أیسعیاہ تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

یسعیاہ

Isaiah

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’یسعیاہ نبی عبرانی نبیوں میں سب سے بڑا اور سب سے فصیح ہے۔ پُرشکوہ عبارت آرائی‏، شان دار خیال آرائی اور تصویر کشی‏، خوبصورت اور ہفت رنگ اُسلوبِ بیان اور گہری معنویت میں اُس کا ثانی نہیں۔ اُسے بجا طور پر ’پرانے عہدنامے کے انبیا کا بادشاہ‘ کہا جاتا ہے۔‘‘ (‏میرل ایف۔ اُنگر)‏

۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

آئرلینڈ سیاحوں کے لئے خاص کشش رکھتا ہے۔ اُن میں سے اکثر کو وہاں کی مسیحی تہذیب و ثقافت دیکھنے کا شوق ہوتا ہے۔ اِن سیاحوں کو ملک کے خوبصورت دارالحکومت ڈبلن میں ایک ذاتی مکان دکھایا جاتا ہے۔ اِس مکان میں ۱۳ اپریل ۱۷۴۲ء میں عظیم موسیقار ہینڈل (‏Handel)‏ کا موسیقی کا بے مثل فن پارہ ’’مسیحِ موعود‘‘ کا پہلا عالمی شو منعقد ہوا تھا۔ صاحبِ ذوق اور صاحبِ علم افراد نے اُس کی موسیقی کو خوب سراہا۔ لیکن اِس مشہور ترین مذہبی اور عبادتی گیت کے الفاظ کے بارے میں کیا کہیں جس کا ایک ایک لفظ خدا کے کلام سے اور خصوصاً پرانے عہدنامے کی اُن پیش گوئیوں سے لیا گیا ہے جو ’’مسیحِ موعود‘‘ کے بارے میں ہیں۔ اور وہ نبی جس نے اِس گیت کے لئے سب سے زیادہ الفاظ مستعار دیئے وہ ایک عبرانی مصنف ہے جو مسیحِ موعود کے تجسم سے سات صدیاں پہلے ہوا ہے اور ہینڈل اور آپ اور مجھ سے ستائیس صدیاں پہلے ہو گزرا ہے۔ اُس کا نام ’’یسعیاہ‘‘ ہے۔ اُس نے مسیحِ موعود کے بارے میں پرانے عہدنامے کی سب سے طویل‏، سب سے دلکش اور سب سے زیادہ پیش گوئیاں سپردِ قلم کیں۔ 

۲۔ مصنف

یسعیاہ (‏عبرانی میں یشع یاہو ہے جس کا مطلب ہے ’یہوواہ نجات ہے‘ یا ’یہوواہ کی نجات‘)‏ آموس کا بیٹا تھا۔ اُس نے ایک رُؤیا دیکھا اور ’’یسعیاہ کا صحیفہ‘‘ اُسی رُؤیا کا تحریری بیان ہے۔ اِس کتاب کے بارے میں تنقیدی نظریات نے بہت ’’چیر پھاڑ‘‘ کی ہے‏، اِس لئے ہم دیگر کتابوں کی نسبت اِس کا زیادہ تفصیلی تعارف پیش کرتے ہیں۔ 

یسعیاہ کی وحدت

’’اعلیٰ تنقید‘‘ (‏higher criticism)‏ کے نام نہاد ماہرین نے کئی نظریات پیش کئے ہیں جو سو سال سے زیادہ عرصے سے پڑھے اور پڑھائے جا رہے ہیں۔ اِن کو حقیقت بنا کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ دراصل مفروضے اور قیاسات ہیں۔ بہت سے حلقوں میں اُنہیں شرفِ قبولیت حاصل ہے۔ اُن مفروضات میں سے چند ایک یہ ہیں:‏ اسفارِ خمسہ موسیٰ کی تصنیف نہیں‏، دانی ایل نے دانی ایل کی کتاب نہیں لکھی۔ پطرس نے ۲۔پطرس نہیں لکھا۔ اور پاسبانی خطوط (‏غالباً)‏ پولس نے نہیں لکھے تھے۔ اور یسعیاہ سے منسوب چھیاسٹھ ابواب کا صرف پہلا حصہ یسعیاہ کی تصنیف ہے۔ 

چونکہ یسعیاہ ایک بڑی اور اہم کتاب ہے اور مسیحِ موعود کی پیش گوئیوں سے بھری ہوئی ہے (‏خصوصاً وہ حصے جنہیں نقاد حضرات دوسروں سے منسوب کرتے ہیں)‏‏، اور نئے عہدنامے میں اِس سے اِتنا زیادہ اقتباس کیا گیا ہے اِس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ اِس نازک سوال پر زیادہ توجہ دی جائے اور جواب کے لئے دوسری کتابوں کی نسبت زیادہ جگہ مختص کی جائے تاکہ عام اور سادہ لوح ایمان داروں کو فائدہ ہو۔ 

ہمارا طریقۂ کار یہ ہو گا:‏ پہلے ہم اِس نکتہ پر ’مثبت دلائل‘ دیں گے کہ یسعیاہ پوری کتاب کا مصنف ہے۔ پھر ایک ایک کر کے اِن دلائل یا اعتراضات کا جواب دیں گے جو اِس وحدت یا یکسانیت کے خلاف ہیں۔ 

الف۔ تاریخ اور روایت کی شہادت

سترھویں صدی کے اواخر تک تقریباً سارے یہودی اور مسیحی علما تسلیم کرتے تھے کہ یسعیاہ کی کتاب ایک ہی طویل نبوت ہے جو خداداد صلاحیتوں کے مالک مصنف یسعیاہ بن آموص کی تصنیف ہے۔ لیکن ۱۷۶۵ء میں جے۔سی۔ ڈوئلڈرلین (‏J.C.Doederlein)‏ نے رائے پیش کی کہ یہ ۴۰ سے ۶۶ ابواب کا مصنف کوئی ’’دوسرا یسعیاہ‘‘ یا ’’یسعیاہ دُوُم‘‘ ہے۔ بے شک یسعیاہ ابواب ۱۔۳۹ اور ۴۰۔۶۶ کے مندرجات فرق فرق نوعیت کے ہیں‏، اور توجہ سے پڑھنے والے قارئین صدیوں سے اِس فرق کو دیکھتے اور محسوس کرتے آئے ہیں۔ مگر اِس سے ضروری تو نہیں ٹھہرتا کہ مصنفین بھی فرق فرق ہیں‏، ۱۸۹۲ء میں بی۔ ڈوہم (‏B.Duhm)‏ نے ابواب ۴۰۔۶۶ کی وحدت یا یکسانیت کا اِنکار کیا اور کسی ’’تیسرے یسعیاہ‘‘ یا ’’یسعیاہ سوم‘‘ کو ابواب ۵۵۔۶۶ کا مصنف ٹھہرایا۔ کئی لوگ بات کو اَور آگے لے گئے۔ البتہ آزاد خیال حلقوں میں عام طور سے دو یا تین یسعیاہ کا نظریہ مانا جاتا ہے۔ 

کسی کو قدیم روایت میں دو یا تین یسعیاہ کا اشارہ نہیں ملتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یسعیاہ کی وحدت کو ابتدا سے مسلسل اور بلا اعتراض تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔

ب۔ نئے عہدنامے کی شہادت

زبور کی کتاب کے بعد یسعیاہ وہ کتاب ہے جس سے نئے عہدنامے میں زیادہ اقتباس کئے گئے ہیں۔ اور اِن میں وحدت کا تصور ہمیشہ موجود نظر آتا ہے۔ نئے عہدنامے میں نبوت کے دوسرے حصے سے کئی اِقتباس کئے ہیں اور اِس حقیقت سے کئے ہیں کہ یہ نبوت یسعیاہ نے کی تھی مثلاً یوحنا بپتسمہ دینے والے نے (‏متی ۳:‏۳؛ لوقا ۳:‏۴؛ یوحنا ۱:‏۲۳)‏؛ متی نے (‏متی ۸:‏۱۷؛ ۱۲:‏ ۱۸۔۲۱)‏۔ اور یوحنا (‏۱۲:‏ ۳۸۔۴۱)‏ اور پولس نے (‏رومیوں ۹:‏ ۲۷۔۳۳؛ ۱۰:‏ ۱۶۔۲۱)‏ بھی اِسی حیثیت سے اپنی تحریروں میں حوالہ جات کا استعمال کیا ہے۔ یوحنا ۱۲:‏ ۳۸۔۴۱ میں تو یہ بالکل واضح اور قابلِ توجہ ہے کیونکہ اصل مصنف کا ذکر ایک شخص کے طور پر کیا گیا نہ کہ ایک کتاب کے طور پر۔ ’’یسعیاہ نے یہ باتیں اِس لئے کہیں کہ اُس نے اُس کا جلال دیکھا اور اُس نے اُسی کے بارے میں کلام کیا‘‘ (‏آیت ۴۱)‏۔ ’’یہ باتیں‘‘ یسعیاہ ۵۳:‏ ۱ ہیں جو کہ کتاب کے دوسرے حصے میں ہے (‏آیت ۳۸)‏۔ اور یسعیاہ ۶:‏۱۰ میں ہیں (‏جہاں یسعیاہ نے مسیح کا جلال دیکھا (‏آیت ۳۹‏،۴۰)‏ جو پہلے حصے میں ہے۔ 

ج۔ خاکہ اور تفصیل کی وحدت

یسعیاہ میں شروع سے آخر تک خاکہ اور ترتیب کی وحدت موجود ہے۔ یہ حقیقت اِس نظریے سے میل نہیں کھاتی کہ دو یا زیادہ مصنفین نے مختلف ٹکڑوں کو تالیف اور مجتمع کیا۔

د۔ شعری خوب صورتی

کتاب کے دوسرے حصے کی خوبصورت عبارت اور شعوری آہنگ دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اُس حیرت انگیز مصنف کو جو چھٹی صدی ق م میں ہوا کلیتہً بھلایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں انبیائے اصغر کی چھوٹی چھوٹی کتابیں اپنے اپنے مصنف سے بنام منسوب ہیں۔ 

ہ۔ بحیرۂ مردار کے طومار

بحیرۂ مردار سے ملنے والے یسعیاہ کے طوماروں (‏دوسری صدی ق م)‏ میں ایسا کوئی اِشارہ نہیں کہ باب ۴۰ سے کوئی فرق اور الگ حصہ شروع ہوتا ہے۔ 

یسعیاہ کی وحدت کے خلاف دلائل کے جواب

یسعیاہ کی کتاب کی وحدت کے خلاف تین بڑی دلائل دی جاتی ہیں۔ تواریخی نقطۂ نظر سے‏، لسانی نقطۂ نظر سے اور الٰہیاتی نقطۂ نظر سے۔ 

الف۔ تواریخی نقطۂ نظر

اِس بات پر تو تقریباً سب متفق ہیں کہ یسعیاہ کی کتاب کے دو بڑے حصے ہیں (‏ابواب ۱۔۳۹ اور ۴۰۔۶۶)‏۔ ابواب ۳۶۔۳۹ ایک لحاظ سے تواریخی وقفہ ہے۔ یہ بھی دلچسپ بات ہے کہ اپنی تعداد کے لحاظ سے ابواب ۱۔۳۹ پرانے عہدنامے کی تصویر پیش کرتے ہیں اور ابواب ۴۰۔۶۶ نئے عہدنامے کے متوازی ہیں یعنی جتنی جتنی کتابیں اُتنے اُتنے ابواب۔ یہ اتفاق ہو سکتا ہے کیونکہ ابواب کی تقسیم الہامی متن کا حصہ نہیں ہے۔

صاف نظر آتا ہے کہ ابواب ۱۔۳۹ کا نقطۂ نظر اسیری سے قبل کے دَور کا اور ابواب ۴۰۔۶۶ کا نقطۂ نظر اسیری کے بعد کے دَور کا نظریہ ہے۔ کیا یسعیاہ اپنے آپ کو مستقبل میں لا سکتا اور مستقبل کے نقطۂ نظر سے لکھ سکتا تھا؟ بہت سے ناقد کہتے ہیں ’’نہیں‘‘‏، لیکن یرمیاہ‏، دانی ایل اور ہمارے خداوند نے (‏متی ۱۳ باب)‏ کئی موقعوں پر ایسا کیا۔ 

اگر ابواب ۴۰۔۶۶ چھٹی صدی ق م کے اوائل میں لکھے گئے تھے تو کتاب کا رنگ اور انداز کیوں بابلی نہیں بلکہ فلستینی ہے؟

ب۔ لسانی دلیل

نقاد اِصرار کرتے ہیں کہ ’’دوسرے یسعیاہ‘‘ کا اُسلُوبِ بیان یسعیاہ سے فرق ہے۔ سب نے توجہ دلائی ہے کہ ۴۰:‏۱ ’’تسلی دو تم میرے لوگوں کو تسلی دو‘‘ سے ایک بڑی تبدیلی آ جاتی ہے۔ لیکن اِس سے صرف مصنف کا ہرفن مولا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ افلاطون‏، ملٹن اور شیکسپئر حیرت ناک طور پر اُسلُوبِ بیان میں تنوع سے کام لیتے ہیں۔ اُردو ادب میں غالب اور اقبال ہمارے سامنے ہیں۔ یہ سب موضوع اور مُدَّعا کے مطابق انداز و اُسلُوب استعمال کرتے ہیں۔ مسیحِ موعود کی شاندار تسلی جو ابواب ۴۰۔۶۶ میں نمایاں ہے‏، اِس فرق کی وضاحت کے لئے کافی ہے۔ 

علاوہ ازیں کتاب کے دو (‏یا تین)‏ حصوں میں اُسلوب کی بہت سی مشابہتیں بھی موجود ہیں۔ بہت سی تفاصیل اور باریک اور نازک تنوعات کے لئے عبرانی زبان سے کماحقہ‘ واقفیت ضروری ہے۔ لیکن یسعیاہ کی ایک ترکیب ہے جو تصنیف کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے اور وہ ہے ’’خدا کا قدوس‘‘۔ یہ خدا کا ایک نام یا لقب ہے۔ 

ج۔ اِلٰہیات کی دلیل

نقاد ’’پہلے‘‘ اور ’’دوسرے‘‘ یسعیاہ کی الٰہیات میں کسی تضاد کی نشان دِہی نہیں کرتے‏، صرف یہ کہتے ہیں کہ ’’دوسرا‘‘ یسعیاہ ’’زیادہ آگے‘‘ یا برتر ہے۔ (‏یہ بات ارتقا کے پورے غیر معتبر نظریے پر صادق آتی ہے‏، جب اِس کا اطلاق صرف حیاتیات پر نہیں بلکہ ہر چیز پر کیا جائے۔ یسعیاہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کی شان و شوکت پر زور دے اور ’’دوسرا یسعیاہ‘‘ اِس کی لامتناہیت پر زور دے۔ دراصل میکاہ جو یسعیاہ کا ہم عصر تھا کے صحیفے میں بھی نام نہاد ’’دوسرے یسعیاہ‘‘ سے ملتے جلتے تصورات پائے جاتے ہیں)‏

تینوں دلائل میں سے الٰہیات کی یہ دلیل سب سے کمزور ہے۔ البتہ اِس سے وہ ’’اصل وجہ‘‘ سامنے آ جاتی ہے جن کی بنا پر فوق الفطرت کی مخالفت کے نظریات وضع ہوئے۔

یسعیاہ خورس کے پیدا ہونے سے پہلے اِس کا بنام ذکر کرتا ہے۔ یوسیفس کہتا ہے کہ یسعیاہ باب ۴۵ میں اپنا نام پڑھ کر خورس خود بہت متاثر ہوا تھا۔ 

بہت سے حصے جن کو مبینہ طور پر بعد کے اضافے کہا جاتا ہے وہ واضح اور صریح پیش گوئیاں ہیں جو پوری ہو چکی ہیں۔ یہاں بھی فوق الفطرت کی مخالفت کا میلان صاف نظر آتا ہے کیونکہ اُن کی قدامت کا اِنکار کیا جاتا ہے۔ 

بالآخر اگر خدا عالمِ کُل ہے تو اُسے اپنے نبیوں کی معرفت جتنی تفصیل اور صراحت سے چاہئے مستقبل کی پیش گوئی کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ 

چنانچہ اِن نظریات نے مسیحی حلقوں میں بہت سے رخنے ڈالے اور دست درازیاں کی ہیں۔ اِس کے باوجود کتاب کے قدیم‏، یکساں اور راسخ العقیدہ ہونے کی حیثیت بالکل مضبوط ہے۔ جیسا کہ یسعیاہ ۱:‏ ۱ میں کہا گیا ہے یہ پوری کی پوری کتاب ’’یسعیاہ بن آموص‘‘ کی تصنیف ہے۔

۳۔ سنِ تصنیف

یسعیاہ نے اپنی خدمت ’’جس سال میں عزیاہ بادشاہ نے وفات پائی‘‘ شروع کی (‏۶:‏ ۱‏، تقریباً ۷۴۰ ق م)‏۔ اُس کی خدمت کا زیادہ تر حصہ یہوداہ اور چار بادشاہوں کے اَدوارِ حکومت پر محیط ہے۔ اِن میں سے عزیاہ اور یوتام کافی اچھے اور نیک حکمران تھے۔ آخز شریر اور حزقیاہ بہت اچھا اور نیک بادشاہ تھا اور نبی کا ذاتی دوست تھا۔ چونکہ یسعیاہ سنحیرب کی وفات (‏۶۸۱ ق م)‏ کا حال قلم بند کرتا ہے (‏۳۷:‏۳۸)‏ اِس لئے اِمکان ہے کہ وہ کم سے کم ۶۸۰ ق م تک زندہ تھا۔ یوں اُس کی خدمت ساٹھ سال کے طویل عرصے پر محیط ہے! روایت کے مطابق یسعیاہ نے شریر اور بدکردار بادشاہ منسی کے دورِ حکومت میں وفات پائی۔

۴۔ پس منظر اور موضوع

یسعیاہ کے نام کا مطلب بھی کتاب کے خاص الخاص موضوع کا بیان کرتا ہے یعنی کہ نجات خداوند (‏یہوداہ)‏ سے ہے۔ نبوت کی اِس کتاب میں ’’نجات‘‘ (‏یا اِس کے مترادف)‏ کا لفظ چھبیس دفعہ آیا ہے۔ اور باقی ساری نبوت کی کتابوں میں مجموعی طور پر یہ لفظ صرف سات دفعہ آیا ہے۔ یہ موضوع بھی کتاب کی وحدت کو ظاہر کرتا ہے۔ ابواب ۱۔۳۹ بیان کرتے ہیں کہ اِنسان کو نجات کی از حد ضرورت ہے۔ اور ابواب ۴۰۔۶۶ میں بیان ہوا ہے کہ خدا نے بڑے فضل سے نجات مہیا کر دی ہے۔ 

یسعیاہ نے بنی اِسرائیل کو آگاہ اور خبردار کیا کہ تمہاری شرارت اور بدکاری کی سزا ملے گی‏، لیکن اس کے باوجود خدا اپنے فضل سے یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کے لئے ایک مخلصی دِہندہ (‏چھڑانے والا)‏ بھیجے گا۔

سیاسی طور پر اِسرائیل کا چھوٹا سا ملک زبردست اور طاقتور سلطنتوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔ اور اکثر اِن کی باہمی آویزشوں میں پھنس بھی جاتا تھا۔ شمال میں اُبھرتی ہوئی طاقت اسور تھا اور جنوب میں رُو بہ زوال طاقت مصر تھا۔ کتاب کے آخری حصے میں روح نبی کو ۲۰۰ سال مستقبل میں اُن ایام میں پہنچا دیتا ہے جب بابل معلومہ دُنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ 

 

خاکہ
        باب
۱۔ یسعیاہ کے زمانے سے آگے سزا اور برکت کی پیش گوئیاں ۱۔۳۵
  الف۔ یہوداہ اور یروشلیم پر سزائیں۔ بیچ بیچ میں جلال کی چمک اور جھلکیاں ۱۔۵
    ‏۱‏ اِسرائیل کے خلاف خدا کا مقدمہ ۱
    ‏۲‏ پاک صاف ہونے کے وسیلے سے مستقبل میں برکت ۲۔۴
    ‏۳‏ اِسرائیل کے گناہ کی سزا ۵
  ب۔ یسعیاہ کی بلاہٹ‏، پاک صاف کیا جانا اور تقرر ۶
  ج۔ عمانوایل کی کتاب ۷۔۱۲
    ‏۱‏ مسیحِ موعود کی معجزانہ پیدائش ۷
    ‏۲‏ مسیحِ موعود کی حیرت افزا مملکت ۸۔۱۰
    ‏۳‏ مسیحِ موعود کی ہزار سالہ بادشاہی ۱۱‏،۱۲
  د۔ دیگر قوموں کے خلاف فیصلے ۱۳۔۲۴
    ‏۱‏ بابل کے خلاف فیصلہ ۱۳:‏ ۱۔۲۴:‏۲۳
    ‏۲‏ ا سُور کے خلاف فیصلہ ۱۴:‏ ۲۴۔۲۷
    ‏۳‏ فلستین کے خلاف فیصلہ ۱۴:‏ ۲۸۔۳۲
    ‏۴‏ موآب کے خلاف فیصلہ ۱۵‏،۱۶
    ‏۵‏ دمشق کے خلاف فیصلہ ۱۷
    ‏۶‏ افریقہ کے بے نام علاقوں کے خلاف فیصلہ ۱۸
    ‏۷‏ مصر کے خلاف فیصلہ ۱۹‏، ۲۰
    ‏۸‏ بابل کے خلاف فیصلہ ۲۱:‏ ۱۔۱۰
    ‏۹‏ دُومہ ‏ادُوم‏ کے خلاف فیصلہ ۲۱:‏ ۱۱‏،۱۲
    ‏۱۰‏ عرب کے خلاف فیصلہ ۲۱:‏ ۱۳۔۱۷
    ‏۱۱‏ یروشلیم کے خلاف فیصلہ ۲۲
    ‏۱۲‏ صُور کے خلاف فیصلہ ۲۳
    ‏۱۳‏ ساری زمین کے خلاف فیصلہ ۲۴
  ہ۔ نغمات کی کتاب ۲۵۔۲۷
    ‏۱‏ سلطنت کی برکات کے لئے اسرائیل کا نغمۂ ستائش ۲۵
    ‏۲‏ زمانوں کی چٹان کے لئے یہوداہ کا نغمہ ۲۶
    ‏۳‏ مخلصی یافتہ اسرائیل کی خاطر خدا کا نغمہ ۲۷
  و۔ اِسرائیل اور یروشلیم کا زوال اور دوبارہ عروج ۲۸۔۳۵
    ‏۱‏ افرائیم/ اسرائیل پر افسوس ۲۸
    ‏۲‏ اریئیل/ یروشلیم پر افسوس ۲۹
    ‏۳‏ مصر کے ساتھ اتحاد پر افسوس ۳۰‏،۳۱
    ‏۴‏ صادق بادشاہ کا دورِ سلطنت ۳۲
    ‏۵‏ غارت گر / ا سُور پر افسوس ۳۳
    ‏۶‏ ساری قوموں پر افسوس ۳۴
    ‏۷‏ آنے والی سلطنت کی شان و شوکت ۳۵
۲۔ تاریخی تبدیلی __ حزقیاہ کی کتاب ۳۶۔۳۹
  الف۔ حزقیاہ کی اسُور سے رہائی ۳۶‏،۳۷
    ‏۱‏ ا سُور خدا کی نافرمانی کرتا ہے ۳۶
    ‏۲‏ خدا ا سُور کو غارت کرتا ہے ۳۷
  ب۔ حزقیاہ کی بیماری اور شفایابی ۳۸
  ج۔ حزقیاہ کا گناہ ۳۹
۳۔ مستقبل میں اسیری کے نقطۂ نظر سے تسلی کی نبوتیں ۴۰۔۶۶
  الف۔ اِسرائیل کی آنے والی رہائی سے تسلی ۴۰۔۴۸
    ‏۱‏ خدا کی معانی اور سلامتی سے تسلی ۴۰:‏ ۱۔۱۱
    ‏۲‏ خدا کی ذاتی صفات سے تسلی ۴۰:‏ ۱۲۔۳۱
    ‏۳‏ اسرائیل کے قدوس سے تسلی ۴۱
    ‏۴‏ خداوند ‏(یہوواہ‏) کے خادم سے تسلی ۴۲
    ‏۵‏ اسرائیل کی بحالی سے تسلی ۴۳‏،۴۴
    ‏۶‏ خدا کے ممسوح خورس سے تسلی ۴۵
    ‏۷‏ ل کے بتوں کے زوال سے تسلی ۴۶
    ‏۸‏ ل کے سقوط سے تسلی ۴۷
    ‏۹‏ اسرائیل کی تادیب کے بعد واپسی سے تسلی ۴۸
  ب۔ مسیحِ موعود اور اِسرائیل کا اُسے ردّ کرنا ۴۹۔۵۷
    ‏۱‏ مسیحِ موعود بحیثیت خادم ۴۹
    ‏۲‏ مسیحِ موعود بحیثیت سچا شاگرد ۵۰
    ‏۳‏ مسیحِ موعود بحیثیت صادق حکمران ۵۱:‏ ۱۔۵۲:‏۱۲
    ‏۴‏ مسیحِ موعود کی خدمات ۵۲:‏ ۱۳۔۵۳:‏ ۱۲
    ‏۵‏ مسیحِ موعود بحیثیت فدیہ دینے والا اور بحال کرنے والا ۵۴
    ‏۶‏ مسیحِ موعود بحیثیت عالمی مبلغِ اِنجیل ۵۵:‏ ۱۔۵۶:‏۸
    ‏۷‏ مسیحِ موعود بحیثیت شریروں کا منصف ۵۶:‏ ۹ ۔۵۷:‏۲۱
  ج۔ اِسرائیل کا گناہ‏، سزا‏، توبہ اور بحالی ۵۸۔۶۶
    ‏۱‏ حقیقی روحانیت کی مسرتیں ۵۸
    ‏۲‏ اسرائیل کی بدکرداریاں ۵۹
    ‏۳‏ مستقبل میں صیون کا جلال ۶۰
    ‏۴‏ مسیحِ موعود کی خدمات ۶۱
    ‏۵‏ مستقبل میں یروشلیم کی خوشیاں ۶۲
    ‏۶‏ اِنتقام کا دن ۶۳:‏ ۱۔۶
    ‏۷‏ بقیہ کی دعا ۶۳:‏ ۷۔ ۶۴:‏ ۱۲
    ‏۸‏ بقیہ کی رحم کے لئے دعا کا جواب ۶۵
    ‏۹‏ اَوجِ کمال:‏ سلامتی کا دریا ۶۶