(۹) اَوجِ کمال: سلامتی کا دریا (باب ۶۶)
۶۶: ۱، ۲ یسعیاہ کی کتاب کے آخری باب کے شروع کے الفاظ غیر تائب اِسرائیل کے لئے لکھے گئے۔ اُنہیں ہرگز نہیں سوچنا چاہئے کہ اِس حالت میں رہتے ہوئے ہم خدا کے لئے گھر (ہیکل) بنائیں گے تو اُسے پسند آئیں گے۔ آخر وہ ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ وہ آسمان پر تخت نشین ہے اور زمین اُس کے پاؤں کی چوکی ہے۔ اور جو سکونت گاہ خدا چاہتا اور پسند کرتا ہے وہ اُس شخص کا دل ہے جو حلیم، فروتن اور شکستہ دل اور اُس (خدا) کا کلام سن کر کانپ جاتا ہے۔
۶۶: ۳،۴ جو لوگ توبہ نہیں کرتے مگر مذہبی رسوم و شعائر ادا کئے جاتے ہیں وہ خدا کو دِق کرتے اور غصہ دلاتے ہیں۔ چونکہ وہ عملی پاکیزگی سے عاری ہیں اِس لئے اُن کی قربانیاں اور ہدیئے جرم اور نفرتی چیزیں ہیں۔ وہ ریاکاری کی راہیں تو چن سکتے ہیں، لیکن نتائج اُن کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ نتائج کا اِنتخاب خدا کرے گا۔ جو توبہ کے لئے اُس کی پکار کو ردّ کرتے ہیں اور جو اُن راہوں کو اِختیار کرتے ہیں جو اُسے پسند نہیں وہ اُس کے غضب کا مزا چکھیں گے۔
۶۶: ۵، ۶ وہ ایمان دار اور خدا ترس یہودی جو خدا کے کلام سے کانپتے ہیں اُن کے اپنے ہی بھائی اُنہیں ستائیں گے۔ شریر ظالم سوچیں گے کہ ہم خدا کی خدمت کر رہے ہیں جیسا کہ اُن کی جعلی دین داری سے ظاہر ہوتا ہے۔ وہ طعن سے کہتے ہیں خداوند کی تمجید کرو تاکہ ہم تمہاری خوشی دیکھیں یعنی معجزانہ طور پر چھڑائے جانے پر تمہاری خوشی دیکھیں۔ خداوند اُن کے دشمنوں کو شرمندہ کرنے کے لئے مداخلت کرے گا۔ عدالت کا کام ہیکل سے شروع ہو گا۔ وہاں یہوواہ کی آواز اعلان کرے گی کہ بدلہ دینے کا وقت آ گیا ہے۔
۶۶: ۷ ۔ ۹ آیت ۷ میں اِسرائیل ولادت کے درد (بڑی مصیبت) شروع ہونے سے پہلے ایک بیٹے (مسیحِ موعود) کو جنم دیتا ہے۔ اور آیت ۸ میں وہ دردِ زہ شروع ہونے کے بعد بیٹوں کو جنم دیتا ہے۔ پہلا جنم تقریباً دو ہزار سال پہلے بیت لحم میں ہوا۔ دوسرا جنم اسرائیل کی اَزسرِنَو پیدائش ہے جو ’’بڑی مصیبت‘‘ کے بعد ہو گی۔ کوئی بات خدا کو اپنے ارادے اور مقاصد پورے کرنے سے نہ روکے گی۔
۶۶: ۱۰۔۱۷ اِسرائیل کی بحالی کا دن یروشلیم میں بڑی شادمانی کا دن ہو گا۔ جو یروشلیم سے محبت رکھتے ہیں اور جو اُس کے ساتھ ماتم کرتے تھے وہ سب اُس وقت کی خوشی اور شادمانی میں شریک ہوں گے۔ یروشلیم غیر قوموں کی شوکت سے مالا مال ہو گا اور جو اُس کے پاس آئیں گے اُن سب کو خوش حالی، تقویت، تسلی اور تازگی دے گا۔ اُس وقت سب پر عیاں ہو جائے گا کہ خدا اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود پر اور اپنے دشمنوں کو سزا دینے پر مستعد ہے۔ خداوند کی دوسری آمد کا مطلب ہو گا سارے بت پرستوں اور باغیوں کے خلاف خدا کے غصے اور قہر کا بھڑکنا۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہ لوگ رسومات ادا کرتے ہیں تاکہ شرعی لحاظ سے پاک ہوں مگر عملاً بت پرستی کے ناپسندیدہ اور گھنونے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔
۶۶: ۱۸۔۲۱ خدا اُن کے کاموں، خیالوں اور منصوبوں کو جانتا ہے اور جب وہ اُن پر قہر و غضب برسائے گا تب وہ اُس کا جلال دیکھیں گے۔ وہ اُنہیں کوئی فوق الفطرت نشان دے گا جس کی ہم فی الوقت شناخت نہیں کر سکتے۔ جو بچ نکلیں گے وہ خداوند کی قدرت اور شہرت کی خبر لے کر دُنیا کی انتہا تک جائیں گے۔ اُس وقت غیر قومیں اپنے تقل و حمل کے وسائل حرکت میں لائیں گے اور پراگندہ اِسرائیلیوں کو اُن کے ملک میں واپس لائیں گے جیسے کوئی اپنا ہدیہ یہوواہ کے پاس لاتا ہے۔ خدا کہانت دوبارہ جاری کرے گا اور لاوی ہزار سالہ دَور کی ہیکل میں خدمت سرانجام دیں گے۔
۶۶: ۲۲، ۲۳ خدا کے ساتھ اِسرائیل کی حیثیت ایسی مستقل اور پکی ہو گی جیسے نیا آسمان اور نئی زمین۔ ہر قوم سے زائرین مقررہ اوقات پر عبادت کرنے یروشلیم میں آئیں گے۔
۶۶: ۲۴ وہاں وہ باہر جا کر ہنوم کی وادی میں ہمیشہ سلگتی آگ میں باغیوں کی لاشوں کو جلتے دیکھیں گے۔ ہنوم کی وادی میں شہر کا کوڑا ڈالا جاتا تھا جو رات دن سلگتا رہتا تھا۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہمارے خداوند نے یسعیاہ کی آخری آیت کا اِقتباس کرتے ہوئے اُن لوگوں کو خبردار کیا ہے جو گناہ میں زندگی گزارتے اور مسیح کے چھوٹوں کو ٹھوکر کھلاتے ہیں۔ مرقس باب ۹ میں یسوع نے تین بار (آیات ۴۴، ۴۶، ۴۸) یسعیاہ کے سنجیدہ الفاظ کا اِقتباس کیا ہے: ’’اُن کا کیڑا نہ مرے گا اور اُن کی آگ نہ بجھے گی۔‘‘
خوش خبری یہ ہے کہ اِنسان جہنم کی ابدی آگ سے بچ سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نجات دِہندہ یعنی خدا کے اُس خادم پر ایمان لائے جس کا یسعیاہ نے اپنی بہت سی نبوتوں میں بہت دل آویز انداز میں ذکر کیا ہے۔
ہمارے بہت سے قارئین جو مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کر چکے ہیں اُن کے لئے یسعیاہ کی کتاب عظیم نبوت اور زبردست شاعری ہے بلکہ پرانے عہدنامے میں نبوت اور شاعری کی بہترین مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن اگر اِتنے ہی پر اِکتفا کریں تو بہت افسوس کی بات ہو گی۔ مقصد یہ ہے کہ ہم اِس کتاب کا اپنی روزانہ زندگی پر اطلاق کریں اور خدا کی مرضی بجا لائیں۔
آخر میں ہم بائبل مقدس کے مشہور عالم ڈبلیو۔ ای۔ وائن (Vine) کی عملی نصیحت پیش کرتے ہیں:
’’اِن ساری باتوں سے عیاں ہے کہ یہ حماقت اور گناہ ہے کہ ہم من مانی کریں اور خدا کا طالب اور منتظر ہونے کے بجائے وہ کام کریں جو اُسے پسند نہیں، اُس کی نہ سنیں اور اُس کی مرضی بجا نہ لائیں۔ اگر ہم خدا کی راہ پر چلیں تو وہ اپنے کلام کے سارے وعدے پورے کرتا ہے اور پورے کرے گا۔ وہ اُس کی یقین دہانی پر آمین کہتا ہے جب کوئی خوشی سے اُس پر اعتماد کرتا ہے۔ فرماں بردار دل اور توکل کرنے والی جان خدا کے دیدار کے نور اور اُس کے ساتھ پاکیزہ رفاقت اور یگانگی کے اِطمینان سے سرشار ہوتی اور شادمان رہتی ہے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ خداوندیوں فرماتا ہے کہ آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی۔ تم میرے لئے کیسا گھر بناؤ گے اور کون سی جگہ میری آرام گاہ ہو گی؟۔
۲ کیونکہ یہ سب چیزیں تو میرے ہاتھ نے بنائیں اور یوں موجود ہوئیں خداوند فرماتا ہے لیکن میں اُس شخص پر نگاہ کروں گا۔اُسی پر جو غریب اور شکستہ دل اور میرے کلام سے کانپ جاتا ہے۔
۳ جو بیل ذبح کرتا ہے اُس کی مانند ہے جو کسی آدمی کو مار ڈالتا ہے اور جو برہ کی قربانی کرتا ہے اُس کے بر ابر ہے جو کتے کی گردن کاٹتا ہے۔جو ہدیہ لاتا ہے گویا سور کا لہو گزرانتا ہے ۔ جو لبان جلاتا ہے اُس کی مانند ہے جو بت کو مبارک کہتا ہے۔ہاں انہوں نے اپنی اپنی راہیں چن لیں اور اُن کے دل اُن کی نفرتی چیزروں سے مسرور ہیں۔
۴ میں بھی ان کے لئے آفتوں کو چن لوں گا اور جن باتوں سے ڈڑتے ہیں اُن پر لاؤں گاکیونکہ جب میں نے پکارا تو کسی نے جواب نہ دیا۔ جب میں نے کلام کیا تو انہوں نے نہ سنا بلکہ انہوں نے وہی کیا جو میری نظر میں برا تھا اور وہ چیز پسند کی جس سے میں خوش نہ تھا۔
۵ خداوند کی بات سنواے تم جو اس کے کلام سے کانپتے ہو!تمہارے بھائی جو تم سے کنیہ رکھتے ہیں اور میرے نام کی خاطر تم کو خارج کر دیتے ہیں کہتے ہیں خداوند کی تمجید کروتاکہ تمہاری خوشی کو دیکھیں لکین وہی شرمندہ ہوں گے۔
۶ شہر سے ہجوم کا شور!ہیکل کی طرف سے ایک ندا!خداوند کی آواز ہےجو اپنے دشمنوں کو بدلہ دیتا ہے۔
۷ پشیتر اس سے کہ اسے درد لگے اس نے جنم دیااور اس سے پہلےکہ اس کو درد ہو اس کو بیٹا پیدا ہوا۔
۸ ایسی با ت کس نے سنی؟ایسی چیز کس نے دیکھیں ؟ کیا ایک دن میں کوئی ملک پیدا ہو سکتا ہے؟کیا یکبارگی ایک قوم پیدا ہو جائے گی؟ کیونکہ صیون کو درد لگی ہی تھی کہ اُس کو اولاد پیدا ہوگی۔
۹ خداوند فرماتا ہے کہ میں اسے ولادت کے وقت تک لائوں گا اور پھر اس سے سے ولادت نہ کراؤں؟ تیرا خدا فرماتا ہے کیا میں جو ولادت تک لاتا ہوں ولادت سے باز رکھوں۔
۱۰ تم یروشلیم کے ساتھ خوشی مناؤ اور اس کے سبب سے شادمان ہو ۔ اس کے سب دوستو۔جو اس کے لئے ماتم کرتے تھے اس کے ساتھ نہایت خوش ہو۔
۱۱ تاکہ تم دودھ پیو اور اس کی تسلی کے پستان سے سیر ہو تاکہ نچوڑو اور اس کی شوکت کی فروانی سے حظ اُٹھائو۔
۱۲ کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ دیکھ میں سلامتی کی نہرکی مانند اور قوموں کی دولت سیلاب کی طرح اُس کے پاس رواں کروں گا تب تم دودھ پیو گے اور بغل میں اُٹھا ئے جاؤگے اور گھٹنوں پر کدائے جاؤ گے۔
۱۳ جس طر ح ماں اپنے بیٹے کو دلاسا دیتی ہے اُسی طرح میں تم کو دلاسا دوں گا۔یروشلیم یہ میں ہی تم تسلی پائو گے۔
۱۴ اور تم دیکھو گے تمہارا دل خوش ہو گااور تمہاری ہڈیاں سبزہ کی مانند نشوونما پائیں گی اور خداوند کا ہاتھ اپنے بندوں پر ظاہر ہوگا پر اُس پر قہر اس کے دشمنوں پر پر بھڑکے گا ۔
۱۵ کیونکہ خداوند آگ کے ساتھ آئے گااور اس رتھ گردباد کی مانند ہوں گے تاکہ اپنے قہر کو جوش کے ساتھ اور تنبیہ کو آگ کے شعلہ میں ظاہرکرے۔
۱۶ کیونکہ آگ سےاور تلوار سے خداوند تمام نبی آدم کا مقابلہ کرے گااور خدا وندا کے مقتول بہت سے ہوں گے۔
۱۷ وہ جو باغوں کے وسط میں کسی کے پیچھے کھڑے ہونے کے لئےاپنے آپ کو پاک وصاف کرتے ہیں جو سور کا گوشت اور مکروہ چیزیں اور چوہے کھاتے ہیں خدا وند فرماتا ہے وہ باہم فنا ہو جائیں گے۔
۱۸ اور نیں اُن کے کام اور اُن کے منصوبے جانتا ہوں۔وہ وقت آتا ہے کہ میں تمام قوموں اور اہل لغت کو جمع کروں گا اور وہ آئیں گےاور میرجلال دیکھیں گے۔
۱۹ تب میں ان کے درمیان ایک نشان نصب کروں گا اور میں اُن کو جو اُن میں سے نکلیں قوموں کی طرف بھیجوں گا یعنی ترسیسں اور پُول اور لُود کو جو تیرانداز ہیں اور توبل اور یاوان کواور دُورکے جزیروں کو جنہوں نے میری شہرت نیں سنی اور میرا جلال نہیں دیکھا اور وہ قوموں کے درمیان میرا جلال بیان کریں گے۔
۲۰ اور خداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ تمہارے سب بھائیوں کو تمام قوموں میں سے گھوڑوں اور رتھوں پر اور پالکیوں میں اور خچروں پر اور سانڈنیوں پر بٹھا کر خداوند کے ہدیہ کے لئے یروشلیم میں میرے کوہ مقدس کو لائیں گے جس طرح سے نبی اسرئیل خداوند کے گھر میں پاک برتنوں میں ہدیہ لاتے ہیں۔
۲۱ اور خداوند فرماتاہے کہ میں ان میں سے بھی اور لاوی ہونے کے لئے لوں گا۔
۲۲ اور خداوند فرماتاہے جس طرح نیاآسمان اور نئی زمین جو میں بناؤنگا میرے حضور قائم رہیں گے اُسی طرح تمہاری نسل اور تمہارا نام باقی رہے گا۔
۲۳ اور یوں ہو گا خداوند فرماتا ہےکہ ایک نئے چاندسے دوسرے تک اور ایک سبت سے دوسرے تک ہر فرد بشر عبادت کے لئے میرے پاس آئےگا۔
۲۴ اور وہ نکل نکل کر اُن لوگوں کی لاشوں پر جو مجھ سے باغی ہوئے نظر کریں گے کیونکہ اُن کا کیڑا نہیں مرے گا اور اُن کی آگ نہ بجھےگی اوروہ تمام بنی آدم کے لئے نفرتی ہوں گے۔