أیسعیاہ ۵۸

ج۔ اسرائیل کا گناہ‏، سزا‏، توبہ اور بحالی (‏ابواب ۵۸۔۶۶)‏

یسعیاہ کی کتاب کے آخری نو ابواب ایمان داروں اور برگشتہ لوگوں دونوں کے انجام کا بیان کرتے ہیں۔ الفریڈ مارٹن اِس کا خلاصہ یوں پیش کرتا ہے:‏

’’کتاب کے اِختتامی ابواب اُس شاندار اور جلالی اِختتام کا بیان کرتے ہیں جو خدا نے اسرائیل یعنی خادم کی اُمت کے لئے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ اِس پورے حصے میں باغی اور ایمان دار کے درمیان زبردست تقابل دکھایا گیا ہے۔ یہ ایسا تقابل ہے جو خدا کے کلام میں پایا جاتا ہے۔‘‘

(‏۱)‏ حقیقی روحانیت کی مسرتیں (‏باب ۵۸)‏

۵۸:‏ ۱۔۵ لازم ہے کہ نبی بلند آواز سے یہوداہ کی بدکرداری کا اعلان کرے۔ یوں لگتا ہے کہ لوگ روز بروز مقررہ رسوم کو ادا کرنے سے راضی اور مطمئن ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ ہم واقعی ایک فرماں بردار قوم ہیں۔ دراصل وہ خدا پر الزام دھرتے ہیں کہ وہ ہمارے روزہ رکھنے اور پشیمانی ظاہر کرنے کے کاموں یعنی جان کو دکھ دینے پر توجہ نہیں دیتا۔ لیکن خدا اُن کو خود پرستی‏، اپنے ملازمین سے ناجائز سلوک کرنے اور روزہ کے دوران جھگڑا رگڑا کرنے اور شرارت کے مکے مارنے کا مجرم ٹھہراتا ہے۔ حقیقی روزہ نہ تو جسمانی وضع یا حالت کا معاملہ ہے نہ ظاہری ماتم کا نام۔ 

۵۸:‏ ۶۔۸ خدا ایسا روزہ چاہتا ہے جس کے ساتھ نیک کام بھی کئے جائیں مثلاً ظلم کی زنجیریں توڑنا‏، مظلوموں کے جوئے کے بندھن‏، کھولنا‏، بھوکوں کو کھلانا‏، غریبوں اور مسکینوں کو رہائش فراہم کرنا‏، ننگے کو کپڑا پہنانا اور ضرورت مند ہمسائے کی حاجت روائی کرنا۔ جو لوگ اِس طرح معاشرتی اِنصاف اور بھلائی پر عمل پیرا رہتے ہیں اُن کو ہدایت و راہنمائی‏، شفا اور صحت کی ترقی اور محافظت کا یقین دلایا گیا ہے۔ ’’تیری صداقت‘‘ کا مطلب مذکورۂ بالا رحم اور خدا ترسی کے کام بھی ہو سکتا ہے اور ایمان داروں کے نام محسوب ہونے والی خدا کی صداقت بھی ہو سکتا ہے۔ 

۵۸:‏ ۹۔۱۲ دین دار اور خدا ترس شخص کو یقین دلایا گیا ہے کہ تُو جب بھی پکارے گا خداوند جواب دے گا:‏ مَیں یہاں ہوں اگر تُو ظلم کو دُور کرنے‏، اور دوسروں پر الزام تراشی (‏انگلیوں سے اشارہ)‏ کرنا چھوڑ دے‏، دوسروں پر کیچڑ اچھالنا اور اُنہیں بدنام کرنا ترک کر دے‏، اگر تُو اِنسان کی جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی ضروریات کا ازالہ کرے تو خدا کا وعدہ ہے کہ تیری رات دن کی طرح روشن ہو گی۔ تُو راہنمائی‏، اچھی چیزوں کی افراط‏، اچھی صحت اور طاقت‏، خوبصورتی اور بارآوری (‏اولاد)‏ اور قومی بحالی سے بہرہ مند اور محظوظ ہو گا۔ تیرے بیٹے عرصے سے غیرآباد پڑے شہروں کو ازسرنو تعمیر اور آباد کریں گے اور تُو اپنی فصیلوں اور شہروں کو ازسرِنو تعمیر کرنے والی قوم کہلائے گا (‏آیت ۱۲)‏۔

۵۸:‏ ۱۳‏،۱۴ اگر خدا کے لوگ سبت کو مقدس اور معظم مانیں اور کاروبار اور اُن کاموں سے باز رہیں جو اپنی خوشی کے لئے ہیں‏، تو خداوند میں مسرور ہوں گے جس نے یہ دن عطا کیا ہے اور وہ اُنہیں زمین پر قوموں کا سردار بنائے گا اور وہ میراث دے گا جس کا وعدہ یعقوب سے کیا تھا۔ کوئی چیز اِس وعدے کو پورا ہونے سے روک نہیں سکتی کیونکہ خداوند ہی کے منہ سے یہ اِرشاد ہوا ہے۔

مقدس کتاب

۱ گلا پھاڑ کر چلا ۔دریغ نہ کر۔نرسنگے کی ماند اپنی اواز بلند کر اور میرے لوگوں پر ان کی خطا اور یعقوب کے گھرانے پر اُن کے گناہوں کو ظاہر کر
۲ وہ روز بر روز میرے طالب ہیں اور اس قوم کی مانند جس نے صداقت کے کام کئےاور اپنے خدا کے احکام کو تر ک نہ کیا میری راہوں کو دریافت کرنا چاہتے ہیں۔وہ مجھ سے صداقت کے ٓحکام طلب کرتے ہیں۔وہ خدا کی نزدیکی چاہتے ہیں۔
۳ وہ کہتے ہیں ہم نے کس لئے روزے رکھے جبکہ تو نظر نہیں کرتا اور ہم نے کیون اپنی جان کو دکھ دیا۔جبکہ تو خیال نہیں لاتا؟ دیکھو تم اپنے روزے کے دن میں خوشی کے طالب رہتے ہواور سب طرح کی سخت محنت لوگوں سے کرواتے ہو۔
۴ دیکھو تم اس مقصد سے روزے رکھتے ہوجھگڑارگڑا کرو اور شرارت کے مکے مارو۔پس تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتےہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پر سُنی جائے۔
۵ کیا یہ وہ روزہ ہے جو مجھ پسند ہے؟ایسا دن کہ اُس ادمی اپنی جان کو دکھ دےآور اپنی سر کو جھائو کی طرح جھکائے اہر اپنے نیچے ٹا ٹ اور راکھ بچھائے؟کیا تُو اُس کو روزہ اور ایسا دن کہےگا جب خدا وند کا مقبول ہو؟۔
۶ کیا وہ روزہ جو میں چاہتا ہوں یہ نہیں ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کہالیں اور مظلوموں کو آزاد کریں بلکی ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں۔
۷ کیا یہ نہیں کہ تو اپنی روٹی بھوکے کو کھلائے اور مسکینوں کو جوآوارہ ہیں گھر میں لائے اور جب کسی کو ننگا دیکھے اُسے پہنائے اور تو اپنے ہم جسم سے روپوشی نہ کرے؟۔
۸ تب تیری روشنی صبح کی منند پھوٹ نکلے گی اور تیری صحت کی ترقی جلد ظاہر ہو گی۔تیری صداقت تیری ہر آول ہوگی اور خداوند کا جلال تیرا چنڈاول ہو گا۔
۹ تب تو پکارے گااور خداوند جواب دے گا۔تو چلائے گا اور فرمائے گا میں یہاں ہوں ۔اگر تو جوئے کو اور انگلوں سے شارہ کرنے کو اور ہر زہ گوئی کو اپنے درمیان سے دور کرے گا۔
۱۰ اگر تو اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کرے اور آزدہ دل کو آ سودہ کرے تو تیرا نور تاریکی میں چمکے گااور تیری تیرگی دوپہر کی مانندہو جائے گی۔
۱۱ اور خدا وند سدا تیری را ہنمائی کرے گا اور خشک سالی میں تجھے سیر کرےگااور تیری ہڈیوں کو قوت بخشے گا۔پس تو سیراب باغ کی مانند ہوگا اور اس کے چشمہ کی مانند جس کا پانی کم نہ ہو ۔
۱۲ اور تیرے لوگ قدیم ویران مکانوں کو تعمیر کریں گے اور پشت در پشت کی بنیادوں کو برپا کرے گا۔اور تو رخنہ کا بند کرنے والا اور ابادی کے لئےراہ کا درست کرنے والا کہلائے گا۔
۱۳ اگر تو سبت کے روز اپنے پاؤں روکے رکھے اور میرے مقدس دن میں اپنی خوشی کا طالبنہ ہو اور سبت کو رحت اور خداوند کا مقدس اور معظم کہے اور اس کی تعظیم کرے۔اپنا کاروبار نہ کریں اور اپنی خوشی اور بے فائدہ باتوں سے دست بردارر ہے۔
۱۴ تب خدا وند میں میسر ہوں گا اور میں مسرور ہو گا اور میں تجھے دنیا کی بلندیوں پر لے چلو گا اور میں تجھے تیرت باپ یعقوب کی میراث سے کھلائوں گا کیونکہ خدا وند کے منہ کے یہ ارشاد ہوا ہے