أیسعیاہ ۳

۳:‏ ۱۔۵ جس دن کا ذکر ۲:‏۲۰ میں ہے اُس دن خدا ذمہ دار قیادت کو جس پر لوگ بھروسا اور اِنحصار کرتے تھے ہٹا دے گا۔ ’’روٹی … اور پانی‘‘ کی کمی سے مراد شاید قحط ہو گا‏، لیکن یہاں یہ ضروری اور اہم لیڈروں کی علامت بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ اگلی آیت سے اشارہ ملتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں قابل‏، بالغ نظر اور بااعتماد لیڈروں کا فقدان ہو گا۔ یہ ظلم و ستم‏، طوائف الملوکی‏، بدنظمی‏، سرکشی‏، بے ادبی اور گردن کشی کا زمانہ ہو گا۔ 

۳:‏ ۶۔۸ لوگ کسی رشتے دار کو مجبور کریں گے کہ وہ اُس ’’اُجڑے دیس‘‘ کا حاکم بنے۔ لیکن وہ رشتہ دار حاکم بننے سے اِنکار کرے گا اور کہے گا کہ ’’میرے گھر میں نہ روٹی ہے نہ کپڑا۔‘‘ لیکن اِس آفت اور مصیبت کا ذمہ دار کسی اَور کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یسعیاہ کہتا ہے کہ قوم خود اِس کی ذمہ دار ہے۔ 

۳:‏ ۹۔۱۲ آیت ۹ میں نبی ایک سلسلہ شروع کرتا ہے جس میں آٹھ ’’افسوس‘‘ ہیں۔ اِن میں سے دو اس باب میں اور چھے پانچویں باب میں درج ہیں۔ پہلے افسوس میں عوام الناس پر طرف داری اور بے شرمی کا الزام ہے۔ دوسرے افسوس میں اُن کی شرارت اور بدکرداری پر ملامت کی گئی‏، لیکن راست باز بقیہ کے لئے برکت کا دعدہ کیا گیا ہے۔ اُن کے گناہ کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ اُن کی قیادت ناتجربہ کار اور نابالغ ہاتھوں (‏لڑکے)‏ میں چلی گئی ہے۔ کمزور افراد (‏عورتیں)‏ اور فریبی اُن پر حکمران ہیں۔

۳:‏ ۱۳۔۱۵ اِن آیات میں خداوند اسرائیل کو طلب کرتا ہے کہ مقدمے کا سامنا کرے۔ الزمات عائد کئے گئے ہیں۔ وہ دولت مندوں کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے کہ تم غریبوں کو لُوٹ لُوٹ کر (‏بے شک رشوت اور جبری وصولی سے)‏ دولت مند ہو گئے ہو۔ چونکہ قصور ثابت ہے اِس لئے فیصلہ سنایا جاتا۔

۳:‏ ۱۶۔۲۴ اِس کے بعد یہوداہ کی عورتوں کی سخت مذمت کی گئی ہے کہ وہ متکبر ہیں اور شوخ چشمی کرتی ہیں۔ وہ مردوں کو لُبھانے والی حرکات کرتی ہیں اور قیمتی لباس اور زیورات سے آراستہ ہوتی ہیں۔ لیکن جن چہروں پر وہ آرائش و زیبائش کی قیمتی چیزیں لگاتی تھیں اب اُن پر کھرنڈوں کی تہہ جم جائے گی۔ اُن کے بدنوں پر سے نفیس چیزیں نوچ لی جائیں گی۔ اُن کی خوش نُمائی اور خوش ادائی جاتی رہے گی اور وہ کیچڑ میں لت پت پناہ گیر عورتیں بنیں گی۔ اُن کے بدنوں سے خوشبو نہیں بلکہ بدبو کے بھپارے اُٹھیں گے۔ لباس کے اوپر پٹکوں کے بجائے ’’رسی‘‘ بندھی ہو گی اور گُندھے ہوئے بالوں کی جگہ چندلا پن ہو گا اور پہننے کو صرف ٹاٹ ہو گا۔ شناخت کے لئے جسم داغے جائیں گے۔

۳:‏ ۲۵۔۴:‏ ۱ مزید آفت یہ ہو گی کہ اُن کے بہادر مرد جنگ میں قتل ہوں گے۔ مرد آبادی کے بہت بڑے حصے کی ہلاکت کے باعث سات عورتیں ایک مرد کو مجبور کریں گی ہم سب سے شادی کر لے اور وعدہ کریں گی کہ ’’ہم اپنی روٹی کھائیں گی‘‘ یعنی اپنی کفالت خود کریں گی۔ صرف اِتنا کر کہ ’’ہم تیرے نام سے کہلائیں ‘‘ تاکہ ہمیں بے بیاہی ہونے اور بے اولاد مرنے کی شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے۔

مقدس کتاب

۱ کیونکہ دیکھو خداوند رب الافواج یروشلیم اور یہوادہ سے سہارا اور تکیہ ۔ روٹی کا تمام سہارا اور پانی کا تمام تکیہ دور کر دے گا۔
۲ یعنی بُہادر اور صاحب جنگ کو قاضی اور نبی کو فالگیر اور کُہن سال کو۔
۳ پچاس پچاس کی سرداروں اورعزت داروں اورصلاحکاروں اور ہوشیار کاریگروں اور ماہر جادوگروں کو۔
۴ اور میں لڑکوں کو اُنکے سردار بناؤنگا اور ننھے لڑکے اُن پر حکمرانی کریں گے۔
۵ لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پر اور ہر ایک اپنے ہمسایہ پرستم کریگا اور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گُستاخی کریں گے۔
۶ جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھرمیں اپنے بھائی کا دامن پکڑکر کہے کہ تو پوشاک والا ہے ۔ آ تو ہماراحاکم ہواور اِس اُجڑےدیس پر قابض ہو جا ۔
۷ اُس وقت وہ بُلند آواز سے کہے گا کہ مُجھ سے انتظام نہیں ہو گا کیونکہ میرے گھرمیں نہ روٹی ہے نہ کپڑا۔ مُجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔
۸ کیونکہ یروشلیم کی بربادی ہوگئی اور یہوادہ گِر گیا۔ اسلیےکہ اُنکی بول چال اورچال چلن خداوند کی خلاف ہے کہ اُسکی جلالی آنکھوں کو غضب ناک کریں۔
۹ اُنکے مُنہ کی صورت اُن پر گواہی دیتی ہے ۔ وہ اپنے گناہوں کو سدوم کی مانند ظاہر کرتےہیں اورچھپاتے نہیں۔ اُنکی جانوں پر واویلا ہے!کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں ۔
۱۰ راستبازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا کیونکہ وہ اپنے کاموں کا پھل کھائینگے۔
۱۱ شریروں پر واویلا ہے! کہ اُنکو بدی پیش آئیگی کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائنگے۔
۱۲ میرے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ لڑکے اُن پر ظُلم اور عورتیں اُن پر حکمرانی کرتی ہیں۔ اے میرے لوگو! تُمہارے پیشوا تُم کو گُمراہ کرتےہیں اورتُمہارے چلنے کی راہوں کو بگاڑتےہیں۔
۱۳ خداوند کھڑا ہے کہ مقدمہ لڑے اور لوگوں کی عدالت کرے۔
۱۴ خداوند اپنے لوگوں کے بزرگوں اوراُنکے سرداروں کی عدالت کرنےکو آئیگا ۔ تُم ہی ہو جا تاکستان چٹ کر گئے ہواور مسکینوں کی لوٹ تُمہارے گھروں میں ہے۔
۱۵ خداوند رب الافواج فرماتاہے کہ اِسکے کیا معنی ہیں کہ تُم میرے لوگوں کو دباتےاور مسکینوں کے سرکُچلتے ہو ؟۔
۱۶ اور خداوند فرماتا ہے چونکہ صیون کی بیٹیاں مُتکبر ہیں اورگردن کشی اورشوخ چشمی سے خرامان ہوتی ہیں اور اپنے پاؤں سے نازرفتاری کرتی اورگھنگھرو بجاتی جاتی ہیں ۔
۱۷ اسلیے خداوند صیون کی بیٹیوں کے سرگنجے اور یہوادہ اُن کےبدن بےپردہ کر دےگا۔
۱۸ اُس دن خداوند اُنکے خلخال کی زیبائش اور جالیاں اورچاند لے لے گا۔
۱۹ اورآویزے اور پہنچیاں اور نقاب۔
۲۰ اور تاج اور پازیب اورپٹکے اورعِطردان اور یعِویذ ۔
۲۱ اور انگوٹھیاں اور نتھ۔
۲۲ اور نفیس پوشاکیں اوراوڑھنیاں اوردوپٹے اورکیِسے ۔
۲۳ اور آرسیاں اور باریک کتانی لِباس اور دستاریں اوربُرقعے بھی۔
۲۴ اور یوں ہو گا کہ خوشبو کے عوض سڑاہٹ ہو گی اور پٹکےکےبدلے رسی اورگُندھے ہوئے بالوں کی جگہ چندلاپن اورنفیس لباس کے عوض ٹاٹ اور حُسن کے بدلے داغ۔
۲۵ تیرے بہادرتِہ تیغ ہونگے اورتیرے پہلوان جنگ میں قتل ہونگے اور تیرے پہلوان جنگ میں قتل ہونگے۔
۲۶ اُسکے پھاٹک ماتم اور نوحہ کریں گے اور وہ اُجاڑ ہو کر خاک پر بیھٹے گی ۔