تفسیر
۱۔ یسعیاہ کے زمانے سے آگے سزا اور برکت کی پیش گوئیاں (ابواب ۱۔۳۵)
الف۔ یہوداہ اور یروشلیم پر سزائیں۔ بیچ بیچ میں جلال کی چمک اور جھلکیاں(ابواب ۱۔۵)
(۱) اِسرائیل کے خلاف خدا کا مقدمہ (باب ۱)
۱: ۱ یسعیاہ کی پہلی آیت عنوان کی مانند ہے۔ اِس کے تواریخی نکات کا ذکر ہم نے ’’تعارُف‘‘ میں کر دیا ہے۔
۱: ۲ پوری کائنات کو طلب کیا گیا ہے کہ ایک مقدمے کی کارروائی دیکھے جس میں خدا منصف ہے اور یہوداہ اور یروشلیم مُدَّعا علَیہ ہیں۔ فردِ جرم یہ ہے کہ یہ لوگ گردن کش بیٹے ہیں۔ اُنہوں نے خدا کے خلاف سرکشی کی ہے اور اِتنی بھی شکرگزاری اور فرماں برداری نہیں دِکھاتے جتنی کوئی پالتو جانور دکھاتا ہے۔
۱: ۴۔۶ اِس قوم نے اپنے قدوس سے منہ موڑ لیا ہے اور بدکرداری اور برگشتگی بڑھتی جاتی ہے۔ خدا کی طرف سے اُن کی سرزنش اور تادیب بے نتیجہ رہی ہے۔ اگرچہ جسم میں ’’فقط زخم اور چوٹ اور سڑے ہوئے گھاؤ ہیں‘‘ مگر یہ قوم پھر بھی تربیت پذیر نہیں ہوتی۔
۱: ۷ ۔۹ آیت ۷ سے شروع کر کے نبی مستقبل کا بیان ایسے کرتا ہے گویا وہ وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ دشمن حملہ آوروں نے ملکِ یہوداہ کی سرزمین کو اُجاڑ ڈالا ہے۔ صیون کی بیٹی یعنی یروشلیم ایک کچی اور عارضی جھونپڑی یا چھپر کی مانند ہے جو اُجڑے اور تباہ حال کھیت میں خستہ اور شکستہ کھڑا ہے۔ اگر خدا رحم اور فضل کر کے تھوڑا سا بقیہ نہ بچا لیتا تو یہ بھی ’’سدوم … اور عمورہ‘‘ کی مانند بالکل نیست و نابود ہو جاتا۔
۱: ۱۰۔۱۵ یروشلیم (سدوم اور عمورہ) کے حاکموں اور لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ جو رسمیں سچے دل سے ادا نہ کی جائیں خدا کو اُن سے نفرت ہے۔ فرماں برداری کے بغیر ذبیحے اور قربانیاں ناپسندیدہ اور نامقبول ہیں۔ دینے والا اگر اپنے آپ کو خدا کے حوالے نہیں کرتا تو اُس کے ہدیئے باطل ہیں۔ جب تک یہ لوگ گناہ میں زندگی گزارتے ہیں اُن کا ہیکل کی عبادات میں حاضر ہونا اُس کی بارگاہوں کو پاؤں تلے روندنے کے مترادف ہے۔ بدنیتی اور بدکرداری کے ساتھ مقدس مجمع سے خدا کو نفرت ہے۔ وہ اُن کے پھیلے ہوئے ہاتھوں اور اُن کی بہت دعاؤں پر کوئی دھیان نہ دے گا۔
ڈبلیو۔ ای۔ وائن آج کے ایمان داروں کو بھی اِسی خطرے سے خبردار کرتا ہے:
’’ظاہری دین داری بدکرداری اور شرارت کو ڈھانپنے کا لبادہ ہوتی ہے۔ خداوند نے متی باب ۲۳ میں ایسی باتوں کا پردہ فاش کیا اور اُن کی شدید مذمت کی ہے۔ مسیحی دُنیا میں بھی بڑے پیمانے پر یہودیوں جیسی خطاکاری کی آمیزش ہو گئی ہے۔ ایمان دار کا ضمیر یا دل ایسا جھلسا اور داغا ہوا ہو سکتا ہے کہ وہ دین داری کی وضع رکھتے ہوئے گناہ میں زندگی گزارتا ہو۔ ‘‘
۱: ۱۶،۱۷ ضرور ہے کہ وہ توبہ کریں اور بُرے کاموں کو ترک کر کے اپنے آپ کو دھوئیں اور پاک کریں اور نیکوکاری اور سماجی اِنصاف پر عمل کریں۔
۱: ۱۸۔ ۲۰ اگر وہ خدا کی اِس دلیل اور مشورے کی پیروی کریں گے تو اُن کے گناہ کیسے بھی ’’قرمزی‘‘ ہوں، دُھل جائیں گے اور وہ پاک صاف ہو جائیں گے۔ اور اُن اچھی اچھی چیزوں سے لطف انداز ہوں گے جو خدا نے اُن کو مہیا کی ہیں۔ یہ نکتہ بھی بہت اہم اور معنی خیز ہے کہ جس نبی کے نام کا مطلب ہے ’’یہوواہ نجات ہے‘‘ اُس کی کتاب کے پہلے باب میں فتح یاب اِنجیل (خوش خبری) کی دعوت ہو:
’’اب خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چند وہ ارغوانی ہوں تو بھی اُون کی مانند اُجلے ہوں گے۔‘‘
خدا کی دلیل، ایمان کے ساتھ قبول کی جائے تو سکھاتی ہے کہ گناہ دُھل جاتے ہیں۔ اور یہ دُھلنا اور پاک صاف ہونا اِنسانی کوشش یا حق یا خوبی کے باعث نہیں ہوتا بلکہ صرف اُس کامل فدیے کے وسیلے سے ہے جو خداوند یسوع نے صلیب پر اپنا خون بہا کر ادا کیا۔ اُن لوگوں کے ہجوم کو کون جان سکتا ہے جنہوں نے یسعیاہ ۱:۱۸ کی دعوت کا مثبت جواب دیا ہے؟ اور یہ دعوت آج بھی گونج رہی ہے۔
لیکن اگر قوم اِنکار کرے اور باغی ہو تو جنگ اور تباہی اُن کی منتظر ہے۔
۱: ۲۱۔۲۳ یروشلیم اب وفاداری، اِنصاف اور راست بازی کی بستی نہیں رہا۔ اب وہ بدکار شہر اور خونی لوگوں کی آماج گاہ بن گیا ہے۔ اُس کی اچھی چیزیں بگڑ گئی اور خراب ہو گئی ہیں اور اُس کے سردار لُچے بدمعاش بن گئے ہیں۔ رشوت اور بے اِنصافی ہر جگہ زوروں پر ہے۔
۱: ۲۴۔۳۱ اِس لئے خداوند رَبُّ الافواج اُن سب پر اپنا قہر نازل کرے گا جو اپنے گناہ سے ثابت کرتے ہیں کہ ہم اُس (خدا) کے دشمن ہیں۔ اس کا غضب یروشلیم کو ساری ناپاکی سے پاک کرے گا اور اُس کی پہلی شان اور عظمت بحال کرے گا۔ اُس کی صداقت اور راست بازی توبہ کرنے والوں کی رہائی کو یقینی بنائے گی۔
خداوند یہوداہ کا تفصیلی نام ’’رَبُّ الافواج‘‘ مذکورہ سزاؤں کے اٹل ہونے کو یقینی بناتا ہے۔
البتہ سب ’’گنہگار‘‘ ہلاک ہوں گے اور بت پرست اپنی بت پرستی کی جگہوں (بلُوطوں … اور باغوں) سے شرمندہ ہوں گے۔ وہ خود اُس ’’بلوط کی مانند ہو جائیں گے جس کے پتے جھڑ جائیں‘‘ اور ’’اُس باغ کی مثل ہوں گے جو بے آبی سے سوکھ جائے۔‘‘ وہ سردار یا راہنما جو اپنی طاقت پر بھروسا کرتے ہیں (پہلوان) سوکھے تنکوں کی مانند ہو جائیں گے جو آسانی سے آگ پکڑتے اور ایک چنگاری سے جل اُٹھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ہی بُرے کاموں کی آگ میں جل کر فنا ہو جائیں گے۔
مقدس کتاب
۱ یسعیاہ بن آموص کی رویاجو اُس نے یہوداہ اوریروشلیم کی بابت یہوادہ کےبادشاہوں عُزیاہ اور یوتام اورآخز اور حزقیاہ کی آیام میں دیکھی۔
۲ سُن اے آسمان اورکان لگا اے زمین کہ خداوند یوں فرماتاہے کہ میں نے لڑکوں کو پالا اور پوسا اورانہوں نے مجھ سےسر کشی کی
۳ بیل اپنے مالک کو پہچانتاہے اور گدھا اپنے مالک کی چرنی کو لیکن بنی اسرائیل نہیں جانتے ۔ میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے۔
۴ آہ خطا کار گروہ۔ بد کرداری سے لدی ہوئی قوم۔ بدکرداروں کی نسل مکار اولاد جنہوں نے خداوند کو ترک کیا اِسرائیل کے قُدوس کو حقیر جانا اورگمراہ برگشتہ ہو گئے۔
۵ تم کیوں زیادہ بغاوت کر کے اور مار کھاؤ گے ؟ تمام سر بیمار ہے اور دل بِاکُل سُست ہے۔
۶ تلوے سے لیکر چاندی تک اُس میں کہیں صحت نہیں۔ فقط زخم اور چوٹ اورسڑے ہوئے گھاؤ ہی ہیں جو نہ دبائے گئے نہ باندھےگئے نہ تیل سے نرم کئے گئے۔
۷ تُمہارا مُلک اُجاڑ ہے۔ تمہاری بستیاں جل گئیں ۔ پردیسی تمہاری زمین کو تمہارے سامنے نگلتے ہیں۔ وہ ویران ہے گویا اُسے اجنبی لوگوں نے اُجاڑا ہے۔
۸ اور صیون کی بیٹی چھوڑدی گئی ہے جیسی جھونپڑی تاکستان میں اور چھپر ککڑی کےکھیت میں یا اُس شہر کی مانند جو محصور ہو گیا ہے۔
۹ اگر رب الافواج ہمارا تھوڑا سا بقیہ باقی نہ چھوڑتا توہم سدوم کی مثل اورعمورہ کی مانند ہوجاتے۔
۱۰ اے سدوم کے حاکمو خداوندکا کلام سُنو! اے عمورہ کے لوگو ہمارے خدا کی شریعت پر کان لگاؤ۔
۱۱ خداوند فرماتا ہے تمہارے ذبیحوں کی کثرت مجھے کیا کام؟ میں مینڈھوں کی سوختنی قربانیوں اورفربہ بچھڑوں کی چربی سےبیزار ہوں اوربیلوں اوربھیڑوں اوربکروں کےخون میں میری خوشنُودی نہیں ۔
۱۲ جب تُم میرے حضور آکر میرے دیدار کے طالب ہوتے ہو توکون تم سے یہ چاہتا ہے کہ میری بارگاہوں کو روندو؟۔
۱۳ آئیندہ کوباطل ہدیہ نہ لانا۔ بخور سے مجھے نفرت ہے ۔ نئے چاند اور سبت اورعیدی جماعت سے بھی کیونکہ مجھ میں بدکرداری کے ساتھ عید کی برداشت نہیں ۔
۱۴ میرے دل کو تُمہارے نئےچاندوں اور تُمہاری مُقررہ عیدوں سے نفرت ہے ۔ وہ مجھ پر بار ہیں۔ میں اُن کی برداشت نہیں کر سکتا۔
۱۵ جب تُم اپنے ہاتھ پھیلاؤ گے تو میں تُم سے آنکھ پھیر لوں گا۔ ہاں جب تُم دُعا پر دُعا کرو گے تو میں نہ سُنوں گا۔ تُمہارے ہاتھ تو خون آلودہ ہیں۔
۱۶ اپنےآپکو دھو۔ اپنےآپکو پاک کرو۔ اپنے بُرےکاموں کو میرے سامنے سے دُور کرو۔ بدفعلی سے باز آؤ۔
۱۷ نیکو کاری سیکھو۔ انصاف کے طالب ہو۔ مظلوموں کی مدد کرو۔ یتیموں کی فریاد رسی کرو۔ بیواؤں کے حامی ہو۔
۱۸ اب خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حُجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گےاور ہر چند اورارغوانی ہو تو بھی اوُن کی مانند اُجلے ہونگے ۔
۱۹ اگر تم راضی اورفرمانبردار ہو تو زمین کےاچھےاچھےپھل کھاؤ گے۔
۲۰ پر اگرتم انکارکرو اور باغی ہو تو تلوار کا لقمہ ہو جاؤ گے کیونکہ خداوند نے اپنے مُنہ سے یہ فرمایا ہے۔
۲۱ وفا داربستی کیسی بدکار ہو گئی! وہ تو انصاف سے معمور تھی اورراستبازی اُس میں بستی تھی لیکن اب خونی رہتےہیں۔
۲۲ تیری چاندی مِیل ہو گئی ۔ تیری مَے میں پانی مِل گیا۔
۲۳ تیری سردارگردن کش اورچوروں کے ساتھی ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک رشوت دوست اور انعام کا طالب ہے۔ وہ یتیموں کوانصاف نہیں کرتے اور بیواؤں کی فریاد اُن تک نہیں پہنچتی۔
۲۴ اِسلیے خداوند رب الافواج اسرائیل کا قادر یوں فرماتا ہے کہ آہ میں ضروراپنے مُخالفوں سے آرام پاؤنگا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لونگا۔
۲۵ اور میں تُجھ پر اپنا ہاتھ بڑھاؤنگا اور تیری مَیل بالکُل دُور کر دوں گااور اُس رانگے کو جو تُجھ میں مِلا ہے جُداکرونگا۔
۲۶ اور میں تیرےقاضیوں کو پہلے کی طرح اورتیرے مُشیروں کو ابتدا کی طرح بحال کرونگا۔ اِس کے بعد توراستبازبستی اور وفادارآبادی کہلائے گی۔
۲۷ صیون عدالت کےسبب سے اور وہ جو اُس میں گُناہ سے باز آئے ہیں راستبازی کےباعث نجات پائینگے۔
۲۸ لیکن گنہگار اور بدکردار سب اکٹھے ہلاک ہونگے اورجو خداوند سےباغی ہوئے فنا کئے جائینگے۔
۲۹ کیونکہ وہ اُن بلوطوںسے جنکو تم نے چاہا شرمندہ ہونگے اور تُم اُن باغوں سے جنکو تُم نے پسند کیا خجل ہو گے۔
۳۰ اورتُم اُس بلوط کی مانند ہو جاؤ گے جسکے پتے جھڑ جائیں اوراُس باغ کی مِثل جو بے آبی کی سبب سے سوکھ جائے۔
۳۱ وہاں کا پہلوان ایسا ہو جائیگا جیسا سَن اوراُسکا کام چنگاری ہو جائیگے۔ وہدونوں باہم جَل جائینگے اور کوئی اُن کی آگ نہ بھجائیگا