(۲) خدا ا سُور کو غارت کرتا ہے (باب ۳۷)
۳۷: ۱۔۴ حزقیاہ بادشاہ نے ربشاقی کی باتیں سنیں تو گہرے غم میں ڈوب گیا۔ وہ خود ہیکل میں حاضر ہوا اور ایک وفد یسعیاہ کے پاس بھیجا کہ اُسے بتائیں کہ ’’بچے پیدا ہونے پر ہیں اور ولادت کی طاقت نہیں۔‘‘ جے۔ اے۔ الیگزینڈر (J.A.Alexander) وضاحت کرتا ہے کہ یہ استعارہ سخت درد، فوری خطرہ، نازک ہنگامی صورتِ حال، اِنتہائی کمزوری اور دوسروں کی مدد پر پورے اِنحصار کو ظاہر کرتا ہے۔ حزقیاہ کی بزدلی اُس کے ایمان سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ چنانچہ وہ کہتا ہے شاید یہوواہ نے ربشاقی کی طعن آمیز باتیں سن لی ہیں اور اُس کو ملامت کرے گا۔
۳۷: ۵۔۷ اب خداوند یسعیاہ نبی کی معرفت بادشاہ کو یقین دلاتا ہے کہ شاہِ اسور سے ڈرنے اور ہراساں ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ خداوند سنحیرب میں ایک روح (شاید خوف کی) ڈال دے گا اور وہ ایک افواہ سن کر اپنے ملک کو لوٹ جائے گا اور وہاں قتل ہو گا۔
۳۷: ۸۔۱۳ ربشاقی یروشلیم سے روانہ ہو کر سنحیرب کے پاس جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ افواج کو وہاں سے ہٹا کر لکیس میں لبناہ سے مصروفِ جنگ ہے۔ یہ جگہ یروشلیم سے تقریباً پندرہ کلومیٹر جنوب مغرب میں تھی۔ تاہم لشکر کا ایک حصہ یروشلیم کا محاصرہ کئے ہوئے تھا۔ پھر سنحیرب کو یہ خبر ملی کہ کوش کا بادشاہ ترہاقہ (Tirhakah) حملہ کرنے آ رہا ہے۔ اب اُس نے پھر حزقیاہ کے پاس ایلچی بھیجے۔ اُن کے ہاتھ خدا کے خلاف کفر سے بھرا ہوا خط بھیجا جس میں ویسی ہی تہمت آمیز باتیں درج تھیں جو ربشاقی نے کہی تھیں۔ اُس نے اسور کے بادشاہوں کی تاریخی فتوحات کا حوالہ دیتے ہوئے وہی دعویٰ دہرایا کہ یہوواہ پر بھروسا کرنا حماقت ہے۔
۳۷: ۱۴۔۲۰ حزقیاہ نے بہت عقل مندی کی اور وہ نامہ لے جا کر ہیکل میں خداوند کے حضور پھیلا دیا۔ اُس نے مختصر سی مگر اثر انگیز دعا مانگی جو اُس کے بڑے ایمان کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ خدا سے درخواست کرتا ہے کہ یہوداہ کو شاہِ اسور کے ہاتھ سے بچا لے ’’تاکہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تُو ہی اکیلا خداوند ہے۔‘‘
۳۷: ۲۱۔۲۹ یہوواہ یسعیاہ کی معرفت ایک نظم میں جواب دیتا ہے۔ یہ نظم یروشلیم کو ایک کنواری کی شکل میں پیش کرتی ہے جو سنحیرب کا مذاق اُڑاتی ہے کہ وہ شکست کھا گیا اور پسپا ہو گیا ہے۔ اِس کے بعد یہوواہ شاہِ اسور کی خبر لیتا ہے کہ اُس نے خداوند کی توہین و تکفیر کی اور ایسے لاف زنی کی جیسے پہلے ہی یہوداہ اور مصر کو فتح کر چکا تھا۔ خدا سنحیرب کو بتاتا ہے کہ تُو میرے (یہوواہ) کے ہاتھ میں صرف ایک مُہرہ ہے اور وہ منصوبہ پورا کر رہا ہے جو مَیں نے قدیم ایام سے ٹھہرا دیا تھا۔ یہی خداوند اِس شریر بادشاہ کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے اور وہی اِسے اسور کو ایسے واپس لے جائے گا جیسے جانور کی ناک میں نکیل ڈال کر لے جاتے ہیں۔
۳۷: ۳۰۔۳۲ اب خداوند حزقیاہ سے مخاطب ہو کر اُسے یقین دلاتا ہے کہ اگرچہ اسوری حملے کے باعث اِس سال اور اگلے سال خوراک کی رسد محدود ہو گی، لیکن تیسرے سال سے فصلیں معمول کے مطابق ہوا کریں گی۔ جو لوگ محاصرے کی تیاری کے باعث یروشلیم میں چھپ گئے تھے وہ نکلیں گے اور معمول کی زندگی دوبارہ شروع کریں گے۔ اپنے لوگوں کے لئے رَبُّ الافواج کی غیوری اِس بات کی ضمانت ہے۔
۳۷: ۳۳۔۳۵ خداوند حزقیاہ کو یقین دلاتا ہے کہ شاہِ اسور یروشلیم میں داخل ہونے بلکہ حملہ کرنے کے لئے نزدیک آنے نہ پائے گا۔ خداوند اِس شہر کی حمایت کرے گا اور حملہ آور کو اُسی راہ سے لوٹا دے گا جس راہ سے وہ آیا ہے۔
۳۷: ۳۶ اور ایسا ہی ہوا۔ خداوند کے فرشتے نے راتوں رات اسُوریوں کے ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی جان سے مار ڈالے۔
۳۷: ۳۷،۳۸ سنحیرب نینوہ کو لوٹ گیا۔ وہاں وہ اپنے مندر میں پوجا کر رہا تھا کہ اُس کے بیٹوں اَدرَمَّلِک اور شراضر نے اُسے قتل کر دیا۔
مقدس کتاب
۱ جب حزقیاہ بادشاہ نے یہ سنا تو اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اوڑھکر خداوند کے گھر میں گیا۔
۲ اوراس نے گھر کے دیوان الیاقیم اور شبناہ منشی اورکاہنوں کے بزرگوں کو ٹاٹ اوڑھا کر آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا ۔
۳ اورانہوں نے اس سے کہا کہ حزقیاہ یوں کہتاہے کہ آج کا دن دکھ اور ملامت اورتوہین کا دن ہے کیونکہ بچے پیدا ہونے پر ہیں اور ولادت کی طاقت نہیں۔
۴ شاید خداوند تیرا خدا ربشاقی کی باتیں سنے گا جسے اسکے آقا شاہ اسور نے بھیجا ہے کہ زندہ خدا کی توہین کرے اورجو باتیں خداوند تیرے خدانے سنیں ان پر وہ ملامت کریگا پس تو اس بقیہ کے لیے جو موجود ہے دعا کر۔
۵ پس حزقیاہ بادشاہ کے ملازم یسعیاہ کے پاس آئے ۔
۶ اور یسعیاہ نے ان سے کہا تم اپنے آقا سے یوں کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ تو ان باتوں سے جو تونے سنی ہیں جس سے شاہ اسورکے ملازموں نے میری تکفیر کی ہے ہراسان نہ ہو۔
۷ دیکھ میں اس میں ایک روح ڈال دونگا اوروہ ایک افواہ سن کر اپنے ملک کو لوٹ جائیگا اور میں اسے اسی کے ملک میں تلوار سے مروا ڈالونگا۔
۸ سو ربشاقی لوٹ گیا اور اس نے شاہ اسورکو لبناہ سے لڑتے پایا کیونکہ اس نے سنا تھا کہ وہ لکیس سے چلا گیا ہے۔
۹ اور اس نے کوش کے بادشاہ ترہاقہ کی بابت سنا کہ وہ تجھ سے لڑنے کو نکلا ہے اورجب اس نے یہ سنا تو حزقیاہ کے پاس ایلچی بھیجے اور کہا ۔
۱۰ شاہ یہوادہ حزقیاہ سے یوں کہنا کہ تیرا خدا جس پر تیرا بھروسہ ہے تجھے یہ کہکر فریب نہ دے کہ یروشلیم شاہ اسورکے قبضہ میں نہ کیا جائے گا۔
۱۱ دیکھ تو نے سنا ہے کہ اسور کے بادشاہ نےتمام ممالک کو غارت کر کے انکا کیا حال بنایا ہے سو کیا تو بچا رہیگا؟ ۔
۱۲ کیا ان قوموں کے دیوتاؤں نے انکو یعنی جوزان اور حاران اوررصف اور بنی عدن کو جو تلسار میں تھے جنکو ہمارے باپ دادا نے ہلاک کیا چھڑایا؟ ۔
۱۳ حمات کا بادشاہ اورارفاد کا بادشاہ اور شہر سفر وائیم اور ہینع اور عواہ کا بادشاہ کہاں ہیں؟۔
۱۴ حزقیاہ نے ایلچیوں کے ہاتھ سے نامہ لیا اور اسے پڑھا اور حزقیاہ نے خداوند کے گھر جا کر اسکے خداوند کے حضورپھیلا دیا ۔
۱۵ اور حزقیاہ نے خداوند سے یوں دعا کی ۔
۱۶ اے خداوند رب الافواج اسرائیل کے خدا ۔ کروبیوں کے اوپر بیٹھنے والے ! تو ہی اکیلا زمین کی سب سلطنتوں کا خدا اے۔ تو ہی نے آسمان اوت زمین کو پیدا کیا۔
۱۷ اے خداوند کان لگا اور سن ۔ اے خداوند اپنی آنکھیں کھول اوردیکھ اور سنحیرب کی ان سب باتوں کو جو اس نے زندہ خدا کی توہین کرنے کے لیے کہلا بھیجی ہیں سن لے۔
۱۸ اے خداوند در حقیقت اسور کے بادشاہ نے سب قوموں کو انکے ملکوں سمیت تباہ کیا۔
۱۹ اور انکے دیوتاؤں کو آگ میں ڈالا کیونکہ وہ خدا نہ تھے بلکہ آدمیوں کی دستکاری تھے۔ لکڑی اورپتھر۔ اس لیے انہوں نے انکو نابود کیا۔
۲۰ سو اب اے خداوند ہمارے خدا تو ہمکو اس کے ہاتھ سےبچا لے تاکہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تو ہی اکیلا خداوند ہے۔
۲۱ تب یسعیاہ بن آموص نے حزقیاہ کو کہلا بھیجا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے چونکہ تو نے شاہ اسور سنحیرب کے خلاف مجھ سے دعا کی ہے ۔
۲۲ اس لیے خداوند نے اسکے حق میں یوں فرمایا کہ کنواری دخترِ صیون نے تیری تحقیر کی اورتیرا مضحکہ اڑایا۔ یروشلیم کی بیٹی نے تجھ پر سر ہلایا ہے۔
۲۳ تو نے کس کی توہین و تکفیر کی ہے ؟ تونے کس کے خلاف اپنی آواز بلند کی اور اپنی آنکھیں اوپر اٹھائیں؟ اسرائیل کے قدوس کے خلاف؟ ۔
۲۴ تو نے اپنے خادموں کے ذریعے سے خداوند کی توہین کی اورکہا کہ میں اپنے بہت سے رتھوں کو لیکر پہاڑوں کی چوٹیوں پر بلکہ لبنان کے وسطی حصہ تک چڑھ آیا ہوں اور میں اسکے اونچے اونچے دیوداروں اور اچھے سے اچھے صنوبر کے درختوں کو کاٹ ڈالونگا اورمیں اسکے چوٹی پر کے زرخیز جنگل میں جا گھسونگا۔
۲۵ میں نے کھود کھود کر پانی پیا ہے اور میں اپنے پاؤں کے تلوے سے مصر کی سب ندیاں سکھا ڈالونگا ۔
۲۶ کیا تو نے یہ نہیں سنا کہ مجھے یہ کیے ہوئے مدت ہوئی اورمیں نے قدیم آیام سے ٹھہرا دیا تھا ؟ اب میں نے اسی کو پورا کیا ہے کہ تو فصیلدار شہروں کو اجاڑ کر کھنڈر بنا دینے کے لیے برپا ہو۔
۲۷ اسی سبب سے انکے باشندے کمزورہوئے اور گھبرا گئے اور شرمندہ ہوئے ۔ وہ میدان کی گھاس اور پود چھتوں پر کی گھاس اور کھیت کے اناج کی مانند ہو گئی جو ابھی بڑھا نہ ہو۔
۲۸ لیکن میں تیری نشست اور آمدورفت اورتیرا مجھ پر جھنجھلانا جانتا ہوں۔
۲۹ تیرے مجھ پر جھنجھلانے کے سبب سے اور اس لیے کہ تیرا گھمنڈ میرے کانوں تک پہنچا میں اپنی نکیل تیرے ناک میں اور اپنی لگام تیرے منہ میں ڈالونگا اورتو جس راہ سے آیا ہے میں تجھے اسی راہ سے واپس لوٹا دونگا۔
۳۰ اورتیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ تم اس سال وہ چیزیں جو خود اگتی ہیں اوردوسرے سال وہ چیزیں جو ان سے پیدا ہوں کھاؤ گے اورتیسرے سال تم بونا اورکاٹنا اورتاکستان لگا کر ان کا پھل کھانا۔
۳۱ اوروہ بقیہ جو یہوادہ کے گھرانے سے بچ رہا ہے پھر نیچے کی طرف جڑ پکڑے گا اور اوپر کی طرف پھل لائیگا۔
۳۲ کیونکہ ایک بقیہ یروشلیم میں سے اور وہ جو بچ رہے ہیں کوہ صیون سے نکلینگے۔ رب الافواج کی غیوری یہ کر دکھائیگی۔
۳۳ سو خداوند شاہ اسور کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ وہ اس شہر میں آنے یا یہاں تیر چلانے نہ پائے گا ۔ وہ نہ تو سپر کے کر اسکے سامنے آنے اور نہ اسکے مقابل دمدمہ باندھنے پائے گا۔
۳۴ بلکہ خداوند فرماتا ہے کہ جس راہ سے وہ آیا اسی سے لوٹ جائیگا اور اس شہر میں آنے نہ پائیگا۔
۳۵ کیونکہ میں اپنی خاطر اپنے بندہ داؤد کی خاطر اس شہر کی حمایت کر کے اسے بچاونگا۔
۳۶ پس خداوند کے فرشتہ نے اسوریوں کی لشکر گاہ میں جا کر ایک لاکھ پچاسی ہزار آدمی جان سے مار ڈالے اورصبح کو جب لوگ سویرے اٹھے کہ وہ سب مرے پڑے ہیں۔
۳۷ تب شاہ اسور سنحیرب کوچ کر کے وہاں سے چلا گیا اورلوٹ کر نینوہ میں رہنے لگا۔
۳۸ اور جب وہ اپنے دیوتا نسروک کےمندر میں پوجا کر رہا تھا تو ادرملک اورشراضر اسکے بیٹوں نے اسکے تلوار سے قتل کیا اوراراراط کی سرزمین کو بھاگ گئے اوراسکا بیٹا اسرحدون اسکی جگہ بادشاہ ہوا۔