(۲) زمانوں کی چٹان کے لئے یہوداہ کا نغمہ (باب ۲۶)
۲۶: ۱۔۴ اپنے ملک میں بحال شدہ بقیہ خدا پر ایمان اور توکل کی زندگی گزارتا ہے۔ محکم شہر خدا کا شہر ہے۔ اِس کا تقابل اِنسان کے شہر (۲۴:۱۰) سے ہے۔ صادق قوم (مخلصی یافتہ اِسرائیل) کو کامل سلامتی کا تجربہ ہوتا ہے کیونکہ وہ یہوواہ پر اِنحصار اور تکیہ کرتی ہے۔ آیت ۳ کے بارے میں امریکہ کا مشہور بپٹسٹ نغمہ نگار فلپ پی۔ بلِس(Bliss) کہا کرتا تھا، ’’مجھے بائبل کی کسی بھی دوسری آیت کی نسبت اِس آیت سے زیادہ محبت ہے کہ ’’جس کا دل قائم ہے تُو اُسے سلامت رکھے گا کیونکہ اُس کا توکل تجھ پر ہے‘‘۔
مُوڈی نے اِن الفاظ میں آیت ۳ اور ۴ کو یک جا کر دیا ہے: ’’سلامتی کا درخت اپنی جڑیں ابدی چٹان (زمانوں کی چٹان) کی دراڑوں میں گاڑتا ہے‘‘۔ یہ الفاظ ہیں جن سے اوگستس ٹاپلیڈی کو انگریزی زبان کا ایک عظیم ترین گیت لکھنے کا خیال آیا۔ گرج چمک کے زبردست طوفان کے دوران ایک چٹان کے شگاف میں پناہ لیتے ہوئے اُس نے یہ گیت لکھا: (آزاد ترجمہ)
اے زمانوں کی چٹان جو میرے لئے کاٹی گئی
مجھے اپنے اندر چھپا لے
وہ پانی اور خون جو بہتا ہے
تیرے چھدے زخمی پہلو سے
گناہ کا دُہرا تریاق ہے
مجھے اِس کے اِحساس اور قبضے سے چھڑاتا ہے۔
مَیں فانی سانسیں لے رہا ہوں
موت میری آنکھیں بند کرنے کو ہے
جب مَیں انجانے جہان کو پرواز کروں
تیرے تختِ عدالت کے آگے حاضر ہوں
اے ابدی چٹان جو میرے لئے کاٹی گئی
مجھے اپنے اندر چھپا لے۔
۲۶: ۵،۶ اِنسان کی متکبر معاشرت و تہذیب کو اِس حد تک پست کیا گیا ہے کہ اِس کا بلند شہر مسکینوں اور محتاجوں کے پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔
۲۶: ۷۔۱۵ آیات ۷۔۱۹ وہ دعائیں ہیں جو بقیہ بڑی مصیبت میں سے گزرتے ہوئے کرتا ہے۔ خدا نے راہ ہموار اور آسان کر دی ہے اور وہ دل سے خداوند کے منتظر رہیں کہ خدا اپنے آپ کو اُن پر ظاہر کرے۔ جب خدا عدالت کرے گا صرف اُس وقت ہی شریر لوگ صداقت سیکھتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ مستعدی سے بلند ہوا ہے۔ اور جب یہ غیظ و غضب سے اُن پر آ پڑے گا تو وہ شرم سار ہوں گے۔ اُس وقت اسرائیل کے لئے سلامتی ہو گی۔ بقیہ پر بہت سے دوسرے یعنی غیر قوم حاکموں نے حکومت کی ہے، لیکن صرف خدا ہی واحد حقیقی خداوند ہے۔ جو قومیں اِسرائیل کو ستانے اور پریشان کرنے کے لئے اُٹھتی تھیں وہ خدا کے لوگوں کو ستانے کے لئے آئندہ کبھی نہ اُٹھیں گی۔ یہ آیت شریروں کے بدن کے ساتھ جی اُٹھنے کا اِنکار نہیں کرتی۔ صرف تاکید سے کہتی ہے کہ غیر قوم طاقتیں پھر کبھی بحال نہ ہوں گی۔
۲۶: ۱۶۔۱۹ اِسرائیل ایسی مصیبت اور اذیت سے گزرے گا جیسے حاملہ کو ولادت کے وقت درد ہوتے ہیں۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس اذیت کا فائدہ کچھ نہ ہوا ہو گا۔ البتہ اِس کے بعد قوم مُردوں میں سے جی اُٹھے گی۔ یہوواہ اپنے لوگوں کی دعاؤں کا جواب دیتا ہے اور صریح وعدہ کرتا ہے کہ مَیں مُلک پر نباتات کو تازگی بخشنے والی اوس (روح القدس) ڈالوں گا اور قوم بحال ہو گی۔
۲۶: ۲۰،۲۱ اِسی اثنا میں خداوند اپنے لوگوں کے وفادار بقیہ کو ہدایت کرتا ہے کہ اپنے خلوت خانوں میں چھپ جائیں جب وہ برگشتہ اور باغی دُنیا پر اپنا قہر و غضب نازل کرے۔
مقدس کتاب
۱ اس وقت یہوادہ کے ملک میں یہ گیت گایا جائیگا ۔ ہمارا ایک محکم شہر ہے جس کی فصیل اورپشتوں کی جگہوہ نجات کو ہی مقررکریگا۔
۲ تم دروازے کھولو تاکہ صادق قوم کو وفادار رہی داخل ہو۔
۳ جسکا دل قائم ہے تو اسے سلامت رکھیگا کیونکہ اس کا توکل تجھ پر ہے۔
۴ اب تک خداوند پر اعتماد رکھو کیونکہ خداوند یہواہ ابدی چٹان ہے۔
۵ کیونکہ اس نے بلندی پر بسنے والوں کو نیچے اتارا بلند شہر کو زیر کیا۔ اس نے اسے زیر کر کے خاک میں ملایا۔
۶ وہ پاؤں تلے روندا جائیگا۔ ہاں مسکینوں کے پاؤں اور محتاجوں کے قدموں سے ۔
۷ صادق کی راہ راستی ہے ۔ تو جو حق ہے صادق کی راہبری کرتا ہے۔
۸ ہاں تیری عدالت کی راہ میں اے خداوند ہم تیرے منتظر ہیں ہماری جان کا اشتیاق تیرے نام اور تیری یاد کی طرف ہے۔
۹ رات کو میری جان تیری مشتاق ہےہاں میری روح تیری جستجو میں کوشان رہیگی کیونکہ جب تیری عدالت زمین پر جاری ہے تو دنیا کے باشندی صداقت سیکھتےہیں۔
۱۰ ہر چند شریر پر مہربانیکی جائے پر وہ صداقت نہ سیکھے گا ۔ راستی کے ملک میں ناراستی کریگا اور خداوند کی عظمت کو نہ دیکھے گا۔
۱۱ اے خداوند تیرا ہاتھ بلند ہے پر وہ نہیں دیکھتے لیکن وہ لوگوں کےلیے تیری غیرت کو دیکھنگے اورشرمسار ہونگے بلکہ آگ تیرے دشمنوں کو کھا جائیگی۔
۱۲ اے خداوند تو ہی ہم کو راستی بخشے گا کیونکہ تو نے ہی ہمارے سب کامں کو ہمارےلیے سر انجام دیا ہے۔
۱۳ اے خداوند ہمارے خدا تیرے سوا دوسرے حاکموں نے ہم پر حکومت کی ہے لیکن تیری مدد سے ہم صرف تیرا ہی نام لینگے۔
۱۴ وہ مر گئے پھر زندہ نہ ہو نگے۔ وہ رحلت کر گئے پھر نہ اٹھینگے کیونکہ تو نے ان پر نظر کی اور انکو نابود کیا اور انکی یاد کو بھی مٹا دیا ہے ۔
۱۵ اے خداوند تو نے اس قوم کو کثرت بخشی ہے۔ تو نے اس قوم کو بڑھایا ہے تو ہی دوالجلال ہے۔ تو ہی نے ملک کی حدود کو بڑھا دیا۔
۱۶ اے خداوند وہ مصیبت میں تیرے طالب ہوئے ۔ جب تو نے انکو تادیب کی تو نہوں نے گریہ و زاری کی ۔
۱۷ اے خداوند تیرے حضورمیں اس حاملہ کی مانند ہیں جسکی ولادت کا وقت نزدیک ہو ۔ جو دکھ میں ہے اور اپنےدرد سے چلاتی ہے۔
۱۸ ہم حاملہ ہوئے ہم کو درد زہ لگا پر پیدا کیا ہوا ؟ ہوا! ہم نے زمین پر آزادی کو قائم نہ کیا اور نہ دنیا میں بسنے والے پیدا ہوئے۔
۱۹ تیرے مردے جی اٹھینگے ۔ میری لاشیں اٹھ کھڑی ہونگی تم جو خاک میں جا بسے ہو جاگو اور گاؤ کیونکہ تیری اوس اُس اوس کی مانند ہے جو نباتات پر پڑتی ہے اور زمین مردوں کو اگل دے گی۔
۲۰ اے میرے لوگو اپنے خلوت خانے میں داخل ہو اور اپنے پیچھے دروازے بند کر لو اور اپنے آپ کو تھوڑی دیر تک چھپا رکھو جب تک کہ غضب ٹل نہ جائے۔
۲۱ کیونکہ دکھو خداوند اپنے مقام سے چلا آتا ہے تاکہ زمین کے باشندوں کو انکی بدکرداری کی سزا دے اور زمین اس خون کو ظاہر کریگی جواس میں ہے اوراپنے مقتولوں کو ہرگز نہ چھپائے گی۔