أیسعیاہ ۱۱

(‏۳)‏ مسیحِ موعود کی ہزار سالہ بادشاہی (‏ابواب ۱۱‏،۱۲)‏

۱۱:‏ ۱ پرانے اور نئے عہدنامے دونوں میں یسعیاہ کا گیارھواں باب ہزار سالہ بادشاہی پر نہایت زور دار اور لاجواب تحریر ہے۔ صحائفِ انبیا میں گریز (‏موضوع بدلنے)‏ کی مثالیں اکثر ملتی ہیں۔ یہاں بھی نبی جلدی سے گریز کر کے ہمیں مسیح کی دوسری آمد کے موضوع پر لے آتا ہے۔

سب سے پہلے ابنِ داؤد کے حسب نسب کا ذکر ہے۔ ’’یسی کے تنے سے ایک کونپل … ایک بارآور شاخ … ‘‘ یسی داؤد کا باپ تھا (‏۱۔سموئیل ۱۷:‏۱۲)‏۔

۱۱:‏ ۲ مسیحِ موعود کے خداوند کے روح سے مسح کئے جانے کو روحانی صفات کے تین جوڑوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ ڈبلیو۔ ای۔ وائن نے اِس کی واضح اور جامع تشریح کی ہے:‏

اوّل‏، ’’حکمت اور خرد کی روح۔‘‘ اِس کا تعلق ذہنی و عقلی قوا سے ہے۔ حکمت چیزوں کی اصل اور نوع کو پہچانتی ہے۔ خرد اُن میں فرق کو پہچانتی ہے۔ دوم‏، ’’مصلحت اور قدرت کی روح‘‘۔ یہ عملی سرگرمیوں سے تعلق رکھتی ہے۔ مصلحت درست نتائج کو اپنانے کی قابلیت ہے اور قدرت اِن کو بروئے کار لانے میں ظاہر ہوتی ہے۔ سوم‏، ’’معرفت اور خدا کے خوف کی روح۔‘‘ تیسری جوڑی کا تعلق یہوواہ کے ساتھ رفاقت سے ہے۔ معرفت کا مطلب ہے یہوواہ کا علم یا یہوواہ کو جاننا (‏اِس جوڑی کی دونوں تفاصیل ’’یہوواہ کی‘‘ کے ساتھ آتی ہیں)‏۔ مسیح نے خود فرمایا ’’تم نے اُسے نہیں جانا‘‘ (‏ginosko یعنی تم نے اُسے جاننا شروع نہیں کیا)‏ لیکن مَیں اُسے جانتا ہوں (‏oida یعنی میں اُسے جبلی اور کامل طور سے جانتا ہوں)‏ یوحنا ۸:‏ ۵۵۔

۱۱:‏ ۳۔۵ اِس کے بعد شان دار شاعری میں مسیح کی حکمرانی کی قطعی اور کامل راستی یا ’’اِنصاف‘‘ کا اور اِس کے بعد ’’شریروں‘‘ کی سزا کا بیان ہے۔ اِس کے ساتھ اُس کی ذاتی ’’راست بازی‘‘ اور اُس کے پُراَمن اور سلامتی کے دورِ حکومت کا ذکر ہے۔

۱۱:‏ ۶۔۹ الف یہاں تک کہ جنگلی درندے بھی مسیحِ موعود کی اطاعت کریں گے اور ممکن ہو گا کہ ’’دودھ پیتا بچہ سانپ کے بِل کے پاس‘‘ کھیل سکے۔

۱۱:‏ ۹ ب پورے پاک کلام میں سب سے شاندار اور جلالی وعدہ آیت ۹ کے نصف ثانی میں ہے جس میں ہزار سالہ بادشاہی میں مثالی حالات کا سبب بتایا گیا ہے۔ جیننگز نے اِس آیت کو انگریزی میں ہم قافیہ مصرعوں میں ڈھالا ہے اور خداوند کے لئے یہوواہ کا مخفف ’’یاہ‘‘ استعمال کیا ہے۔ اُردو میں مترجم نے یوں کوشش کی ہے۔ 

یاہ کے عرفان سے زمیں ہو گی معمور جیسے ہوتا ہے سمندر پانی سے بھرپور

۱۱:‏۱۰۔۱۶ مسیحِ موعود ایک جھنڈا ہو گا اور غیر قوموں کو اپنی طرف کھینچے گا۔ اُس کے اِختیار کا تخت جلالی ہو گا۔ اور خداوند اپنے لوگوں کا بقیہ تمام اطراف سے جمع کرے گا اور واپس لائے گا۔ یہوداہ اور افرائیم (‏اِسرائیل)‏ امن اور صلح کے ساتھ اکٹھے رہیں گے اور اپنے دشمنوں کو __ فلستیوں‏، موآبیوں اور عمونیوں کو مغلوب اور مطیع کر لیں گے۔ بحرِ مصر کی خلیج یعنی بحیرۂ قلزم سوکھ جائے گا اور دریائے فرات بھی سات نالے بن جائے گا تاکہ یہودی ملک میں واپس آ سکیں۔ ایک شاہراہ ہو گی جو اسور اور اسرائیل کو ملائے گی تاکہ شمال سے واپسی آسان ہو جائے۔

مقدس کتاب

۱ اور یسی کے تنے سے ایک کونپل نکلیگی اور اسکی جڑوں سے ایک بار آور شاخ پیدا ہوگی۔
۲ اور خداوند کی روح اُس پر ٹھہرے گی ۔حکمت اور خرد کی روح مصلحت اور قدرت کی روح معرفت اور خداوند کے خوف کی روح ۔
۳ اوراسکی شادمانی خداوند کے خوف میں ہو گی اور وہ نہ اپنی آنکھوں کے دیکھنےکے مطابق انصاف کریگا اور نہ اپنے کانوں کے سننے کے مطابق فیصلہ کریگا۔
۴ بلکہ وہ راستی سے مسکینوں کا انصاف کریگا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کریگا اور اپنی زبان کلے عصا سے زمین کو ماریگا اور اپنے لبوں کے دم سے شریروں کو فنا کرڈالیگا۔
۵ اور اسکے کمر کا پٹکا راستبازی ہو گی اور اسکے پہلو پر راستبازی کا پٹکا ہو گا۔
۶ پس بھیڑ یا بّرہ کے ساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کے ساتھ بیٹھے گا اور بچھڑااور شیر بچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیش روی کریگا۔
۷ گائے اور ریچھنی ملکر چرینگی ۔ انکے بچے اکٹھے بیٹھیں گے اور شیر ببر بیل کی طرح بھوسا کھائیگے۔
۸ اوردودھ پیتا بچہ سانپ کی بل کے پاس کھیلے گا اور وہ لڑکا جسکا دودھ چھڑایا گیا ہو افعی کی بل میں ہاتھ ڈالیگا۔
۹ وہ میرے تمام کوہ مقدس پر نہ ضررپہچائینگے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کےعرفان سے معمور ہو گی۔
۱۰ اور اسوقت یوں ہو گاکہ لوگ یسی کی اُس جڑ کےطالب ہونگے جو لوگوں کے لیے ایک نشان ہے اوراسکی آرامگاہ جلالی ہو گی۔
۱۱ اور اسوقت یوں ہو گا کہ خداوند دوسری بار اپنے ہاتھ بڑھائیگا کہ اپنے لوگوں کا بقیہ جو بچ رہا ہو اسور اور مصر اور فتروس اور کوش اور عیلام اورسنعار اور حمات اور سمندر کے اطراف سے واپس لائے ۔
۱۲ اور وہ قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کریگا اور ان اسرائیلیوں کو جو خارج کیے گئے ہوں جمع کریگا اور سب بنی اسرائیل کو جو پراگندہ ہو نگے زمین کی چاروں اطراف سے فراہم کریگا۔
۱۳ تب بنی افرائیم میں حسد نہ رہیگا اور بنی یہوادہ کے دشمن کاٹ ڈالے جائیں گے بنی افرائیم بنی یہوادہ پر حسد نہ کرینگے اور بنی یہوادہ بنی افرائیم سے کینہ نہ رکھینگے۔
۱۴ اور وہ مغرب کی طرف فلستیوں کے کندھوں کی طرف جھپٹیں گے اور وہ مل کر مشرق کے بسنے والوں کو لوٹیں گے اور ادوم اور موآب پر ہاتھ ڈالیں گے اور بنی عمون انکے فرمانبردار ہونگے۔
۱۵ تب خداوند بحر مصر کی خلیج کو بالکل نیست کر دیگا اور اپنی باد سموم سے دریایِ فرات پر ہاتھ چلائے گا اور اسکو سات نالے کردیگا اور ایسا کرے گا کہ لوگ جوتے پہنے ہوئے پار چلے جائیں گے اور اسکے باقی لوگوں کے لیے جو اسور میں سے بچ رہینگے اور ایک ایسی شاہراہ ہو گی جیسی بنی اسرائیل کے لیے تھی جب وہ ملک مصر سے نکلے ۔
۱۶