(۷) آنے والی سلطنت کی شان و شوکت (باب ۳۵)
۳۵: ۱۔۷ باغی اور سرکش قوموں کی تباہی و بربادی کے بیان کے بعد ہمارے خداوند اور مخلصی دِہندہ یسوع مسیح کی بادشاہی کا تعارُف کرایا گیا ہے۔ اِس دَور کے خدوخال اور خصوصیات میں کئی چیزیں شامل ہیں مثلاً زمین کی از حد زرخیزی، اور جلال اور حشمت کے ساتھ خداوند کی شخصی حضوری۔ مقدسین ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ ہر قسم کی جسمانی معذوری اور نقص دُور کر دیا جائے گا۔ بیابان اور دشت (ریگستان) قدرتی چشموں سے سیراب ہوں گے اور اِس تبدیلی پر بہت خوشی اور شادمانی ہو گی۔
۳۵: ۸۔۱۰ اسیری سے یروشلیم میں واپس آنے والی سیکڑوں کلو میٹر لمبی راہ شاہراہ بن جائے گی اور ’’مقدس راہ‘‘ کہلائے گی جو خاص خدا کے اُن لوگوں کے لئے وقف ہو گی جن کا فدیہ دیا گیا ہے۔ دُنیا بھر پراگندگی سے واپسی اُس خوشی اور شادمانی کی پیشگی تصویر پیش کرتی ہے جو ایمان داروں کو اُس وقت ہو گی جب یسوع آئے گا اور ایمان دار باپ کے گھر جانے کے لئے آسمان پر اُٹھائے جائیں گے۔
بعض علما یسعیاہ کے اِس حصے کو ’’کلیسیا پر برکات‘‘ اور ’’اِسرائیل پر لعنتیں‘‘ کا ضمنی عنوان بھی دیتے ہیں۔ دراصل تقریباً یہ ساری پیش گوئیاں، برکات یا لعنتیں، براہِ راست اسرائیل سے متعلق ہیں۔ کلیسیا بعد میں آتی ہے اور وہ بھی صرف اِطلاق کے وسیلے سے۔ اِن آیات کی تشریح کرتے ہوئے بہت سے مسیحیوں نے یہودیوں سے ناروا سلوک کیا ہے۔Jennings اِس سلوک کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’ہم اُن لوگوں کو الزام دینے میں حق بجانب ہیں جو پرانے عہدنامے کے سارے وعدے خود لے لیتے ہیں اور ساری دھمکیاں بے چارے یہودی کے لئے وقف کر دیتے ہیں، کیونکہ اِس معاملے میں وہ بہت بڑی غلطی کرتے ہیں۔ تاہم اُن کی بحث میں سچائی کا کچھ عنصر موجود ہے۔ اِس لئے کہ خدا کے سارے وعدے مسیح میں ہاں اور آمین کے ساتھ ہیں۔ اُن کی غلطی یہ کہنے میں ہے کہ چونکہ اب اِسرائیل کسی مصرف کا نہیں رہا اِس لئے اِن تسلی بخش پیش گوئیوں کا اطلاق مسیحیوں اور صرف مسیحیوں پر ہوتا ہے اور بحیثیت قوم اِسرائیل پر قطعی نہیں ہوتا! خدا کا شکر ہے کہ جو کچھ بھی روحانی نوعیت کا ہے اُس کا اطلاق ایسے ہی ہوتا ہے۔ فضل کے نئے عہد کی بنیاد پر اسرائیل کو جو مادی برکات حاصل ہوں گی روحانی مفہوم میں اُسی فضل کے باعث وہ ہماری ہیں۔ لیکن یہ کہنے سے وہ وعدے پورے نہیں ہوتے جو براہِ راست اسرائیل کو دیئے گئے کیونکہ اِس کی شناخت اپنے مسیحِ موعود یعنی یسوع ہے۔ اور اسرائیل کو بہت پہلے دیئے گئے تھے جب خدا کی کلیسیا ابھی وجود میں نہیں آئی تھی۔ ‘‘
مقدس کتاب
۱ بیابان اور ویرانہ شادمان ہونگے اور دست خوشی کریگا اور نرگس کی مانند شگفتہ ہو گا۔
۲ اس میں کثرت سے کلیاں نکلیں گے ۔ وہ شادمانی سے گا کر خوشی کریگا۔ لبنان کی شوکت اور کرمل اورشارون کی زینت اسے دی جائیگی ۔ وہ خداوند کا جلال اور ہمارے خداوند کی حشمت دیکھنگے۔
۳ کمزور ہاتھوں کو زور اور ناتوان گھٹنوں کو توانائی دو۔
۴ ان کو کج دلے ہیں کہو ہمت باندھو مت ڈرو ۔ دیکھو تمہارا خدا سزا اور جزا کے لیے آتا ہے۔ ہاں خدا ہی آئیگا اورتم کو بچائیگا۔
۵ اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے ۔
۶ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرینگے اور گونگے کی زبان گائیگی کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلینگی۔
۷ بلکہ سراب تالاب ہو جائیگا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائیگی ۔ گیدڑوں کی ماندوں میں جہاں وہ پڑےتھے نَے اور نل کا ٹھکانا ہو گا ۔
۸ اور وہاں ایک شاہراہ اور گذرگاہ ہو گی جو مقدس راہ کہلائیگی جس سے کوئی ناپاک گذر نہ کریگا ۔ لیکن یہ مسافروں کے لیے ہو گی ۔ احمق بھی اس میں گمراہ نہ ہونگے۔
۹ وہاں شیر ببر نہ ہو گا اورنہ کوئی درندہ اُس پر چڑھیگا نہ وہاں پایا جائیگا لیکن جنکا فدیہ دیا گیا وہاں سیر کرینگے۔
۱۰ اورجنکو خداوند نے مخلصی بخشی لوٹینگے اورصیون میں گاتے ہوئے آئینگے اور ابدی سرور انکے سروں پر ہوگا۔ وہ خوشی اور شادمانی حاصل کرینگے اور غم و اندوہ کافور ہو جائینگے۔