أیسعیاہ ۱۷

(‏۵)‏ دمشق کے خلاف فیصلہ (‏باب ۱۷)‏

۱۷:‏ ۱۔۳ دمشق ارام کی سب سے بڑی شہری ریاست تھی۔ یہ تیسری نبوت دمشق اور اُس کے زیر نگین شہروں کی بربادی اور مسمار ہونے کا بیان کرتی ہے۔ ارام کے ساتھ اتحاد کے باعث افرائیم (‏اِسرائیل)‏ پر بھی ویسا ہی زوال آئے گا۔ افرائیم کی قلعہ بندیاں ڈھیر ہو جائیں گی۔ دمشق کی سلطنت نابود ہو جائے گی۔ اور باقی ماندہ ارامیوں کی شوکت خاک میں مل جائے گی۔ دمشق کو اسور کی افواج نے ۷۳۲ ق م میں تباہ اور تاراج کر دیا تھا۔ اِس کے دس سال بعد سامریہ کو فتح اور تباہ کر دیا گیا تھا۔ 

۱۷:‏ ۴۔۶ اپنی سزا کے وقت اسرائیل کو شرمندگی‏، رُسوائی اور بھوک کا سامنا ہو گا۔ وہ ایسا ننگا ہو گا جیسے فصل کٹ جانے کے بعد رفائیم کی وادی کے کھیت سونے ہو جاتے ہیں۔ صرف تھوڑا سا بقیہ ہی بچے گا۔ 

۱۷:‏ ۷۔۱۱ اُس وقت لوگ حقیقی اور زندہ خدا کی طرف پھریں گے جو اُن کا خالق اور اسرائیل کا قدوس ہے۔ اور بت پرستی کے سارے لوازمات کو ترک کریں گے۔ فصیل دار شہر ایسے ویران اور سنسان ہوں گے جیسے اسرائیل کے حملہ اور فتح کے بعد حویوں اور عموریوں کے شہر ہو گئے تھے۔ اور ایسا کیوں ہو گا؟ اِس لئے کہ خدا کے لوگوں نے اپنے نجات دینے والے خدا کو فراموش کیا اور ’’عجیب قلموں‘‘ یعنی غیر ملکوں کے ساتھ اتحاد‏، جھوٹے مذاہب اور رسومات کی طرف متوجہ ہوئے۔ چنانچہ اُن کا حاصل سخت دُکھ اور مصیبت اور تباہ کن ہو گا۔

۱۷:‏ ۱۲۔۱۴ آیت ۱۲ سے شروع کر کے باب ۱۸ کے آخر تک ایک چھوٹا سا وقفہ ہے جس میں دو بیان ہیں جو آہ! (‏افسوس!)‏ سے شروع ہوتے ہیں۔ پہلے بیان میں یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ غیر قومیں جدید ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اسرائیل پر دھاوا بولتی ہیں۔ اُن کا شور بڑے سیلاب کے ریلے کی مانند ہے۔ لیکن خداوند اُنہیں ناگہاں واپس موڑ دیتا ہے اور اِسرائیل پر سے خطرہ راتوں رات ٹل جاتا ہے‏، جیسا اسوریوں کی فوج کے تباہ ہونے سے ہوا تھا۔

مقدس کتاب

۱ دمشق کی بابت بار بنوت۔ دیکھو دمشق اب تو شہر نہ رہیگا بلکہ کھنڈر کا ڈھیر ہوگا۔
۲ عروعیر کی بستیاں ویران ہیں اور گلوں کی چراگاہیں ہوں گیس ۔ وہ وہاں بیٹھینگے اور کوئی انکے ڈرانے کو بھی وہاں نہ ہو گا۔
۳ اورافرائیم میں کوئی قلعہ نہ رہیگا۔ دمشق اورارام کے بقیہ سے سلطنت جاتی رہیگی۔ ر ب الافواج فرماتا ہے جو حال بنیہ اسرائیل کی شوکت کا ہوا وہی انکا ہو گا۔
۴ اور اس وقت یوں ہو گا کہ یعقوب کی حشمت گھٹ جائیگی اوراسکا چربی داربدن دُبلا ہو جائیگا۔
۵ یہ ایسا ہو گا کہ جیسے کوئی کھڑے کھیت کاٹ کر غلہ جمع کرے اور اپنے ہاتھ سے بالیں توڑے بلکہ ایسا ہو گا جیسےکوئی افرائیم کی وادی میں خوشہ چینی کرے۔
۶ خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے کہ تب اسکا بقیہ بہت ہی تھوڑاہو گا جیسے زیتون کےدرخت کا جب وہ ہلایا جائےیعنی دو تین دانے چوٹی کی شاخ پر۔ چار پانچ پھل والے درخت کی بیرونی شاخوں پر۔
۷ اس روز انسان اپنے خالق کی طرف نظر کریگا اور اسکی آنکھیں اسرائیل کی قدوس کی طرف دیکھیں گی۔
۸ اور وہ مذبحوں یعنی اپنے ہاتھ کے کام پر نظرنہ کریگا اور اپنی دستکاری یعنی یسرتوں اور بتوں کی پرواہ نہ کریگا۔
۹ اس وقت اسکے فصیل دار شہر اجڑے جنگل اور پہاڑ کی چوٹی پر کےمقامات کی مانند ہوں گے جو بنی اسرائیل کے سامنے اجڑ گئے اور وہاں ویرانی ہوگی۔
۱۰ چونکہ تو نے اپنےنجات دینے والے خدا کو فراموش کیا اور اپنی توانائی کی چٹان کو یادنہ کیا اسلیے تو خوبصورت پودے لگاتا اور عجیب قلمیں اُس میںجماتا ہے ۔
۱۱ لگاتےوقت اسکے گرد احاطہ بناتا ہے اورصبح کو اس میں پھول کھلتے ہیں لیکن اسکا حاصل سخت دکھ اور مصیبت کے وقت ہیچ ہے۔
۱۲ آہ! بہت سے لوگوں کا ہنگامہ ہے جو سمندر کے شور کی مانند شور مچاتے ہیں اور امتوں کا دھاوا بڑے سیلاب کے ریلے کی مانند ہے!۔
۱۳ اُمتیں سیلاب عظیم کی مانند آ پڑینگی پر وہ انکو ڈانٹیگا اور وہ دور بھاگ جائینگی اور اُس بھوسے کی مانند جو ٹیلوں کے اوپر آندھی سے اڑتاپھرے اور اس گرد کی مانند جو بگولے کی مانند چکر کھائے رگیدی جائینگی۔
۱۴ شام کے وقت تو ہیبت ہے۔ صبح ہونے سے پیشتر وہ نابود ہیں۔ یہ ہمارے غارتگروں کا حصہ ہے اور ہم کو لوٹنے والوں کا بخرہ ہے۔