أیسعیاہ ۴۷

(‏۸)‏ بابل کے سقوط سے تسلی (‏باب ۴۷)‏

۴۷:‏ ۱۔۴ بابل شہر کو ایک خوبصورت کنواری ملکہ کی صورت میں پیش کیا گیا۔ یہ ملکہ اپنا تخت چھوڑ کر باندی بننے پر مجبور ہو گی۔ اُسے ادنیٰ کام کرنے پڑیں گے اور ندیوں میں سے پیدل گزر کر اسیری میں جانا پڑے گا۔ خدا اُسے بے پردہ کرے گا اور ساری دُنیا اُس کی برہنگی دیکھے گی۔ خدا بدلہ لے گا اور کسی کا لحاظ نہ کرے گا اِس لئے کہ وہ اسرائیل کا قدوس اور فدیہ دینے والا ہے۔

۴۷:‏ ۵۔۱۵ بابل کو چار گناہوں کی سزا ملے گی۔

  1. اگرچہ خدا نے اُسے مقرر اور برپا کیا تھا کہ اُس کے لوگوں (‏اسرائیل)‏ کو اسیری میں لے جائے‏، لیکن یہ نہیں کہا تھا کہ تُو اُن پر ظلم و ستم کرنا اور بے رحمی سے پیش آنا۔ بابل اپنی حد سے تجاوز کر گئی۔ اب وہ (‏یعنی بابل)‏ کہتی ہے کہ مَیں ہمیشہ تک نرم اندام اور نازک نازنِین رہوں گی۔ لیکن خدا فرماتا ہے اب تُو مملکتوں کی خاتون نہ کہلائے گی۔
  2. بابل خودسر اور متکبر تھی اور فرض کئے بیٹھی تھی کہ کوئی میری کامیابی اور خوش حالی کو گزند نہیں پہنچا سکتا۔ وہ ایک ہی دن میں بے اولاد اور بیوہ ہو جائے گی۔ اور اُس کی کوئی جادوگری اِس آفت اور مصیبت کو روک نہ سکے گی۔
  3. وہ سمجھتی تھی کہ میرا جرم پکڑا نہیں جا سکتا کیونکہ مجھے کوئی نہیں دیکھتا۔ مَیں سزا سے مبرا ہوں۔ لیکن اُسے اپنے ناز اور خود بینی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اُس پر سخت مصیبت اور تباہی آئے گی۔
  4. وہ افسوں گروں‏، ساحروں اور جادو گروں پر بھروسا کرتی تھی۔ جیننگز لکھتا ہے:‏ ’’خدا اُسے صلاح دیتا ہے کہ اپنی ساری قوتوں کو مدد کے لئے طلب کرکیونکہ تجھے اِن کی سخت ضرورت ہو گی۔‘‘ خدا کی سزا آتش دان کی آرام دہ آگ کی مانند نہیں ہو گی بلکہ دوزخ کے بھڑکتے ہوئے الاؤ کی مانند ہو گی۔ جو بابل کے ساتھ تجارت کرتے تھے وہ سب اُس سے کنارہ کر جائیں گے اور اُسے بچانے والا کوئی نہ رہے گا۔

مقدس کتاب

۱ اے کنواری دختر بابل تو بے تخت زمین پر بیٹھ کیونکہ اب تو نرم اندام اور نازنین نہ کہلائیگی۔
۲ چکی لے اور آٹا پیس اپنا نقاب اتار اور دامن سمیٹ لے۔ ٹانگیں ننگی کر کے ندیوں کو عبور کر۔
۳ تیرا بدن بے پردہ کیا جائیگا بلکہ تیرا ستر بھی دیکھا جائیگا۔ میں بدلہ لونگا اور کسی پر شفقت نہ کرونگا۔
۴ ہمارا فدیہ دینے والے کا نام رب الافواج یعنی اسرائیل کا قدوس ہے ۔
۵ اے کسدیوں کی بیٹی چپ ہو کر بیٹھ اور اندھیرے میں داخل ہو کیونکہ اب تو مملکتوں کی خاتون نہ کہلائیگی۔
۶ میں اپنے لوگوں پر غضبناک ہوا ۔ میں نے اپنی میراث کو ناپاک کیا اور انکو تیرے ہاتھ میں سونپ دیا تو نے ان پر رحم کیا ۔ تو نے بوڑھوں پر بھی اپنا بھاری جوا رکھا ۔ اورتو نے کہا بھی کہ میں ابد تک خاتون بنی رہونگی۔ سو تو نے اپنے دل میں ان باتوں کا خیال نہ کیا اور انکے انجام کو نہ سوچا ۔
۷
۸ پس اب یہ بات سُن۔ اے تو عشرت میں غرق ہے جو بے پرواہ رہتی ہے۔ جو اپنے دل میں کہتی ہے کہ میں ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں۔ میں بیوہ کی طرح نہ بیٹھونگی اور نے بے اولاد ہونے کی حالت سے واقف ہونگی ۔
۹ سو ناگہان ایک ہی دن میں یہ دو مصیبتیں تجھ پر آ پڑیں گی یعنی بے اولاد اور بیوہ ہو جائیگی ۔ تیرے جادو کی افراط اورتیرے سے سحر کی کثرت کےباوجود یہ مصیبتیں پورے طور سےتجھ پر آ پڑیں گی۔
۱۰ کیونکہ تو نے اپنی شرارت پر بھروسہ کیا تو نے کہا مجھے کوئی نہیں دیکھتا تیری حکمت اور تیری دانش نے تجھ کو بہکایا اور تو نے اپنے دل میں کہا میں ہی ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں ۔
۱۱ اس لیے تجھ پر مصیبت آ پڑیگی جسکا منتر تو نہیں جانتی اور ایسی بلا تجھ پر نازل ہو گی جسکو تو دور نہ کر سکیگی ۔ یکایک تباہی تجھ پر آئیگی جسکی تجھ کو کچھ خبر نہیں۔
۱۲ اب اپنا جادو اور اپنا سارا سحر جسکی تو نے بچپن سے ہی مشق کر رکھی ہے استعمال کر۔ شاید تو ان سے نفع پائے ۔ شاید تو غالب آئے۔
۱۳ اب افلاک پیما اور منجم اور وہ جو ماہ بماہ آیندہ حالات دریافت کرتے ہیں اٹھیں اور جو کچھ تجھ پر آنے والا ہے اس سے تجھ کو بچائیں۔
۱۴ دیکھ وہ بھوسے کی مانند ہونگے آگ انکو جلائیگی ۔ وہ اپنے آپ کو شعلہ کی شدت سے بچا نہ سکینگے ۔ یہ آگ نہ تاپنے کے انگارے ہو گی نہ اس کے پاس بیٹھ سکیں گے۔
۱۵ جنکے لئے تو نے محنت کی تیرے لئے ایسے ہی ہونگے جنکے ساتھ تو نے اپنی جوانی ہی سے تجارت کی ان میں سے ہر ایک اپنی راہ لےگا ۔ تجھ کو بچانے والا کوئی نہ رہیگا۔