(۶) اِنتقام کا دن (۶۳: ۱۔۶)
جب خداوند اپنی سلطنت قائم کرنے کو واپس آئے گا تو ضرور ہے کہ سب سے پہلے اپنے دشمنوں کو ہلاک کرے۔ یہ ہلاکت اور بربادی مختلف مقامات پر اور مختلف اوقات میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ ایک مرحلہ ہر مجدون کی وادی میں مکمل ہو گا (مکاشفہ ۱۶:۱۶)۔ ایک اَور مرحلہ یہوسفط کی وادی میں (یوایل ۳: ۱۲) اور مزید ایک مرحلہ ادوم میں پورا ہو گا۔ یہاں باب ۶۳ میں اِس آخری جگہ کا ذکر ہے۔ مسیحِ موعود بصراہ سے آ رہا ہے جو ادوم کا دارالسلطنت ہے۔ مسیحِ موعود درخشاں لباس پہنے ہے جو اسرائیل کے دشمنوں کے خون سے سرخ ہے۔ وہ حوض میں انگور روندنے کے استعارہ سے اپنے دشمنوں کو لتاڑنے اور روندنے کا بیان کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے دشمنوں سے انتقام لے اور اپنے لوگوں کو خرید کر چھڑا لے۔ چھڑانے کے لئے کوئی اِنسان مدد کرنے کو موجود نہیں اور وہ اکیلا ہی اقدام کرتا اور فتح یاب ہوتا ہے۔
(۷) بقیہ کی دعا (۶۳ : ۷ ۔ ۶۴:۱۲)
۶۳: ۷۔ ۱۰ اب نبی اسیری میں بقیہ کی خاطر بولتا اور قابلِ رحم حالت سے اُن کی خلاصی کا طالب ہوتا ہے۔ پہلے وہ ماضی میں قوم کے ساتھ خدا کے سلوک کو دُہراتا ہے۔ یہوواہ نے ہمیشہ اُن کو شفقت، عنایت اور خاص رحمت دکھائی۔ خدا نے اُن کے حق میں فرمایا وہ میرے ہی لوگ ہیں۔ حالانکہ وہ پیشگی جانتا تھا کہ وہ کیا کریں گے، یہاں دِکھایا گیا ہے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ لوگ مجھے ترک کر کے غیر معبودوں کے پیچھے لگ جائیں گے۔ چنانچہ وہ اُن کا بچانے والا ہوا۔ وہ اُن کی تمام مصیبتوں میں اور خاص طور سے مصر میں غلامی کی مصیبت میں اُن کا شریک ہو کر مصیبت زدہ ہوا۔ ’’اُس کے حضور کے فرشتہ‘‘ (بمعنی ’’قاصد/ پیغام بر) یعنی مسیحِ موعود نے اُنہیں بچایا۔ اُس نے ’’اپنی اُلفت اور رحمت سے اُن کا فدیہ دیا‘‘ اور مصر سے نکالا اور بیابان کے سارے سفر کے دوران اُن کی نگہداشت اور پرورش کرتا رہا۔ مگر اُنہوں نے اُس کی محبت کا بدلہ بغاوت سے دیا اِس لئے وہ اُن کا دشمن ہو گیا۔
۶۳: ۱۱۔۱۳ ’’مگر موسیٰ اور اُس کی پشت اُن قدیم دنوں کو یاد کرنے سے بھی کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ آج وہ کہاں ہے جو موسیٰ اور ہارون اور دوسرے چوپانوں سمیت اِسرائیل کو بحیرۂ قلزم میں سے نکال لایا؟ آج وہ کہاں ہے جس نے اپنا روح القدس موسیٰ پر نازل کیا اور پھر سمندر کو دو حصے کر دیا تاکہ موسیٰ اُنہیں پارلے جائے اور اِس طرح خدا کے نام کو ابدی جلال دے۔ کہاں ہے یہوواہ جو اُنہیں سمندر میں سے چلا کر لے آیا اور راستہ کو ہموار ریگستان کی طرح ایسا آسان بنا دیا کہ گھوڑا بھی ٹھوکر نہ کھائے؟‘‘
۶۳: ۱۴ جس طرح مویشی آرام اور تازگی پانے کے لئے وادی میں اُتر جاتے ہیں اُسی طرح خدا اپنی قوم کو آرام گاہ (ملکِ موعود) میں لایا اور اِس طرح اپنے لئے جلیل نام پیدا کیا۔ غور کریں کہ یہاں تثلیث موجود ہے: خداوند (آیت ۷)، خداوند کا فرشتہ (آیت ۹) ، خداوند کا روح (آیات ۱۰، ۱۱،۱۴)۔
۶۳: ۱۵،۱۶ گذشتہ رحمتوں کو یاد کرنے سے نبی کو مستقبل میں بابل کی اسیری کو دیکھنے اور اسیر جلاوطنوں کے لئے شفاعت کرنے کی تحریک ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ کے لئے خدا کی غیرت، قدرت اور رحمت کو روک رکھا گیا ہے۔ یسعیاہ دلیل دیتا ہے کہ خواہ ابرہام اور اسرائیل (یعقوب) ہمیں اپنا ماننے سے اِنکار کریں تو بھی خدا ہمارا باپ ہے۔
۶۳: ۱۷۔۱۹ آیت ۱۷ میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بقیہ اپنی گمراہی کا ذمہ دار خدا کو ٹھہرا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا اِنسانوں کے دلوں کو اُس وقت سخت کرتا ہے جب وہ پہلے خود اپنے دل کو سخت کر لیتے ہیں۔ غالباً بقیہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ تُو نے ہمیں اپنی راہوں سے کیوں گمراہ ہونے دیا؟ یعنی اِس کی اِجازت کیوں دی؟ جو کام خدا ہونے دیتا ہے اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ اُس نے کیا ہے۔ بہرکیف جلاوطن یہوواہ سے فریاد کرتے ہیں کہ فضل کر کے باز آ۔ اسرائیل پر مقابلتاً تھوڑے عرصے تک ملک پر امن اور چین سے قابض رہے اور اب مقدِس کھنڈر بنا پڑا ہے اور اسرائیلی جو خد اکے لوگ ہیں اُن کا حال کسی طرح بھی دوسری قوموں سے بہتر نہیں جن کا خداوند کے ساتھ کبھی عہد کا رشتہ نہیں رہا۔
مقدس کتاب
۱ یہ کون ہے جواُدوم سے سرخ پوشاک پہنےبصراہ سے آتا ہے؟یہ جس کا لباس درخشاں ہے اور اپنی توانائی کی بزرگی سے خرامان ہے؟یہ جو میں ہوں جو صادقُ القول اور نجات دینے پر قادرہوں ۔
۲ تیری پوشاک کیوں سرک ہے؟تیرا لباس کیوں اُس شخص کی مانند ہے جو انگور حوض میں روندتا ہے؟۔
۳ میں نے تن تنہا انگور حوض میں روندے اور لوگوں میں سے کوئی نہ تھا۔ہاں میں نے اُن کو اپنے قہر میں لتاڑا اور اپنےجوش میں اُن کو روندا اور اُن کا خون میرے لباس پر چھڑکا گیا اور میں نے اپنے سب کپڑوں کو آلودہ کیا۔
۴ کیونکہ انتقام کا دن میرے دل میں ہے اور میرےخریدےہے لوگوں کا سال آپہنچا ہے ۔
۵ میں نے نگاہ کی اور کوئی مددگار نہ تھا اور میں نے تعجب کیا کہ کوئی سنبھالنے والا نہ تھا۔پس میرے بازو سے نجات آئی اور میرے ہی قہر نے مجھے سنبھالا۔
۶ ہاں میں نے اپنے قہر سے لاگوں کو لتاڑا اور اپنے غضب سےاُن کو مد ہوش کیا اور اُن کا خون زمین پر بہادیا۔
۷ میں خدا وند کی شفقت کا ذکر کروں گا۔خداوندہی کی ستایش کااُس سب کے مطابق جو خداوند نے ہم کو عنایت کیا اوربڑی مہربانی کا جواُس نے اسرائیل کے گھرانے پر اپنی خاص رحمت اور فراوان شفقت کے مطابق ظاہر ہے ۔
۸ کیونکہ اُس نے فرمایا یقینا وہ میرے ہی لوگ ہیں ایسی اولاد جو بے وفائی نہیں کرے گی۔چنانچہ وہ اُن کا بچانے والا ہوا۔
۹ اُن کی تمام مصیبتوںمیں مصیبت زدہ ہوااور اُس کے حضور کے فرشتہ نے اُن کو بچایا۔اُس نے اپنی الفت اور رحمت سے اُن کا فدیہ دیا۔اُس نے اُن کو اُٹھایا اور قدیم سے ہمیشہ اُن کے لئےپھرا۔
۱۰ لیکن وہ باغی ہوئے اور انہوں نے اُس کی روح قدس کو غمگین کیا۔اس لئے وہ اُن کا دشمن ہوگیااور اُن سے لڑا ۔
۱۱ پھر اُس نے اگلے دنوںکو موسیٰ کو اور اپنے لوگوں کو یاد کیا اور فرمایاوہ کہاں ہےجو اُن کوگلہ کے چوپانوں سمیت سمندر میں سے نکال لایا؟وہ کہاں ہے جس نے اپنی روح قدس اُن کے اندرڈالی؟۔
۱۲ جس نے موسیٰ کے دہنے ہاتھ پر اپنے جلالی بازوکو ساتھ کر دیااور اُن کے آگے پانی چیرا تاکہ اپنے لئے ابدی نام پیداکرے؟۔
۱۳ جو گہراؤ میں سے اس طرح لے گیا جس طرح بیابان سے گھوڑا ایسا کہ اُنہوں نے ٹھوکر نہ کھائی؟۔
۱۴ جس طرح مویشی وادی میں چلے جاتے ہیں اُسی طرح خداوند کی روح اُن کو آرام گاہ میں لائی اور اُسی طرح تونے اپنی قوم کی ہدایت کی تاکہ تو اپنے لئے جلیل نام پیدا کرے۔
۱۵ آسمان پر سے نگاہ کر اور اپنے مقدس اور جلیل مسکن سے دیکھ۔ تیری غیرت اور تیری قدرت کے کام کہاں ہیں؟تیری دلی رحمت اورتیری شفقت جو مجھ پر تھی موقوف ہو گئی۔
۱۶ یقینا تو ہمارا باپ ہے۔اگرچہ ابرہام ہم سے ناواقف ہو اور اسرائیل ہم کو نہ پہچانے۔تواے خداوند ہمارا باپ اور فدیہ دینے والا ہے۔تیرا نام ازل سےہے۔
۱۷ اے خداوند تونے ہم کو اپنی راہوں سے گمراہ کیا اور ہمارے دلوں کو سخت کیا کہ تجھ سے ڈریں؟ اپنے بندوں کی خاطر اپنی میرا ث کے قبائل کی خاطر باز آ۔
۱۸ تیرے مقدس لوگ تھوڑی دیر قابض رہے۔اب ہمارے دشمنوں نے تیرے مقدس کو پامال کر ڈالا ہے۔
۱۹ ہم تو اُن کی منند ہوئے جن پر تو نے کبھی حکومت نہ کی اور جو تیرے نام سے نہیں کہلاتے۔