۵۷: ۱، ۲ باب ۵۷ کی پہلی دو آیات گذشتہ باب کی آیات ۹۔۱۲ سے پیوستہ ہیں۔ گناہ اور ظلم و ستم کے طوفان میں صادقوں پر ایذارسانی جاری ہے۔ اِنسانی نقطۂ نظر سے کسی کو پروا نہیں کہ صادق کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ البتہ خدا کو پروا ہے۔ وہ نیک لوگوں کو آفت سے چھڑاتا ہے اور اُنہیں سلامتی اور آرام میں داخل کرتا ہے۔
۵۷: ۳۔۶ اسیری اور جلاوطنی میں بھی بعض لوگ بت پرستی اور اِس سے وابستہ رسوم پر کار بند ہیں۔ اِن معنوں میں وہ زانی اور فاحشہ والدین کی اولاد ہیں۔ خداوند پر ٹھٹھا مارنے کے باعث وہ باغی اولاد اور دغاباز نسل ہیں۔ وہ درختوں کی پوجا کرنے میں مست ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو بعل اور مولک کے لئے وادیوں میں قربان (ذبح) کرتے ہیں۔
۵۷: ۷۔۱۰ یہ سب کچھ بلند پہاڑ پر پوجا پاٹ کی جگہوں پر بتوں کے ساتھ زِناکاری ہے۔ اپنے دروازوں اور چوکھٹوں پر خدا کی شریعت کو لکھنے کے بجائے (اِستثنا ۶:۹؛ ۱۱: ۲۰) وہ ان دروازوں اور چوکھٹوں کے پیچھے بت پرستی کی علامتیں (لوازمات) نصب کرتے اور اُن کے آگے شہوت پرستی میں مست ہو جاتے ہیں۔ وہ بادشاہ (مولک کا مطلب ، بادشاہ ہے) حضور ہدیئے اور ذبیحے گزرانتے ہیں اور نئی نئی مکروہات کی تلاش میں اپنے ایلچی اور قاصد پاتال تک بھیجتے ہیں۔ وہ اپنی عیاشی سے تھک کر چُور اور ماندہ ہو جاتے ہیں تو بھی باز نہیں آتے بلکہ اپنی قوت اور طاقت کو دوبارہ جمع کرتے اور مزید شرارت اور بدکاری میں لگ جاتے ہیں۔
۵۷: ۱۱۔۱۳ وہ یہوواہ کے ڈر کو خاطر میں لائے بغیر جھوٹ بولتے ہیں اور مڑ کر سوچتے بھی نہیں۔ چونکہ خدا تحمل کرتا ہے اِس لئے اُنہوں نے اُس کی عزت کو اپنے دلوں سے نکال دیا ہے۔ لیکن وہ اُن کی خود ستائی (اپنے آپ کو راست باز ماننا) اور اُن کے گناہ کو ظاہر کرے گا اور اُن سے پردہ اُٹھائے گا۔ اُس وقت اُن کے بت اُن کے کام نہ آئیں گے، اُن کے معبود بالکل بے کار ثابت ہوں گے، لیکن خداوند پر توکل کرنے والے مبارک ہوں گے اور برکت پائیں گے۔
۵۷: ۱۴۔۱۹ جلاوطنی اور اسیری میں وفادار بقیہ سے خدا وعدہ کرتا ہے کہ اُن کی واپسی کے لئے ایک شاہراہ تعمیر کی جائے گی اور ہر ایک رکاوٹ دُور کی جائے گی۔ کیونکہ جو خدا بلند اور مقدس مقام میں رہتا ہے وہ فروتن اور شکستہ دل میں بھی سکونت کرتا ہے۔ وہ اُن جانوں سے جو اُس نے پیدا کی ہیں ہمیشہ جھگڑتا نہ رہے گا، ورنہ وہ اُس کے غضب سے بے تاب ہو جاتی ہیں۔ خدا نے اپنے لالچی اور بھٹکے ہوئے لوگوں پر غضب ضرور نازل کیا، مگر اُس کے غصے کی ایک حد ہوتی ہے۔ جو بت پرستی کو ترک کریں گے وہ اُنہیں ضرور بحال کرے گا اور وہ اپنے لبوں کا پھل اُسے پیش کریں گے۔
۵۷: ۲۰، ۲۱ یسعیاہ نے خوبصورت انداز سے شریر لوگوں کو موجزن اور بے قرار سمندر سے تشبیہ دی ہے۔
راست بازوں کے لئے سلامتی ہے، لیکن شریروں کے لئے سلامتی نہیں۔
مقدس کتاب
۱ صادق ہلاک ہو تا ہےاور کوئی اس بات کو خاطر میں نہیں لا تا اور نیک لوگ اُٹھا لئے جاتے ہیںاور نہیں سوچتا کہ صادق اُٹھا لیا گیا تا کہ انے والی آفت سے بچے
۲ وہ سلامتی میں داخل ہو تا ہے۔ہر ایک راست رو اپنے بستر پرآرام پائے گا۔
۳ لیکن تم اے جادوگرنی کے بیٹو! تم کیس پر ٹھٹھا مارتے ہو؟ تم کس پر منہ پھاڑتے اور زبان نکالتے ہو؟ کیا تم باغی اولاد اور دغا باز نسل نہیں ہو۔
۴
۵ جو بتوں کے ساتھ ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اپنے اپ کو برانگخیتہ کرتے اور وادیوں میں چٹانوں کے شگافوں کے نیچے بچوں کو ذ بح کرتے ہو؟۔
۶ وادی کے کے چکنے پتھر تیرا بخرہ ہیں وہ ہی تیرا حصہ ہیں۔ہاں تونے ان کے لئے تپاون دیا اور ہدیہ چڑھایا ہے۔کیا مجھے ان کاموں سے تسکین ہو گی؟۔
۷ ایک اونچے اور بلند پہاڑ پر تو نے اپنا بستر بچھا یا ہے اور اسی پر ذ بیحہ ذبیحہ ذبح کرنے کوچڑھ گئی۔
۸ اور تو نے دروازوں اور چو کھٹوں کے پیچھے اپنی یاد گار کی علامتیں نصب کیں اور تو میرے سوا دوسرے کے آگے بے پردہ ہوئی۔ ہاں تو نے اپنا بچھوونا بھی بڑا بنایا اور اُن کے ساتھ عہد کر لیا ہے۔تو نے اُن کے بستر کو جہاں دیکھا پسند کیا۔
۹ تو خوشبو لگا کر بادشاہ کے حضور چلی گئی اور اپنے آپ کو خوب معطر کیا اور اپنے ایلچی دور دور بھیجے بلکہ تو نے اپنے آپ کو پا تا ل تک پست کیا۔
۱۰ تو اپنے سفر کی درازی سے تھک گئی تو بھی تو نے نہ کہا کہ اس سے کچھہ فائدہ نہیں۔ تو نے اپنی قوت کی تازگی پائی اس لئے تو افسردہ نہ ہوئی۔
۱۱ تو کس سے ڈری اور کس کے خوف سے تو نے جھوٹ بالا اور مجھے یاد نہ کیا اور خاطر میں نہ لائی؟کیا میں ایک مدت سے خاموش نہیں رہا؟ تو بھی تو مجھ سے نہ ڈری۔
۱۲ میں تیری صداقت کو اور تیرے کاموں کو فاش کروں گا ان سے تجھے کچھ نفع نہ ہو گا۔
۱۳ جب تو فریاد کرے تو جن کو تو نے جمع کیا وہ تجھے چھڑائیں پر ہوا ان سب کو اُڑالے جائے گی۔ایک جھانکا اُن کو لے جائے گا لیکن مجھ پر توکل کرنے وال زمین کا مالک ہو گا اور میرے کوہ مقدس کا وارث ہو گا۔
۱۴ تب یوں کہا جائے گاراہ اُو نچی کرو اُو نچی کرو۔ہموار کرو۔میرے لوگوں کے راستہ سے ٹھوکر کا باعث دور کرو۔
۱۵ کیونکہ جو عالی اور بلند ہے اور ابدالا آباد تک قائم ہے جس کا نام قدوس ہے یوں فرماتا ہے کہ میں بلند اور مقدس مقام میں رہتا ہوں اور اُس کے ساتھ بھی جو شکستہ دل اور فر تن ہے تاکہ فر تنوں کی روح کو زندہ کرو ں اور شکستہ دلوں کو حیات بخشوں۔
۱۶ کیونکہ میں ہمیشہ نہ جھگڑوں گا اور سدا غضب ناک نہ رہوں گا اس لئے کہ میرے حضورروح اور جانیں جو میں نے پیدا کی ہیں بیتاب ہو جاتی ہیں۔
۱۷ کہ میں اُس کے لا لچ کے گناہ سے غضب ناک ہواسو میں نے اُسے مارا۔میں نے اپنے آپ کو چھپایا غضب ناک ہوااس لئے راہ پر جو اُس پر جو اُس کے دل نے نکالی بھٹک گیا تھا۔
۱۸ میں نے اُس کی راہیں دیکھیں اور میں ہی اسے شفا بخشوں گا۔میں میں اُس کی رہبری کرہں گا اور اس کو اور اس کے غم خواروں کو پھر دلاسا دوں گا۔
۱۹ خداوند خدا فرماتا ہے میں لبوں کا پھل پیدا کرتا ہوں سلامتی سلامتی اس کو جو دورہے اور اس کو نزدیک ہے اور مین اس کو صحت بخشوں گا۔
۲۰ لیکن شریر تو سمندر کی مانند ہیں جو ہمیشہ موجزن اور بے قرار ہے۔جس کا پانی کیچڑاور گندگی اچھالتا ہے۔
۲۱ میرا خدا فرماتا ہے کہ شریروں کے لئے سلامتی نہیں ۔