۱۷:۱ پُرسکون گھر کے ماحول میں خشک نوالہ نعمتوں سے بھرپور گھر کے اندر جہاں لڑائی جھگڑا ہے پُرتکلف ضیافتوں سے بہتر ہے۔
۱۷:۲ عقل مند نوکر اکثر رُسوا اور شرمندہ کرنے والے بیٹے سے زیادہ ترقی کر جاتا ہے۔ اِسی لئے تو سلیمان کے نوکر یربعام نے دس قبیلوں پر حکومت حاصل کی جبکہ بیٹا رحبعام صرف دو قبیلوں پر بادشاہ بنا۔ سال خوردہ اور نیک نوکر بیٹوں کے ساتھ وراثت میں ہم میراث ٹھہرتے تھے۔ ابرہام کی زندگی میں تو یوں لگتا تھا کہ جیسے اُس کا نوکر اُس کی میراث کا وارث ہو گا (پیدائش ۱۵:۲،۳)۔
۱۷:۳ خدا وہ کام کر سکتا ہے جو کوئی بھی کٹھالی یا بھٹی نہیں کر سکتی۔ وہ تو سونے یا چاندی کو پرکھتی ہیں مگر صرف خداوند ہی اِنسانی دل کو پرکھ سکتا ہے۔ پرکھنے کے عمل میں وہ ہر طرح کی کھوٹ اور ناپاکی کو دُور کرتا رہتا ہے جب تک وہ ہم میں اپنی صورت اور شبیہ نہیں دیکھنے لگتا۔
۱۷:۴ بُرے کام کرنے والا جھوٹی باتیں کرنے والوں کی سنتا ہے۔ وہ جھوٹ، افواہوں اور جھوٹے الزامات کی پزیرائی کرتے ہیں۔ اِسی طرح جھوٹ بولنے والے بھی بدنامی کی باتیں، تہمتیں اور فساد برپا کرنے والی باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو شخص جس طرح کی باتیں سنتا ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح کے دل کا مالک ہے۔
۱۷:۵ ہم اِس سے قبل ۱۴:۳۱ میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ غریبوں کی ہنسی اُڑانے والا اُن کے خالق کا مذاق اُڑاتا ہے (دیکھئے یعقوب ۵:۱۔۴)۔ جو دوسروں کی مصیبت پر خوشی مناتا ہے، خداوند اُسے ضرور سزا دے گا (مصیبت کا آنا ہر غریب شخص کی زندگی کا حصہ ہے)۔ عبدیاہ کی کتاب میں ہمیں ادوم پر خدا کی عدالت کا فرمان ملتا ہے کیونکہ ادوم یروشلیم کے زوال پر بڑا خوش تھا۔
۱۷:۶کثیر اور خدا پرست اولاد بوڑھوں کے لئے عزت کا باعث ہوتی ہے (دیکھئے زبور ۱۲۷:۳۔۵؛ ۱۲۸:۳)، اِسی طرح اولاد بھی اپنے باپ دادا کے لئے شکرگزار ہو سکتی ہے۔
۱۷:۷ جب احمق کے منہ سے نفیس اور بہترین گفتگو کی توقع نہیں کی جا سکتی تو شریف آدمی کے منہ سے جھوٹ کی کس طرح توقع کی جا سکتی ہے؟ شریف آدمی کے بارے میں تو ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ دُنیا ہم سے جو خدا کے فرزند ہیں بہت زیادہ توقع کرتی ہے۔ اُن کے ذہن میں ہمارے لئے اعلیٰ و برتر معیار ہیں۔
۱۷:۸ رشوت بڑے کام کی چیز ہے۔ اِس کے استعمال سے بڑے بڑے کام بآسانی ہو جاتے ہیں۔ دروازے کھل جاتے ہیں، مراعات اور سہولتیں میسر آتی ہیں اور مشکلات دُور ہو جاتی ہیں۔
۱۷:۹ وہ آدمی جو اپنے خلاف کئے گئے ہر کام کو بھول جانا پسند کرتا ہے محبت اور دوستی کو فروغ دیتا ہے۔ تاہم جو ماضی کی تلخیوں کو کُریدتا رہتا ہے رشتوں میں جدائیاں پیدا کرتا ہے۔
ایک خاتون نے دوسری سے پوچھا، ’’کیا آپ کو یاد نہیں اُس نے آپ کے ساتھ کس قدر بُرا سلوک کیا تھا؟‘‘دوسری خاتون نے جواب دیا، ’’نہ صرف مجھے وہ بھول گیا ہے بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مَیں نے اُسے بھول جانے کا فیصلہ کیا تھا۔‘‘
ایک مرتبہ جارج واشنگٹن کارور (George Washington Carver) کو سیاہ فام ہونے کی وجہ سے کالج میں داخلہ دینے سے اِنکار کر دیا گیا۔ اِس واقعے کے کئی سال بعد جب اُسے کالج کا نام پوچھا گیا تو اُس نے جواب دیا، ’’نام سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ محبت سب پر غالب آ گئی ہے۔‘‘
۱۷:۱۰ سمجھ دار اِنسان کے لئے سادہ سی تنبیہ احمق کو ملنے والی سخت سزا سے زیادہ اثر کرتی ہے۔ اکثر اوقات حساس لوگوں کو سخت ملامت کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن بے حس اور بے پروا لوگوں کو اِس کے بغیر احساس نہیں ہوتا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اُنہوں نے کوئی غلطی کی ہے۔
۱۷:۱۱ شریر آدمی بغاوت و سرکشی کرنے کی دُھن میں رہتا ہے۔ وہ جائز اِختیار کے تابع ہونے کو تیار نہیں ہوتا بلکہ اپنی مرضی پوری کرنے پر اَڑا رہتا ہے۔ اُس کے مقابلے میں جس سنگ دل قاصد کو بھیجا جائے گا شاید وہ حکمران کی طرف سے بھیجا جانے والا پولیس افسر ہے جس کو اُسے حراست میں لینے کے لئے بھیجا گیا ہے یا شاید وہ خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوا موت کا قاصد ہے۔
۱۷:۱۲ جس ریچھنی کے بچے چھین لئے گئے ہوں وہ بڑی خوں خوار ہوئی ہوتی ہے یہاں تک کہ اُس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اِتنی خطر ناک نہیں ہوتی جتنا کہ غصے میں بپھرا ہوا کوئی احمق۔ جب اُس کے ذہن میں کوئی حماقت آ جاتی ہے تو کوئی چیز بھی اُسے روک نہیں پاتی۔
۱۷:۱۳ جو کوئی بھی نیکی کے بدلے بدی کرتا ہے اُس کے گھر پر بدی کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔ داؤد نے اپنے وفادار سپاہی اُوریاہ کی وفاداری کا جواب بدی سے دیا اور یوں اپنے گھرانے پر مصیبت لانے کا سبب بنا (۲۔سموئیل ۱۲:۹،۱۰)۔
۱۷:۱۴ جب پشتہ میں سوراخ پڑ جاتا ہے تو پانی وہاں سے بڑی تیزی سے بہنا شروع کر دیتا ہے اور نتیجے میں سوراخ بڑا ہوتا جاتا ہے۔ لڑائی جھگڑے کے معاملے میں بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جھگڑے بہت تیزی سے بڑھ کر بڑی بڑی لڑائیاں بن جاتے ہیں۔ اِس لئے بہتر ہے کہ جب وہ چھوٹے ہوں تو اُنہیں فوراً ہی ختم کر دیا جائے، ورنہ اِمکان ہے کہ آپ جلد ہی کسی بڑی مشکل میں دھکیل دیئے جائیں۔
۱۷:۱۵ اِنصاف کے معاملے میں کسی قسم کے سمجھوتے سے خدا کو نفرت ہے۔ مجرم کو بے قصور قرار دے کر چھوڑ دینا یا بے قصور کو مجرم قرار دے کر سزا دینا دونوں اُس کی نظر میں مکروہ ہیں۔ ہمارے ملک کی عدالتیں اِس طرح کی بے اِنصافی سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن ہر اِنسان کو ایک دن خدا کے حضور اپنی کی گئی نااِنصافی کا حساب دینا ہو گا۔
۱۷:۱۶ وہ شخص بے وقوف ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے لئے بہت سے اخراجات برداشت کرے مگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد اُس کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔ علم کے حصول کے معاملے کے پیچھے دلی ترغیب کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اِس مثل کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ احمق کے اندر اگر سمجھ بوجھ کی صلاحیت نہیں ہے تو اُسے حکمت حاصل کرنے کے لئے روپیہ پیسہ خرچ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ حکمت کا حصول بازار سے روٹی خریدنے کی طرح نہیں ہے۔ جب تک دل حکمت کی طرف مائل نہیں اُس وقت تک روپیہ پیسہ کچھ نہیں کر سکتے۔
۱۷:۱۷ سچا دوست وہ ہے جو اچھے، بُرے دونوں وقت ساتھ دے۔ اکثر اوقات آڑے وقت میں ہی پتا چلتا ہے کہ سچا اور وفادار دوست کون ہے۔ اِسی لئے تو کہتے ہیں، ’’دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے۔‘‘ ’’بھائی مصیبت کے دن کے لئے پیدا ہوا ہے۔‘‘ بھائی ہونے کا یہی تو ایک بڑا استحقاق ہے کہ جب آپ کو کسی کی اشد ضرورت ہو تو وہ آپ کے ساتھ موجود ہو۔ اِس آیت میں یسوع کو تلاش کرنا مشکل نہیں ہے۔
۱۷:۱۸ یہ آیت اِس بات کو بیان کر کے کہ ہماری محبت بلا اِمتیاز نہیں ہونی چاہئے پچھلی آیت کے مفہوم کو متعین کرتی ہے۔ اُس شخص میں واضح طور پر اِمتیاز کی صلاحیت نہیں جو اپنے کسی دوست کا ضامن بن جاتا ہے اور وہ بھی ایسے دوست کا جس پر پورے طور پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی شخص جس کو ضمانت درکار ہو اِس بات کی علامت ہے کہ اُس کے معاملے میں نقصان ہونے کا امکان موجود ہے، لہٰذا اُس کی ضمانت کا خطرہ مول کیوں لیں؟
۱۷:۱۹ جو کوئی بھی بُرائی پسند کرتا ہے وہ جھگڑے کو بھی پسند کرے گا اور جو جھگڑے کو پسند کرتا ہے وہ بُرائی کو بھی۔ ’’اپنے دروازہ کو بلند کرنے والا‘‘ وہ شخص ہے جو
- گھمنڈی ہے
- بلند آواز سے اپنی دولت کی مشہوری کرتا ہے۔
- اپنے وسائل سے بڑھ کر عیش و آرام کی زندگی گزارتا ہے۔ یہ شخص ہلاکت کا طالب ہے۔
۱۷:۲۰ دھوکے باز دل کبھی فتح یاب نہیں ہوتا اور نہ دھوکے باز زبان ترقی کر پاتی ہے۔ وہ تو شرارت کو دعوت دیتے ہیں اور بھلائی کو خاطر میں نہیں لاتے۔
۱۷:۲۱ بے وقوف کے والدین غم میں زندگی گزارتے ہیں۔ احمق کا باپ ہونے میں والد کو کوئی خوشی نہیں ہے۔
۱۷:۲۲ یہاں ایک مرتبہ پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی ذہنی حالت کا اُس کے بیماری یا کسی حادثے سے شفا پانے میں کتنا اہم حصہ ہے۔ شادمان دل شفا پانے میں بہت ممدو معاون ثابت ہوتا ہے۔ افسردہ دلی اِنسان کی جان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ آج ڈاکٹر بڑے وثوق سے کہتے ہیں کہ ہنسنا صحت کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر قسم کا ہنسنا صحت کے لئے مفید نہیں ہے۔ امریکہ کے ایک ماہر نفسیات نے بتایا ہے کہ جب کسی کو طنزیا کسی قسم کے مذاق کا نشانہ بنا کر ہنسا جاتا ہے تو یہ ہنسنے والے اور جس پر ہنسا جاتا ہے دونوں کی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔
غم یا افسردگی جیسے جذبات آپ کو بیمار بھی کر سکتے ہیں۔ اِن کے منفی اثرات سے بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں، سر میں مسلسل درد رہتا ہے، ناک، کان اور گلے کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں، جلد کی بیماریاں لگ جاتی ہیں اور کئی مرتبہ تو دانت گرنے لگ پڑتے ہیں۔ اِسی طرح کے جذبات کی وجہ سے معدے کے امراض، اسقاطِ حمل اور دیگر کئی امراض آ گھیرتے ہیں۔
۱۷:۲۳ شریر آدمی پیٹھ پیچھے رشوت قبول کر کے عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
۱۷:۲۴ عقل مند آدمی اپنے سامنے یہ مقصد رکھتا ہے کہ اُس نے حکمت حاصل کرنی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے۔ احمق کے سامنے کوئی واضح مقصد نہیں ہوتا۔ حکمت کے حصول __ جس میں منظم زندگی کا ہونا بنیادی شرط ہے __ کے برعکس اُس کی آنکھیں اپنے خوابوں کی تکمیل میں اِدھر اُدھر پھرتی رہتی ہیں۔
۱۷:۲۵ والدین ہونے کا سب سے بڑا دُکھ یہ ہے کہ آپ کا فرزند آپ کے لئے صرف غم اور تلخی کا باعث بنتا ہے۔
۱۷:۲۶ اِس میں کوئی شک نہیں کہ راست بازوں کو سزا دینا اور شریفوں کو اُن کی شرافت کی وجہ سے مارنا سراسر غلط ہے۔ مگر افسوس کہ ہر روز اِنصاف کا اِسی طرح خون ہوتا ہے۔
۱۷:۲۷ صاحب علم آدمی کم بولے گا اور سمجھ دار شخص مستقل مزاج ہو گا۔ بلاتامل بولنا اور تندمزاجی بے سمجھ کردار کا خاصا ہیں۔
۱۷:۲۸ کہتے ہیں ’’پاگلوں کے سر سینگ نہیں ہوتے‘‘ مطلب یہ کہ اِنسان کے چہرے کو دیکھ کر نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی احمق ہے یا دانا۔ تاہم منہ کھولتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ کوئی کون ہے۔ کسی دانشور نے کہا:
’’منہ بند رکھ کر لوگوں پر ظاہر نہ کرنا کہ آپ احمق ہیں یا دانا اِس سے بہتر ہے کہ منہ کھول کر سب کے شکوک دُور کر دیں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ سلامتی کے ساتھ خشک نوالہ اِس سے بہتر ہے کہ گھر نعمت سے پُر ہو اور اُسکے ساتھ جھگڑا ہو۔
۲ عقلمند نوکر اُس بیٹے پر جو رُسوا کرتا ہے حکمران ہوگا اور بھائیوں میں شامل ہوکر میراث کا حصہ لیگا ۔
۳ چاندی کے لئے کٹھالی ہے اور سونے کے لئے بھٹی پر دِلوں کو خداوند پرکھتا ہے۔
۴ بدکردار جھوٹے لبوں کی سُنتا ہےاور دروغگو مفید زبان کا شنوا ہوتا ہے۔
۵ مسکین پر ہنسنے والا اُسکے خالق کی اِہانت کرتا ہے اور جو اَوروں کی مصبیت سے خوش ہوتا ہے بے سزا نہ چھوٹیگا ۔
۶ بیٹوں کے بیٹے بُوڑھوں کے لئے تاج ہیں اور بیٹوں کے فخر کا باعث اُنکے باپ دادا ہیں۔
۷ خوشگوئی احمق کو نہیں سجتی تو کس قدر کم دروغگوئی شریف کو سجیگی۔
۸ رِشوت جس ہاتھ میں ہے اُسکی نظر میں گران بہا جوہرہے اور وہ جدھر توجہ کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے۔
۹ جو خطا پوشی کرتا ہے دوستی کا جویان ہےپر جو اَیسی بات کو باربار چھیڑتاہے دوستوں میں جدائی ڈالتا ہے۔
۱۰ صاحب فہم پر ایک جھڑکی احمق پر سو کوڑوں سے زیادہ اثر کرتی ہے۔
۱۱ شریر محض سر کشی کا جویان ہے۔اُسکے مقابلہ میں سنگدل قاصد بھیجاجٓائیگا ۔
۱۲ جس ریچھنی کے بچے پکڑے گئے ہوں آدمی کا اُس سےدو چار ہونا اِس سے بہتر ہے کہ احمق کی حمایت میں اُس کے سامنے آئے ۔
۱۳ جو نیکی کے بدلے میں بدی کرتا ہےاُسکے گھر سے بدی ہرگز جُدا نہ ہوگی۔
۱۴ جھگڑے کا شروع پانی پھوٹ نکلنے کی مانند ہےاِسلئے لڑائی سے پہلے جھگڑے کو چھوڑدو۔
۱۵ جو شریر کو صادق اور جو صادق کو شریر ٹھہراتا ہے خداوند کو اُن دونوں سے نفرت ہے۔
۱۶ حکمت خریدنے کو احمق کے ہاتھ میں قیمت سے کیا فائدہ ہے حالانکہ اُسکا دِل اُسکی طرف نہیں ؟
۱۷ دوست ہر وقت محبت دِکھاتا ہے اور بھائی مصبیت کے دِن کے لئے پیدا ہوا ہے ۔
۱۸ بے عقل آدمی ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے اور اپنے ہمسایہ کے رُو بُرو ضامن ہوتا ہے۔
۱۹ فساد پسند خطا پسند ہے اور اپنے دروازہ کو بلند کرنے والا ہلاکت کا طالِب۔
۲۰ کج دِلا بھلائی کو نہ دیکھیگا اور جس زبان کجگو ہے مصیبت میں پڑ یگا ۔
۲۱ بیوقوف کے والد کے لئے غم ہے کیونکہ احمق کے باپ کو خوشی نہیں ۔
۲۲ شادمان دِل شفا بخشتا ہے لیکن افسردہ دِلی ہڈیوں کو خشک کر دیتی ہے۔
۲۳ شریر بغل میں رشوت رکھ لیتا ہے تاکہ عدالت کی راہیں بگاڑے ۔
۲۴ حکمت صاحب فہم کے رُو بُرو ہے لیکن احمق کی آنکھیں زمین کے کناروں پر لگی ہیں۔
۲۵ احمق بیٹا اپنے باپ کے لئے غم اور اپنی ماں کے لئے تلخی ہے۔
۲۶ صادق کو سزا دینا اور شریفوں کو اُنکی راستی کے سبب سے مارنا خوب نہیں ۔
۲۷ صاحبِ علم کم گو ہےارو صاحب فہم متین ہے۔
۲۸ احمق بھی جب تک کاموش ہے عقلمند گنا جٓاتا ہے۔جو اپنے لب بندرکھتا ہے ہوشیار ہے۔