أیسعیاہ ۳۴

(‏۶)‏ ساری قوموں پر افسوس (‏باب ۳۴)‏

۳۴:‏ ۱۔۴ باب ۳۴ میں عمومی طور پر ساری قوموں اور خصوصی طور پر ادوم کے خلاف خدا کے غصے اور غضب کا بیان ہے۔ ادوم‏، ساری قوموں کا نمائندہ بھی ہو سکتا ہے۔ جب یہوداہ کا قہر تمام قوموں یعنی غیر قوموں پر نازل ہو گا تو اُن کی گلتی سڑتی لاشوں کی بدبو ناقابلِ برداشت ہو جائے گی اور پہاڑ اُن کے لہو کے دھارے میں بہہ جائیں گے۔ یہاں تک کہ اجرامِ فلک بُری طرح ہِل جائیں گے۔

۳۴:‏ ۵۔۷ خداوند کی تلوار خون سے مست ہو کر غضب کے ساتھ ادوم پر گرے گی۔ وہ عوام (‏برّوں اور بکروں … اور مینڈھوں)‏ اور خواص یعنی شرفا یا قائدین (‏جنگلی سانڈ اور بچھڑے اور بیل)‏ سب کو قتل کرے گا۔

۳۴:‏ ۸ یہ خداوند کا اِنتقام لینے کا دن ہے:‏

’’لفظ اِنتقام اِنتہائی اہم ہے۔ اِس کا مطلب وہ نہیں جیسے ہم استعمال کرتے ہیں یعنی اَدلے کا بدلہ۔ اِس کا تعلق خدا کے اُس عمل سے ہے جس کے باعث وہ سزا کے اُس حکم پر عمل درآمد کرتا ہے جو اُس نے منصف کی حیثیت سے جائز طور پر عائد کی تھی‘‘ (‏سکرپچر یونین کے Daily Notes)‏۔

۳۴:‏ ۹۔۱۷ یہ عبارت ادوم کے حشر کا بیان ہے __ بھڑکتا ہوا الاؤ‏، بے آباد‏، جہاں عجیب و غریب پرندوں اور جنگلی درندوں کا قبضہ ہے۔ خدا اُس وقت تک ہاتھ نہیں روکے گا جب تک اُس کا حلیہ بالکل نہ بگڑ جائے۔ نہ کوئی بادشاہی ہو گی‏، نہ بادشاہ‏، نہ اشراف جن کا نام لیا جائے۔ اُس کے کھنڈرات میں کانٹے بکثرت اُگیں گے اور وہ عجیب و غریب جانوروں کی آماج گاہ ہوں گے (‏اِن جانوروں کی باوثوق شناخت ممکن نہیں)‏۔ ہر جانور کی مادہ اُس کے ساتھ ہو گی۔ وہ سب انڈے بچے دیتے اور بڑھتے رہیں گے۔ اور چونکہ خدا نے ادوم کے یہ کھنڈر اور ویرانے اُن کو دیئے ہیں اِس لئے وہ ’’پشت در پشت‘‘ اُن میں بسیں گے۔ اِس باب میں ’’ابد تک‘‘ اور ’’ابدالآباد‘‘ (‏آیت ۱۰‏،۱۷)‏ کا مطلب ’’پشت در پشت‘‘ ہے۔

مقدس کتاب

۱ اے قومو! نزدیک آ کے سنو۔ اے اُمتو کان لگاؤ۔ زمین اور اسکی معموری دنیا اور اسکی سب چیزیں جو اس میں ہیں سنیں۔
۲ کیونکہ خداوند کا قہر تمام قوموں پر اور اسکا غضب انکی سب فوجوں پر ہے۔ اس نے انکو ہلاک کر دیا اس نے انکو ذبح ہونے کے لیے حوالہ کیا۔
۳ اور انکے مقتول پھینک دئے جائینگے بلکہ ان کی لاشوں سے بدبو اٹھیگیاور پہاڑ انکے لہو سے بہہ جائینگے۔
۴ اورتمام اجرامِ فلک گداز ہو جائینگے اور آسمان طومار کی مانند لپیٹے جائینگے اور انکی تمام افواج تاک اور انجیر کے مرجھائے ہوئے پتوں کی مانند گر جائینگی۔
۵ کیونکہ میری تلوار آسمان میں مست ہو گی دیکھو وہ ادوم پر اور ان لوگوں پر جنکو میں نے ملعون کیا سزا دینے کو نازل ہو گی ۔
۶ خداوند کی تلوار خون آلودہ ہے ۔ وہ چربی اور اور بکروں اور بروں کےلہو سے اورمینڈھوں کے گردوں کے خون سے چکنا گئی کیونکہ خداوند کے لیے بصراہ میں ایک قربانی اور ادوم کے ملک میں بڑی خونریزی ہے ۔
۷ اور انکے ساتھ جنگلی سانڈ اور بچھڑے اور بیل ذبح ہونگے اور انکا ملک خون سے سیراب ہو جائیگا اور انکی گرد چربی سے چکنا جائیگی۔
۸ کیونکہ یہ خداوند کا انتقام لینے کا دن اور بدلہ لینے کا سال ہے جس میں وہ صیون کا انصاف کریگا۔
۹ اور اسکی ندیاں رال ہو جائینگی اور اسکی خاک گندھک اور اسکی زمین جلتی ہوئی رال ہو گی۔
۱۰ جو شب و روز کبھی نہ بھجے گی۔ اس سے ابد تک دھواں اٹھتا رہیگا۔ نسل در نسل وہ اجاڑ رہیگی ۔ ابدالاباد تک کوئی ادھر سے نہ گذرے گا۔
۱۱ لیکن حواصل اور خار پشت اسکے مالک ہونگے ۔ الو اور کوئے اس میں بسینگے اور اس پر ویرانی کا سوت پڑیگا اورسنسانی کا ساہول ڈالا جائیگا۔
۱۲ اسکے اشراف میں سے کوئی نہ ہو گا جسے وہ بلائیں کہ حکمرانی کرے اور اسکے سب سردار ناچیز ہونگے۔
۱۳ اور اسکے قصروں میں کانٹے اور اسکے قلعوں میں بچھو بوٹی اور اونٹ کٹارے اُگینگے اور وہ گیدڑوں کی ماندیں اور شتر مرغوں کے رہنے کا مقام ہو گا۔
۱۴ اوردشتی درندے بھیڑیوں سے ملاقات کرینگے اور چھگمانس اپنے ساتھی کو پکارے گا ۔ ہاں عفریت شب وہاں آرام کریگا اور اپنے ٹکنے کو جگہ پائیگا ۔
۱۵ وہاں اڑنے والے سانپ کا آشیانہ ہو گا اور انڈے دینا اور سینا اور اپنے سایہ میں جمع کرنا ہو گا وہاں گدھ جمع ہونگے اور ہر ایک کے ساتھ اسکی مادہ ہو گی۔
۱۶ تم خداوند کی کتاب میں ڈھونڈو اور پڑھو ۔ ان میں سے ایک بھی کم نہ ہو گا اور کوئی بے جفت نہ ہوگا کیونکہ میرے منہ نے یہی حکم کیا ہے اور اسکی روح نے انکو جمع کیا ہے ۔
۱۷ اور اس نے انکے لیے قرعہ ڈالا ہے اور اسکے ہاتھ نے انکے لیے جریب کو تقسیم کیا ۔ سو وہ ابد تک اسکے مالک ہونگے اور پشت در پشت اس میں بسینگے۔