اِمثال ۹

ل۔ حکمت اور حماقت کی طرف سے دعوتیں (‏۹:‏۱۔۱۸)‏

۹:‏۱ یہاں حکمت نے اپنا گھر تیار کیا ہے۔ اُس نے اُن لوگوں کے لئے ضیافت تیار کی ہے جو اُس کی دعوت کو قبول کریں گے۔ ضیافت‏، خوشی‏، رفاقت اور اِطمینان کی علامت ہے اور حکمت اپنے مہمانوں کو یہ سب کچھ مہیا کرتی ہے۔ 

سات ستونوں کے لئے مختلف تفسیریں دی گئی ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اِس کا تعلق یسعیاہ ۱۱:‏۱ سے ہے جہاں روح القدس کی سات نعمتیں مسیح سے منسوب ہیں‏، لیکن وہاں صرف چھے کی واضح طور پر فہرست دی گئی ہے۔ اِس کی متبادل تفسیر یعقوب ۳:‏۷ کے موازنے سے اخذ کی جاتی ہے جہاں بیان کیا گیا ہے کہ حکمت اُوپر سے آتی ہے اور (‏۱)‏ پاک (‏۲)‏ ملنسار (‏۳)‏ حلیم (‏۴)‏ تربیت پذیر (‏۵)‏ رحم اور اچھے پھلوں سے لدی ہوئی (‏۶)‏ بے طرف دار اور (‏۷)‏ بے ریا ہوتی ہے۔ 

۹:‏۲‏،۳ ضیافت میں مَے اور گوشت کثرت سے پیش کئے جاتے ہیں۔ دسترخوان پر ہر طرح کی نعمتیں پڑی ہیں۔ شاہانہ میزبان اپنی سہیلیوں کو بھیجتی ہے کہ وہ شہر کی اُونچی جگہوں پر جا کر سب لوگوں کو دعوت دیں۔ ہم جو خدا کی حکمت یعنی یسوع مسیح کو جانتے ہیں ہمیں یہ دعوت یاد دلاتی ہے کہ ہم بھی دوسروں کو حکمت میں شریک کریں۔ اُنہیں آنے‏، حاصل کرنے اور لطف اندوز ہونے کی دعوت دیں۔ 

۹:‏۴۔۶ دعوت کے ہوبہو الفاظ دیئے گئے ہیں۔ یہ دعوت سادہ لوگوں کو دی گئی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گمراہ ہونے کا احتمال ہے‏، اِس لئے اُنہیں مدد اور راہنمائی کی ضرورت ہے۔ عقل مندوں کو یہ دعوت نہیں دی گئی کیونکہ وہ پہلے سے محل کے اندر ہیں۔ 

طعام نامے میں بہترین کھانے اور نہایت عمدے مَے شامل ہے جسے حکمت نے خود ملایا ہے۔ آنے والوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حماقت سے ناتا توڑیں اور ظاہر کریں کہ اُن کی اپنی زندگیوں میں اخلاقی تبدیلی پیدا ہو چکی ہے۔ 

۹:‏۷۔۹ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں تسلسل ٹوٹ گیا ہے‏، لیکن شاید یہ آیات اُس کی وضاحت کرتی ہیں کہ ٹھٹھابازوں کو کیوں دعوت نہیں دی گئی یا یہ کہ حکمت کے مہمانوں کو کیوں ٹھٹھابازوں کو ترک کرنا چاہئے۔ 

اگر آپ ٹھٹھاباز کو تنبیہ کریں گے تو وہ آپ کو لعن طعن کرے گا۔ اگر آپ شریر کو ملامت کریں گے تو وہ آپ کے مخالف ہو کر آپ پر حملہ کرے گا۔ 

جس انداز سے کوئی شخص تنبیہ کے لئے اپنا ردِعمل ظاہر کرتا ہے‏، اِس سے اُس کے کردار کی نشان دہی ہوتی ہے۔ ٹھٹھاباز آپ سے نفرت کرے گا جبکہ دانا آپ کا شکریہ ادا کرے گا۔ جب والدین‏، اُستاد‏، آپ کا آجر یا دوست آپ کو تنبیہ کرتا ہے تو آپ کا کیسا ردِعمل ہوتا ہے؟

تنقید پر تلخی کے بجائے دانا شخص اِسے دل سے قبول کرتے ہوئے اَور بھی دانا بن جاتا ہے۔ صادق مفید علم کے خزانہ میں اضافے سے مستفید ہوتا ہے۔ 

۹:‏۱۰ ایک بار پھر ہمیں یاد دلایا گیا ہے کہ اِس طرح کی حقیقی حکمت کا نقطہ آغاز خداوند کا خوف ہے۔ چونکہ وہ خدائے قدوس کو جانتا ہے‏، اِس لئے ایک سچا ایمان دار اپنے گھٹنوں کے بل زیادہ سیکھتا ہے۔ 

جو لفظ عبرانی میں ’’قدوس‘‘ کے لئے استعمال ہوا ہے وہ یہاں دراصل جمع کی صورت (‏قدوشیم)‏ میں ہے اور شاید خدا کی حشمت (‏plural of majesty)‏ کا اِظہار کرنے کے لئے آیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہاں ’’الوہیم‘‘ سے مطابقت رکھتا ہے اِس لئے عبرانی لفظ ’’قدوش‘‘ سے ’’قدوشیم‘‘ بن گیا۔ 

۹:‏۱۱ حکمت سے زندگی کے دن اور سال بڑھتے ہیں۔ یہ نہ صرف طویل زندگی فراہم کرتی ہے بلکہ اِس دُنیا میں اچھی اور پھل دار زندگی اور اگلی دُنیا میں ناختم ہونے والی زندگی دیتی ہے۔ 

۹:‏۱۲ اِنسان کا دانا ہونا اُس کے اپنے فائدے کے لئے ہے۔ دوسروں کی نسبت اُسے ہی اِس سے زیادہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ دوسری طرف اگر وہ ٹھٹھاباز بننا چاہتا ہے تو وہ اپنے اِس اِنتخاب کی سزا بھگتے گا‏، اگرچہ اکثر دوسرے بھی اُس کے سبب سے دُکھ اُٹھائیں گے۔ آخرکار وہ خود ہی کامیابی اور ناکامی کا ذمہ دار ہے۔ 

۹:‏۱۳ جو حکمت کی ضیافت کر ردّ کرتے ہیں وہ حماقت کی وجہ سے بھوکوں مریں گے۔ حکمت کی نہایت شاندار پیش کش (‏آیات ۱۔۶)‏ اور حماقت کی بھدی پیش کش کے درمیان موازنہ ملاحظہ فرمایئے (‏آیات ۱۳:‏۱۸)‏۔

احمق عورت غوغائی‏، کند ذہن اور ڈھیٹ ہے۔

۹:‏۱۴۔۱۶ وہ گھر کے باہر دروازے پر یا پھر شہر کی نمایاں بلند جگہوں پر بیٹھ جاتی ہے۔ وہ شریف عورتوں کی مانند نہیں ہے بلکہ بے حیا فاحشہ ہے۔ 

وہ باہر اُن مردوں کو جنسی مقاصد کے لئے ورغلاتی ہے جو آسانی سے اُس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ یہ ایسے سادہ دل ہیں جن میں بالکل عقل نہیں ہے۔ 

۹:‏۱۷ اِس کا نظریہ یہ ہے کہ ’’چوری کا پانی میٹھا ہے اور پوشیدگی کی روٹی لذیذ‘‘ بنیادی طور پر اِس کا مطلب ہے کہ ناجائز جنسی فعل دل پسند ہے کیونکہ یہ ممنوع ہے اور اِس میں پوشیدہ ساز بار ہے۔ جب اِنسان کی گری ہوئی فطرت کو کسی بات کے لئے منع کیا جاتا ہے تو ممانعت اُس کی خواہش کو ممنوعہ کام کے ارتکاب کے لئے شدت سے تحریک دیتی ہے (‏رومیوں ۷:‏۷‏،۸)‏۔ کسبی اِنسان کی اِس بگڑی ہوئی جبلت کو اپیل کرتی ہے۔ وہ سادہ دلوں کو بلاتی ہے کہ وہ اُس سے ہم آغوش ہوں۔ 

۹:‏۱۸ لیکن وہ اُن کو کہانی کا دوسرا رُخ نہیں بتاتی۔ لذت اور خواہشات کے اُن لمحوں سے لطف اندوز ہونا زندگی بھر کے غم اور ابدیت میں پاتال کی تہہ کے لئے دعوت دیتا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ حکمت نے اپنا گھر بنا لیا ۔اس نے اپنے ساتوں ستون تراش لئے ہیں۔
۲ اس نے اپنے جٓانوروں کو ذبح کر لیا اور اپنی مے ملا کر تیار کر لی۔اس نے اپنا دسترخوان بھی چن لیا ۔
۳ اس نے اپنی سہیلیوں کو روانہ کیا ہے۔وہ خود شہر کی اونچی جگہوں پر پکارتی ہے۔
۴ جو سادہ دِل ہے اِدھر آجٓائے۔اور بے عقل سے کہتی ہے
۵ آؤ!میری روٹی میں سے کھاو اور میر ی ملائی ہوئی مے میں سے پیو۔
۶ اَے سادہ دلو!باز آو اور زندہ رہواور فہم کی راہ پر چلو۔
۷ ٹھٹھاباز کو تنبیہ کرنے والا لعن طعن اُٹھا ئیگا اور شریر کو ملامت کرنے والے پر دھبا لگیگا۔
۸ ٹھٹھا باز کو ملامت نہ کر ۔نہ ہو کہ وہ تجھ سے عداوت رکھنے لگے۔دانا کو ملامت کر اور وہ تجھ سے محبت رکھیگا۔
۹ دانا کو تربیت کر اور وہ اور بھی دانا بن جٓائیگا ۔صادق کو سکھا اور وہ علم میں ترقی کر یگا۔
۱۰ خداوند کا خوف حکمت کا شروع ہےاور اس قدوس کی پہچان فہم ہے۔
۱۱ کیونکہ میری بدولت تیرے ایام بڑھ جٓائینگے اور تیری زندگی کے سال زیادہ ہونگے۔
۱۲ اگر تو دانا ہے تو اپنے لئے اور اگر تو ٹھٹھاباز ہے تو خود ہی بھگتیگا ۔
۱۳ احمق عورت غوغائی ہے۔وہ نادان ہے اور کچھ نہیں جٓانتی ۔
۱۴ وہ اپنے گھر کے دروازہ پرشہر کی اونچی جگہوں میں بیٹھ جٓاتی ہے
۱۵ تاکہ آنے جٓانے والوں کو بلائےجو اپنے اپنےراستہ پر سیدھے جٓارہےہیں۔
۱۶ سادہ دل ادھر آجٓائیں اور بے عقل سے وہ یہ کہتی ہے
۱۷ چوری کا پانی میٹھا ہے اور پوشیدگی کی روٹی لذیذ
۱۸ پر وہ نہیں جٓانتا کہ وہاں مردے پڑے ہیں اور اس عورت کے مہمان پاتال کی تہ میں ہیں۔