(۳) مخلصی یافتہ اِسرائیل کی خاطر خدا کا نغمہ (باب ۲۷)
۲۷: ۱ اُس وقت یعنی خداوند کے دن میں یہوواہ اژدہا (لوِیاتان) یعنی تیز رَو سانپ (اسور) اور اژدہا (لوِیاتان) یعنی پیچیدہ سانپ (بابل) کو سزا دے گا اور دریائی اژدہا (مصر) کو قتل کرے گا۔ بعض مفسرین کے مطابق تینوں سانپ بابل کی علامت ہیں اور بعض اُن کو شیطان کی تصویر سمجھتے ہیں جو دُنیا کی طاقتوں کو تقویت دیتا ہے کیونکہ اُسے سانپ اور اژدہا کہا گیا ہے (پیدائش ۳:۱؛ مکاشفہ ۱۲:۳؛ ۱۶: ۱۳)۔
۲۷: ۲۔۶ اُس وقت خدا اپنے سرخ مے کے خوش نُما تاکستان (مخلصی یافتہ اسرائیل) پر شادمان ہو گا اور اُس کا گیت گائے گا۔ وہ دن رات اُس کی نگہبانی کرے گا۔ اب وہ اپنے لوگوں پر قہر نہیں کرے گا۔ اگر کوئی دشمن طاقت اِس بقیہ کے خلاف اُٹھے گی تو وہ اُسے جھاڑیوں اور کانٹوں کی مانند بالکل جلا ڈالے گا۔ بہتر ہو گا کہ ایسی طاقتیں پناہ اور صلح کے لئے خداوند سے رجوع کریں۔ ہزار سالہ بادشاہی کے دوران اسرائیل پھلے پھولے گا اور رُوئے زمین کو میووں سے مالا مال کرے گا۔
۲۷: ۷۔۹ خدا نے اسرائیل سے وہ سلوک نہیں کیا جو اُس پر حکومت کرنے والی غیر قوموں سے کیا ہے! ہرگز نہیں۔ بلکہ اسرائیل کے لئے اُس کی تادیب اور سرزنش محدود اور نپی تُلی رہی ہے۔ اُس نے اُنہیں جلاوطنی اور اسیری میں ہانک دیا تاکہ اُنہیں بت پرستی کے گناہ سے پاک کرے۔ یہ مقصد اُس وقت پورا ہو گا جب اسرائیل یسیرتوں اور بتوں کا نام و نشان مٹا دے گا۔
۲۷: ۱۰، ۱۱ اِس دوران یروشلیم کو اُجڑا اور ویران دیکھا جا رہا ہے۔ اِس کی تصویر بیابان میں چرتے ہوئے بچھڑے سے اور جلانے کے لئے شاخیں جمع کرتی ہوئی عورتوں سے پیش کی گئی ہے۔ یہ سب کچھ اِس لئے وارد ہوا ہے کہ لوگوں نے کوئی روحانی دانش نہیں دکھائی۔
۲۷: ۱۲، ۱۳ اُس وقت خداوند اسرائیل کے ملک میں جھوٹوں اور سچوں کو ایسے الگ الگ کرے گا جیسے اناج اور بھوسے کو ہوا میں اُڑا کر الگ الگ کیا جاتا ہے۔ تب خداوند اسور اور مصر جیسی غیر قوموں کے درمیان پراگندہ یہودیوں کو دوبارہ جمع کرے گا۔ وطن میں واپس آ کر وہ خداوند کی عبادت اور پرستش کی خاطر یروشلیم کو جائیں گے۔
مقدس کتاب
۱ اس وقت خداونداپنی سخت اور بڑی مضبوط تلوار سے اژدھا یعنی تیز رو سانپ کو اوراژدھا یعنی پیچیدہ سانپ کو سزادیگا اوردریائی اژدہا کو قتل کریگا۔
۲ اس وقت تم خوشنما تاکستان کا گیت گانا ۔
۳ میں خداوند اسکی حفاظت کرتا ہوں میں اسے ہر دم سینچتا ہوں۔ میں دن رات اسکی نگہبانی کرونگا کہ اسے نقصان نہ پہنچے۔
۴ مجھ میں قہر نہیں تو بھی کاش کہ جنگ گاہ میں جھاڑیاں اور کانٹے میرے خلاف ہوتے! میں ان پر خروج کرتا اور ان کو بالکل جلا دیتا۔
۵ پر اگر کوئی میری توانائی کا دامن پکڑے تو مجھ سے صلح کرے۔ ہاں وہ مجھ سے صلح کرے۔
۶ اب آئیندہ آیام میں یعقوب جڑ پکڑے گا اوراسرائیل پنپیگا اور پھولیگا اور روئِ زمین کو میووں سے مالامال کریگا۔
۷ کیا اس نے مارا جسطرح اس نے اسکے مارنے والوں کو مارا؟ یا کیا وہ قتل ہوا جس طرح اسکے قاتل قتل ہوئے؟ ۔
۸ تو نےعدل کے ساتھ اسکو نکالتےوقت اس سے حجت کی ۔ اس نے مشرقی ہوا کےدن اپنے سخت طوفان سے اسکو نکال دیا۔
۹ اسلیےاس سے یعقوب کےگناہ کا کفارہ ہو گااور اسکا گناہ دور کرنے کا کل نتیجہ یہی ہے جس وقت وہ مذبح کے سب پتھروں کو ٹوٹے کنکرں کی مانند ٹکڑے ٹکڑے کرے کہ یسیرتیں اور سورج کے بت قائم نہ ہوں۔
۱۰ کیونکہ فصیل دار شہر ویران ہے اور وہ بستی اجاڑ اوربیابان کی مانند خالی ہے وہاں بچھڑا چرے گا اور وہیں لیٹ رہیگا اور اسکی ڈالیاں بالکل کاٹ کھائیگا۔
۱۱ جب اسکی شاخیں مرجھا جائیں گی تو توڑی جائینگی ۔ عورتیں آئینگی اور انکو جلائینگی کیونکہ لوگ دانش سے خالی ہیں اسلیے انکا خالق ان پر رحم نہیں کرے گا اور انکا بنانے والا ان پر ترس نہیں کھائیگا۔
۱۲ اور اس وقت یوں ہو گا کہ خداوند دریائے فرات کی گذر گاہ سے رودِ مصرتک جھاڑ ڈالیگا اورتم اے بنی اسرائیل ایک ایک کر کے جمع کیے جاؤ گے۔
۱۳ اور اس وقت یوں ہو گاس کہ بڑا نرسنگا پھونکا جائیگا اور وہ جو اسور کے ملک میں قریبُ المو تھے اور وہ جو ملک مصر میں جلاوطن تھے آئینگے اور یروشلیم کے مقدس پہاڑ پر خداوند کی پرستش کرینگے۔