(۲) اریئیل/ یروشلیم پر افسوس (باب ۲۹)
۲۹: ۱۔۴ اریئیل یروشلیم کا عنایات یافتہ وہ شہر ہے جو داؤد کا صدر مقام تھا۔ وہاں کے لوگ سالہا سال تک مذہبی رسوم ادا کرتے ہیں، لیکن اُن کی ظاہر داری کے باعث خدا شہر پر دکھ لائے گا یہاں تک کہ وہ اریئیل بن جائے گا۔ اریئیل نام کے دو معانی ہیں: خدا کا ببر شیر اور مذبح (دیکھئے حزقی ایل ۴۳: ۱۵،۱۶ جہاں اریئیل کا ترجمہ مذبح کیا گیا ہے۔ لغوی معانی ہیں مذبح کا آتش دان)۔ جو شہر کسی وقت ’’خدا کا ببر شیر‘‘ تھا آج وہ ’’شعلہ زن آتش دان‘‘ بن گیا ہے اور اُس کے باشندے قربانی کے جانور ہیں۔
۲۹: ۵۔۸ مگر خدا ناگہاں مداخلت کرے گا اور دشمن پسپا ہو کر باریک گرد اور بھوسے کی مانند اُڑ جائیں گے۔ جس وقت دشمن سوچتے ہوں گے کہ ہم یروشلیم کو سموچا نگل جائیں گے عین اُس وقت اُن کے منصوبے باطل ہو جائیں گے جیسے کوئی خواب سے جاگ اُٹھتا ہے۔
۲۹: ۹۔۱۲ لوگوں کے دانستہ اَندھے بنے رہنے کے باعث اُنہیں بجا طور پر اندھا کر دیا جائے گا اور وہ شرابی کی طرح لڑکھڑاتے پھریں گے۔ خدا کا کلام اُن کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ بعض کے لئے دہ سربمہر کتاب ہو گا اور بعض اُسے پڑھ نہیں سکیں گے۔ ہر کسی کے پاس نہ سمجھنے کا کوئی نہ کوئی عذر ہو گا۔
۲۹: ۱۳،۱۴ چونکہ اُن کی دین داری فقط ظاہری ہے اور خدا کا خوف صرف زبانی یاد کئے ہوئے عقائد تک محدود ہے اِس لئے خدا ایک فوق الفطرت کام کرے گا اور سزا کے طور پر اُن کے ہوشیار ترین اور نہایت تیز فہم دماغوں کی عقل اور دانائی کو زائل کر دے گا۔ آیت ۱۴ میں ’’عجیب سلوک‘‘ سنحیرب کے حملے کا اشارہ ہے۔ ڈبلیو۔ ای۔ وائن لکھتا ہے:
’’یہوداہ کے حاکم مدد اور کمک کے لئے مصر پر بھروسا کرنے کے طالب تھے۔ طبعی اور فطری لحاظ سے یہ سیاسی حکمت کی بات تھی جب کہ خدا کی نظر میں بغاوت تھی۔ اِس لئے خدا نے اِس ترکیب اور تدبیر کو باطل اور رَدّ کر دیا۔ اور یہوداہ کو بے بسی اور بے چارگی کی سطح پر لے آیا تاکہ وہ صرف خدا پر بھروسا اور توکل کرنا سیکھیں۔‘‘
آج کے دَور میں یہ ’’عجیب سلوک‘‘ اِنجیل / خوش خبری کے وسیلے سے پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے (۱۔کرنتھیوں ۱: ۱۸۔۲۵)۔
۲۹: ۱۵،۱۶ دغاباز حاکموں پر افسوس کا اعلان کیا جاتا ہے جو مصر کے ساتھ سازشیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خدا ہمیں نہیں دیکھتا۔ اُن کا سب کچھ ابتر اور اَوندھا ہے۔ وہ کمہار کو مٹی کے برابر اور مٹی کو کمہار کے برابر گردانتے ہیں اور اِس طرح خدا کی قدرت اور علمیت کا اِنکار کرتے ہیں۔
۲۹: ۱۷۔۲۱ لیکن چھٹکارے کا دن آ رہا ہے جب خدا بھی چیزوں کو تہہ و بالا کر دے گا اور اُلٹ دے گا۔ جو اِس وقت خود رَو جنگل (لبنان) ہے وہ پھل دار اور شاداب میدان ہو جائے گا اور جو آج شاداب میدان گنا جاتا ہے وہ جھاڑ جھنکاڑ سے بھرا ہوا جنگل ہو جائے گا۔ ’’اُس وقت بہرے …سنیں گے اور اندھوں کی آنکھیں … دیکھیں گی‘‘ اور ’’مسکین خداوند میں زیادہ خوش ہوں گے‘‘۔ ظالم اور ٹھٹھا کرنے والے نابود ہو جائیں گے اور وہ سب بھی مٹ جائیں گے جو راست باز کو بے سبب ٹھوکر کھلاتے اور برگشتہ کرتے ہیں۔
۲۹: ۲۲۔۲۴ اختتامی آیات ایمان دار بقیہ کا بیان کرتی ہیں۔ اِسے یہاں ’’یعقوب‘‘ کہا گیا ہے۔ شرمندگی اور ذلت اور ملامت افسانۂ ماضی ہو جائیں گی۔ یعقوب کے فرزند (بنی اسرائیل کا بقیہ) جان لیں گے کہ خدا نے ہماری خاطر مداخلت کی اور وہ خدا کے نام کی تقدیس کریں گے۔ جنہوں نے غلط رائے قائم کر لی تھی اور بڑبڑاتے اور شکایت کرتے تھے وہ فہم حاصل کریں گے اور تعلیم پذیر ہوں گے۔
مقدس کتاب
۱ ارایئیل پر افسوس۔ اریئیل اس شہر پر جہاں داؤد خیمہ زن ہوا ! سال پر سال زیادہ کرو۔ عید پر عید منائی جائے ۔
۲ تو بھی میں اریئیل کو دکھ دونگا اور وہاں نوحہ اور ماتم ہو گا پر میرے لیے وہ اریئیل ہی ٹھہریگا۔
۳ میں تیرے خلاف گرداگرد خیمہ زن ہونگا اور مورچہ بندی کر کے تیرا محاصرہ کرونگا اور تیرے خلاف دمدمہ باندھونگا۔
۴ اورتو پست ہو گا اور زمین پر سے بولیگا اور خاک پر سےتیری آواز دھیمی آئیگی ۔ تیری صدا بھوت کی سی ہو گی جو زمین کےاندر سے نکلیگی اورتیری بولی خاک پر سے چُرُگنے کی آواز معلوم ہو گی۔
۵ لیکن تیرے دشمنوں کا غول باریک گرد کی مانند ہو گا اور ان ظالموں کی گروہ اڑنے والے بھوسے کی مانند ہو گی اور یہ ناگہان ایک دم میں واقع ہو گا۔
۶ رب الافواج خود گرجنے اور زلزلہ کے ساتھ اور بڑی آواز اور آندھی اور طوفان اور آگ کے مہلک شعلہ کے ساتھ تجھے سزا دینے کو آئے گا۔
۷ اور ان سب قوموں کو انبوہ جو اریئیل سے لڑےگا یعنی وہ سب جو اس سے اور اسکے قلعہ سے جنگ کرینگے اور اسے دکھ دینگے خواب یا رات کی رویا کی مانند ہو جائینگے ۔
۸ جیسے بھوکا آدمی خواب میں دیکھے کہ کھا رہا ہے پرجاگ اٹھے تو اسکا دل نہ بھرا ہو یا پیاسا آدمی خواب میں دیکھے کہ پانی پی رہا ہے پر جاگ اٹھے تو پیاس سے بیتاب ہو اور اسکی جان آسودہ نہ ہو ویسا ہی ان سب قوموں کے انبوہ کا حال ہو گا جو کوہ صیون سے جنگ کرتی ہیں۔
۹ ٹھہر جاؤ اور تعجب کرو ۔ عیش و عشرت کرو اور اندھے ہو جاؤ ۔ وہ مست ہیں پر مے سے نہیں ۔ وہ لڑکھڑاتے ہیں پر نشے میں نہیں ۔
۱۰ کیونکہ خداوند نے تم پر گہری ننید کی روح بھیجی ہے اور تمہاری آنکھوں یعنی نبیوں کو نابینا کر دیا اورتمہارے سروں یعنی غیب بینوں پر حجاب ڈال دیا۔
۱۱ اورساری رویا تمہارے نزدیک سر بمہر کتاب کے مضمون کی مانند ہو گی جسے لوگ کسی پڑھے لکھے ہو دیں اور کہیں اسکو پڑھ اور وہ کہے کہ میں اسکو پڑھ نہیں سکتا کیونکہ یہ سر بمہر ہے۔
۱۲ اور پھر وہ کتاب کسی نا خواندہ کو دیں اور کہیں اسکو پڑھ اور وہ کہے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔
۱۳ پس خداوند فرماتاہے کہ یہ لوگ زبان سے میری نزدیکی چاہتےہیں اور ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں لیکن انکے دل مجھ سے دور ہیں کیونکہ میرا خوف جو انکو ہوا فقط آدمیوں کی تعلیم سننے سے ہوا۔
۱۴ اس لیے میں ان لوگوں کے ساتھ عجیب سلوک کرونگا جو حیرت انگیز اورتعجب خیز ہو گا اور ان کے عاقلوں کی عقل زائل ہو جائیگی۔ اور ان کے داناؤں کی دانائی جاتی رہیگی۔
۱۵ ان پر افسوس جو اپنی مشورت خداوندسے چھپاتے ہیں ۔ جنکا کاروبار اندھیرے میں ہوتا ہے اور کہتے ہیں کون ہم کو دیکھتا ہے؟ کون ہم کو پہچانتا ہے؟ ۔
۱۶ آہ! تم کیسے ٹیڑھے ہو! کیا کمہار مٹی کےبرابر گنا جائیگا یا مصنوع اپنے صانع سے کہے گاکہ میں تیری صنت نہیں ؟ کیا مخلوق اپنے خالق سےکہے گا کہ تو کچھ نہیں جانتا؟ ۔
۱۷ کیا تھوڑا ہی عرصہ باقی نہیں کہ لبنان شاداب میدان ہو جائیگا اور شاداب میدان جنگل گنا جائیگا۔
۱۸ اور اس وقت بہرے کتاب کی باتیں سنیں گے اور اندھوں کی آنکھیں تاریکی اوراندھیرے میں سے دیکھیں گی۔
۱۹ تب مسکین خداوند میں زیادہ خوش ہونگے اورغریب و محتاج اسرائیل کے قدوس میں شادمان ہونگے ۔
۲۰ کیونکہ ظالم فنا ہو جائیگا اورٹھٹھا کرنے والا نابود ہو گا اور سب جو بدکرداری کے لیے بیدار رہتے ہیں کاٹ ڈالے جائینگے۔
۲۱ یعنی جو آدمی کو اسکے مقدمے میں مجرم ٹھہراتے اور اسکے لیے جس نے عدالت سے پھاٹک پر مقدمہ فصیل کیا پھندا لگاتے اور راستباز کو بےسبب برگشتہ کرتےہیں۔
۲۲ اس لیے خداوند جو ابرہام کا نجات دینےوالا ہے یعقوب کے خاندان کے حق میں یوں فرماتا ہے کہ یعقوب اب شرمندہ نہ ہو گا اور وہ ہرگز زود رو نہ ہو گا۔
۲۳ بلکہ اسکے فرزند اپنے درمیان میری دستکاری دیکھ کر میری تقدیس کرینگے۔ ہاں وہ یعقوب کےقدوس کی تقدیس کرینگے اوراسرائیل کے خدا ڈرینگے۔ اور وہ بھی جو روح میں گمراہ ہیں فہم حاصل کرینگے اوربڑبڑانے والے تعلیم پذیر ہونگے۔
۲۴