(۳) مستقبل میں صیون کا جلال (باب ۶۰)
۶۰: ۱۔۳ وقت آ گیا ہے کہ صیون اُٹھے اور منور ہو، اِس لئے کہ خداوند کا جلال یعنی خود مسیحِ موعود ظاہر ہوا ہے۔ یہ اُس کی دوسری آمد کا موقع ہے۔ دُنیا ابھی تک روحانی تاریکی اور ’’بڑی مصیبت‘‘ کی تاریکی میں ہے۔ مگر خداوند اسرائیل پر اور اسرائیل کے وسیلے سے باقی ساری دُنیا پر طالع (روشن/ظاہر) ہو گا۔ غیر قوموں کے نمائندے__ جن میں بادشاہ بھی شامل ہیں __ جوق در جوق یروشلیم کو آتے ہیں تاکہ نومولود قوم کی تعظیم کریں اور اُسے خراج ادا کریں۔
۶۰: ۴۔۷ یروشلیم نگاہ اُٹھاتا ہے تو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو وطن واپس آتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اور وہ غیر قوموں کو ہدیئے، نذرانے اور خراج لاتے ہوئے دیکھتا ہے تو اُس کا دل خوشی سے اُچھلتا ہے۔ دُور اور نزدیک سے اُونٹوں کے کارواں سونا اور لوبان لادے ہوئے اور یہوواہ کے نام کی ستائش کرتے ہوئے چلے آتے ہیں۔ بڑے بڑے گلّے یروشلیم میں پہنچتے ہیں تاکہ ہیکل میں قربانی کے لئے استعمال ہوں اور مسیحِ موعود کے کلوری پر پورا کئے گئے کام کی یاد منائی جائے۔ غور کریں کہ آیت ۶ میں مُر کا ذکر نہیں ہے۔ مُر دکھ سہنے کی علامت ہے۔ خداوند مسیح نے فدیہ اور کفارہ دینے کے لئے جو دکھ سہے وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکے ہیں! اُس کی دوسری آمد پر صرف سونا (جلال) اور لوبان (خوشبو) موجود ہوں گے۔
۶۰: ۸،۹ جس طرح پرندوں کے جھنڈ آشیانوں کو واپس آتے ہیں اُسی طرح اِسرائیل کے بیٹے اور جلاوطن بحری جہازوں میں بھر بھر کر اِسرائیل کے ملک میں واپس آئیں گے اور غیر ممالک میں جمع کی ہوئی دولت (سونا۔ چاندی) ساتھ لائیں گے۔
۶۰: ۱۰ بیگانوں کے بیٹے یعنی غیر قوم افراد خدا کے لوگوں کے معمار مزدور ہوں گے اور اُن کے بادشاہ اِن (اسرائیل) کی خدمت گزاری کریں گے۔ اب پانسہ پلٹ گیا ہے۔ خدا اُس قوم پر مہربانی اور رحم کر رہا ہے جس کو پہلے سزا دی تھی۔
۶۰: ۱۱۔۱۴ اب شہر کے پھاٹک بند کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ کوئی خطرہ نہیں رہا۔ بلکہ اِس کے برعکس اِنہیں کھلا رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ بادشاہ اور دولت سے لدے ہوئے کارواں دن رات آ رہے ہیں۔ اُس زمانے میں جو قوم اسرائیل کی خدمت گزاری نہیں کرے گی ہلاکت اور بربادی اُس کی منتظر ہے۔ لبنان اپنے عمدہ ترین درخت بھیجتا ہے تاکہ ہیکل کی آرائش و زیبائش کی جائے۔ جن قوموں نے زمانۂ سابق میں اِسرائیل کو ستایا اور غارت کیا تھا اُن کی اولاد اب تسلیم کرے گی کہ یروشلیم خداوند کا شہر اسرائیل کے قدوس کا صیون ہے۔
۶۰: ۱۵،۱۶ خدا نے صیون کو ’’ترک‘‘ کر دیا تھا اور اُس سے نفرت کرتا تھا۔ لیکن اب وہ فضیلت والا شہر ہو گا اور باقی ساری دُنیا اُس کی پرورش اور نشوونما کرے گی۔ اُس وقت یہوواہ کے قدیم لوگ جانیں گے کہ وہ ہمارا نجات دینے والا اور یعقوب کا قادر ہمارا فدیہ دینے والا ہے۔
۶۰: ۱۷۔۲۲ شہر کی تعمیر میں نہایت قیمتی دھاتیں __ سونا، چاندی اور پیتل اور لوہا __ استعمال ہوں گی۔ سلامتی اُس شہر کی حاکم اور صداقت اُس کی عامل (پولیس) ہو گی۔ ظلم اور خرابی یا بربادی کی جگہ نجات اور حمد ہو گی۔ یروشلیم میں سورج اور چاند کی ضرورت نہ رہے گی، اِس لئے کہ خداوند کا جلال تمام ضروری روشنی فراہم کرے گا۔ تاریکی کافور ہو جائے گی اور اِسرائیل کے ماتم کے دن ختم ہو جائیں گے۔ ایک راست باز قوم ملک کی وارث ہو گی جسے خداوند اپنے جلال کے لئے (شاخ کی طرح) لگائے گا۔ نہایت حقیر لوگوں کو کثرتِ اولاد کی برکت ملے گی۔ چونکہ خداوند نے فرمایا ہے اِس لئے وہ اِسے جلد وقوع میں لائے گا۔
مقدس کتاب
۱ اُٹھ منور ہو کیونکہ تیرانور اگیا اور خدا وند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا۔
۲ کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی اُمتوں پر لیکن خداوند تجھ پر طالع ہو گیا اور اُس کا جلال تجھ پر نمایاں ہو گا۔
۳ اور قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی اور سلاطین تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے
۴ اپنی آنکھیں اُٹھا کر چاروں طرف دیکھ۔وہ سب کے سب اکٹھے ہوتے ہیں اور تیرے پاس آتے ہیں ۔تیرے بیٹے دور سے آئیں گے اور تیری بٹیوں کو گود میں اُٹھا کر لائیں گے۔
۵ تب تو دیکھے گی اور منور ہو گیہان تیرا دل اُچھلے گا اور کشادہ ہو گا کیونکہ سمندر کی فراوانی تیری طرف پھرے گی اور قوموں کی دولت تیرے پاس فراہم ہوگی
۶ اُونٹوں کی قطاریں اور مدیان اور عیفہ کی سانڈنیاں ارد گردبے شمار ہوں گی۔ وہ سب سبا سے ائیں گے اور سونا اور لبان لائیں گے اور خداوند کی حمد کاا علان کریں گے۔
۷ قیدار کی سب بھیڑیں تیرے پس جمع ہوں گی۔نبایوت کے مینڈھے تیری خدمت میں حاضر ہوں گے۔وہ میرے مذبح پر مقبول ہوں گے اور میں اپنے شوکت کے گھر کو جلال بخشوں گا۔
۸ یہ کون ہے جو بادل کی طرح اُرے چلے اتے ہیں اور جیسے کباتر اپنی کابک کی طرف؟۔
۹ یقینا جزیرےمیری راہ دیکھوں گے اور ترسیس کے جہاز پہلے ائیں گے کہ تیرے بیٹوںکو اُن کی چاندی اور اُن کے سونے سمیت دور سے خداوند تمہارا خدا اور اسرایئل کے قدوس کے نام کے لئے لائیں کیونکہ اُس نے تجھے بزرگی بخشی ہے۔
۱۰ اور بیگانوں کے بیٹے تیری دیواریں بنائیں گے اور اُن کے بادشاہ تیری خدمت گزاری کریں گے۔اگرچہ میں نے اپنے قہر سے تجھے مارا پر اپنی مہربامی سے میں تجھ پر رحم کرو نگا۔
۱۱ اور تیرے پھاٹک ہمیشہ کُھلے رہیں گے۔وہ دن رات کبھی بند ہوں گے تاکہ قوموں کی دولت اور اُن کے بادشاہوںکو تیرے پاس لائیں۔
۱۲ کیونکہ وہ قوم اور مملکت جو تیری خدمت گزاری نہ کرےگی برباد ہو جائے گی۔ ہاں وہ قومیں بالکل ہلاک کی جائیں گی ۔
۱۳ لبنان کا جلال تیرے پاس آے گا۔سرواور صنوبر اور دیودار سب آئیں گے تاکہ میرے مقدس کو آراستہ کریں اور میں اپنے پائوں کی کرسی کو رونق بخشوں گا
۱۴ اور تیرے غارت گروں کے بیٹےتیرے سامنے جھکتے ہوئے آئیں گے اور تیرے تحقیر کرنے والے سب تیرے قدموں پر گریں گے۔اور وہ تیرا نامخداوند کا شہر اسرائیل کے قدوس کا صیون رکھیں گے۔
۱۵ اس لئے کہ تو ترک کی گئی اور تجھ سے نفرت ہوئی ایسا کہ کیس آدمی نے تیری ترف گزر بھی نہ کیا۔میں تجھے ابدی فضلیت اور پشت درد پشت کی شادمانی کا باعث بنائوں گا
۱۶ تو قوموں کا دودھ بھی پی لے گی۔ہاں بادشاہوں کیچھاتی چوسے گی اور تو جانے گی کہ میں خداوند تیرا نجات دینے والا اور یعقوب کا قادر تیرا فدیہ دنیے والا ہوں
۱۷ میں پیتل کے بدلے سونا لاؤ گے اور لوہے کے بدلے چاندی اور لکڑی کے بدلے پیتل اور پتھروں کے بدلے لوہا اور میں تیرے حاکموں کو سلامی اور تیرےعاملوں کو صداقت بنائوں گا
۱۸ پھرکبھی تیرے ملک میں ظلم کا ذکر نا ہو گا اور نہ تیری حدود کے اندر خرابی یا بربادی کا بلکہ تو اپنی دیواروںکا نام نجات اور اپنے پھاٹکوں کا حمد رکھے گی
۱۹ پھر تیری روشنی نہ دن کوسورج سے ہو گی نہ چاند کے چمکنے سے بلکہ خداوند تیراابدی نور اور تیرا خدا تیراجلال ہو گا
۲۰ تیرا سورج پھر کھبی نہ ڈھلے گا اور تیرے چاند کو زوال نہ ہو گا کیونکہ تیرا خداوند تیرا ابدی نور ہوگااور تیرے ماتن کے دن ختم ہوجائیں گے
۲۱ اور تیرے لوگ سب کے سب راستباز ہوں گے۔وہ ابد تک مُلک کے وارث ہوں گے یعنی میریلگائی ہوئی شاخ اور میری دست کاری ٹھہریں گے تاکہ میرا جلال ظاہر ہو
۲۲ سب سے چھوٹا ایک ہزار ہو جائے گا اعر سب سے حقیر ایک زبردست قوم۔میں خدا وند عین وقت پر یہ سب کچھ جلد کروں گا۔