أیسعیاہ ۱۶

۱۶:‏ ۱‏،۲ موآب کی تباہی اور اُجڑنے کا بیان باب ۱۶ میں بھی جاری ہے۔ جو موآبی پناہ لینے کو ’’سلع‘‘ (‏پترا‏، موآب کا دارالحکومت)‏ میں بھاگ آئے ہیں اُن کو صلاح دی گئی ہے کہ دخترِ صیون کے پہاڑ پر ملک کے حاکم کے پاس برّے بھیجو یعنی شاہِ یہوداہ کو یروشلیم میں خراج اور تاوان ادا کرو جیسے پہلے سامریہ کو برّے بھیجا کرتے تھے (‏۲۔سلاطین ۳:‏۴)‏۔ عنقریب آنے والی آفت کے خیال ہی سے لوگ پریشان‏، مضطرب اور لرزہ براَندام ہیں۔ 

۱۶:‏ ۳۔۵ خداوند موآب کو صلاح دیتا ہے کہ میرے جلاوطنوں اور فراریوں کو ایسے پناہ دو جیسے کسی کو تاریک سایہ میں چھپا دیتے ہیں۔ اُنہیں محفوظ رکھنے کا بندوبست کرو۔ غارت گر اور ستم گر اور ظالم فنا ہو جائیں گے اور خداوند داؤد کے تخت پر ’’رحمت … راستی … عدل … اور راست بازی‘‘ سے حکومت کرے گا۔ 

۱۶:‏ ۶۔۱۲ موآب کے زوال کا سبب کیا ہے؟ اُس کا گھمنڈ‏، تکبر‏، شیخی۔ ملک میں چاروں طرف واویلا‏، ماتم اور آہ و نالہ ہے۔ حسبون کے زرخیز کھیت سوکھ گئے اور بنجر پڑے ہیں۔ اور سبماہ کے سرسبز و شاداب تاکستان برباد ہو گئے ہیں۔ نبی اِس ہولناک اور چاروں طرف پھیلی تباہی پر پھر ماتم کرتا ہے۔ موآب اپنے بتوں سے دعا اور فریاد کرے گا‏، لیکن اُسے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ کوئی مدد نہ آئے گی۔

۱۶:‏ ۱۳‏،۱۴ موآب کی بربادی کے بارے میں پہلی نبوتوں کے ساتھ نبی اِس خبر کا اضافہ کرتا ہے کہ یہ باتیں ’’تین برس کے اندر جو مزدوروں کے برسوں کی مانند‘‘ ہیں واقع اور پوری ہوں گی۔ مزدوروں کے برسوں سے مراد ہے کہ مقررہ وقت سے پل بھی زیادہ نہیں لگے گا۔

مقدس کتاب

۱ سِلع سے بیابان کی راہ دُخترِ صیون کے پہاڑ پر ملک کے حاکم کے پاس بّرے بھیجو۔
۲ کیونکہ ارنون کے گھاٹوں پر موآب کی بیٹیاں آوارہ پرندوں اور انکے پراگندہ بچوں کی مانند ہوں گی۔
۳ صلاح دو۔ انصاف کرو۔ اپنا سایہ دوپہر کو رات کی مانند بناؤ۔ جلاوطنوں کو پناہ دو۔ فراریوں کو حوالہ نہ کرو۔
۴ میرے جلاوطن تیرے ساتھ رہیں۔ تو موآب کو غارتگروں سےچھپا لےکیونکہ ستمگرموقوف ہوں گے اور غارتگری تمام ہو جائیگی اور سب ظالم ملک سے فنا ہونگے۔
۵ یوں تخت رحمت سے قائم ہوگا اور ایک شخص راستی سے داؤد کےخیمہ میں اُس پر جلوس فرما کر عدل کی پیروی کریگا اورراستبازی پر مستعد رہیگا۔
۶ ہم نے موآب کے گھمنڈ کی بابت سنا ہے کہ وہ بڑا گھمنڈی ہے۔ اسکا تکبر اور گھمنڈ اورواویلا بھی سنا ہے۔ اسکی شیخی ہیچ ہے۔
۷ سو موآب واویلا کرےگا۔ موآب کے لیے ہر ایک وایلا کریگا۔ قیِر حراست کی کِشمِش کی ٹکیوں پر تم سخت تباہ حالی میں ماتم کرو گے۔
۸ کیونکہ حسبون کے کھیت سوکھ گئے۔ قوموں کے سرداروں نے سبماہ کی تاک کی بہترین شاخوں کو توڑڈالا۔ وہ یعزیر تک بڑھیں گے۔ وہ جنگل میں بھی پھیلیں۔ اسکی شاخیں دور تک پھیل گئی۔ وہ دریا پار گذریں۔
۹ پس میں یعزیر کے آہ و نالہ سے سبماہ کی تاک کے لیےزاری کرونگا ۔ اے حسبون اے الیعالہ میں تجھےاپنے آنسوؤں سے ترکردونگا کیونکہ تیرے آیام گرمی کے میوؤں اور غلہ کی فصل کو غوغای جنگ نے آ لیا۔
۱۰ اور شادمانی چھین لی گئی اور ہرے بھرے کھیتوں کی خوشی جاتی رہی اور تاکستانوں میں گانا اور للکارنا بند ہو جائیگا ۔ پامال کرنےوالے انگوروں کوپھر حوضوں میں پامال نہ کرینگے۔ میں نے انگور کی فصل کےغوغا کو موقوف کر دیا۔
۱۱ اسلیے میرا اندرون موآب پر اور میرا دل قیر حارس پر بربط کی مانند فغان خیز ہے۔
۱۲ اور یوں ہو گا کہ جب موآب حاضر ہو اور اونچے مقام پر اپنے آپکو تھکائے بلکہ اپنے معبد میں جا کر دعا کرے تو اُسے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔
۱۳ یہ وہ کلام ہے جو خداوند نے موآب کے حق میں زمانہ ماضی میں فرمایا تھا۔
۱۴ پر اب خداوند یوں فرماتا ہے کہ تین برس کے اندر جو مزدوروں کے برسوں کی مانند ہوں موآب کی شوکت اسکے تمام لشکروں سمیت حقیر ہو جائیگی اور بہت تھوڑے باقی بچیں گے اور وہ کسی حساب میں نہ ہونگے۔