۱۹:۱ یہاں غریب جو دیانت دار اور ٹیڑھی بات کرنے والا (شاید امیر بھی ہو) جو احمق ہے کے درمیان موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ پہلا دوسرے سے بہتر ہے۔
۱۹:۲ ’’یہ بھی اچھا نہیں کہ روح علم سے خالی رہے۔‘‘ یہ وہ شخص ہے جس کو معلوم ہے کہ اُس نے کیا کرنا ہے، مگر یہ معلوم نہیں کہ کیسے کرنا ہے۔ اِس لئے وہ مناسب تیاری اور سوچ بچار کے بغیر قدم اُٹھاتا ہے۔
جلد بازی محض مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ جلدباز کو اِتنی جلدی ہوتی ہے کہ وہ ہدایات حاصل کرنا گوارا ہی نہیں کرتا یا وہ ہدایات کو دھیان ہی میں نہیں لاتا۔ اِس لئے وہ درست راہ سے بھٹک جاتا ہے اور اِدھر اُدھر وقت ضائع کرتا رہتا ہے۔
۱۹:۳ اِنسان اپنی زندگی کا ستیاناس کر کے خداوند کو الزام دیتا ہے۔ آدم نے اِن الفاظ میں سارا الزام خدا پر تھوپنے کی کوشش کی: ’’جس عورت کو تُو نے میرے ساتھ کیا ہے …‘‘ (پیدائش ۳:۱۲)۔ جب بھی کوئی خدا سے منحرف ہو جاتا ہے تو اِس کے پیچھے کوئی نہ کوئی اخلاقی گناہ ہوتا ہے۔ ایک شخص کسی قسم کی بدکاری کا مرتکب ہوتا ہے اور پھر گناہ کا اِقرار کر کے اُسے ترک کرنے کے بجائے وہ مسیحی ایمان سے پھر جاتا ہے اور اُلٹا خداوند سے ناراض ہو جاتا ہے۔
۱۹:۴ یہ حقیقت کہ دولت بہت سے دوست پیدا کرتی ہے اِنسانی دل کی موروثی خود غرضی کا واضح ثبوت ہے۔ دوسری طرف غریب کے اپنے دوست اُسے چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ ایسے لوگوں کی تلاش میں ہیں جو اُن کو فائدہ پہنچا سکیں۔
۱۹:۵ جو کوئی بھی جھوٹی گواہی دیتا ہے یا دیگر اقسام کی بدعنوانی کرتا ہے یقیناًخداوند سے سزا پائے گا، خواہ وہ ساری زندگی پکڑا نہ بھی جائے۔
۱۹:۶ بہت سے لوگ فیاض (سخی دل) سے دوستی بڑھانا چاہتے ہیں، اِس اُمید پر کہ اُنہیں کوئی نہ کوئی مراعات حاصل ہو گی۔ عام طور پر لوگ اُن کو دوست بنانا چاہتے ہیں جن سے اُنہیں فائدے کی توقع ہوتی ہے۔
۱۹:۷ جب غریب آدمی کے رِشتے دار ہی اُسے چھوڑ جاتے ہیں تو اُس کے دوست احباب تو لازماً اُس سے کنارہ کشی کریں گے۔ وہ اُن سے رحم و ہمدردی کی اپیل کرتا ہے، لیکن وہ اُس کو گھاس نہیں ڈالتے۔
۱۹:۸ حکمت حاصل کرنا نہایت نفع کی بات ہے۔ اِس میں اپنی جان کی حفاظت ہے۔ اِسی طرح فہم کا حصول کامیابی کی یقین دہانی ہے۔
۱۹:۹ ہمیں جھوٹے گواہ کا بار بار ذِکر دیکھ کر حیران نہیں ہونا چاہئے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ دس احکام میں سے ایک حکم جھوٹی گواہی نہ دینے کے بارے میں ہے (خروج ۲۰:۱۶)۔
۱۹:۱۰ ناز و نعمت یا آرام و آسائش احمق کے لئے جائز نہیں۔ اُس کو تہذیب اور ثقافت اور عمدہ ماحول میں اُٹھنا بیٹھنا نہیں آتا۔ بالکل اِسی طرح خادم کو بھی اِختیار کی جگہ پر کام کرنا نہیں آتا۔ حکمران کی جگہ لینے پر وہ اپنے بڑوں کے ساتھ بڑی بدتمیزی سے پیش آتا ہے۔
۱۹:۱۱ تمیزدار آدمی اپنے غصے پر قابو پانا جانتا ہے۔ جب کوئی اُس کو دُکھ دیتا ہے تو وہ بڑی مہربانی سے درگزر کر لیتا ہے۔ ساؤل بادشاہ کے لئے داؤد نے جس کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا وہ اِس مثل کو خوب واضح کرتا ہے۔
۱۹:۱۲ بادشاہ کا قہر شیر ببر کی طرح گرجتا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بتاتا ہے کہ آگے خطرہ ہے۔ فرماں بردار رعایا کے لئے اُس کی نظر عنایت گھاس پر شبنم کی مانند ہے۔ رومیوں ۱۳:۱۔۷ میں حکومتی اِختیار اور خبرداری کے دونوں اجزا پائے جاتے ہیں۔ ’’پس تابع دار رہنا نہ صرف غضب کے ڈر سے ضرور ہے بلکہ دل بھی یہی گواہی دیتا ہے‘‘ (آیت ۵)۔
۱۹:۱۳ خاندانی زندگی میں دو باتیں زندگی کو اجیرن بنا دیتی ہیں: احمق یا نافرمان بیٹا اور جھگڑالو بیوی۔ نافرمان بیٹا باپ کے لئے دُکھ کا باعث ہوتا ہے اور جھگڑالو بیوی ٹوٹی سے پانی ٹپکنے کی طرح مسلسل دِق کرتی رہتی ہے۔
۱۹:۱۴ آپ اپنے باپ سے بہت سی جائیداد وراثت میں حاصل کر سکتے ہیں، لیکن صرف خداوند ہی ہے جو دانش مند بیوی عطا کر سکتا ہے۔
یہ آیت ہمیں اضحاق اور رِبقہ کی شادی کا واقعہ یاد دلاتی ہے، جس کے بارے میں بائبل کہتی ہے، ’’یہ بات خداوند کی طرف سے ہوئی ہے‘‘ (پیدائش ۲۴:۵۰)۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اِس شادی کا خدا نے آسمان پر اِنتظام کیا۔
۱۹:۱۵ سُستی اُس نشے کی مانند ہے جو گہری نیند میں ڈالتا ہے۔ سُست آدمی غربت کے آگے پیچھے پھرتا ہے اور بھوک و افلاس برداشت کرے گا۔
۱۹:۱۶ جو خداوند کے احکام کی پیروی کرتا ہے وہ اپنی جسمانی اور روحانی زندگی کے لئے بہترین کام کر رہا ہے۔ لیکن جو بے پروائی سے کام لیتا ہے وہ مرے گا۔
۱۹:۱۷ غریب کی مدد کرنا خدا کو قرض دینے کے برابر ہے۔ خدا نہ صرف قرض واپس کرے گا بلکہ پورا پورا نفع بھی ادا کرے گا۔ اُس کے نام میں کسی کو ایک پیالہ پانی پلانے کا بھی اجر ملے گا (متی ۱۰:۲۴)۔
ایک مرتبہ ایک باپ نے اپنے بیٹے کو پچاس روپے دئیے اور کہا ’’جو تمہاری مرضی میں آئے کرو۔‘‘ بعد ازاں باپ نے بیٹے سے پچاس روپے کی بابت دریافت کیا تو بیٹے نے بتایا کہ اُس نے وہ پیسے کسی کو قرض دیئے ہیں۔ باپ نے کہا، ’’تم نے یہ یقین تو کر لیا تھا کہ قرض لینے والا شخص قرض واپس کر دے گا؟‘‘ بیٹے نے جواب دیا، ’’ہاں مَیں نے وہ پیسے ایک فقیر کو دے دیئے۔‘‘ باپ نے برہم ہو کر کہا، ’’کہ بے وقوف لڑکے، یہ پیسے تمہیں کبھی واپس نہیں ملیں گے۔‘‘ بیٹے نے اعتراضاً کہا، ’’مگر ابا جان اِس قرض کی ادائیگی تو نہایت یقینی ہے، کیونکہ بائبل مقدس میں لکھا ہے کہ جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے خداوند کو قرض دیتا ہے۔‘‘ بیٹے کا جواب سن کر اُس ایمان دار باپ کو بڑی خوشی ہوئی اور اُس نے ایک اَور پچاس روپے کا نوٹ نکال کر بیٹے کو دیا۔ بیٹے نے کہا، ’’ مَیں نے ٹھیک کہا تھا نا کہ خدا اس کی ادائیگی ضرور کر دے گا۔ صرف یہ معلوم نہیں تھا کہ اِس کی ادائیگی اِتنی جلدی آپ کے ذریعے ہو گی۔‘‘
۱۹:۱۸ جب بچہ تربیت کرنے کی عمر میں ہے تو اُس کی تادیب و تربیت کرتے جائیں۔ سچی محبت کے تحت دی گئی جسمانی سزا بچے کو نقصان نہیں پہنچائے گی بلکہ اُس کے لئے بے پناہ بھلائی کا باعث ہو گی۔ دوسرے حصے ’’اُس کی بربادی پر دل نہ لگا‘‘ سے مراد ہے کہ اُس کی تادیب نہ کر کے اُس کی بربادی کا باعث نہ بن۔ اِس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اِتنا زیادہ بھی غصے میں نہ آ کہ تُو اُسے حد سے زیادہ سزا دے دے۔
۱۹:۱۹ بہت زیادہ غصہ کرنے والا شخص اپنے مزاج کی وجہ سے سزا پائے گا۔ اگرچہ تُو اُسے اُس کے بے لگام غصے کے نتائج بھگتنے سے رہائی بھی دلا دے تو بھی کچھ فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ بہت جلد وہ وہی کچھ کرے گا۔
۱۹:۲۰ اچھے مشورے کو دھیان سے سن اور اِبتدائی عمر میں ہی تربیت حاصل کر تاکہ عمر کے اگلے حصے میں جا کر تُو دانا ہو جائے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے، ’’دانائی ایک طویل المیعاد منافع کی سرمایہ کاری ہے۔‘‘
۱۹:۲۱ اِنسان ہر قسم کے منصوبے تیار کرتا ہے، لیکن آخرکار صرف خداوند ہی کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ اِنسان تو بدی کا ارادہ باندھتا ہے مگر خدا اُس سے ہی بھلائی پیدا کر لیتا ہے۔ حالات خواہ کچھ بھی ہوں اِنسان حق کے برخلاف کچھ نہیں کر سکتے مگر صرف حق کے لئے کر سکتے ہیں (۲۔کرنتھیوں ۱۳:۸)۔
۱۹:۲۲ اِنسان کے مہربان ہونے کی خوبی اُسے ہر دل عزیز بناتی ہے۔ ایک غریب آدمی جو اِس خوبی کا مالک ہو اگرچہ اُس کی جیب میں دینے کے لئے کچھ بھی نہ ہو اُس امیر آدمی سے بہتر ہے جو مدد کا وعدہ تو کرے مگر مدد کبھی بھی نہ کرے۔
۱۹:۲۳ خداوند کا خوف زندگی کی شاہراہ ہے۔ جس کے دل میں یہ خوف ہو کوئی وجہ نہیں کہ وہ مطمئن اور خوش نہ رہے۔ بدی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔
۱۹:۲۴ یہ سُستی کی اِنتہا ہے کہ سُست آدمی تھالی میں ہاتھ ڈالے مگر اپنی کاہلی کی وجہ سے وہ اِتنا بھی نہیں کرتا کہ کھانا اُٹھا کر منہ تک لے جائے۔ یہ کام بھی اُس کے لئے بہت بھاری ہو جاتا ہے۔
۱۹:۲۵ اگر کسی ٹھٹھے باز کو ماریں گے تو وہ تبدیل تو نہیں ہو گا، لیکن کم از کم سمجھ دار لوگ جو اُس کو مار پڑتے دیکھیں گے وہ ضرور سبق حاصل کریں گے۔ یہ آیت تیمتھیس ۵:۲۰ کی واضح یاد دلاتی ہے، ’’گناہ کرنے والوں کو سب کے سامنے ملامت کر تاکہ اَوروں کو بھی خوف ہو۔‘‘
سمجھ دار آدمی کو مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ محض تنبیہ ہی اُسے غلطی درست کرنے کی طرف لے جائے گی اور اِس دوران وہ مزید سمجھ دار ہو جائے گا۔
۱۹:۲۶ وہ بیٹا جو اپنے باپ سے بدسلوکی کرتا ہے اور ماں کو گھر سے نکال دیتا ہے نہ صرف اپنے لئے شرمندگی اُٹھائے گا بلکہ اپنے شکستہ دل والدین کے لئے بھی دُکھ اور بے عزتی کا باعث ہو گا۔ وہ اپنے والدین کی مہربانیوں کا کتنا ناشکرا ہے۔
۱۹:۲۷ یہ مثل ہیرے کی مانند ہے __ ہر طرف سے روشن اور چمکتی ہوئی۔ اگر عمل پیرا ہی نہیں ہونا تو اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ! تم اپنا اور اپنے اُستادوں کا وقت ضائع کر رہے ہو اور اپنے احساسِ جرم کو بڑھا رہے ہو۔
۱۹:۲۸ بدنیت گواہ عدل کا مذاق اُڑاتا ہے مگر صرف اُس وقت تک جب تک وہ خود کٹہرے میں ملزم کے طور پر کھڑا نہیں ہوتا۔ وہ بڑے لالچ کے ساتھ برائی کو پھیلاتا ہے۔ اِس کا حال اُس شخص کا سا ہے جس کے بارے میں الیفز تیمانی نے کہا، ’’وہ آدمی جو بدی کو پانی کی طرح پیتا ہے‘‘ (ایوب ۱۵:۱۶)۔
۱۹:۲۹ بظاہر ٹھٹھاباز اور احمق بڑے خوش و خرم اور کامیاب نظر آتے ہیں، لیکن عدالت اور سزا اُن پر آنے والی ہے۔ جیسے ہی اُن کا وقت پورا ہو جائے گا اُن کی ناگزیر عدالت اُن پر آ جائے گی۔
مقدس کتاب
۱ راست رو مسکین کجگواور احمق سے بہتر ہے۔
۲ یہ بھی اچھانہیں کہ روح علم سے خالی رہے۔جو چلنے میں جلد بازی کرتا ہے بھٹک جٓاتا ہے۔
۳ آدمی کی حمایت اُسے گمراہ کرتی ہےاور اُسکا دِل خداوندسے بزیر ہوتا ہے۔
۴ دولت بہت سے دوست پیدا کرتی ہے پر مسکین اپنے ہی دوست سے بغیانہ ہے۔
۵ جھوٹا گواہ بے سزا نہ چھوٹیگا اور جھوٹ بولنے والا رہائی نہ پائیگا۔
۶ بہتیرے لوگ فیاض کی خوشامد کرتے ہیں اور ہر ایک آدمی اِنعام دینے والے کا دوست ہے۔
۷ جب مسکین کے سب بھائی ہی اُس سے نفرت کرتے ہیں تو اُسکے دوست کتنے زیادہ اُس سے دُور بھاگینگے!وہ باتوں سے اُنکا پیچھاکرتا ہے پر اُنکو نہیں پاتا۔
۸ جو حکمت حاصل کرتا ہے اپنی جٓان کو عزیز رکھتا ہے۔جو فہم کی محافظت کرتا ہے فائدہ اُٹھایئگا۔
۹ جھوٹاگواہ بےسزا نہ چھوٹیگااور جو جھوٹ بولتا ہے فنا ہوگا۔
۱۰ جب احمق کے لئے نازونعمت زیبا نہیں تو خادم کا شہزادوں پر حکمران ہونا اور بھی نامناسب ہے۔
۱۱ آدمی کی تمیز اُسکو قہر کرنے میں دِھیما بناتی ہے۔اور خطا سے درگذر کرنے میں اُسکی شان ہے۔
۱۲ بادشاہ کا غضب شیر کی گرج کی مانند ہے اور اُسکی نظر عنایت گھاس پر شبنم کی مانند۔
۱۳ احمق بیٹا اپنے باپ کے لئے بلا ہےاور بیوی کا جھگڑارگڑاسدا کا ٹپکا۔
۱۴ گھر اور مال تو باپ دادا سے میراث میں ملتے ہیں لیکن دانشمند بیوی خداوند سے ملتی ہے۔
۱۵ کاہلی نیند میں غرق کر دیتی ہے اور کاہل آدمی بھوکا رہیگا ۔
۱۶ جو فرمان بجا لاتا ہے اپنی جٓان کی محافظت کرتا ہے پر جو اپنی راہوں سے غافل ہے مریگا ۔
۱۷ جو مسکینوں پر رحم کرتا ہےخداوند کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پایئگا ۔
۱۸ جب تک اُمید ہے اپنے بیٹے کی تادِیب کئے جٓااور اُسکی بربادی پر دِل نہ لگا۔
۱۹ شیدید الضغب آدمی سزا پائیگا۔کیونکہ اگر تو اُسے رہائی دے تو مجھے باربار اَیسا ہی کرنا ہوگا۔
۲۰ مشورت کو سُن اور تربیت پذیر ہو تاکہ توآخر کار دانا ہوجٓائے ۔
۲۱ آدمی کے دِل میں بہت سے منصوبے ہیں لیکن صرف خداوند کا اِرادہ ہی قائم رہیگا ۔
۲۲ آدمی کی مقبولیت اُسکے اِحسان سے ہے اور کنگال جھوٹے آدمی سے بہتر ہے۔
۲۳ خداوند کا خوف زندگی بخش ہے۔اور خدا ترس سیر ہو گا اور بدی سے محفوظ رہیگا۔
۲۴ سست آدمی اپنا ہاتھ تھالی میں ڈالتا ہے اور اتنا بھی کرتا کہ پھر اُسے اپنے منہ تک لائے ۔
۲۵ ٹھٹھا کرنے والے کو مار۔اِس سے سادہ دِل ہوشیار ہوجٓایئگا اور صاحب فہم کو تنبیہ کر۔وہ علم حاصل کر یگا۔
۲۶ جو اپنے باپ سے بد سلوکی کرتا اور ماں کو نکال دیتا ہے خجالت کا باعث اور رسوائی لانے والا بیٹا ہے۔
۲۷ اَے میرے بیٹے !اگر تو علم سے برگشتہ ہوتا ہے تو تعلیم سُننے سے کیا فائدہ ؟
۲۸ خبیث گواہ عدل پر ہنستا ہے اور شریر کا منہ بدی نگلتا رہتا ہے
۲۹ ٹھٹھا کرنے والوں کے لئے سزائیں ٹھہرائی جٓاتی ہیں اور احمقوں کی پیٹھ کے لئے کوڑے ہیں۔