(۲) مسیحِ موعود کی حیرت افزا مملکت (ابواب ۸۔۱۰)
۸: ۱۔۴ خداوند یسعیاہ کو حکم دیتا ہے کہ ایک تختی پر موٹے اور صاف حروف میں لکھے ’مہیر شالال حاش بز‘۔ اور دو دیانت دار آدمیوں کو یعنی اوریاہ کاہن اور زکریاہ یبرکیاہ کو گواہ ٹھہرائے جو بعد میں موقع آنے پر اِس پیغام کی تصدیق کریں گے۔ اِس نام کا مطلب ہے جلدی لُوٹ، شتاب غارت کر۔ اور اسور کے ہاتھوں ارام اور اسرائیل کی تباہی کی نشاندہی کرتا ہے۔ خداوند یسعیاہ کو اُس نومولود لڑکے کا نام رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے اُس کا مطلب بھی بتاتا ہے۔
۸: ۵۔۱۰ خداوند اسرائیل کے لئے بھی پیغام دیتا ہے۔ چونکہ شمالی سلطنت کے لوگوں نے چشمۂ شیلوخ کے آہستہ رو پانی کو ردّ کیا اِس لئے دریائے فرات کا سخت شدید سیلاب اِس پر چڑھ آئے گا۔ ’شیلوخ‘ (جس کا ذکر یوحنا ۹:۷ میں بھی ہے) یروشلیم میں خفیہ طریقے سے پانی پہنچانے کے نظام کا ایک حصہ تھا۔ یہاں یہ خدا کے پُرفضل کلام یا خداوند پر توکل کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ فرات ’اسور‘ کو ظاہر کرتا ہے جو اِسرائیل اور ارام کو فتح کرے گا۔ وہ یہوداہ پر بھی چڑھائی کرے گا اور عمانوایل کے ملک بھی ڈھانک لے گا۔ لیکن اُسے پوری کامیابی نہ ہو گی۔ اُس کی طغیانی صرف ’گردن تک‘پہنچے گی۔ اپنی ساری تیاری اور منصوبہ بندی کے باوجود یہوداہ کے دشمن پرزے پرزے ہوں گے۔
۸: ۱۱۔۱۵ یہوواہ نے یسعیاہ کو اُن لوگوں کے ساتھ مل کر دشمنوں کی سازِش کے خوف میں شریک ہونے سے منع کیا جو وہ اُن کے خلاف کرتے تھے اور ہدایت کی کہ وہ صرف خداوند پر بھروسا رکھے جو اُس پر اِنحصار کرتے ہیں وہ اُن سب کے لئے ایک مَقدِس ہو گا۔ لیکن دوسروں کے لئے ’صدمہ اور ٹھوکر کا پتھر‘ ہو گا۔
۸: ۱۶۔۱۸ یسعیاہ حکم دیتا ہے کہ وفادار شاگرد خداوند کے کلام کو بند اور سربمہر رکھیں جب تک تاریخ ثابت نہ کر دے کہ یہ پورا ہو گیا ہے۔ نبی ’’خداوند کی راہ دیکھے گا‘‘ (انتظار کرے گا) جس نے اپنے لوگوں سے منہ موڑ لیا ہے اور اُسی سے اُمید رکھے گا۔ یسعیاہ (یہوواہ نجات دیتا ہے)، شیار یاشوب (ایک بقیہ واپس آئے گا) اور مہیر شالال حاش بز (جلدی لُوٹ، شتاب غارت کر) اپنے ناموں ہی سے ’عجائب و غرائب‘ ہیں کہ خدا آخر کار اسرائیل پر رحم کرے گا اور اُس کے دشمنوں پر غضب نازل کرے گا۔
۸: ۱۹ نبی اپنی قوم کو اُن لوگوں کے خلاف خبردار کرتا ہے جو ’جنات کے یاروں اور افسوں گروں‘ کے پاس جانے اور اُن سے صلاح لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اِنسانوں کو زندہ خدا کی طرف پھرنا چاہئے اور ’زندوں کی بات مُردوں سے‘ نہیں پوچھنا چاہئے۔ آج کل لوگ جادو ٹونے کے پیچھے بھاگتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ وائن لکھتا ہے:
’’اِنسانی معاملات میں ہر بڑے بحران سے پہلے ارواح پرستی کا زور اور چرچا ہوتا آیا ہے۔ اسیری سے ذرا پہلے یہوداہ اور اسرائیل میں بھی یہی حال تھا۔ مسیح کے تجسم اور فدیے کی موت کے دنوں میں بھی یہی حال تھا۔ اور آج کل بھی یہی حال ہے۔ ہماری روحانی ضروریات اور راہنمائی اور تربیت کے لئے جو کچھ درکار ہے خدا نے وہ سب کچھ اپنے سچائی کے کلام میں مہیا کر دیا ہے‘‘ (۲۔تیمتھیس ۳: ۱۶،۱۷)۔
۸: ۲۰۔۲۲ سارے اُستادوں کی پرکھ خدا کے کلام سے ہونی چاہئے۔ اگر اُن کی تعلیم پاک صحائف کے مطابق نہیں تو اُن میں روشنی نہیں ہے۔ اِس طرح فریب کھانے والے آوارہ اور بے منزل پھرتے رہیں گے۔ وہ بھوکے اور جان سے بیزار ہوں گے اور اپنے بادشاہ اور اپنے خدا پر لعنت کریں گے کیونکہ اپنی بدحالی اور خستہ حالی کا ذمہ دار اُن کو ٹھہرائیں گے۔ وہ آرام اور مدد کے لئے آسمان کی طرف اور پھر زمین کی طرف دیکھیں گے۔ لیکن اُنہیں ’’ناگہاں تنگی اور … ظلمتِ اندوہ‘‘ کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔
مقدس کتاب
۱ پھر خداوند نے مجھے فرمایا کہ ایک بڑی تختی لے اور اُس پر لکھ مہیر شالال حاش بز کے لیے۔
۲ اوردودیانتدار گواہوں کو یعنی اوریا کاہن کو اور زکریاہ بن یبرکیاہ کو شاہد بنا۔
۳ اور میں نبیہ کے پاس گیا اور وہ حاملہ ہوئی اور بیٹا پیدا ہوا۔ تب خداوند نے مجھے فرمایا کہ اُس کا نام مہیر شالال حاش بز رکھ۔
۴ کیونکہ اس سے پیشتر کہ یہ لڑکا ابا اور امّاں کہنا سیکھے دمشق کا مال اور سامریہ کی لوٹ کو اٹھوا کر شاہ اسور کےحضور لےجائیں گے۔
۵ پھر خداوند نے یہ فرمایا ہے۔
۶ چونکہ ان لوگوں نے چشمہ شیلوخ کے آہستہ رو پانی کو رد کیا اور رضین اوررملیاہ کے بیٹے پر مائل ہوئے۔
۷ اسلیے اب دیکھ خداوند دریایِ فرات کے سخت شدید سیلاب کو یعنی شاہ اسور اوراُس کی ساری شوکت کو ان پر چڑھا لائیگا اور وہ اپنے سب نالوں پر اور اپنے سب کناروں سے بہہ نکلے گا۔
۸ اور وہ یہوادہ میں بڑھتا چلا جائیگا اور اسکی طغیانی بڑھتی چلی جائیگی۔ وہ گردن تک پہنچےگا اوراسکے پروں کے پھیلاؤ سےتیرے ملک کی ساری وسعت اَے عمانوئیل چھپ جائیگی۔
۹ اے لوگو دھوم مچاؤ پر تم ٹکڑے ٹکڑے کیے جاؤ گے اور اے دوردور کے ملکوں کے باشندو سُنو! کمر باندھو پر تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے ۔ کمر باندھو پر تمہارے پُرزے پُرزے ہونگے۔
۱۰ تم منصوبہ باندھو پر وہ باطل ہو گا ۔ تم کچھ کہو اور اُسے قیام نہ ہو گا کیونکہ خدا ہمارےساتھ ہے۔
۱۱ کیونکہ خداوند نے جب اُسکا ہاتھ مجھ پر غالب ہوا اور ان لوگوں کی راہ میں چلنے سے مجھ کو منع کیا تو مجھ سے یوں فرمایا کہ۔
۱۲ تم اُس سب کو جسے یہ لوگ سازش کہتے ہیں سازش نہ کہو اورجس سے وہ ڈرتے ہیں تم نہ ڈرو اور گھبراؤ۔
۱۳ تم رب الافواج کو ہی مقدس جانو اور اُسی سےڈرو اور اُسی سے خائف رہ۔
۱۴ اور وہ ایک مقدس ہو گا لیکن اسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لیے صدمہ اور ٹھوکر کا پتھر اور یروشلیم کے لوگوں کے لئے پھندا اوردام ہو گا۔
۱۵ ان میں سے بہتیرے اس سے ٹھوکر کھائینگے اور گرینگے اور پاش پاش ہونگے اور دام میں پھنسینگے اور پکڑے جائیں گے۔
۱۶ شہادت نامہ بند کر دو اور میرے شاگردوں کے لیے شریعت پر مہر کرو۔
۱۷ میں بھی خداوند کی راہ دیکھونگا اب جو یعقوب کے گھرانےسے اپنا منہ چھپاتا ہے ۔ میں اسکا انتظار کرونگا۔
۱۸ دیکھ میں ان لڑکوں سمیت جو خداوند نے مجھے بخشے رب الافواج کی طرف سے جو کوہ صیون میں رہتا ہے بنی اسرائیل کے درمیان نشانوں اورعجائب وہ غرائب کے لیے ہوں۔
۱۹ اور جب وہ تم سے کہیں تم جنات کے یاروں اورافسونگرں کی جو پُھسپُھساتے اور بڑبڑاتےہیں تلاش کرو تو تم کہو کیا لوگوں کو مناسب نہیں کہ اپنے خدا کے طالب ہوں ؟ کیا زندوں کی بابت مردوں سے سوال کریں؟ ۔
۲۰ شریعت اور شہادت پر نظر کرو۔ اگر وہ اس کلام کے مطابق نہ بولیں تو انکے لیے صبح نہ ہو گی۔
۲۱ تب وہ ملک میں بھوکے اور خستہ حال پھریں گے اور یوں ہو گا کہ جب وہ بھوکے ہوں تو جان سے بیزار ہونگے اور اپنے بادشاہ اور خدا پر لعنت کریں گے اور اپنے منہ آسمان کی طرف اٹھائیں گے۔
۲۲ پھر زمین کی طرف دیکھیں گے اور ناگہان تنگی اور تاریکی یعنی ظلمتِ اندوہ اور تیرگی میں کھدیڑے جائینگے