(۳) اسرائیل کے قدوس سے تسلی (باب ۴۱)
۴۱: ۱ خدا قوموں کو طلب کرتا ہے کہ میرے ساتھ حجت کرنے کو آؤ۔ اور اِس مقصد کے لئے اَزسرِنَو زور حاصل کرو یعنی اپنی مضبوط ترین دلیلیں پیش کرو۔
۴۱: ۲۔۴ یہوواہ پہلے بیان کرتا ہے کہ مَیں نے خورس کو بلایا ہے۔ مَیں نے مشرق سے اُس کو برپا کیا ہے۔ یہاں فعل صیغہ ماضی میں استعمال کیاگیا ہے۔ مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ مستقبل میں اِن واقعات کا ہونا یقینی ہے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بعض مفسرین آیات ۲ اور ۳ کو ابرہام کی بلاہٹ کا حوالہ سمجھتے ہیں۔ لیکن یہاں مذکور شخص کی فوجی فتوحات کے مقابلے میں ابرہام کی کامیابیاں ماند نظر آتی ہیں۔ اِس آدمی (شاہِ فارس خورس) کی فتوحات کا ریکارڈ اُس وقت تک نہیں ٹوٹا تھا۔ اُس کے طوفانی حملوں کی مزاحمت کرنا سیلاب کے آگے ریت کا بند باندھنے کے مترادف تھا۔ وہ اُن مقامات میں بھی تیزی سے پیش قدمی کرتا تھا جو اُس کے لئے نئے تھے۔ کس نے خورس کو برپا کیا اور کون ہے جو ایک پشت کے بعد دوسری پشت کو طلب کرتا ہے؟ یہ یہوواہ ہے __ جو اوّل و آخر ہے۔ جیسا پہلی پشت کے ساتھ تھا ویسا ہی آخری پشت کے ساتھ ہے۔ وہ ہمیشہ یکساں ہے۔
۴۱: ۵۔۷ قومیں اِس فاتح کی آمد کا سن کر خوف زدہ ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کی ہمت بڑھانے کے لئے کہتے ہیں کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ پھر وہ جلدی سے ایک بت گھڑ لیتے ہیں جو اُنہیں تباہی سے بچائے۔ بے چارے بت کو مضبوط کرنے اور قائم رکھنے کے لئے میخیں لگانی پڑتی ہیں تاکہ ڈگمگانہ جائے۔
۴۱: ۸۔۱۰ آیات ۸۔۲۰ اپنے لوگوں کے لئے خدا کی خاص محبت اور نگہداشت کا بیان کرتی ہیں۔ یہاں مضمر سوال یہ ہے کہ کیا بتوں نے کبھی تمہاری ایسی نگہداشت کی ہے؟ خدا نے اُنہیں کسدیوں کے اُور سے بلایا کہ اُس کے بندے ہوں۔ اُن کو اُس کی حضوری، اُس کے قریبی تعلق، اُس کی مدد اور پرورش کرنے کی قدرت کا یقین دلایا گیا ہے۔ یہ یسعیاہ کی ایک نہایت خوبصورت آیت ہے:
’’ تُو مت ڈر کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراسان نہ ہو کیونکہ مَیں تیرا خدا ہوں۔ مَیں تجھے زور بخشوں گا۔ مَیں یقیناًتیری مدد کروں گا اور مَیں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھ سے تجھے سنبھالوں گا۔‘‘
۴۱: ۱۱۔۱۶ اُن کے دشمن ہلاک اور نابود ہو جائیں گے۔ خدا اُن کا حامی، مددگار اور فدیہ دینے والا ہے۔ خدا اسرائیل کو قوموں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے ’’گہائی کا نیا اور تیز دندانہ دار آلہ‘‘ بنائے گا۔ اور اِسرائیل صرف خداوند سے شادمان ہو گا۔
۴۱: ۱۷۔۲۰ خداوند محتاج اور مسکین کی پرورش اور نگہداشت کرے گا۔ ہزار سالہ دَور میں پانی کی فراوانی ہو گی اور بیابان طرح طرح کے درختوں سے شاداب ہو جائے گا۔ یہ سب کے لئے سبق ہو گا کہ خداوند اپنوں کی واقعی پروا اور نگہداشت کرتا ہے۔
۴۱: ۲۱۔۲۴ آیت ۲۱ میں خدا دوبارہ قوموں سے حجت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ اُنہیں چیلنج کرتا ہے کہ ایسے بت پیش کریں جو ہونے والی چیزوں کی خبر دیں یا اُن چیزوں کا بیان کریں جو ہیں۔ وہ پیش گوئیاں کریں۔ کچھ بھلا یا بُرا کر کے دکھائیں۔ کچھ بھی کریں تاکہ ثابت ہو جائے کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں! لیکن وہ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ وہ (بت) ہیچ سے بھی کم تر ہیں، یعنی پورا ہیچ بھی نہیں۔
۴۱: ۲۵۔۲۷ آیت ۲۵ میں خورس دوبارہ منظر میں آتا ہے۔ اِس دفعہ ’’شمال سے ایک‘‘ کی حیثیت سے۔ وہ پہلے فارس (مشرق آیت ۲) سے آیا تھا۔ پھر اُس نے مادی (شمال) کو فتح کیا اور وہاں سے اپنی فتوحات کو نکلا۔ خورس نے اِس مفہوم میں خدا کا نام لیا کہ اُس نے تسلیم کیا کہ خدا ہی نے مجھے زور عطا کیا اور میری راہنمائی کی ہے (عزرا ۱:۲)۔ کسی بت نے کبھی پیش گوئی نہیں کی کہ خورس برپا ہو گا۔ خدا نے اپنے لوگوں کو پیشتر سے یہ بتا دیا تھا، لیکن اُسے بتوں میں ایک بھی نہیں ملتا جو اِختیار اور یقین دہانی کے ساتھ بات کر سکے۔ وہ سب فریب اور خام خیالی ہیں اور اِس لائق نہیں کہ اُن پر بھروسا کیا جائے۔
۴۱: ۲۹ باب ۴۱ کی آخری آیت خدا اور ڈھالی ہوئی ناچیز مورتوں یعنی بتوں کے درمیان تقابل اور فرق کو بالکل واضح کر دیتی ہے۔ وائن (Vine) اِس کا ترجمہ کر کے اصل مفہوم یوں واضح کرتا ہے:
’’اِن سب کو بغور دیکھو! بطالت! اِن کی بنائی ہوئی چیزیں ناچیز (نہ ہونا) ہیں۔اِن کی ڈھالی ہوئی مورتیں محض ہوا اور سنسانی ہیں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اے جزیرو! میرے حضور خاموش رہو اورامتیں از سرنو زورحاصل کریں۔ وہ نزدیک آ کر عرض کریں۔ آؤ ہم ملکر عدالت کے لیے نزدیک ہوں۔
۲ کس نے مشرق سے اسکو برپا کیا جسکو وہ صداقت سے اپنے قدموں میں بلاتا ہے؟ وہ قوموں کو اسکے حوالے کرتا اور اسے بادشاہوں پر مسلط کرتا ہے اورانکو خاک کی مانند اسکی تلوار کے اور اڑتی ہوئی بھوسی کی مانند اسکی کمان کے حوالہ کرتاہے۔
۳ وہ انکا پیچھا کرتا اور اس راہ سے جس پرپیشتر قدم نہ رکھا سلامت گذرتا ہے۔
۴ یہ کس نے کیااورابتدائی پشتوں کو طلب کر کے انجام دیا؟ میں خداوند نے جو اوّل و آخر ہوں۔ وہ میں ہی ہوں۔
۵ جزیروں نے دیکھا اورڈرگئے۔ زمین کے کنارےتھرا گئے وہ نزدیک آتےگئے۔
۶ ان میں سے ہر ایک نے اپنے پڑوسی کی مدد کی اور اپنے بھائی سے کہا کہ حوصلہ رکھ۔
۷ بڑھئی نے سنار کی اور اس نے جو ہتھوڑی سے صاف کرتا ہے اسکی جو نہائی پر پیٹتا ہے ہمت بڑھائی اور کہا جوڑ تو اچھا ہے۔ سو انہوں نے اسکو میخوں سے مضبوط کیا تاکہ قائم رہے۔
۸ پر تو اے اسرائیل میرے بندے! اے یعقوب جسکو میں نے پسند کیا جو میرے دوست ابرہام کی نسل سے ہے۔
۹ تو جسکو میں نے زمین کی انتہا سے بلایا اور اسکے سِوانوں سے طلب کیا اورتجھ کو کہا تو میرا بندہ ہے میں تجھے پسند کیا اورتجھے رد نہ کیا۔
۱۰ تو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہراسان نہ ہو کیونکہ میں تیرا خدا ہوں میں تجھے زوربخشونگا۔ میں یقیناً تیری مدد کرونگا اور میں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھسے تجھے سنبھالونگا۔
۱۱ دیکھ وہ سب جو تجھ پر غضبناک ہیں پشیمان اور رسوا ہونگے وہ جو تجھ سے جھگڑتےہیں ناچیز ہو جائیں گے اور ہلاک ہونگے۔
۱۲ تو اپنے مخالفوں کو ڈھونڈے گا اور نہ پائے گا ۔ تجھ سے لڑنے والے ناچیز و نابور ہو جائیں گے۔
۱۳ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا تیرا دہنا ہاتھ پکڑ کر کہونگا مت ڈر میں تیری مدد کرونگا۔
۱۴ ہراسان نہ ہو اے کیڑے یعقوب! اے اسرائیل کی قلیل جماعت میں تیری مدد کرونگا خداوند فرماتا ہے ہا ں میں جو اسرائیل کا قدوس تیرا فدیہ دینے والا ہوں۔
۱۵ دیکھ میں تجھے گہائی کا نیا اور تیز دندانہ دار آلہ بناونگا۔ تو پہاڑوں کو کوٹیگا اور انکو ریزہ ریزہ کریگا اورٹیلوں کو بھوسے کی مانند بنائیگا۔
۱۶ تو انکو اسائیگا اور ہوا انکو اڑا لے جائیگی اورگرد باد انکو تتر بتر کردیگا پر تو خداوند سے شادمان ہو گا اوراسرائیل کے قدوس پر فخر کریگا۔
۱۷ محتاج اور مسکین پانی ڈھونڈتےپھرتےہیں پر نہیں ملتا۔ انکی زبان پیاس سے خشک ہے میں خداوند انکی سنونگا۔ میں اسرائیل کا خدا انکو ترک نہ کرونگا ۔
۱۸ میں ننگے ٹیلوں پر نہریں اوروادیوں میں چشمے کھولونگا صحرا کو تالاب اور خشک زمین کو پانی کا چشمہ بنا دونگا ۔
۱۹ بیابان میں دیوادر اور ببول اور آس اور زیتون کے درخت لگاونگا ۔
۲۰ تاکہ وہ سب دیکھیں اور جانیں اورغور کریں اور سمجھیں کہ خداوند ہی کے ہاتھ نے یہ بنایا اوراسرائیل کے قدوس نے یہ پیدا کیا۔
۲۱ خداوند فرماتا ہے اپنا دعویٰ پیش کرو یعقوب کا بادشاہ فرماتا ہے اپنی مضبوط دلیلیں لاؤ۔
۲۲ وہ انکو حاضر کریں تاکہ وہ ہمکو ہونے ولی چیزوں کی خبر دیں۔ ہم سے اگلی باتیں بیان کرو کہ کیا تھیں تاکہ ہم ان پر سوچیں اور انکے آیام کو سمجھیں یا آئیندہ کو ہونے والی باتوں سے انکو آگاہ کرو۔
۲۳ بتاؤ کہ آگے کو کیا ہوگا تاکہ ہم جانیں کہ تم اِلٰہ ہو ۔ ہاں بھلا یا بُرا کچھ تو کرو تاکہہ ہم متعجب ہوں اور باہم اسے دیکھیں۔
۲۴ دیکھو تم ہیچ اور بیکار ہو تم کو پسند کرنے والا مکروہ ہے۔
۲۵ میں نے شمال سے ایک کو برپا کیا ہے وہ آ پہنچا ہے وہ آفتاب سے مطلع ہو کر میرا نام لیگا اور شاہزادوں کو گارے کی طرح لتاڑیگا۔ جیسے کمہار مٹی گوندھتا ہے ۔
۲۶ کس نے یہ ابتدا سے بیان کیا کہ ہم جانیں؟ اور کس نے آگے سے خبر دی کہ ہم کہیں کہ یہ سچ ہے؟ کوئی اسکا بیان کرنے والا نہیں۔ کوئی اسکی خبر دینے والا نہیں کوئی نہیں جو تمہاری باتیں سنے۔
۲۷ میں ہی نے پہلے صیون سے کہا کہ دیکھ ۔ انکو دیکھ اور میں ہی یروشلیم کو ایک بشارت دینے والا بخشونگا۔
۲۸ کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ کوئی نہیں ۔ ان میں کوئی مشیر نہیں جس سے پوچھوں اور وہ مجھے جواب دے۔
۲۹ دیکھو وہ سب کے سب بطالت ہیں۔ انکے کام ہیچ ہیں۔ انکی ڈھالی ہوئی مورتیں بالکل ناچیز ہیں۔