و۔ اِسرائیل اور یروشلیم کا زوال اور دوبارہ عروج (ابواب ۲۸۔۳۵)
(۱) افرائیم / اسرائیل پر افسوس (باب ۲۸)
۲۸: ۱۔۴ سامریہ افرائیم (یعنی اِسرائیل) کے متوالوں کے گھمنڈ کا تاج اور مرجھایا ہوا پھول تھا۔ پہاڑ کی چوٹی پر بسا ہوا شہر تاج کی مانند تھا۔ وہ نیچے شاداب وادی کو دیکھتا ہے جو شراب، عیش و عشرت، مادہ پرستی اور بدکاری میں غرق (متوالے) ہیں۔ اسوری فاتحین شہر کو پکے انجیر کی طرح نگل جانے کو تیار کھڑے ہیں۔
۲۸: ۵، ۶ جب رَبُّ الافواج اپنی بادشاہی قائم کرنے کو واپس آئے گا تو وفادار بقیہ کے لئے شوکت اور حُسن کا تاج ہو گا جس کی چمک ماند نہیں پڑتی۔ وہ قوم کے لیڈروں کو اِختیار اور طاقت دے گا کہ انصاف کریں، دشمن کو سزا دیں اور اپنے شہر کے پھاٹک سے دَفع کر کے خود اپنے (دشمن کے) شہر کے پھاٹک کو واپس جانے پر مجبور کر دیں۔
۲۸: ۷، ۸ اب نبی یہوداہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اِسرائیل کی طرح وہ بھی متوالے ہیں۔ اُن کے دسترخوان اپنی ہی قے اور گندگی سے بھرے ہیں۔ یہاں تک کہ کاہن اور نبی بھی بدکار ہو گئے ہیں۔
۲۸: ۹، ۱۰ مذہبی راہنما خدا کا تمسخر اُڑاتے ہیں کہ وہ ہم سے بات کرتے ہوئے ننھے بچوں والی زبان استعمال کرتا ہے۔ کیا خداوند کا خیال ہے کہ مَیں چھوٹے چھوٹے بچوں سے بات کر رہا ہوں اور اُنہیں نہایت آسان زبان میں سکھا رہا ہوں؟
۲۸: ۱۱۔۱۳ خدا کہتا ہے ٹھیک ہے۔ چونکہ تم میری سادہ، آسان اور قابلِ فہم زبان سننا نہیں چاہتے اِس لئے مَیں ایک اجنبی حملہ آور (اسور) کو تمہارے درمیان لے آؤں گا۔ ان کی اجنبی زبان اُن لوگوں کے لئے غضب اور سزا کا نشان ہو گی جنہوں نے اُس وقت خدا کی نہ سنی اور انکار کیا جب اُس نے اُن کے لئے آرام کا اور دوسروں کو آرام اور تازگی دینے کا عبث حکم دیا۔ Jennings لکھتا ہے کہ جہاں تک خداوند کا تعلق ہے وہ:
’’سادہ ترین زبان اور واضح ترین الفاظ میں کلام کرتا رہے گا۔ لیکن سب کچھ اِس لئے کہ (خدا کو) ردّ کرنے کی ساری ذمہ داری خود ردّ کرنے والوں پر ہو، نہ کہ پیغام کے مبہم (یا زبان کے مشکل) ہونے پر۔‘‘
۲۸: ۱۴،۱۵ یہوداہ کے حاکم مصر کے ساتھ اپنے عہد پر فخر کرتے تھے کہ اِس طرح ہمیں اسوریوں کے حملے کا خطرہ نہیں رہا۔ لیکن اُن کا یہ اتحاد اُن کے لئے موت اور پاتال ثابت ہو گا۔ وہ جھوٹ اور فریب پر بھروسا کر رہے تھے۔ (موت سے عہد اور پاتال سے پیمان بلاشبہ لغوی معانی میں نہیں ہے۔ خیال اور مفہوم یہ ہے کہ یہوداہ سمجھتا تھا کہ موت اور پاتال کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں اِس لئے ہمیں مصر کے ساتھ اِس اتحاد کے باعث کوئی خوف نہیں ہے۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ مستقبل میں اسرائیل اور حیوان کے مابین ہونے والے اتحاد کی تصویر ہے (دانی ایل ۹:۲۷)۔
۲۸: ۱۶،۱۷ خدا نے مسیحِ موعود کو قائم کیا ہے کہ صرف وہی اعتماد اور بھروسے کے لائق محکم بنیاد ہے۔ جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں اُنہیں ڈر کر بھاگنے کی کبھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اُس کے دَورِ حکومت میں ہر بات کو عدالت اور صداقت کے معیار پر پورا اُترنا ہو گا۔ اُس کی عدالت سہارے اور اعتماد کی ہر جھوٹی چیز کو سیلاب کی طرح بہا لے جائے گی اور صاف کر دے گی۔
۲۸: ۱۸۔۲۲ جب حملہ آور آئے گا تو یہوداہ کی طاقت کی یہ سیاست ناکام ثابت ہو گی۔ دشمن کا ہر حملہ کامیاب ہو گا۔ لوگ خدا کی باتوں کی سچائی کو سمجھیں گے، لیکن وقت گزر چکا ہو گا۔ ’’پلنگ ایسا چھوٹا ہے … اور لحاف ایسا تنگ ہے …‘‘ یعنی وہ عہد اور پیمان مطلوبہ تسلی اور محافظت مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خداوند خدا غضب ناک ہو کر اپنے لوگوں کے خلاف اُٹھے گا۔ جیسا کہ پہلے وہ اُن کے دشمنوں کے خلاف اُٹھا تھا۔ خدا کے لئے یہ کام کرنا بالکل عجیب ہے۔ اگر وہ اِس کام کی تحقیر کریں گے اور ٹھٹھا کریں گے تو اُن ہی کے بند سخت ہو جائیں گے۔
۲۸: ۲۳۔۲۹ ہربرٹ وانڈر لگٹ رقم طراز ہے کہ نبی وضاحت کرتا ہے کہ
’’خدا اپنے فرزندوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ مثال کے لئے وہ کسان کے کام کے تین پہلو پیش کرتا ہے۔ اوّل، کسان ہمہ وقت ہل نہیں چلاتا رہتا، نہ سارا وقت زمین کھودتا اور ڈھیلے پھوڑتا رہتا ہے۔ بلکہ جب زمین بونے کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو رک جاتا ہے (آیت ۲۴)۔ اِسی طرح ہماری آزمائشیں اور اِمتحان ہماری زندگیوں میں اپنے مقاصد پورے کرنے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔ دوم، نبی کہتا ہے کہ اِس کے بعد کسان سمجھ داری کے ساتھ بیج بوتا ہے۔ وہ اجوائن کو چھینٹتا ہے، مگر گندم کو قطاروں میں بوتا ہے (آیات ۲۵،۲۶)۔ اِس سے یقین ہو جاتا ہے کہ خدا ہماری خاص ضرورت کے مطابق تادیب اور سرزنش کا اِنتخاب بڑی احتیاط سے کرتا ہے۔ سوم، یسعیاہ فصل کو جھاڑنے والے مزدور کی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ اِنتہائی احتیاط کے ساتھ اجوائن کو لاٹھی سے اور زِیرے کو چھڑی سے جھاڑتا ہے۔ یعنی ایک فصل کو بھاری اور دوسری کو ہلکی چھڑی سے جھاڑتا ہے۔ وہ گندم کے لئے داءِیں استعمال کرتا ہے اور خیال رکھتا ہے کہ وہ اِتنا بھاری نہ ہو کہ دانے کچل ڈالے (آیت ۲۷،۲۸)۔ اِسی طرح قادرِ مطلق بھی ہماری حالت کے مطابق ہر ممکن ہلکا ہاتھ رکھتا ہے اور دُکھ تکلیف کو بھی اِتنا بھاری نہیں ہونے دیتا کہ ہماری برداشت سے باہر ہو جائے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ افسوس افرائیم کے متوالوں کے گھمنڈ کے تاج پر اور اسکی شاندار شوکت کے مرجھائے ہوئے پھول پر جو ان لوگوں کی شاداب وادی کے سرے پر ہے جو مے کے مغلوب ہیں!۔
۲ دیکھو خداوند کے پاس ایک زبردست اور زور آور شخص ہے جو اس آندھی کی مانند ہے جس میں اولے ہوں اور باد سموم کی مانند اور سیلاب شدید کی مانند زمین پر ہاتھ سے پٹک دیگا۔
۳ افرائیم کے متوالوں کے گھمنڈ کا تاج پامال کیا جائیگا۔
۴ اور اس شاندارشوکت کا مرجھایا ہوا پھول جو اس شاداب وادی کے سرے پر ہے پہلے پکے انجیر کی مانند ہو گا جو گرمی کے آیا م سے پیشتر لگے جس پر کسی کی نگاہ پڑے اور وہ اسے دیکھتے ہیں اور ہاتھ میں لیتےہی نگل جائے۔
۵ اس وقت رب الافواج اپنے لوگوں کے بقیہ کے لیے شوکت کا افسر اور حسن کا تاج ہو گا۔
۶ اورعدالت کی کرسی پر بیٹھنے والے کےلیے انصاف کی روح اور پھاٹکوں سے لڑائی کو دفع کرنے والوں کے لیے توانائی ہوگا۔
۷ لیکن یہ بھی مے خواری سے ڈگمگاتےاور نشہ میں لڑکھڑاتے ہیں۔ کاہن اور نبی بھی نشہ میں چوراور مے میں گرق ہیں۔ وہ نشہ میں جھومتےاور دریا میں خطا کرتے اورعدالت میں لغزش کھاتے ہیں۔
۸ کیونکہ سب دستر خوان قے اور گندگی سے بھرے ہیں کوئی جگہ باقی نہیں۔
۹ وہ کس کو دانش سکھائیگا؟ کس کو وعظ کرے کے سمجھائے گا؟ کیا انکو جنکا دودھ چھڑایا گیا اور جو چھاتیوں سے جداکیے گئے ؟ ۔
۱۰ کیونکہ حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔
۱۱ لیکن وہ بیگانوں لبوں اور اجنبی زبان سے ان لوگوں سے کلام کریگا۔
۱۲ جن کو اس نے فرمایا یہ آرام ہے تم تھکے ماندوں کو آرام دو اور یہ تازگی ہے پر وہ شنوا نہ ہوئے۔
۱۳ پس خداوند کا کلام انکے لیے حکم پر حکم۔ حکم پر حکم۔ قانون پر قانون۔ قانون پر قانون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہو گا تاکہ وہ چلے جائیں اور پیچھے گریں اور شکست کھائیں اور دام میں پھنسیں اور گرفتار ہوں۔
۱۴ پس اے ٹھٹھا کرنے والو جو یروشلیم کے ان باشندوں پر حکمرانی کرتے ہو! خداوند کا کلام سنو۔
۱۵ چونکہ تم کہا کرتے ہو کہ ہم نے موت سے عہد باندھا اور پاتال سے پیمان کر لیاہے۔ جب سزا کا سیلاب آئیگا تو ہم تک نہیں پہنچیگا کیونکہ ہم نے جھوٹ کو اپنی پناہ گاہ بنایا ہے اور دروغ گوئی کی آڑ میں چھپ گئے ہیں۔
۱۶ اس لیے خداوند خدا یوں فرماتا ہے دیکھو میں صیون میں بنیاد کے لیے ایک پتھر رکھونگا ۔ آزمودہ پتھر۔ محکم بنیاد کے لیے کونے کے سرے کا قیمتی پتھر جو کوئی ایمان لاتا ہے قائم رہیگا۔
۱۷ اور میں عدالت کو سوت اور صداقت کو ساہول بناونگا اور اسلے جھوت کی پناہ گاہ کو صاف کر دینگے اور پانی چھپنے کے مکان پر پھیل جائیگا۔
۱۸ اور تمہارا عہد جو موت سے ہوا منسوخ ہو جائیگا اور تمہارا پیمان جو پاتال سے ہوا قام نہ رہیگا ۔ جب سزا کا سیلاب آئیگا تو تم کو پامال کریگا۔
۱۹ اور گذرتے وقت تم کو بہا لے جائیگا ۔ ہر صبح اور شب و روز آئیگا بلکہ اسکا چرچا سننا بھی خوفناک ہو گا ۔
۲۰ کیونکہ پلنگ ایسا چھوٹا ہے کہ آدمی اس پر دارز نہیں ہو سکتا اور لحاف اتنا تنگ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس میں لپیٹ نہیں سکتا۔
۲۱ کیونکہ خداوند اٹھیگا جیسا کوہ پراضیم میں اور وہ غضبناک ہو گا جیسا جبعون کی وادی میں تاکہ اپنا کام بلکہ اپنا عجیب کام کرے اور اپنا ہاں اپنا انوکھا کام پورا کرے۔
۲۲ سو اب تم ٹھٹھا نہ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے بند سخت ہو جائیں کیونکہ میں نے خداوند رب الافواج سے سنا ہے کہ اس نے کامل اور مصصم ارادہ کیا ہے کہ ساری سر زمین کو تباہ کرے۔
۲۳ کان لگا کر میری آواز سنو ۔ شنوا ہو کر میری بات پر دل لگاؤ ۔
۲۴ کیا کسان بونےکے لیے ہر روز ہل چلایا کرتا ہے؟ کیا وہ ہر وقت اپنے زمین کو کھودتا اور اسکے ڈھیلے پھوڑا کرتا ہے؟ ۔
۲۵ جب اسکو ہموار کر چکا تو کیا وہ اجوائن کو نہیں چھینٹتا اور زیرہ کو ڈال نہیں دیتا اور گیہوں کو قطاروں میں نہیں بوتا اور جو کو اسکے معین مکان میں اور کٹھیا گیہوں کو اسکی خاص کیاری میں نہیں بوتا؟ ۔
۲۶ کیونکہ اسکا خدا اسکو تربیت کر کے اسکو سکھاتا ہے۔
۲۷ کیا اجوائن کو داونے کے ہینگے کے ساتھ نہیں داؤتے اور زیرے کے اوپر گاڑی کے پہیے نہیں گھماتے بلکہ اجوائن کو لاٹھی سے جھاڑتا ہے اورزیرے کو چھڑی سے۔
۲۸ روٹی کے غلہ پر دائیں چلاتا ہے لیکن وہ ہمیشہ اسے کوٹتا نہیں رہتا اور اپنی گاڑی کے پہیوں اورگھوڑوں کو اس پر پھراتا نہیں رہتا۔ وہ اسے سراسر نہیں کچلیگا۔
۲۹ یہ بھی رب الافواج سے مقرر ہوا ہے جسکی مصلحت عظیم اوردانائی عجیب ہے۔