أیسعیاہ ۳۲

(‏۴)‏ صادق بادشاہ کا دورِ سلطنت (‏باب ۳۲)‏

۳۲:‏ ۱۔۸ پہلی پانچ آیات مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی کا بیان کرتی ہیں۔ مسیح وہ بادشاہ ہے جو صداقت سے سلطنت کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مذکورہ شہزادے یسوع مسیح کے بارہ شاگرد ہوں گے (‏دیکھئے متی ۱۹:‏ ۲۸)‏۔ ’’ایک شخص آندھی سے پناہ گاہ کی مانند ہو گا۔‘‘یہ شخص خداوند یسوع ہے جو پناہ‏، محافظت‏، تازگی اور سایہ مہیا کرتا ہے۔ اِس کے بعد عدالتی نابینا پن یعنی بے اِنصافی لوگوں کو تکلیف نہیں دے گی۔ اور نہ کان بند ہوں گے بلکہ وہ سچائی سنیں گے اور فرماں برداری کریں گے۔ اور جو اَب جلد بازی سے فیصلے کرتے ہیں اُنہیں عقل و دانش حاصل ہو گی۔ اور جو لکنت کا شکار ہیں وہ روانی سے باتیں کریں گے۔ اخلاقی اِمتیازات دُھندلے نہیں رہیں گے۔ اور احمق کی عزت و توقیر نہ ہو گی۔ مسیح کی آمد اِنسانوں کی اصلیت کو ظاہر کر دے گی۔ احمق اور بدمعاش پر سے نقاب اُٹھ جائے گا (‏اور وہ مناسب سزا پائیں گے)‏۔ سخاوت کرنے والا بھی ظاہر ہو جائے گا اور لوگ اُسے مبارک کہیں گے۔ آیات ۶۔۸ میں اُس زندگی اور چلن کا ذکر ہے جو یسعیاہ کے زمانے میں نظر آتا تھا۔ 

۳۲:‏ ۹۔۱۵ لیکن وہ بادشاہی ابھی آئی نہیں۔ یہوداہ کی عورتیں ابھی تک عیش و آسائش اور آرام اور آسودگی کی زندگی کے مزے لے رہی ہیں۔ بہت جلد سزا وارِد ہو گی۔ کھیتوں اور تاکستانوں میں فصلیں پیدا نہیں ہوں گی‏، گھروں کے گھر بسنے والوں سے خالی ہو جائیں گے۔ چاروں طرف ویرانی ہو گی۔ یہوداہ کی مصیبتیں جاری رہیں گی جب تک کہ مسیح کی دوسری آمد پر روح نازل نہ ہو۔ اُس وقت بیابان اور صحرا شاداب اور میوہ دار میدان بن جائے گا اور جس کو آج شاداب میدان شمار کیا جاتا ہے وہ جنگل بن جائے گا۔

۳۲:‏ ۱۶۔۲۰ زندگی کے ہر شعبے میں سماجی عدل اور صداقت نافذ ہو گی جس کے نتیجے میں صلح‏، اطمینان‏، تحفظ اور دل جمعی کا دَور دورہ ہو گا۔ خدا کی طرف سے سزا کے اَولے دشمن (‏جنگل)‏ کو ملیا میٹ کر دیں گے اور شہر (‏اُس کا دارالحکومت)‏ پست ہو جائے گا۔ یہ خوشی اور مسرت کا زمانہ ہو گا۔ تب لوگ ساری نہروں کے کنارے بے فکری سے کاشت کاری کریں گے اور بیل اور گدھے بے خطر گھومیں پھریں گے۔

مقدس کتاب

۱ دیکھ ایک بادشاہ صداقت سے سلطنت کریگا اورشاہزادے عدالت سے حکمرانی کرینگے۔
۲ اور ایک شخص آندھی سے پناہ گاہ کی مانند ہو گا اورطوفان سے چھپنے کی جگہ اور خشک زمین میں پانی کی ندیوں کی مانند اور ماندگی زمین میں بڑی چٹان کی مانند ہو گا۔
۳ اس وقت دیکھنے والوں کی آنکھیں دھندلی نہ ہونگی اور سننے والوں کے کان شنوا ہونگے۔
۴ جلد باز کا دل عرفان حاصل کریگا اور لکنتی کی زبان صاف بولنے میں مستعد ہو گی۔
۵ تب احمق بامروت نہ کہلائیگا اور بخیل کو کوئی سخی نہ کہیے گا۔
۶ کیونکہ احمق حماقت کی باتیں کریگا اوراسکا دل بدی کا منصوبہ باندھے گا کہ بے دینی کرے اور خداوند کے خلاف دروغگوئی کرے اور بھوکے کے پیٹ کو خالی کرےاور پیاسے کو پانی سے محروم رکھے۔
۷ اور بخیل کے ہتھیار زبون ہیں ۔ وہ برے منصوبے باندھا کرتا ہے تاکہ جھوٹی باتوں سے مسکین کو اور محتاج کو جب کہ وہ حق بیان کرتا ہو ہلاک کرے۔
۸ لیکن صاحب مروت سخاوت کی باتیں سوچتا ہے اور وہ سخاوت کے کاموں میں ثابت قدم رہیگا۔
۹ اے عورتو تم جو آرام میں ہو اٹھو ! میری آواز سنو! اے بے پرواہ بیٹیو! میری باتوں پر کان لگاؤ۔
۱۰ اے بے پرواہ عورتو! سال سے کچھ زیادہ عرصہ میں تم بے آرام ہو جاؤ گی کیونکہ انگور کی فصل جاتی رہیگی۔ پھل جمع کرنے کی نوبت نہ آئیگی۔
۱۱ اے عورتو تم جو آرام میں ہو تھرتھراؤ اے بے پرواؤ مضطرب ہو۔ کپڑے اتار کر برہنہ ہو جاؤ۔ کمر پر ٹاٹ باندھو۔
۱۲ وہ دلپذیر کھیتوں اور میوہ دار تاکوں کے لیے چھاتی پیٹنگی۔
۱۳ میرے لوگوں کی سر زمین میں کانٹے اور جھاڑیاں ہونگی بلکہ خوش وقت شہر کے تمام شادمان گھروں میں بھی۔
۱۴ کیونکہ قصر خالی ہو جائیگا۔ عوفل اور دیدبانی کا بُرج ہمیشہ تک ماند بنکر گورخروں کی آرام گاہیں اور گلوں کی چراگاہیں ہونگے۔
۱۵ تا وقت کے عالم بالا سے ہم پر روح نازل نہ ہو اور بیابان شاداب میدان نہ نے اورشاداب میدان جنگل نہ گنا جائے۔
۱۶ تب بیابان میں عدل بسیگا اورصداقت شاداب میدان میں رہا کریگی۔
۱۷ اورصداقت کا انجام صلح ہو گا اورصداقت کا پھل ابدی آرام و اطمینان ہو گا ۔
۱۸ اور میرے لوگ سلامتی کے مکانوں میں اور بے خطر گھروں میں اور آسودگی اور آسایش کے کاشانوں میں رہینگے۔
۱۹ لیکن جنگل کی بربادی کے وقت اولے پڑینگے اور شہر بالکل پست ہو جائیگا۔
۲۰ تم خوش نصیب ہو جو سب نہروں کے آس پاس بوتےہو اور بیلوں اور گدھوں کو ادھر لے جاتےہیں۔