اِمثال ۲۲

۲۲:‏۱ نیک نام سے مراد اچھی شہرت ہے اور یہ اچھے کردار کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ ہر قسم کے خزانے سے بہتر ہے کیونکہ یہ زیادہ قیمتی‏، زیادہ طاقتور اور زیادہ مدت تک قائم رہنے والی چیز ہے۔ اِسی اصول کے تحت احسان سونے اور چاندی سے بہتر ہے۔ 

۲۲:‏۲ معاشرتی اِمتیاز مصنوعی چیز ہے کیونکہ ہم سب اِنسان ایک ہی خاندان یعنی آدم سے ہیں اور ہم سب کا خالق بھی ایک ہی ہے۔ زمینی زندگی میں نظر آنے والی معاشرتی درجہ بندی موت آنے پر ختم ہو جاتی ہے۔ 

۲۲:‏۳ ہوشیار آدمی سامنے دیکھتا ہے اور آنے والی مشکل کو دیکھ کر چھپ جاتا ہے۔ بنی اسرائیل نے فسح کے روز چوکھٹوں پر خون لگا کر ایسا ہی کیا۔ ہم بھی مسیح میں پناہ حاصل کر کے ایسا ہی کرتے ہیں۔ نادان مشکل کو دیکھ کر آگے چلتا رہتا ہے اور پھر اپنی اِس حماقت کا خمیازہ بھی اُٹھاتا ہے۔ 

۲۲:‏۴ فروتنی اور خداوند کا خوف بڑی خفیف اور عام سی خوبیاں معلوم ہوتی ہوں‏، لیکن اِن کو آزمائے بغیر ردّ نہ کریں۔ اِن کے صلے میں روحانی دولت‏، الٰہی عزت اور کثرت کی زندگی ملتی ہیں۔ 

۲۲:‏۵ کَج رَو کی زندگی میں ہر طرح کی مشکلات اور پریشانیاں آتی ہیں۔ جو اِنسان اپنے آپ کو سیدھی راہ پر رکھتا ہے وہ پریشانیوں اور مشکلات سے بچ جاتا ہے۔ 

۲۲:‏۶ اِس مثل کا مفہوم یہ ہے کہ لڑکے کی دُرست طریقے سے پرورش کریں اور نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بڑی عمر میں بھی اِس تربیت کو فراموش نہیں کرے گا۔ اِس میں شک نہیں کہ کبھی کبھی اچھی تربیت کے باوجود بچے غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں‏، مگر اِس کا ہرگز مطلب نہیں کہ ہمیں یہ اصول اپنانا نہیں چاہئے۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ اِس کو اپنانے ہی میں بھلائی ہے۔ والدین بچوں کی تربیت میں درج ذیل باتیں یاد رکھ سکتے ہیں:‏

  1. بچے کے اندر اپنی مرضی پوری کرنے کے رجحان کو ختم یا کم کرنے کی کوشش جاری رکھیں۔ یوں خدا کی راہنمائی اور مدد کے ساتھ اُس کی روح بچائیں۔
  2. جیسے ہی وہ بولنا شروع کرتا ہے اُسے دعا کرنا سکھائیں۔
  3. جب وہ کسی چیز کی ضد کرے تو اُس کے رونے چلانے کی وجہ سے اُسے وہی چیز دینے سے پرہیز کریں بلکہ اُسے اُس کی ضرورت کی اچھی چیز اُس وقت دیں جب وہ حلیمی سے اُس کی درخواست کرے۔
  4. جب وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لے تو سزا مت دیں۔ اِس طرح آپ اُسے جھوٹ بولنے سے باز رکھ سکتے ہیں۔
  5. اچھے چال چلن کی تعریف کریں اور اُسے انعام بھی دیں۔
  6. جو وعدے آپ نے کئے ہیں اُن پر سختی سے کاربند رہیں۔ 

اِس مثل کو اِس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ والدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اُن کی فطری صلاحیتوں کے مطابق تربیت کریں اور اپنی پسند یا مرضی کے پیشے یا ہنر اُن پر مسلط نہ کریں۔ یوں یہ آیت بچوں کی اِنفرادیت اور طبیعت کا احترام کرنا سکھاتی ہے‏، تاہم اِس میں اُن کی خود سر مرضی شامل نہیں۔ 

اِس آیت کو تنبیہ کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے کہ اگر آپ بچے کی اُس کی اپنی مرضی کے مطابق تربیت کریں گے تو وہ یقیناًاپنی خود غرضی میں ترقی کرتا جائے گا اور اپنی عادات خراب کرتا رہے گا۔ جے ایڈمز اِس کے بارے میں یوں لکھتا ہے:‏ 

یہ آیت وعدے کے طور پر نہیں بلکہ والدین کے لئے تنبیہ کے طور پر لکھی گئی ہے۔ اگر والدین بچے کو اُس کی خواہشات میں پروان چڑھنے دیں گے تو یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ بڑا ہو کر اپنی راہیں دُرست کر لے گا۔ بچے گناہ آلودہ فطرت لے کر پیدا ہوتے ہیں‏، لہٰذا جب اُنہیں اُن کی خواہشات کی پیروی کرنے کی اجازت دے دی جائے تو وہ فطری طور پر گناہ آلود عادتیں اپنائیں گے۔ بنیادی خیال یہ ہے کہ بچپن سے اپنائی جانے والی یہ عادات اِس قدر رچ بس جاتی ہیں کہ اُن کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔ 

۲۲:‏۷ دولت بڑی قوت ہے اور اِسے اچھے اور بُرے دونوں کاموں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اکثر اوقات امیر لوگ دولت کو بُرائی کے لئے استعمال کرتے ہیں‏، اِسی لئے کئی لوگ دولت کو بُرائی کی جڑ تصور کرتے ہیں۔ آیت کا دوسرا حصہ‏، ’’قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے‘‘ بتاتا ہے کہ قرض ایک طرح کی قید ہے۔ کئی مرتبہ قرض کے ساتھ سود کی ایک بڑی رقم بھی دینی پڑتی ہے۔ قرض لینے سے اِنسان کی آزادی محدود ہو جاتی ہے‏، جس کے نتیجے میں وہ کئی مرتبہ اچھے موقعوں سے فائدہ بھی نہیں اُٹھا پاتا۔ 

۲۲:‏۸ جو بدی بوتا ہے کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا۔ اگر وہ سمجھتا ہے کہ اپنے غصے سے بہت سے لوگوں کو اپنے تابع رکھ سکتا ہے تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔ 

۲۲:‏۹ یہاں نیک نظر سے مراد سخاوت کرنے والا شخص ہے۔ چونکہ وہ اپنی روٹی میں سے مسکینوں کو حصہ دیتا ہے اِس لئے وہ برکت پائے گا۔ اُس کو موجودہ زمانے میں بھی خوشی ملے گی اور آئندہ جہان میں بھی انعام۔ 

۲۲:‏۱۰ جب کوئی ٹھٹھے باز ہدایت‏، اصلاح اور نصیحت کی کوئی پروا نہیں کرتا تو اگلا قدم یہ ہے کہ اُسے نکال دیا جائے۔ جب اسمٰعیل کو گھر سے نکال دیا گیا تو لڑائی‏، جھگڑا اور ٹھٹھے بازی سب کچھ ختم ہو گیا (‏پیدائش ۲۱:‏۹‏،۱۰)‏۔

۲۲:‏۱۱ جو شخص دل کی پاکیزگی کو پسند کرتا ہے اور جس کی گفتگو شائستہ اور شیریں ہے وہ بادشاہ کا دوست ہونے کا حق حاصل کرتا ہے۔ یہاں بادشاہ سے مراد خدا ہو سکتا ہے۔ 

۲۲:‏۱۲ خداوند سچائی کے علم کی حفاظت کرتا ہے اور اِسے ابد تک قائم رکھتا ہے تاکہ ابلیس اور شریروں کی مخالفت کے باوجود یہ زمین پر سے کبھی ختم نہ ہو۔ وہی خداوند جھوٹی تعلیم کو نکال پھینکتا ہے اور جھوٹ کو منظر عام پر لاتا ہے۔ 

۲۲:‏۱۳ اگر سُست آدمی کو کام پر نہ جانے کا کوئی اَور بہانہ نہ ملے تو وہ اپنے آپ سے کوئی سبب گھڑ لیتا ہے خواہ یہ سبب کتنا ہی مضحکہ خیز کیوں نہ ہو۔ یہاں وہ کہہ رہا ہے‏، ’’باہر شیر کھڑا ہے۔ مَیں گلیوں میں پھاڑا جاؤں گا۔‘‘ ذرا سوچیں گلی محلے میں شیر کا کیا کام؟ شاید وہ بلی ہی کو شیر سمجھ بیٹھا ہے۔

۲۲:‏۱۴ بیگانہ عورت کی لبھانے والی باتیں پھندے کا سا کام کرتی ہیں __ ایسا پھندا جس سے بچ کر نکل جانا بہت مشکل ہے۔ خدا سے گمراہ شخص اِس میں آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خدا اکثر اُن لوگوں کو اُن کے گناہوں میں چھوڑ دیتا ہے جو خدا کے علم کو ردّ کر دیتے ہیں (‏دیکھیں رومیوں ۱:‏۲۴‏،۲۶‏،۲۸)‏۔

۲۲:‏۱۵ شرارت اور ضد بچے کے دل سے وابستہ ہیں۔ لیکن مناسب تربیت کے ذریعے اُسے کئی برائیوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ میتھیو ہنری کہتا ہے:‏ 

ضرورت اِس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی اصلاح کریں اور اُنہیں تربیت دیتے رہیں اور ہم سب کی ضرورت ہے کہ ہمارا آسمانی باپ ہماری تربیت کرتا رہے (‏عبرانیوں ۱۲:‏۶‏،۷)‏۔ خدا کی تربیت کے زیر سایہ ہمیں حماقتوں کو خدا حافظ کہتے رہنا چاہئے اور خدا کی چھڑی کی عزت کرنی چاہئے۔

۲۲:‏۱۶ کوئی بھی آجر (‏مالک)‏ جو اپنے کارکنوں کے پیسے کھا کر امیر ہوتا ہے وہ خود بھی محتاج ہو جائے گا۔ یہی حال اُس شخص کا ہو گا جو امیروں کو دیتا ہے تاکہ اُن سے کوئی فائدہ حاصل کر سکے۔ ہمیں تو اُن مسکینوں کی مدد کرنی چاہئے جو واپس نہیں دے سکتے۔ 

۴۔ داناؤں کی اَمثال (‏۲۲:‏۱۷۔۲۴:‏۳۴)‏

الف۔ داناؤں کی باتیں (‏۲۲:‏۱۷۔۲۴:‏۲۲)‏

۲۲:‏۱۷ آیات ۱۷۔۲۲ میں ۲۲:‏۲۲ تا ۲۴:‏۲۲ کا تعارُف پایا جاتا ہے۔ اِس تعارف میں قاری کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ داناؤں کی باتیں سنے۔ شاید سلیمان نے دوسرے دانا لوگوں کی اَمثال اکٹھی کر کے یہاں شامل کی ہوں‏، مگر آیت کے دوسرے حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن اَمثال میں سے کچھ اُس کی اپنی ہیں۔ 

۲۲:‏۱۸ ہر شخص کو یہ اَمثال دل میں رکھنی چاہئیں (‏اِن کو یاد رکھنا چاہئے اور اِن پر عمل کرنا چاہئے)‏ اور اِنہیں لبوں پر قائم رکھنا چاہئے۔ (‏دوسروں کو بتانی چاہئیں)‏۔

۲۲:‏۱۹ اِن اَمثال کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین خداوند پر توکل کریں۔ 

۲۲:‏۲۰ بعض عبرانی نسخوں کے مطابق اِس آیت کا ترجمہ اِس طرح بھی ہو سکتا ہے‏، ’’کیا مَیں نے تیرے لئے مشورت اور علم کی تیس باتیں اِس لئے نہیں لکھی ہیں کہ‘‘۔ اِس ترجمے کے مطابق بائبل مقدس کے کچھ علما ۲۴:‏۲۲ تک کی اَمثال کو تیس گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہمارے اُردو ترجمے کے مطابق ’تیس‘ کی بجائے ’لطیف‘ باتیں ہیں۔ لیکن بائبل سوسائٹی کے نئے اُردو ایڈیشن میں ۲۲:‏۲۲ سے لے کر ۲۴:‏۲۲ تک تیس اَمثال سرخی کے ساتھ دی گئی ہیں۔ 

 

۲۲:‏۲۳،۲۲ ۲۲:۲۳-‏۲۵
۲۴،‏۲۵ ۲۶-‏۲۸
۲۶،‏۲۷ ۲۹-‏۳۵
۲۸ ۱:۲۴،‏۲
۲۹ ۳،‏۴
۱:۲۳-‏۳ ۵،‏۶
۴:۲۳-‏۵ ۷
۶-‏۸ ۸،‏۹
۹ ۱۰
۱۰،‏۱۱ ۱۱:۲۴،‏۱۲
۱۲ ۱۳،‏۱۴
۱۳،‏۱۴ ۱۵،‏۱۶
۱۵:۲۳،‏۱۶ ۱۷،‏۱۸
۱۷،‏۱۸ ۱۹،‏۲۰
۱۹-‏۲۱ ۲۱،‏۲۲

۲۲:‏۲۱ اِن اَمثال کے مصنف کا مقصد یہ ہے کہ اُس کے شاگرد سچائی کی باتوں کو سیکھ کر اَوروں کو سکھا سکیں یا اُن کو بتا سکیں جنہوں نے اُنہیں بھیجا ہے۔ 

۲۲:‏۲۲‏،۲۳ اِن آیات سے اُس حصے کا آغاز ہوتا ہے جو ۲۴:‏۲۲ پر ختم ہوتا ہے۔ کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ نہتے مسکین پر زیادتی کرے اور نہ کسی کو مصیبت زدہ پر عدالت گاہ میں ظلم کرنے کا ہی حق ہے‏، کیونکہ خدا غریبوں کی وکالت کرتا ہے اور وہ ظالم امیروں اور بے اِنصاف قاضیوں کو سزا دیتا ہے۔ 

۲۲:‏۲۴‏،۲۵ غصہ ور آدمی سے دوستی رکھنا فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔ اِنسان جس صحبت میں رہتا ہے اُس کا اثر اُس پر ضرور ہوتا ہے۔ اِس طرح کا مزاج آپ کے لئے پھندا بھی بن سکتا ہے‏، کیونکہ غصے میں آ کر کئی مرتبہ اِنسان وہ کام بھی کر لیتا ہے جو اُس کی زندگی اور گواہی تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ 

۲۲:‏۲۶‏،۲۷ یہاں ہاتھ پر ہاتھ مارنے سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی کے قرض کے ضامن ہونے کو قبول کرتے ہیں اور تصدیق کے لئے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہیں۔ ایسا کام کرنا بے وقوفی ہے۔ اگر اُس کا سارا قرض ادا کرنے کے اہل نہیں تو یہ خطرہ مول لینے کی کیا ضرورت کہ کوئی آ کر آپ کا فرنیچر اُٹھا کر لے جائے اور یوں آپ اپنے آپ کو شرمندگی اور بے چینی میں مبتلا کر لیں۔ 

۲۲:‏۲۸ ’’قدیم حدود‘‘ پتھروں کی صورت میں وہ نشان تھے جو بتاتے تھے کہ کسی شخص کی اراضی کی حدود کیا ہیں۔ بددیانت لوگ رات کے اندھیرے میں پتھروں کو اُن کی جگہ سے ہٹا دیتے تھے تاکہ اپنے ہمسائے کی اراضی کو کم کر کے اپنی کو بڑھا لیں۔ 

روحانی مفہوم میں ’’قدیم حدود‘‘ سے مراد وہ ایمان ہے ’’جو مقدسوں کو ایک ہی بار سونپا گیا تھا‘‘ (‏یہوداہ ۳ آیت)‏۔ مسیحی ایمان کی بنیادی تعلیم کو آگے پیچھے نہیں کرنا چاہئے۔

۲۲:‏۲۹ جو کوئی بھی اپنے دل کو دل و جان سے کر کے اچھے نتائج حاصل کرتا ہے وہ عزت کے مقام پر سرفراز کیا جائے گا۔ وہ کم قدر لوگوں کی خدمت نہیں کرے گا بلکہ بادشاہ کی۔ یہ ایک اچھی یاد دہانی ہے کہ وفادار اور ایمان دار لوگ کیسے ترقی کر جاتے ہیں۔ یوسف‏، موسیٰ‏، دانی ایل اور نحمیاہ اِس کی اچھی مثالیں ہیں۔ 

مقدس کتاب

۱ نیک نام بے قیاس خزانہ سے اور اِحسان سونے چاندی سے بہتر ہے۔
۲ اِمیروغریب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔اُن سب کا خالق خداوند ہی ہے
۳ ہو شیار بلا کو دیکھکر چھپ جٓاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جٓاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔
۴ دولت اور عزت وحیات خداوند کے خوف اور فروتنی کا اجر ہیں۔
۵ کجرو کی راہ میں کانٹے اور پھندے ہیں جو اپنی جٓان کی نگہبانی کرتا ہے اُن سے دُور رہیگا۔
۶ لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جٓانا ہے۔وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔
۷ مالدار مسکین پر حکمران ہوتا ہے اور قرض لینے والا قرض دینے والے کا نوکر ہے۔
۸ جو بدی بوتا ہے مصیبت کاٹیگا اور اُسکے قہر کی لاٹھی ٹوٹ جٓائیگی ۔
۹ جونیک نظر ہے برکت پائیگاکیونکہ وہ اپنی روٹی میں سے مسکینوں کو دیتا ہے۔
۱۰ ٹھٹھا کرنے واے کا نکال دے توفساد جٓاتا رہیگا۔ہاں جھگڑارگڑ اور رسوائی دُور ہو جٓائینگے ۔
۱۱ جو پاک دِلی کو چاہتا ہے اُسکے ہونٹوں میں لطف ہے اور بادشاہ اُسکا دوستدار ہوگا۔
۱۲ خداوند کی آنکھیں علم کی حفاظت کرتی ہیں۔وہ دغابازوں کے کلام کو اُلٹ دیتا ہے۔
۱۳ سست آدمی کہتا ہے باہر شیر کھڑا ہے۔میں گلیوں میں پھاڑا جٓاونگا۔
۱۴ بیغانہ عورت کا منہ گہرا گڑھا ہے۔اُس میں وہ گرتا ہے جس سے خداوند کو نفرت ہے۔
۱۵ حمایت لڑکے کے دِل سے وابستہ ہے لیکن تربیت کی چھڑی اُسکو اُس سے دور کر دیگی ۔
۱۶ جو اپنے فائدہ کے لئے مسکین پر ظلم کرتا اور جو مالدار کو دیتا ہے یقیناًمحتاج ہوجٓایئگا ۔
۱۷ اپنا کان جھکا اور داناوں کی باتیں سن اور میری تعلیم پر دِل لگا
۱۸ کیونکہ یہ پسندیدہ ہے کہ تو اُنکو اپنے دِل میں رکھے اور وہ تیرے لبوں پر قائم رہیں۔
۱۹ تاکہ تیرا توکل خداوند پر ہو میں نے آج کےدِن تجھ کو ہاں تجھ ہی کو جتا دِیا ہے ۔
۲۰ کیا میں نے تیرے لئے مشورت اور علم کی لطیف باتیں اِسلئے نہیں لکھی ہیں کہ
۲۱ سچائی کی باتوں کی حقیقت تجھ پر ظاہر کردوں تاکہ تو سچی باتیں حاصل کرکے اپنے بھیجنے والوں کے پاس جٓائے؟
۲۲ مسکین کو اِسلئے نہ لوٹ کہ وہ مسکین ہے اور مصیبت زدہ پر عدالتگاہ میں ظلم نہ کر
۲۳ کیونکہ خداوند اُنکی وکالت کریگااور اُنکے غار تگروں کی جٓان کو غارت کریگا۔
۲۴ غصہ ور آدمی سے دوستی نہ کر اور غضبناک شخص کے ساتھ نہ جٓا۔
۲۵ مباداتو اُسکی روشیں سیکھےاور اپنی جٓان کو پھندے میں پھنسا ئے ۔
۲۶ تو اُن میں شامل نہ ہوجو ہاتھ ہر ہاتھ مارتے ہیں۔اور نہ اُن میں جو قرض کے ضامن ہوتے ہیں۔
۲۷ کیونکہ اگر تیرے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ ہو تو وہ تیرا بستر تیرے نیچے سے کیوں کھینچ لیجائے؟
۲۸ اُن قدیم حدود کو نہ سرکا جو تیرے باپ دادا نے باندھی ہیں۔
۲۹ تو کسی کو اُسکے کام میں محنتی دیکھتا ہے؟وہ بادشاہوں کے حضورکھڑاہوگا۔وہ کم قدر لوگوں کی خدمت نہ کر یگا ۔