس سے جل جاتا ہے پر خاطر میں نہیں لاتا۔