و۔ حکمت ایک خاندانی خزانہ (۴: ۱۔۹)
۴:۱ پہلی ۹ آیات میں سلیمان اُس اچھی تلقین کو بیان کرتا ہے جو اُس کے باپ نے اُسے کی اور اپنے بچوں کو تاکید کرتا ہے کہ حقیقی بصیرت حاصل کرنے کے لئے پوری کوشش کرے۔ اَمثال کی کتاب میں نوجوان کو بہت زیادہ نصیحتیں دی گئی ہیں کہ وہ اپنے دانا باپ کی تعلیم کو سنے۔
۴:۲ ہم دین دار اور عمر رسیدہ لوگوں کے ساتھ دوستی قائم رکھنے سے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ ہم اُن سے بہت کچھ سیکھ سکتے اور اُن کے طویل تجربے سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ اُن کی تلقین اچھی ہے لہٰذا اسے نظر انداز نہ کریں۔
۴:۳ یہاں سلیمان اُس وقت کا حوالہ دیتا ہے جب وہ اپنے باپ کا بیٹا اور اپنی ماں کا اکلوتا اور لاڈلا تھا۔ درحقیقت وہ اکلوتا بیٹا نہیں تھا، شاید اِن الفاظ ’’اپنی ماں کی نگاہ میں اکیلا‘‘ کا یہ مطلب ہو کہ وہ اپنی ماں کا لاڈلا تھا۔
۴:۴ سلیمان کے باپ داؤد نے اپنے بیٹے کو سکھایا کہ اُس کی نصیحت اُس کے دل میں رہے اور یوں بامعنی زندگی گزارے۔ داؤد کی نصیحتوں کا خلاصہ آیات ۴ ب ۔۹ میں دیا گیا ہے۔
۴: ۵،۶ اُسے اِس بات کی سب سے زیادہ فکر تھی کہ اُس کا بیٹا حکمت اور فہم حاصل کرے۔ حکمت اور فہم ملنے کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ وہ خداوند کی خدمت میں زندگی گزارے۔ سلیمان کو یہ بات کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ صرف وہ زندگی جو خدا کی خدمت میں گزاری جائے بامقصد ہے۔
۴:۷ حکمت کے حصول کے لئے پہلا قدم تحریک اور عزم ہے۔ زندگی میں ہم جس چیز کا پیچھا کرتے ہیں، اُسے حاصل کر لیتے ہیں۔ ہمیں ہر قیمت پر حکمت کو حاصل کرنا چاہئے۔ اِس سے ہم فہم اور اِمتیاز کی روح حاصل کریں گے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم بدی اور نیکی، اچھائی اور بُرائی، جسمانی اور روحانی چیزوں اور فانی اور ابدی چیزوں میں اِمتیاز کر سکیں گے۔
۴:۸ اگر ہم اپنی ترجیحات میں حکمت کو اوّل مقام دیں، تو وہ ہمیں ترقی بخشے گی۔ اگر ہم محبت سے اُسے گلے لگائیں تو وہ ہمیں سرفراز کرے گی۔
۴:۹ حکمت اپنے فرزندوں کو اخلاقی خوبصورتی عطا کرتی ہے۔ اِس کا ایسی بدصورت زندگی سے موازنہ کریں جو عیاشی اور بداخلاقی میں گزاری جائے۔
ز۔ حکمت اور دو راستے (۴: ۱۰۔۲۷)
۴:۱۰ اپنے باپ کی نصیحت کے اِقتباس کے بعد سلیمان اب اپنے بیٹے کو نصیحت کرتا ہے۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ پاک اور صاف زندگی عمر کی درازی کا سبب بنتی ہے۔ غور فرمائیے کہ تمباکو نوشی، شراب نوشی اور جنسی گناہ براہِ راست بیماری اور بالآخر موت سے منسلک ہیں۔
۴:۱۱،۱۲ جب باپ بیٹے کو حکمت کی راہ سکھاتا اور اُس کے لئے باعث نمونہ بنتا ہے، تو یہ اُس کے اِطمینان کا باعث ہے۔ تاہم تعلیم اور نمونہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ باپ کے کام اُس کی باتوں کی نسبت زیادہ اثر رکھتے ہیں۔
جب بیٹا راہِ راست پر چلتا ہے تو وہ بغیر کسی رکاوٹ کے چلے گا اور بغیر ٹھوکر کھائےدوڑے گا۔
سریانی ترجمے میں یہ لکھا ہے: ’’جب تُو قدم بہ قدم چلے تو مَیں تیرے آگے راہیں ہموار کرتا چلوں گا۔‘‘ اِس میں دو اصول سکھائے گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ پورے منصوبے کو فوری طور پر ظاہر کرنے کی بجائے خدا قدم بہ قدم ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب ہم خدا کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو وہ ہماری مدد کرتا ہے۔ جہاز کا کپتان اُس وقت جہاز کو موڑ سکتا ہے جب اُس کا اِنجن چلایا گیا ہو۔ آپ سائیکل کا رُخ بھی اُسی طرف موڑ سکتے ہیں جب آپ اُسے چلائیں گے۔ ہمارے سلسلے میں بھی یہ حقیقت ہے۔ جب ہم خدا کی خاطر کچھ کرنے کے لئے نکل پڑتے ہیں تو وہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔
۴:۱۳ ہمیں اچھی تربیت کو مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہئے، اُسے جانے نہ دیں۔ اپنی زندگی کی طرح ہمیں حکمت کی بھی حفاظت کرنی چاہئے، کیونکہ یہ ہماری زندگی ہے، خاص طور پر جب ہم خداوند یسوع کی شخصیت میں حکمت کو مجسم دیکھتے ہیں۔
۴:۱۴ آیات ۱۴۔۱۹ میں شریروں کی صحبت سے آگاہ کیا گیا ہے اور تاریکی اور روشنی کی راہ کا موازنہ کیا گیا ہے۔
ناراستوں کے ساتھ رفاقت نہ رکھنے کے سلسلے میں نصیحت میں اِس بات سے منع نہیں کیا گیا کہ ہم اُنہیں اپنی گواہی نہ دیں، بلکہ اُن کے ساتھ اُن کے منصوبوں میں شرکت کے لئے منع کیا گیا ہے۔
۴:۱۵ اِن مختصر احکام میں فوری آگاہی کا تاثر ملتا ہے۔ گناہ کی زندگی سے گریز کریں۔ تفتیش کی خاطر بھی وہاں سے نہ گزریں۔ دوسری طرف سے نکل جائیں۔ چلتے جائیں۔ ممکن ہے کہ یہ زندگی دلچسپ، ہیجان خیز اور پُرجوش ہو، لیکن یہ بالآخر آپ کو تباہ کر دے گا۔
۴:۱۶،۱۷ گناہ کے پٹھو کو اُس وقت تک نیند نہیں آتی جب تک وہ بُرائی نہ کر لے۔ جب تک وہ کسی کو برباد نہیں کر لیتا وہ بے خوابی کا شکار رہے گا۔
شرارت کی روٹی اُن کی خوراک اور ظلم اُن کے لئے مے کی مانند ہے۔ یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شرارت اُن کا کھانا پینا ہے۔
یہ آیات اِنسان کی گناہ آلود فطرت کی خوف ناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ چونکہ گناہ اُن کی فطرت ہے، اِس لئے اُن کے جسم کے لئے کھانا پینا ہے۔
۴: ۱۸،۱۹ لیکن راست باز کی زندگی ایسی نہیں ہے۔ یہ طلوع سحر کی روشنی سے دوپہر کی روشنی تک بڑھتی ہی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں راست باز کی راہ ہمیشہ بہتر اور روشن ہوتی جاتی ہے۔
شریر گہری تاریکی میں لڑکھڑاتا ہے اور اُسے کچھ پتا نہیں کہ وہ کس چیز سے ٹھوکر کھا رہا ہے۔
۴:۲۰ سلیمان ابھی تک اپنے بیٹے کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ حکمت کے لئے اُس کی نصیحت پر توجہ کرے۔ ایسی آیت میں ہمیں خداوند کی آواز کو سننا چاہئے کہ وہ ہم سے ہم کلام ہے۔
۴:۲۱ اِس میں ہماری اپنی بہتری ہے کہ ہم حکمت کی تربیت کو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دیں، بلکہ اُسے اپنے دل میں رکھیں۔
۴:۲۲ حکمت کی باتیں زندگی بخش اور تخلیقی ہیں، جیسا کہ یسوع نے فرمایا، ’’جو باتیں مَیں نے تم سے کہی ہیں وہ روح ہیں اور زندگی بھی ہیں‘‘ (یوحنا ۶:۶۳)۔
وہ سارے جسم کے لئے صحت ہیں کیونکہ وہ اِنسان کو اُن گناہوں اور پریشانیوں سے مخلصی دیتی ہیں جو بیماری کا باعث بنتی ہیں۔
۴:۲۳ آیات ۲۳۔۲۷؛ رومیوں ۱۲:۱ سے مطابقت رکھتی ہیں۔ اِن میں ہم سے التجا کی گئی ہے کہ ہم اپنی پوری شخصیت، یعنی دل، منہ، ہونٹ، آنکھیں اور پاؤں خداوند کو پیش کریں۔ خدا باطنی اِنسانیت سے شروع کرتا ہے اور وہاں سے لے کر پوری اِنسانیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
سب سے پہلے دل ہے۔ یہ باطنی زندگی، ذہن، خیالات، مقاصد اور خواہشات کو پیش کرتا ہے۔ ذہن وہ چشمہ ہے جس سے ہمارے اعمال نکلتے ہیں۔ اگر چشمہ خالص ہے تو اِس سے نکلنے والی ندی بھی خالص ہو گی۔ جیسا اِنسان سوچتا ہے ویسا ہی وہ ہے۔ چنانچہ اِس آیت میں زندگی کے پاک خیالوں پر زور دیا گیا ہے۔
۴:۲۴،۲۵ ایک کَج گو منہ بددیانت اور جھوٹی گفتگو کی علامت ہے۔ دروغ گو لب ایک ایسی بات چیت کی نشان دہی کرتے ہیں جس میں دیانت داری اور صاف گوئی نہیں۔
وہ آنکھیں اور پلکیں جو سیدھی ہیں اور سامنے دیکھتی ہیں ایسی رفتار کو ظاہر کرتی ہیں جس کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے، یعنی جو گناہ اور ناجائز کام کے لئے اِدھر اُدھر نہیں دیکھتیں۔ اِس دَور میں جبکہ میڈیا کے ذریعے ہماری حیوانی خواہشات کو مسلسل بیدار کیا جا رہا ہے، لازم ہے کہ ہم اپنے خداوند کو تکتے رہنا سیکھیں (عبرانیوں ۱۲:۲)۔
۴:۲۶،۲۷ اگر ہم پاکیزگی کے راستے پر قائم رہنے کے لئے محتاط ہیں تو ہماری تمام راہیں ہموار اور محفوظ ہوں گی۔
زندگی کی شاہراہ پر دائیں، بائیں کئی گلیاں ہیں جو ہمیں گناہ کی طرف لے جاتی ہیں۔ خواہ ہمیں دُنیا کی ہزاروں آوازیں بلائیں، ہم اپنے خداوند سے وفادار رہیں۔
اگر آپ کسی غلط جگہ پر جانے کی آزمائش میں پڑ جائیں تو اپنے آپ سے سوال کریں؟ ’’کیا یسوع مجھے وہاں دیکھتے ہوئے خوش ہو گا؟‘‘ پاؤں کو بدی سے ہٹا لے۔
مقدس کتاب
۱ اَے میرے بیٹو!باپ کی تربیت پر کان لگاؤ اور فہم حاصل کرنے کے لئے توجہ کرو ۔
۲ کیونکہ میں تمکو اچھی تلقین کرتا ہوں۔تم میری تعلیم کو ترک نہ کرنا۔
۳ کیونکہ میں بھی اپنے کا بیٹا تھااور اپنی ماں کی نگاہ میں نازک اور اکیلا لاڈلا۔
۴ باپ نے مجھے سکھایا اور مجھ سے کہا میری بای تیرے دِل میں رہیں ۔ میرے فرمان بجا لااور زندہ رہ ۔
۵ حکمت حاصل کر ۔فہم حاصل کر ۔بھولنا مت اور میرے مُنہ کی باتوں سے بر گشتہ نہ ہونا ۔
۶ حکمت کو ترک نہ کرنا ۔وہ تیری حفاظت کر یگی ۔اُس سے محبت رکھنا ۔وہ تیری نگہبان ہو گی۔
۷ حکمت افضل اصل ہے ۔پس حکمت حاصل کر بلکہ اپنے تما م حاصلات سے فہم حاصل کر۔
۸ اُسکی تعظیم کر۔وہ تجھے سر فراز کر یگی ۔ جب تو اُسے گلے لگایئگا وہ تجھے عزت بخشیگی۔
۹ وہ تیرے سرپر زینت کا سہرا باندھیگی اور تجھ کو جمال کا تاج عطا کر یگی ۔
۱۰ اَے میرے بیٹے !سُن اور میری باتوں کو قبول کر اور تیری زندگی کے دِن بُہت سے ہونگے ۔
۱۱ میں نے تجھے حکمت کی راہ بتائی ہے اور راہِ راست پر تیری راہنمائی کی ہے
۱۲ جب تو چلیگا تیرے قدم کو تاہ نہ ہو نگے اور اگر تو دوڑے تو ٹھوکر نہ کھا یئگا ۔
۱۳ تربیت کو مضبوطی سے پکڑے رہ۔اُسے جٓانے نہ دے اُسکی حفاظت کر کیونکہ وہ تیری حیات ہے۔
۱۴ شریروں کے راستہ میں نہ جٓانا اور بُرے آدمیوں کی راہ میں نہ چلنا۔
۱۵ اُس سے بچنا ۔اُسکے پاس سے نہ گذرنا ۔ اُس سے مڑ کر آگے بڑھ جٓانا ۔
۱۶ کیونکہ وہ جب تک بُرائی نہ کر لیں سوتے نہیں۔اور جب تک کسی کو گرانہ دیں اُنکی نیند جٓاتی رہتی ہے۔
۱۷ کیونکہ وہ شرارت کی روٹی کھاتے اور ظلم کی مے پیتے ہیں۔
۱۸ لیکن صادقوں کی راہ نور سحر کی مانند ہے جٓسکی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جٓاتی ہے۔
۱۹ شریروں کی راہ تاریکی کی مانند ہے۔وہ نہیں جٓانتے کہ کن چیزوں سے اُنکو ٹھوکر لگتی ہے۔
۲۰ اَے میرےبیٹے !میری باتوں پر توجہ کر۔میرے کلام پر کان لگا ۔
۲۱ اُسکو اپنی آنکھ سے اوجھل نہ ہونے دے۔اُسکواپنے دِل میں رکھ ۔
۲۲ کیونکہ جو اِسکوپالیتے ہیں یہ اُنکی حیات اور اُنکے سارے جسم کی صحت ہے۔
۲۳ اپنے دِل کی خوب حفاطت کر کیونکہ زندگی کا سر چشمہ وہی ہے۔
۲۴ کجگومنہ تجھ سے الگ رہے۔دروغگولب تجھ سے دور ہوں۔
۲۵ تیری آنکھیں سامنے ہی نظر کریں اور تیری پلکیں سیدھی رہیں۔
۲۶ اپنے پاؤں کے راستے کو ہموار بنا اور تیری سب راہیں قائم رہیں ۔
۲۷ نہ دہنے مڑ نہ بائیں اور پاؤں کو بدی سے ہٹالے ۔