ج۔ عمانوایل کی کتاب (ابواب ۷۔ ۱۲)
(۱) مسیحِ موعود کی معجزانہ پیدائش (باب۷)
۷: ۱، ۲ ابواب ۷۔۱۲ کو ’’عمانوایل کی کتاب‘‘ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ اِس حصے میں نبوتیں یا پیش گوئیاں واضح طور سے مسیح کے بارے میں ہیں۔
باب ۶ اور ۷ کے درمیان یسعیاہ یوتام کے عہدحکومت سے قطع نظر کرتا ہے اور آخز کے دَور کے واقعات کا ذکر کرتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ارام اور اسرائیل (افرائیم) نے یہوداہ کے خلاف اتحاد کر لیا تھا اور یروشلیم کے لئے خطرہ تھے۔
۷: ۳ یسعیاہ اور اُس کا بیٹا شیاریاشوب نکل کر ’’اوپر کے چشمے کی نہر کے سرے پر دھوبیوں کے میدان کی راہ میں‘‘ آخز بادشاہ سے ملاقات کرنے گئے۔ بادشاہ غالباً اِس لئے وہاں گیا تھا کہ شہر میں پانی کی رسد کو محفوظ بنائے۔ دھوبیوں کا میدان وہ جگہ تھی جہاں لوگ کپڑے دھو کر پھیلاتے تھے تاکہ دھوپ سے اُن کا رنگ نکھر آئے۔
۷: ۴۔۹ خدا نبی کی معرفت آخز کو یقین دلاتا ہے کہ تجھے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ارام اور اِسرائیل کے بادشاہوں (رضین اور فقح) کی حیثیت لکٹیوں کے دو دُھوئیں والے ٹکڑوں سے زیادہ نہیں جو بجھنے کو ہیں۔ اگرچہ اِس اتحاد نے یہوداہ پر چڑھائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور کسی نامعلوم طابیل کے بیٹے کو کٹھ پتلی بادشاہ بنانے کی تجویز کی ہے مگر یہ منصوبہ بڑی حد تک ناکام ہو گا۔ (ارام اور اِسرائیل نے یہوداہ پر ضرور حملہ کیا مگر اسوریوں کی پیش قدمی کے باعث اِس کا زور ٹوٹ گیا۔) یہ اَمر بھی یقینی ہے کہ ارام کی شہری ریاست دمشق ہی ہو گا اور اُس کا سردار رضین ہو گا۔ اِسی طرح یہ بات بھی یقینی ہے کہ پینسٹھ برس کے اندر اِسرائیل ایسی شکست کھائے گا کہ ’’قوم نہ رہے گا‘‘۔ (اِس نبوت کی تکمیل کے لئے دیکھئے ۲۔سلاطین باب ۱۷)۔ جیسے یہ بات یقینی ہے کہ اِسرائیل کا دارالحکومت سامریہ ہے اور اُس کا سردار فقح ہے اِسی طرح یہ بات بھی یقینی ہے کہ اگر آخز نے خدا کے کلام کا یقین نہ کیا تو قائم نہ رہے گا۔
۷: ۱۰۔۱۳ خداوند (یہوواہ) نے آخز کو حکم دیا کہ وہ زمین پر یا آسمان پر کوئی نشان طلب کرے کہ یہوداہ کے خلاف ارام اور اسرائیل کا اتحاد کامیاب نہ ہو گا۔ آخز کو اپنی حفاظت کے لئے اسور پر بھروسا تھا۔ وہ اِس بھروسے سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اِس لئے اُس نے جھوٹی دین داری اور خاکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خدا سے نشان طلب کرنے سے اِنکار کیا۔ خداوند بادشاہ کے اِس رویے سے ناراض تو ہوا مگر پھر بھی اُسے ایک نشان دیا۔ وائن (Vine) اِسی پر یوں تبصرہ کرتا ہے:
’’چونکہ آخز نے نشان طلب کرنے سے اِنکار کیا تو بھی خدا اپنی پسند کا ایک نشان دے گا۔ یہ ایسا نشان ہے جو آخز کے زمانے کے حالات سے بہت آگے تک محیط ہو گا اور اِس کے ساتھ ’داؤد کے گھرانے‘ کے بارے میں پیش گوئیوں اور وعدوں کا سلسلہ اپنے نقطۂ عروج کو پہنچ جائے گا۔ آخز اور اُس کی طرح کے لوگوں کا اِس نشان کی تکمیل کی برکتوں اور شان و شوکت میں کچھ حصہ نہ ہو گا۔‘‘
۷: ۱۴ بہت سی پیش گوئیوں کی طرح اِس پیش گوئی کی بھی دہری تکمیل نظر آتی ہے۔ پہلی تکمیل آخز کے ایام میں اور دوسری اور مکمل تکمیل مسیح کی پہلی آمد میں ہوتی ہے۔ آیت ۱۴ ناقابلِ تردید طور پر مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہے __کنواری کا بیٹا۔ اُس کا نام ظاہر کرتا ہے کہ وہ عمانوایل، خدا ہمارے ساتھ ہے۔ ہم ایک بار پھر وائن سے اِقتباس کرتے ہیں:
’’یسعیاہ مستقبل کی کوئی بھی بات کہتے ہوئے ’دیکھو‘ سے شروع کرتا ہے۔ یہاں لفظ ’بتولہ‘ (دوشیزہ جو اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہو اور جس کی شادی عنقریب نہ ہونے والی ہو) کے مقابلے میں ’ علمہ‘ کے لفظ کا اِنتخاب بہت معنی خیز ہے۔ اِس کا مطلب ہے وہ لڑکی جو بالغ اور شادی کے لئے تیار ہے۔‘‘
۷: ۱۵۔۱۷ آیت ۱۵ اور ۱۶ کا اِشارہ یسعیاہ کے دوسرے بیٹے مہیرشالال حاش بز کی طرف ہے جسے ۸:۱۸ میں ایک نشان کہا گیا ہے۔ جوان عورت سے پیدا ہونے والا یہ بیٹا غربت میں رہے گا (دہی اور شہد کھانا) جب تک ذمہ داری کی عمر (نیکی اور بدی کی تمیز) کو نہ پہنچ جائے۔ لیکن اِس عمر کو پہنچنے سے پیشتر ارام اور اِسرائیل کے ملک ویران ہو جائیں گے یعنی اُن کے بادشاہ برسرِ اِقتدار نہ رہیں گے اور یوں وہ اتحاد جس سے یہوداہ ڈرتا تھا ختم ہو جائے گا۔ مگر خدا یہوداہ کو بھی سزا دے گا اور شاہِ اسور اُس پر چڑھ آئے گا۔ کیسے؟
۷: ۱۸۔۲۲ خدا مکھیوں (مصر) اور زنبوروں (اسُور) کو سِسکار کر بلائے گا اور وہ غول کی مانند یہوداہ پر آ پڑیں گے۔ اسور خدا کا کرائے پر لیا ہوا اُسترا ہو گا اور رُسوائی اور شرمندگی لائے گا جیننگز (Jennings) یوں کہتا ہے:
’’اُس دن یہوداہ واقعی غریب ہو گا کیونکہ اُس کا کُل سرمایہ ایک گائے اور دو بھیڑیں یا بکریاں ہو گا۔ لیکن غیر زرعی زمین میں چارا اِتنا فراواں ہو گا کہ یہ تین جانور اُس کے کھانے کی ساری ضرورت پوری کریں گے، یا وہ واقعی حاصل کر سکے گا۔‘‘
۷: ۲۳۔۲۵ وہ زمین جو پہلے وافر فصلیں اُگایا کرتی تھی اب اُس میں خاردار جھاڑیاں اور اُونٹ کٹارے پیدا ہوں گے۔ وہ قابلِ کاشت نہ رہے گی۔ صرف گائے بیل اور بھیڑ بکریوں کے چرنے کے قابل ہو گی۔
مقدس کتاب
۱ اور شاہ یہوداہ آخز بن یوتام بن عُزیاہ کے آیام میں یہ ہوا کہ رضین شاہ ارام اور فقح بن رملیاہ شاہ اسرائیل نے یروشلیم پر چڑھائی کی لیکن اُس پر غالب نہ آسکے۔
۲ اُس وقت داؤد کے گھرانے کو یہ خبر دی گئی کہ ارام افرائیم کے ساتھ متحد ہے۔ پس اُس کے دل نےاور اُس کے لوگوں کےدلوں نے یوں جنبش کھائی جیسےجنگل کےدرخت آندھی سےجنبش کھاتےہیں۔
۳ تب خداوند نے یسعیاہ کو حکم کیا کہ تو اپنےبیٹے شیار یاشوب کو لےکر اوپر کے چشمہ کی نہر کے سرے پر جو دھوبیوں کے میدان کی راہ میں ہے آخز سے ملاقات کر۔
۴ اوراُسے کہہ کے خبردار ہو اوربےقرار نہ ہو۔ ان لکٹیوں کے دودھوئیں والے ٹکڑوں سے یعنی ارامی رضین اوررملیاہ کے بیٹےکی قہر انگیزی سے نہ ڈر اور تیرا دل نہ گھبرائے۔
۵ چونکہ ارام اورافرائیم اوررملیاہ کا بیٹا تیرے خلاف مشورت کر کے کہتےہیں۔
۶ کہ آؤ ہم یہوادہ پر چڑھائی کریں اوراُسے تنگ کریں اور اپنے لیے اُس میں رخنہ پیدا کریں اور طابیل کے بیٹے کو اُسکے درمیان تخت نشین کریں ۔
۷ اس لیے خداوند خدافرماتا ہے کہ اسکو پایداری نہیں بلکہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا ۔
۸ کیونکہ ارام کا دالسلطنت دمشق ہی ہو گا اور دمشق کا سردار رضین اورپینسٹھ برس کےاندر افرائیم ایسا کٹ جائے گا کہ قوم نہ رہیگا۔
۹ افرائیم کا بھی دارالسلطنت سامریہ ہی ہو گا اور سامریہ دا سردار رملیاہ کا بیٹا۔ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو یقیناً تم بھی قائم نہ رہو گے۔
۱۰ پھر خداوند نے آخز سے فرمایا۔
۱۱ خداوند اپنے خدا سے کوئی نشان طلب کر خواہ نیچے پاتال میں خواہ اُوپر بلندی پر ۔
۱۲ لیکن آخز نے کہا کہ میں طلب نہیں کروں گا اور خداوند کو نہیں آزماونگا۔
۱۳ تب اُن نے کہا اے داؤد کے خاندان اب سنو ! کیا تمہارا انسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خدا کو بھی بیزار کروگے؟۔
۱۴ لیکن خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور وہ اُس کا نام عمانوائیل رکھے گی۔
۱۵ وہ دہی اورشہد کھائے گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی کےرد و قبول کے قابل نہ ہو جائے۔
۱۶ پراس سے پیشتر کہ یہ لڑکا نیکی اوربدی کے رد و قبول کے قابل ہو یہ ملک جس کے دونوں بادشاہوں سے تجھ کو نفرت ہے ویران ہو جائیگا۔
۱۷ خداوند تجھ پر اورتیرے لوگوں اورتیرے باپ کےگھرانے پر ایسے دن لائیگا جیسے اُس دن سے جب افرائیم یہوادہ سے جُدا ہوا آج تک کبھی نہ لایا یعنی شاہ اسور کے دن۔
۱۸ اُس وقت یوں ہو گا کہ خداوند مصر کی نہروں کے اُس سرے سے مکھیوں کو اور اسور کے ملک سے زنبوروں کو سسکار کر بُلائیگا۔
۱۹ سو وہ سب آئینگے اور ویران وادیوں میں اور چٹانوں کی دراڑوں میں اور سب خارستانوں میں اور سب چراگاہوں میں چھا جائیں گے ۔
۲۰ اسی روز خداوند اس اُسترے سے جو دریایِ فرات کے پار سے کرایہ پر لیا یعنی اسور کے بادشاہ سے سر اور پاؤں کے بال مونڈیگا اور اس سے ڈاڑھی بھی کھرچی جائیگی۔
۲۱ اور اُسوقت ایساہو گا کہ آدمی صرف ایک گائے اوردو بھیڑیں پالیگا ۔
۲۲ اور ان کے دودھ کی فراوانی سے لوگ مکھن کھائینگے کیونکہ ہر ایک جو اُس ملک میں بچ رہیگا مکھن اورشہد ہی کھایا کرےگا۔
۲۳ اور اس وقت یہ حالت ہو جائیگی کہ ہر جگہ ہزاروں روپیہ کے تاکستانوں کی جگہ خار دار جھاڑیاں ہونگی۔
۲۴ لوگ تیر اور کمانیں لیکر وہاں آئینگے کیونکہ تمام ملک کانٹوں اور جھاڑیوں سے پُر ہو گا۔
۲۵ مگر ان سب پہاڑیوں پر جو کدالی سےکھودی جاتی تھیں جھاڑیوں اور کانٹوں کے خوف سے تو پھر نہ چڑھیگا لیکن وہ گائے بیل اوربھیڑ بکریوں کہ چراگاہ ہونگی۔