(۸) بقیہ کی رحم کے لئے دعا کا جواب (باب ۶۵)
۶۵: ۱ یہاں سے یہوواہ کی طرف سے مذکورہ بالا دعا (۶۳: ۱۵۔۶۴: ۱۲) کا جواب شروع ہوتا ہے۔
سیاق و سباق کے مطابق پہلی آیت حوالہ دیتی ہے کہ اِسرائیل خدا کا طالب نہ ہوا اور خدا کی پکار کا جواب دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ لیکن رومیوں ۱۰: ۲۰ میں پولس اِس کا اطلاق غیر قوموں کے بلائے جانے پر کرتا ہے: ’’جنہوں نے مجھے نہیں ڈھونڈا اُنہوں نے مجھے پا لیا۔ جنہوں نے مجھ سے نہیں پوچھا اُن پر مَیں ظاہر ہو گیا۔‘‘
۶۵: ۲۔۷ یقیناًیہ آیات اسرائیل کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ خدا ایک ایسی قوم کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے دلیلیں دیتے نہیں تھکتا جس نے اپنے آپ کو بت پرستی اور بے دینی کی مکروہات کے حوالے کر رکھا ہے۔ چونکہ وہ خفیہ رسومات میں شریک ہو گئے ہیں اِس لئے اپنے آپ اپنے ہم جنسوں سے زیادہ پاک سمجھتے ہیں۔ چونکہ وہ خدا تعالیٰ کے لئے مسلسل دِق داری اور اُکتاہٹ کا باعث ہیں اِس لئے وہ اُن کی ساری بت پرستی اور گناہ کا بدلہ اکٹھا دے گا۔
۶۵: ۸۔۱۲ یہوواہ وعدہ کرتا ہے کہ مَیں خراب تاکستان (باقی قوم) میں سے اچھے خوشۂ انگور (ایمان دار بقیہ) کو بچا لوں گا۔ یہ محفوظ بقیہ ملک میں بسے گا۔ مغرب میں شارون کے میدان میں گلے چریں گے اور مشرق میں عکور کی وادی میں چوپائے بیٹھیں گے۔ یہ سب کچھ مقدسوں کے فائدے کے لئے ہو گا۔ جہاں تک برگشتہ اور بے دین ہجوم کا تعلق ہے تو وہ ایک فرق کہانی ہے۔ اُنہوں نے خداوند اور اُس کے مقدِس کو ترک کر دیا ہے اور مشتری ۱ (بمعنی سپاہیوں کا بڑا دستہ، خوش قسمتی) اور زہرہ (بمعنی عدد گننا، تقدیر) کی پرستش کرتے ہو۔ اِس لئے خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ تلوار کے حوالے ہوں گے۔ خدا کی التجاؤں کا مثبت جواب دینے کے بجائے اُنہوں نے اُن باتوں کو پسند کیا اور چن لیا جو خدا کی نظر میں بُری اور ناپسندیدہ ہیں۔
۶۵: ۱۳۔۱۶ یہاں سچے ایمان داروں اور بے ایمانوں کے حصے میں جو جو کچھ آئے گا اُس کا فرق واضح کیا گیا ہے۔ ایک طرف خوراک کی اِفراط اور دوسری طرف بھوک ہے۔ ایک طرف پینے کو کثرت سے ہے اور دوسری طرف پیاس ہے۔ ایک طرف خوش دلی اور دوسری طرف دل گیری اور شرمندگی ہے۔ ایک طرف خوشی کے نغمے اور دوسری طرف واویلا ہے۔ ایک طرف زانیہ کی لعنت (گنتی ۵: ۲۱۔۲۴) اور دوسری طرف برکت ہے۔ اُن دِنوں یعنی جب دُنیا کی بُرائیاں ختم ہو جائیں گی اور سب کچھ درست ہو جائے گا، لوگ اپنے لئے دعائے خیر کرنے یا قسم کھانے کے لئے خدائے برحق کا نام لیا کریں گے۔ اُن دنوں لوگ مانیں گے کہ خدا وہ ہستی ہے جو اپنے ارادے پورے کرتا ہے اور جو کچھ کہتا ہے وہ وقوع میں آتا ہے۔
۶۵: ۱۷ باب ۶۵ کی آخری آیات ہزار سالہ دَور کے حالات کا بیان کرتی ہیں۔یہاں نیا آسمان اور نئی زمین، زمین پر مسیح کی بادشاہی کا اِشارہ ہیں، جب کہ مکاشفہ باب ۲۱ میں وہ ابدی حالت کا اشارہ ہیں۔ یسعیاہ کے نئے آسمان اور نئی زمین پر گناہ اور موت ابھی موجود ہیں جب کہ مکاشفہ باب ۲۱ میں وہ نابود ہو چکے ہیں۔
۶۵: ۱۸۔۲۳ جب وہ بادشاہی قائم ہو جائے گی تو خداوند یروشلیم اور اسرائیلی لوگوں سے خوش ہو گا۔ رونے اور نالے کی آواز پھر کبھی سنائی نہ دے گی۔ کم سِنی کی اموات اور قبل از وقت وفات کا نام و نشان نہ رہے گا۔ جو شخص سو برس کا ہو کر مرے گا اُسے بچہ ہی شمار کیا جائے گا۔ اور سو برس کی عمر کا جو شخص گناہ کرے وہ کاٹ ڈالا جائے گا۔لوگ اپنی محنت کے پھل سے لطف اندوز ہونے کو جیتے رہیں گے۔ کوئی محنت بے سود نہ۱ علمِ نجوم میں ستاروں کو بارہ بڑے گروہوں یا بُرجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بعض لوگ یقین رکھتے ہیں کہ ستارے اِنسانوں کے کردار اور قسمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سے دو برجوں کے نام مشتری اور زہرہ ہیں۔ مترجمہو گی۔ نوجوان آفت یا جنگ سے ناگہاں ہلاک نہ ہوں گے۔ والدین اور اولاد سب خداوند کی برکت سے محظوظ ہوں گے۔
۶۵: ۲۴،۲۵ دعا مانگنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو گی۔ جنگلی جانور اور درندے پالتو بن جائیں گے اور زہریلے سانپ شکست اور رسوائی کی خاک چاٹیں گے۔ خدا کے کوہِ مقدس صیون پر نہ کوئی ضرر ہو گا، نہ خطرہ۔
مقدس کتاب
۱ جو میرےطالب نہ تھے میں اُن کی طرف متوجہ ہوا۔جنہوں نے مجھے ڈھونڈا نہ تھا پالیا۔میں نے ایک قوم سے جو میرے نام سے نہیں کہلاتی تھی فرمایا دیکھ میں حاضر ہوں
۲ میں نے سر کش لوگوں کی طرف جو اپنی فکروں کی پیروی میں بری راہبر چلتے ہیں ہمیشہ ہاتھ پھیلائے
۳ ایسے لوگ جو ہمیشہ میرے رو برو باغوں میں قربانیاں کرنے اور انیٹوں پر خو شبوجلانے سے مجھے برا فروختہ کرتےہیں۔
۴ جو قبروں میں بیٹھتے اور پوسیدہ جگہوں میں رات کاٹتے اور سور کا گوشت کھاتے ہیں اور جن کے برتنوں میں نفرتی چیزوں کاشوربا موجود ہے۔
۵ جو کہتے ہیں تو الگ ہی کھڑا رہ میرے نزدیک نہ آکیونکہ میں تجھ سے زیادہ پاک ہوں۔یہ میرے ناک میں دھوئیں کے مانند اور دن بھر جلنے والی آگ کی طرح ہیں۔
۶ دیکھو میرے آگے وہ قلمبند ہواہے۔پس میں خاموش نہ رہوں گا بلکہ بدلہ دوں گا۔خداوند فرماتا ہے ہاں اُن کی گود میں ڈال دوں گا۔
۷ اور تمہارے باپ داد کی بدکاریکا بدلہ اکٹھا دوں گا جو پہاڑوں پر خشبو جلاتے اور ٹیلوں پر میری تکفیر کرتے تھے۔پس میں پہلے اُن کے کاموں کو اُن کی گود میں ناپ کر دوں گا۔
۸ خداوند یوں فرماتا ہےکہ جس طرح شیرہ خوشہ انگور میں موجود ہے اور کوئی کہے اسے خراب نہ کر کیونکہ اُس میں برکت ہے اُسی طرح میں اپنے بندوں کی خاطر کروں گاتاکہ اُن سب کو ہلاک نہ کروں۔
۹ اور میں یعقوب میں سے ایک نسل اور یہوداہ میں سے اپنے کوہستان کا وارث برپا کروں گا اور میرے برگزیدہ لوگ اُس کے وارث ہوں گے اور میرے بندے وہاں بسیں گے۔
۱۰ اور شارون گلوں کا گھر ہوگا اور عکور کی وادی بیلوں کے بیٹھنے کا مقام میرے اُن لوگوں کے لئے جو میرے طالب ہوئے۔
۱۱ لیکن خدا وند کو ترک کرتے اور اُس کے کوہ مقدس کو فرموش کرتے اور مشتری کے لئے دسترخوان چنتے اور زہرہ کے لئے شراب ممزوج کا جام پر کرتے ہو۔
۱۲ میں تم کو گن گن کر تلوار کے حوالے کروں گا اور تم سب ذبح ہو نے کے لئے خم ہو گے کیونکہ جب میں نے بلایا تو تم نے جواب نہ دیا۔جب میں نے کلام کیا تو تم نے نہ سنا بلکہ تم نے وہی کیا جو میری نظر میں برا تھا اور وہ چیز پسند کی جس سے میں خوش نہ تھا۔
۱۳ اس لئے خدا وند خدا یوں فرماتا ہے کہ د یکھو میرے بندے کھائیں گے پر تم بھوکے رہو گے۔میرے بندے پئیں گے پر تم پیاسے رہو گے۔میرے بندے شاد مان ہوں گے پر تم شرمندہ ہو گے۔
۱۴ اور میرے بندے دل کی خوشی سے گائیں گے پر تم دل گیری کے سبب سے نالان ہو گے اور جانکاہی سے واویلا کرو گے۔
۱۵ اور تم اپنا نام میرے برگزیدوں کی لعنت کے لئے چھوڑ جاؤگے۔خداوند خدا تم کو قتل کر گا اور اپنے بندوں کو ایک دوسرے نام سے بلائے گا۔
۱۶ یہاں کے جو کوئی روی زمین پر اپنے لئے دعا خیر کرے خدایِ بر حق کے نام سے کے گا اور کوئی اور جو کوئی زمین مین قسم کھائے خدای ِبر حق کے نا م سے کھائے گاکیونکہ گزشتہ مصبیتیں فراموش ہو گئیں اور وہ میری آنکھوں سے پوشید ہیں
۱۷ کیونکہ دیکھو میں نئے آسمان اور نئی زمین کو پیدا کرتا ہوں اور پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں نہ آئیں گی۔
۱۸ بلکہ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو کیونکہ دیکھو میں یروشلیم کو خوشی اور اُس کے لوگوں کو خرمی بنائوں گا۔
۱۹ اور میں یروشلیم سے خوش اور اپنے لوگوں سے مسرور ہوں گا اور اُس میں رونے کی صدا اور نالہ کی آواز پھر کبھی نہ دے گی۔
۲۰ پھر کبھی وہاں کوئی ایسا لڑکا نہ ہو گا جو کم عمر رہے اور نہ کوئی ایسا بوڑھا جو اپنی عمر پوری نہ کرے کیونکہ لڑکا سو برس کا ہو کر مرے گا اور جو گنہگار سو برس کا ہوجائے ملعون ہو گا۔
۲۱ وہ گھر بنائیں گے اور ان میں بسیں گے۔تاکہ کستان لگائیں گے اور ان کے میوے کھائیں گے ۔
۲۲ نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائیں کیونکہ میرے بندوں کے ایام درخت ایام کی مانند ہوں گے اور میرے برگزیدے اپنے ہاتھوں کے کام سے مدتوں تک فائدہ اُ ٹھا ئیں گے۔
۲۳ ان کی محنت بے سود نہ ہو گی اور اُن کی اولاد ناگہان ہلاک نہ ہو گی کیونکہ وہ اپنی اولاد سمیت خداوندا کے مبارک لوگوں کی نسل ہیں۔
۲۴ اور یوں ہوگا کہ میں ان کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکیں گے کہ میں سن لوں گا۔
۲۵ بھیڑیا اور برہ اکھٹے چریں گے اور شیر ببر بیل کی مانند بھوسا کھائے گا اور سانپ کی خوراک خاک ہوگی۔وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے خداوند فرماتا ہے۔