أیسعیاہ ۵۲

۵۲:‏ ۱‏،۲ صیون کو پھر پکارا گیا ہے کہ اپنی اسیری کی نیند سے جاگ جاگ! اور اپنا خوشنما لباس پہن۔ اب بے دین قومیں اُس پر کبھی چڑھائی نہ کریں گی۔ بے شک یہاں نظر ہزار سالہ بادشاہی کے شروع ہونے پر ہے۔ یہ بات صرف اُسی زمانے میں سچ ہو گی۔ 

۵۲:‏ ۳۔۶ اِسرائیل کو مالی منفعت کے لئے غلامی میں نہیں بیچا گیا تھا۔ اب اُسے بے زر یعنی مفت ہی آزاد کرایا جائے گا۔ اِسرائیل شروع میں مہمانوں کی حیثیت سے مصر میں گئے تھے‏، لیکن بعد میں اُن سے ناروا سلوک کیا گیا اور غلام بنا لئے گئے۔ اِس کے بعد اسُوریوں نے بھی اُن پر ظلم کیا مگر مالی منفعت کے لئے نہیں۔ اب ایک دفعہ پھر خدا کے لوگوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور ظالم خداوند کو کچھ قیمت ادا نہیں کرتے۔ اُن پر مسلط حاکم خوشی مناتے‏، للکارتے اور خدا کے نام کی تکفیر کرتے ہیں‏، لیکن وہ اپنے لوگوں کی خاطر اُن کو مغلوب کرے گا اور وہ جان لیں گے کہ خدا جو کہتا ہے وہی ہے۔ 

۵۲:‏ ۷۔۱۰ اگلی آیات یہودیوں کی ساری دُنیا میں پراگندگی سے واپسی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ جلاوطن پہاڑوں پر سے سفر کر کے صیون کو آتے ہیں تو اُن کے آگے آگے نقیب ہیں جو مسیحِ موعود کی بادشاہی کی خوش خبری کی منادی کرتے ہیں۔ یروشلیم کی دیواروں پر سے نگہبانوں کے گانے کی آواز بلند ہوتی ہے کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ واپس آنے والے ہجوم کے آگے آگے خداوند چلا آ رہا ہے۔ خود یروشلیم سے کہا گیا ہے کہ خداوند کی زبردست نجات پر خوشی سے للکارو۔

۵۲:‏ ۱۱‏،۱۲ جلاوطنوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ اسیری کے ملک کی خرابیاں اور ناپاک رسموں کو وہیں پیچھے چھوڑ آئیں اور ہیکل کے پاک ظروف یروشلیم میں واپس لاؤ۔ وہ وہاں سے افراتفری میں اور ڈرتے ہوئے رُخصت نہیں ہوں گے۔ اسرائیل کا خدا آگے پیچھے کی پناہ ہو گا۔ 

(‏۴)‏ مسیحِ موعود کی خدمات (‏۵۲:‏ ۱۳۔۵۳:‏ ۱۲)‏

باب ۵۲ کی آخری آیات دراصل باب ۵۳ کا حصہ ہیں۔ یہ آیات یہوواہ کے خادم کی تاریخ ہے جس میں اُس کی زمینی زندگی‏، صلیب تک جانے اور جلالی ظہور کا بیان ہے۔ Adolph Saphir خود ایک عبرانی مسیحی تھا۔ وہ صلیب کی اِس عظیم ترین نبوت کے بارے میں پُرجوش اور ولولہ انگیز انداز میں لکھتا ہے:‏

’’مبارک اور انمول باب! خدا کے عہد کے قدیم لوگوں میں سے کتنے ہوں گے جن کو تُو مسیح کی صلیب کے پاس لایا ہو گا! وہ صلیب جس کے اوپر لکھا ہے:‏ ’یسوع مسیح۔ یہودیوں کا بادشاہ!‘ اور واہ! آنے والے دنوں میں تجھ پر کیسی جلدی رائے دی جائے گی جب توبہ کرنے والا اور ایمان لانے والا اِسرائیل تجھ پر جسے اُس نے چھیدا تھا نظر کرے گا اور پکار اُٹھے گا‏، ’بے شک اُس نے ہماری مشقتیں اُٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔ پر ہم نے اُسے خدا کا مارا کوٹا اور ستایا ہوا سمجھا!‘ ‘‘

۵۲:‏ ۱۳ یہوواہ کے خادم نے اپنی پوری زمینی زندگی کے دوران بڑی حکمت اور دُور اندیشی سے کام لیا۔ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے اقبال مند ہوا‏، اور آسمان پر اُٹھائے جانے سے نہایت بلند ہوا اور خدا کی دہنی طرف جلال میں اعلیٰ و برتر ہوا۔ 

۵۲:‏ ۱۴ اُس کی پہلی آمد پر اُس کے بھاری دُکھوں کو دیکھ کر بہتیرے دنگ ہو گئے اور اُس کا چہرہ ہر ایک بشر سے زائد اور اُس کا جسم بنی آدم سے زیادہ بگڑ گیا تھا ایسا کہ پہچانا نہ جاتا تھا۔ 

۵۲:‏۱۵ مگر جب وہ دوبارہ آئے گا تو اِنسان اُس کے جلال کی عظمت پر دنگ رہ جائیں گے۔ اُس کی ناقابلِ بیان شان اور حشمت کو دیکھ کر غیر قوم بادشاہ خاموش رہ جائیں گے۔ اُس وقت وہ جانیں گے اور سمجھیں گے کہ پست حال مردِ کلوری بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوند کا خداوند ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ جاگ جاگ اے صیون اپنی شوکت سے ملبُس ہو! اےیروشلیم مقدس چہر اپنا خوش نما لباس پہن لے!کیونکہ آگے کوئی نا مختون یا نا پاک تجھ میں کبھی داخل نہ ہو گا۔
۲ اپنے اوپر سے گرد جھاڑ دے،اُ ٹھ بیٹھاے یروشلیم!اےا سیردخترصیون!اپنی گردن کے بندھنوں کو کھول ڈال۔(۳)کیونکہ خُداوندفرماتا ہےکہ تم مفت بیچے گئے اور تم بے زر ہی آزاد کئےجاؤگے۔
۳
۴ خُداوند یوں فرماتاہے کہ میرے لوگ ابتدا میں مصرکو گئےکہ وہاں مسافر ہو رہیں۔اسوریوں نے بھی بے سبب اُن پر ظلم کیا۔
۵ پس خُداوندیوں فرماتاہےکہ اب میرا یہاں کیا کام حالانکہ میرے لوگ مفت اسیری میں گئےہیں؟وہ جواُن کےپرمسلط ہیں للکارتےہیں خُداوندفرماتاہے اور ہرروزمتواترمیرے نام کی تکفیر کی جاتی ہے۔یقینا میرے لوگ میرا نام جانیں گے اوراُس روز سمجھیں گے کہ کہنے والا میں ہی ہوں۔دیکھو میں حاضر ہوں۔
۶
۷ اُس کے پائوں پہاڑوں پر کیا ہی خوش نماہیں جو خوش خبری لاتا ہے اور سلامتی کی دعا کرتا ہےاور خیریت کی خبر اور نجات کا اشتہار دیتا ہے۔جو صیون سے کہتا ہےتیرا خدا سلطنت کرتاہے۔
۸ اپنے نگہبانوں کی آاوازسن۔وہ اپنی آواز بلند کرتے ہے۔وہ آواز ملاکرگاتے ہیں کیونکہ جب خُداوند صیون کو واپس آگاتووہ اُسے روبرو دیکھیں گے۔
۹ اے یرشلیم کےویرانو!خوشی سے للکارو۔مل کر۔نغمہ سرائی کرو کیونکہ خُداوند ے اپنی قوم کو دلاسا دیاُاس نے ہروشلیم کا فدیہ دیا۔
۱۰ خُداوندنے پاک بازوتمام قوموں کی آنکھوں کے سامنے ننگا کیاہےاور سر زمین سراسرہمارے خداکی نجات کو دیکھےگی۔
۱۱ اے خداوند کےظروف اٹھانے والو!روانہ ہو روانہ ہو۔وہاں چھلے جائو۔ نا پاک چیزوں ہاتھ نہ لگائو۔اس کے درمیان سے نکل جائو اور پاک ہو جائو۔
۱۲ کیونکہ تم نہ تو جلدنہ نکل جائو گے اور بھاگنے والے کی طرح چلو گے۔کیو نکہ خُداوندتمہاراہراول اسرایئل کا خدا تمہاراچنڈ اول ہو گا۔
۱۳ دیکھومیرا خادم اقبال مند ہوگا۔وہ اعلٰی بر تر اور نہایت بلند ہو گا۔
۱۴ جس طرح بہتیرےتجھ کوتجھ کو دیکھ کردنگ ہو گے(اس کے چہرہ ہرایک بیشر سے زائد اور اس کا جسم بنی آدم سے زیادہ بگڑگیاتھا)
۱۵ اسی طرح وہ بہت سی قوموں کو پاک کرے گا۔اور بادشاہ اس کے سامنے خاموش ہوں گے۔کیونکہ جو کچھ ان سے کہا نہ گیا تھا وہ سمجھیں گے۔اورجو کچھ انہوں نے سنا نا تھا وہ سمجھیں گے۔