(۸) بابل کے خلاف فیصلہ (۲۱: ۱۔۱۰)
۲۱: ۱۔۴ باب ۲۱ میں تین پیش گوئیاں بابل، ادوم اور عرب کے لئے بُری خبر ہیں۔
دشتِ دریا سے مراد بابل ہے یا غالباً بابل کا وہ حصہ جو خلیج فارس سے ملحق ہے۔ تباہی جنوبی گردباد کی طرح گرجتی ہوئی اُس پر آ پڑے گی۔ چونکہ وہ ابھی تک لُوٹتا اور غارت کرتا ہے اِس لئے فارسیوں (عیلام) اور مادیوں (مادی) کے ہاتھوں پسپا ہو گا۔ اس کے بعد بابل یہودی اسیروں سمیت کسی کو دُکھ نہیں دے گا۔ یہ رویا ایسی ہولناک ہے کہ یسعیاہ کو سخت ذہنی اذیت محسوس ہوتی ہے۔
۲۱:۵ حکمران دعوتیں اُڑاتے اور بدمستی کرتے ہیں اور اِس خیالِ خام میں ہیں کہ ہمیں کوئی خطرہ نہیں کہ اچانک پکار اُٹھتی ہے کہ ہتھیار باندھو (’’سر پر تیل ملو‘‘)۔ بلاشبہ یہ بیلشضر کی ضیافت کا اِشارہ ہے (دانی ایل باب ۵)۔
۲۱: ۶۔۱۰ خداوند یسعیاہ کو حکم دیتا ہے کہ نگہبان بٹھا کہ وہ حملہ آور خانہ بدوشوں کی اور خاص طور سے بے شمار سواروں کی چڑھائی کی خبر دے۔ کئی دن اور رات کے اِنتظار کے بعد وہ اطلاع دیتا ہے کہ سوار دو دو کر کے آ رہے ہیں۔ یہ غالباً مادیوں اور فارسیوں کا اِشارہ ہے۔ پھر وہ ببر شیر کی طرح دھاڑ کر بابل اور اُس کی بت پرستی کے زوال اور خاتمے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ اعلان اسرائیل کے لئے سکون اور تسلی کا پیغام ہے۔ اسرائیل وہ قوم ہے جسے بابل گویا کھلیان میں گاہتا اور چھاج میں پھٹکتا رہا ہے۔ یہ یاد رکھنا فائدہ مند ہو گا کہ یہ نبوت بابل کے زوال اور سقوط سے تقریباً دو سو سال پہلے کی گئی تھی۔
ہم بھی خدا کی بادشاہی کے لئے نگہبان ہو سکتے ہیں:
نگہبان وہ ہوتا ہے جو خدا کی مشورت میں کھڑا رہتا ہے، جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے اور اِس کے واقع ہونے کا اِنتظار کرتا ہے۔ چنانچہ اب بھی وہ شخص جو مکمل شدہ صحائف (بائبل مقدس) سے وہ باتیں سیکھتا ہے جو خدا نے پہلے سے بتا دی ہیں۔ اِس کے مقاصد کو پہچانتا ہے، لیکن خیالی تشریحات سے نہیں بلکہ کلام کا کلام سے مقابلہ کر کے اور جو کچھ اِس میں سمجھایا گیا ہے اُسے قبول کرتا ہے اور دوسروں کو خبردار کرتا اور نصیحت کر سکتا ہے۔ وہ خدا کے ساتھ رفاقت رکھتے ہوئے دیدگاہ (آیت ۷) پر کھڑا رہتا ہے۔
(۹) دُومہ (ادوم) کے خلاف فیصلہ (۲۱: ۱۱،۱۲)
دُومہ سے مراد ادومیہ یا ادوم ہے۔ ایک فکر مند ادومی نگہبان سے پوچھتا ہے کہ رات کتنی گزر گئی ہے یعنی اسوری خطرہ کس حد تک ختم ہو گیا ہے۔ جواب یہ ہے:
’’تمہاری موجودہ شورش اور افراتفری کی رات ختم ہو جائے گی اور ایک نیا دن آئے گا۔ لیکن بہت جلد ایک اَور رات آ جائے گی۔ اگر تم اپنے پریشان کن سوالوں کا تسلی بخش جواب چاہتے ہو تو ’’پھر آنا‘‘۔ مطلب ہے کہ ضرور ہے کہ تم پہلے ’’واپس آؤ‘‘۔ اِس لفظ کا مطلب ’’توبہ کرنا‘‘ بھی ہے۔ تب ہی ایسا جواب ملے گا جس کی تم اُمید کرتے ہو۔ تمہارے دکھوں کی رات ختم ہو جائے گی اور رہائی کی ایک نئی اور روشن صبح تم پر طلوع ہو گی۔‘‘
(۱۰) عرب کے خلاف فیصلہ (۲۱: ۱۳۔۱۷)
عرب پر بھی مصیبت آنے والی ہے۔ اسوری فوج سے بچنے کے لئے ددانیوں کے قافلے جنگل میں رات کاٹیں گے یعنی وہاں چھپ جائیں گے۔ جو لوگ قتل اور خوں ریزی سے بچ نکلیں گے وہ شدید بھوک اور پیاس کا شکار ہوں گے۔ خداوند نے فیصلہ کر دیا ہے کہ ایک برس کے اندر اندر عرب کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور اُس کے نامور بہادروں میں سے معدودے چند ہی باقی بچیں گے۔ ’’مزدُور کے برسوں کے مطابق‘‘ اِس جملے کا مطلب ہے کہ ایک برس سے ایک دن کم یا زیادہ نہ ہو گا۔
مقدس کتاب
۱ دشتِ دریا کی بابت بار نبوت۔ جس طرح جنوبی گرد باد زور سے چلا آتا ہے اسی طرح وہ دشت سے اور مہیب سر زمین سے نزدیک آ رہا ہے ۔
۲ ایک ہولناک رویا مجھے نظر آئی ۔ دغا باز دغابزی کرتا ہے اور غارتگر غارت کرتا ہے۔ اے عیلام چڑھائی کر ۔ اے مادی محاصرہ کر ۔ میں وہ سب کراہنا جو اسکے سبب سے ہوا موقوف کرتا ہوں ۔
۳ سو میری کمر میں سخت درد ہے اور میں گویا دردِ زہ میں تڑپتا ہوں ۔ میں ایسا ہراسان ہوں کہ سن نہیں سکتا میں ایسا پریشان ہوں کہ دیکھ نہیں سکتا۔
۴ میرا دل دھڑکتا ہے اور ہول یکایک مجھ پر غالب آ گیا۔ شفق شام جسکا میں آرزو مند تھا میرے لئے خوفناک ہو گئی۔
۵ دستر خوان بچھایا گیا۔ نگہبان کھڑا کیا گیا۔ وہ کھاتے ہیں اور پیتے ہیں۔ اٹھو اے سردارو سپر پر تیل ملو۔
۶ کیونکہ خداوند نے مجھے یوں فرمایا کہ جا نگہبان بٹھا۔ وہ جو کچھ دیکھے سو بتائے۔
۷ اس نے سواردیکھے جو دودوآتے تھے اور گدھوں اور اونٹوں پر سوار۔ اور اس نے بڑے غور سے سنا۔
۸ تب اسنے شیر کیسی آواز سے پکارا اے خداوند! میں اپنی دیدگاہ پر تمام دن کھڑا رہا اور میں نے ہر رات پہرے کی جگہ پر کاٹی۔
۹ اور دیکھ سپاہیوں کےغول اور انکے سوار دو دوکر کے آتے ہیں۔ پھر اس نے یوں کہا کہ بابل گر پڑا گر پڑا اور اسکے معبودوں کی سب تراشی ہوئی مورتیں بالکل ٹوٹی پڑی ہیں۔
۱۰ اے میرے گاہے ہوئے اور میرے کھلیہان کے غلہ جو کچھ میں نے رب الافواج اسرائیل کے خدا سے سنا تم سے کہہ دیا۔
۱۱ دومہ کی بابت بار نبوت۔ کسی نے مجھ کو شعیر سے پکارا کہ اے نگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ اے نگہبان رات کی کیا خبر ہے؟ ۔
۱۲ نگہبان نے کہا صبح ہوتی ہے اوررات بھی۔ اگر تم پوچھنا چاہتے ہو تو پوچھو۔ تم پھر آنا ۔
۱۳ عرب کی بابت بار نبوت ۔ اے دوانیوں کے قافلو تم عرب کے جنگل میں رات کاٹوگے۔
۱۴ وہ پیاسے کے پاس پانی لائے۔ تیما کی سر زمین کے باشندے روٹی لیکر بھاگنےوالے سے ملنے کو نکلے۔
۱۵ کیونکہ وہ تلواروں کے سامنے سے ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اورجنگ کی شدت سےبھاگے ہیں۔
۱۶ کیونکہ خداوند نے مجھ سے یہ فرمایا کہ مزدور کے برسوں کے مطابق ایک برس کے اندراندر قیدار کی ساری حشمت جاتی رہیگی۔
۱۷ اورتیرانداوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر تھوڑے سے ہونگے کیونکہ خداونداسرائیل کے خدا نے یو ں فرمایا ہے۔