(۱۱) یروشلیم کے خلاف فیصلہ (باب ۲۲)
۲۲: ۱۔۵ ’’رُؤیا کی وادی‘‘ یروشلیم کی طرف اشارہ ہے (دیکھئے آیات ۹۔۱۱)۔ شہر محاصرے میں ہے۔ کوٹھوں یعنی گھروں کی چھتوں پر لوگوں کا ہجوم ہے۔ وہ شہر کے پھاٹکوں پر دشمن کو دیکھ رہے ہیں۔ شہر کے بازار اور گلی کوچے جو کبھی میلے کا سا سماں پیش کرتے تھے وبا سے مرنے والوں کی لاشوں سے اَٹے ہوئے ہیں۔ سردار اور عام لوگ جو بھاگ نکلنے کی کوشش کرتے ہیں آسانی سے پکڑے جاتے ہیں۔ یسعیاہ یروشلیم پر خدا کا قہر و غضب دیکھتا ہے تو ایسا بے قرار اور بے چین ہوتا ہے کہ اُسے تسلی نہیں دی جا سکتی۔
۲۲: ۶۔۱۱ عیلام اور قِیر بابل کے لشکر کے جنوبی اور شمالی فوجی یونٹ ہیں۔ شہر کے ارد گرد کی وادی اُن کے رتھوں اور سواروں سے بھر گئی ہے۔ یہودی اِس محاصرے کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی محنت سے تفصیلی منصوبے بناتے ہیں۔ وہ اسلحہ خانہ (دشتِ محل) کو چھان ڈالتے ہیں۔ وہ شہر کے گھروں کو مسمار کر کے شہر پناہ کی مرمت کے لئے پتھر حاصل کرتے ہیں اور پانی کی رسد کے لئے ہنگامی تدبیریں کرتے ہیں۔ وہ سب کچھ کرتے ہیں سوائے اُس ہستی کی طرف دیکھنے کے ’’جس نے قدیم سے اُس کی تدبیر کی‘‘۔ وہ خدا کی طرف نہیں دیکھتے جس نے مدتوں پہلے اِس تباہی کی تدبیر کی اور عمل میں لایا ہے۔
۲۲: ۱۲۔۱۴ جس وقت خداوند اُن کو توبہ کی طرف بلا رہا ہے وہ لوگ بے حس ہو کر عیش و عشرت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اِس لئے اُنہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔
۲۲: ۱۵۔۱۹ حزقیاہ کا درباری اور شاہی محل کا منتظم شبناہ اپنے لئے ایک آراستہ اور خوبصورت مقبرہ بنوا رہا ہے۔ خدا یسعیاہ کی معرفت فرماتا ہے کہ اُس کی کوشش عبث ہے۔ خداوند اُسے پھُسپھُسے گیند کی طرح اسیری میں پھینک دے گا اور وہ ایک اجنبی ملک میں مرے گا اور اُسے کوئی یاد بھی نہیں کرے گا۔ غالباً شبناہ اُس پارٹی کا سربراہ تھا جس نے مصر کے ساتھ اتحاد کی تجویز اور حمایت کی تھی۔
۲۲: ۲۰۔۲۴ شبناہ کے زوال کے بعد الیاقیم (’’خدا قائم کرے گا‘‘) اُس کی جگہ لے گا۔ الیاقیم خداوند یسوع کا ایک مثیل ہے۔ وہ ذمہ دار اور رحم دل حاکم ہو گا اور اُسے پورا اِختیار حاصل ہو گا۔ خدا ’’داؤد کے گھر کی کنجی‘‘ الیاقیم کو دے گا۔ وہ شاہی محل کے خلوت خانوں کو کنٹرول کرے گا اور شاہی گھرانے کے لئے خدمت گاروں کا اِنتخاب کرے گا۔ (مکاشفہ ۳:۷ میں کہا گیا ہے کہ داؤد کے گھر کی کنجی خداوند یسوع کے پاس ہے)۔ الیاقیم اپنے منصب پر مضبوطی سے قائم ہو گا اور پورے اِختیار کا مالک ہو گا۔
۲۲: ۲۵ چونکہ بالکل واضح ہے کہ الیاقیم وہ کھونٹی ہے جو مضبوط جگہ میں محکم کی گئی ہے (آیت ۲۳ الف) اِس لئے اُس کا ہلایا جانا اور گر جانا یہوداہ کے گھرانے کی اسیری کی علامت ہو سکتی ہے۔ اِس لئے کہ وہ اِس کا نمائندہ ہے۔
مقدس کتاب
۱ رویا کی وادی کی بابت بار نبوت ۔ اب تم کو کیا ہوا کہ تم سب کے سب کوٹھوں پر چڑھ گئے؟ ۔
۲ اےپر شور اور غوغائی شہر! اے شادمان بستی! تیرے مقتول نہ تلوارسےقتل ہوئے نہ لڑائی میں مارے گئے۔
۳ تیرے سب سردار اکٹھے بھاگ نکلے۔ انکو تیر اندازوں نے اسیر کر لیا جتنے تجھ میں پائےگئے سب کے سب بلکہ وہ بھی جو دوربھاگ گئے تھے اسیر کئے گئے ہیں۔
۴ اسی لیے میں نے کہا میری طرف مت دیکھو کیونکہ میں زار زار رونگا میری تسلی کی فکر مت کرو کیونکہ میری دختر قوم برباد ہو گئی ۔
۵ کیونکہ خداوند رب الافواج کی طرف سے رویا کی وادی میں یہ دکھ اور پامالی و بیقراری اور دیواروں کو گرانے اور پہاڑوں تک فریاد پہچانے کا دن ہے۔
۶ کیونکہ عیلام نے جنگی رتھوں اورسواروں کے ساتھ ترکش اٹھا لیا اورقیر نے سپر کا غلاف اتار دیا۔
۷ اور یوں ہوا کہ بہترین وادیاں جنگی رتھوں سے معمور ہو گئیں اورسواروں نے پھاٹک پر صف آرائی کی۔
۸ اور یہوداہ کا نقاب اتار گیا اور تو اب دشت محل کے سلاح خانہ پر نگاہ کرتاہے۔
۹ اورتم نے داؤد کے شہر کےرخنے دیکھے کہ بے شمار ہیں اورتم نے نیچے کے حوض میں پانی جمع کیا۔
۱۰ اورتم نے یروشلیم کے گھروں کو گنا اورانکو گرایا تاکہ شہر پناہ کو مضبوط کرو۔
۱۱ اورتم نے پرانے حوض کے پانی کے لیے دونوں دیواروں کے درمیان ایک اور حوض بنایا لیکن تم نے اسکے پانی پر نگاہ نہ کی اور اسکی طرف جس نے قدیم سے اسکی تدبیر کی متوجہ نہ ہوئے۔
۱۲ اور اسوقت خداوند رب الافواج نے رونے اور ماتم کرنے اور سر منڈوانے اور ٹاٹ سے کمر باندھنے کا حکم دیا تھا۔
۱۳ لیکن دیکھو خوشی اور شادمانی ۔ گائے بیل کو ذبح کرنا اور بھیڑ بکری کو حلال کرنا اور گوشت خواری اور مے نوشی کہ آؤ کھائیں اور پئیں کیونکہ کل تو ہم مرینگے۔
۱۴ اور رب الافواج نے کہا کہ تمہاری اس بدکرداری کا کفارہ تمہارے مرنے تک بھی نہ ہو سکے گا۔ یہ خداوند رب الافواج کا فرمان ہے۔
۱۵ خداوند رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ اُس خزانچی شبناہ کے جو محل میں معّین ہے جا اور کہہ ۔
۱۶ تو یہاں کیا کرتا ہے؟ اورتیرا یہاں کون ہے کہ تو یہاں اپنے لیے قبر تراشتا ہے؟ بلندی پر اپنی گور تراشتا ہے اورچٹان میں اپنے لیے گھر کھدواتا ہے۔
۱۷ دیکھ اے زبردست! خداوند تجھ کو زور سے دور پھینک دے گا ۔ وہ یقیناً تجھے پکڑ رکھیگا۔
۱۸ وہ تجھ کو بے شک گیند کی مانند گھما گھما کر وسیع ملک میں اچھالیگا۔ وہاں تو مرے گا اورتیری حشمت کے رتھ وہیں رہیں گے اے اپنے آقا کے گھر کی رسوائی۔
۱۹ اور میں تجھے تیرے منصب سے برطرف کرونگا۔ ہاں وہ تجھے تیری جگہ سے کھینچ کر اتاریگا۔
۲۰ اور اس روز یوں ہو گا کہ میں اپنے بندہ الیاقیم بن خلقیاہ کو بُلاونگا ۔
۲۱ اور میں تیرا خلعت اُسے پہناونگا اورتیرا پٹکا اس پر کسونگا اور تیری حکومت اُس کے ہاتھ میں سپرد کردونگا اور وہ اہل یروشلیم اور بنی یہوادہ کا باپ ہو گا۔ (۲۲ اور میں داؤد کے گھر کی کنجی اسکے کندھے پر رکھونگا پس وہ کھولیگا اور کوئی بند نہ کریگا اور کوئی نہ کھولیگا۔
۲۲
۲۳ اورمیں اسکو کھونٹی کی مانندمضبوط جگہ پر محکم کرونگا اور وہ اپنےباپ کے گھرانے کے لیے جلالی تخت ہو گا۔
۲۴ اور اسکے باپ کے خاندان کی ساری حشمت یعنی آل و اولاد اور سب چھوٹے بڑے برتن پیالوں سےلیکر قرابوں تک سب کو اسی سے منسوب کرینگے۔
۲۵ رب الافواج فرماتا ہے اس وقت وہ کھونٹی جو مضبوط جگہ میں لگائی گئی تھی ہلائی جائیگی اور وہ کاٹی جائیگی اور اس پر کا بوجھ گر پڑیگا کیونکہ خداوند نے یوں فرمایا ہے۔