(۲) مسیحِ موعود بحیثیت سچا شاگرد (باب ۵۰)
۵۰: ۱۔۳ اِسرائیل سے بے تکلف گفتگو کرتے ہوئے یہوواہ اُسے یاد دلاتا ہے کہ مَیں نے کسی معمولی سے خیال یا وہم کے باعث تمہیں طلاق نہیں دی تھی (حالانکہ طلاق دی ضرور تھی۔ دیکھئے یرمیاہ ۳:۸)۔ اور نہ کوئی قرض ادا کرنے کے لئے تمہیں کسدیوں کے حوالے کیا تھا۔ وجہ تمہاری اپنی شرارتیں اور خطائیں تھیں۔ قوم میں کوئی مجھے قبول نہ کرتا تھا اور کوئی میری پکار کا جواب نہ دیتا تھا۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ مجھ میں تمہیں چھڑانے کی قدرت نہیں؟ کیا مَیں نے ایک جھڑکی سے سمندر (بحیرۂ قلزم) اور دریائے یردن کو نہیں سُکھا دیا تھا؟ کیا مَیں نے آسمان کو ماتمی لباس نہیں پہنا دیا تھا؟
۵۰: ۴۔۹ اِس کے بعد مسیحِ موعود مخاطب ہوتا ہے۔ جس قوم نے پرانے عہدنامے میں یہوواہ کی بے قدری اور تحقیر کی اُسی قوم نے نئے عہدنامے میں یسوع کی بے قدری اور تحقیر کی۔ وہ سچے شاگرد کی حیثیت سے آیا تھا۔ اُسے خدا نے تعلیم دی تھی کہ درست کلام سنائے۔ ہر صبح اُس کے کان کھولے جاتے تھے کہ اُس دن کے لئے اپنے باپ سے ہدایات سن لے۔ خدا کی مرضی پوری کرنے میں اُس کی خوشنودی تھی اگرچہ اِس کا مطلب صلیب پر چڑھنا تھا۔ اُس نے منہ نہ موڑا بلکہ کمال رضا مندی سے اپنے آپ کو دُکھوں اور رسوائی کے حوالے کر دیا۔ اُس نے منہ نہ موڑا بلکہ کامل یقین تھا کہ خدا مجھے راست باز ٹھہرائے گا۔ اُس نے یروشلیم جانے کے لئے اپنا منہ سنگِ خارا کی مانند بنایا۔ بے شک مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے وہ راست باز ٹھہرایا گیا۔ اب وہ اپنے دشمن شیطان کو چیلنج کرتا ہے کہ مجھے مجرم ٹھہرا۔ (اب ہم بھی یہ چیلنج دے سکتے ہیں۔ رومیوں ۸: ۳۱۔۳۹)۔ اُس کے سارے مخالف اور دشمن کیڑوں سے کھائے ہوئے کپڑے کی مانند پرانے ہو جائیں گے۔
۵۰: ۱۰ آخری دو آیات دو قسم کے لوگوں کا بیان کرتی ہیں۔ پہلے وہ ہیں جو خدا پر توکل رکھتے ہیں۔ وہ اِقرار کرتے ہیں کہ ہمیں ہدایت اور راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اُن کے لئے خدا کا مشورہ یہ ہے کہ اپنے خدا کے نام پر توکل کرو اور اُس پر بھروسا کرو تو خدا تمہیں روشنی کے سیلاب سے بہرہ ور کرے گا۔
۵۰: ۱۱ دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنی راہنمائی اور ہدایت خود ہی گھڑ لیتے ہیں اور خدا سے ہدایت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ وہ اپنے انگاروں کی روشنی میں چل سکتے ہیں لیکن خدا دیکھے گا کہ وہ عذاب میں لیٹ رہیں گے۔
مقدس کتاب
۱ (۱)خُداوندیُوں فرماتاہےکہ تیری ماں کاطلاق نامہ جسے لکھ کر میں نے اُسے چھوڑ دیاکہاں ہے؟ یا اپنے بیچ؟قرض خواہوں میں سے کس کے ہاتھ میں نےتم کو بیچا؟ دیکھو تم اپنی شرارتوں سبب سے بک گےاور تمھاری خطاؤں کے سبب ماں کو طلاق دی گی
۲ پس کس لیےمیں جب میں لیےجب میں آیا تو کوئی آدمی نہ تھا؟اوراسلیے جب میں نے پکاراتو کوئی جواب دنیےوالانہ ہوا؟کیا میرا ہاتھ ایساکوتاہ ہوگیاہے کہ چُھرانہیں سکتا؟اور کیا مجھ نجات دینے کی قدرت نہیں؟دیکھومیں اپنی ایک دھمکی سے سمندر کو سکھا دیتاہوں اور نہروں کو صحرا ڈالتا ہوں۔اُن میں کی مچھلیاں پانی کے نہ ہونے سے بدبُوہو جاتی ہیں اور پیاس سے مر جاتی ہیں۔
۳ میں آٓسمان کو سیاہ پوش کرتا ہوں اور اُس کو ٹاٹ اوڑھاتا ہوا۔
۴ خُدا وند خُدانے مجھ کو شاگرد کی زبان بخشی تاکہ میں جانوں کہ کلام کے وسیلہ سے کس طرح تھکے ماندےکی مددکروں۔وہ مجھے ہر صبح جگاتا ہے اور میرا کان میں لگاتا ہے۔تاکہ شاگردوں کی طرح سُنوں
۵ خُدا وند خُدانے میرےکان کھول دئے اور میں باغی وبرگشتہ نہ ہوا۔
۶ میں نے اپنی داڑھی نوچنے والوں کے حوالہ کی۔میں نے اپنا منہ رسوائی اور تھوک سے نہیں چُھپایا
۷ پر خُدا وند خُدا میری حمایت کرے گااور اس لئے میں شرمندہ نہ ہوں گا اور اسی لئے میں نے اپنا منہ سنگ خاراکی مانند بنایا اور مجھے یقین ہے کہ میں شرمسار نہ ہوں گا،
۸ اور مجھے راست باز ٹھہرنے والا نزدیک ہے۔کون مجھ سے جھگڑا کرے گا؟آو ہم آمنے سامنے کھڑے ہوں،میرا مخالف کون ہے؟وہ میرے پاس آئے
۹ دیکھو خُدا وند خُدا میری حمایت کرے گا۔کون مجھے مجرم ٹھہراے گا؟دیکھووہ سب کپڑے کی مانند پُرانے ہو جائیں گے۔اُن کو کیڑا کھا جائیں گے۔
۱۰ تمہارے درمیان کون ہے جو خداوندخداسے ڈرتا اور اُس کے خادم کی با تیں سنتا ہے؟جو اندھیرے میں چلتا اور روشنی نہیں پاتا۔ خداوندخد کے نام پر توکل کرےاور اپنے خدا پر بھروسہ رکھے۔
۱۱ دیکھو تم سب جوآگ میں سُلگاتے ہواپنی ہی آگ کے شعلوں میں اور اپنے سلگاے ہوئے انگاروںمیں چلو۔تم میرے ہاتھ سے یہی پاؤ گے۔تم عذاب میں لیٹ رہو گے۔