۲۱:۱ جس طرح نہر کی سمت پانی کے بہاؤ کا تعین کرتی ہے اُسی طرح خداوند بھی بادشاہ کے خیالات اور افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ آیت اُن مسیحیوں کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہے جو ظالم حکومت کے تحت زندگی گزار رہے ہیں یا اُن مشنریوں کے لئے بھی جو مخالف ماحول میں انجیل کی خوش خبری لے جا رہے ہیں۔
۲۱:۲ اِنسان تو اپنی زندگی اور خدمات کی عدالت کرنے کا بھی اہل نہیں، کیونکہ وہ تو محض جو سامنے ہے اُسے دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ صرف خدا دل کے ارادوں اور سوچوں کو جانچ لیتا ہے، اِس لئے وہ اِنصاف کرنے کا مجاز ہے۔
۲۱:۳ خداوند سوختنی قربانی کی نسبت اپنے حکموں کی فرماں برداری سے زیادہ خوش ہوتا ہے (۱۔سموئیل ۱۵:۲۲)۔
خدا رسموں کی پیروی کا قائل نہیں ہے۔ وہ باطنی سچائی کو پسند کرتا ہے۔
۲۱:۴ اِس مثل میں تین باتوں کا ذِکر ہے جو خدا کی نظر میں گناہ ہیں: بلند نظری یعنی خود پسندی کا برملا اِظہار، متکبر دل اور شریروں کی اقبال مندی۔ اِس سے مراد اُن کی معاشی ترقی، خوشی، زندگی اور اُمید بھی ہو سکتی ہے۔
۲۱:۵ یہاں محنت سے روزی کمانے والوں کا موازنہ راتوں رات امیر ہونے کی جستجو کرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ اوّل الذکر کے لئے فراوانی کا وعدہ ہے اور موخرالذکر کے لئے غربت و محتاجی کا۔
۲۱:۶ جو دھوکا دہی کر کے اور جھوٹ بول کر دولت حاصل کرنے کے چکر میں ہیں وہ ہوا کو قید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ فریب کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور اُن کا انجام ہلاکت ہو گا۔ اُن کی حالت ریگستان کے مسافر کی طرح کی ہے جو سراب کے پیچھے دوڑتا ہے، لیکن انجام موت ہے۔
۲۱:۷ ’’شریروں کا ظلم اُن کو اُڑا لے جائے گا کیونکہ اُنہوں نے اِنصاف کرنے سے اِنکار کیا۔‘‘ پوری کائنات میں ایک اخلاقی اصول کارفرما ہے جو اِس بات کی ضمانت ہے کہ ظلم بدکاری اور نااِنصافی کبھی بھی سزا سے راہِ فرار حاصل نہیں کر سکتے، کبھی بھی نہیں۔
۲۱:۸ احساسِ جرم اِنسان کو جھوٹ بولنے، چھپانے، ڈرنے اور دھوکا دینے کے لئے ورغلاتا ہے۔ لیکن جس شخص نے اِقرار کر کے اپنے گناہوں کو ترک کر دیا ہے اُس کو کوئی بھی ایسا کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ نور میں چل سکتا ہے۔
۲۱:۹ یہ مثل بتاتی ہے کہ گھر کی چھت کے کسی کونے میں بیٹھ کر گرمی، سردی، برسات وغیرہ برداشت کرنا جھگڑالو بیوی کے ساتھ کشادہ گھر میں رہنے سے بہتر ہے۔
۲۱:۱۰ شریر آدمی ہمیشہ بُرے منصوبے بناتا رہتا ہے اور ہمسائے کے لئے اُس کے دل میں کوئی ہمدردی نہیں۔ اِس لئے اُس کا گناہ دیدہ دانستہ بھی ہے اور رحم سے خالی بھی۔ اپنے جرم کو جائز ثابت کرنے کے لئے خواہ وہ کسی بھی قسم کا جدید معاشرتی عذر پیش کرے، اُن میں سے کوئی بھی عذر قابلِ قبول نہیں ہو گا۔
۲۱:۱۱ اگرچہ ٹھٹھاباز ملنے والی سزا سے کوئی سبق حاصل نہ کرے لیکن سادہ دل شخص اُس کی سزا کو دیکھ کر ہی تنبیہ پکڑے گا۔ دانا شخص کو سزا دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ تو محض سادہ ہدایات ہی سے سبق سیکھ لیتا ہے۔
۲۱:۱۲ صادق شریر کے معاملات پر نظر لگائے رکھتا ہے کیونکہ شریر کی زندگی میں وہ وقت آتا ہے جب خدا اُسے برباد کرتا ہے۔
۲۱:۱۳ لوقا ۱۶:۱۹۔۳۱ کے امیر آدمی کو اُس غریب آدمی کی کوئی پروا نہیں تھی جو اُس کے دروازے پر پڑا ہوا تھا۔ زمینی زندگی کے بعد وہ مدد کے لئے پکار رہا تھا، مگر اُس کے آہ و نالے کا کوئی جواب نہ ملا۔
۲۱:۱۴ بائبل مقدس میں اکثر ایسے حقائق بھی بیان ہوئے ہیں جن کو خدا منظور نہیں کرتا۔ مثلاً یہ آیت بتاتی ہے کہ اگر کسی نے کسی کو ناراض کر دیا ہو تو اُس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ چپکے سے ناراض ہوئے شخص کو کوئی تحفہ تھما دیا جائے۔ یوں رشوت دے کر اپنا کام نکالا جا سکتا ہے۔
۲۱:۱۵ اِنصاف کرنے میں راست باز کی خوشی ہے، لیکن یہی کام بدکرداروں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔ یسوع کی دوسری آمد اِس آیت کی بھرپور تشریح ہے۔ نجات یافتہ لوگوں کے لئے تو یسوع کی دوسری آمد بڑی شادمانی کا باعث ہو گی، مگر غیر نجات یافتہ لوگوں کے لئے نہایت خوف کا (۲۔تھسلنیکیوں ۱:۶۔۹)۔
۲۱:۱۶ اَمثال کی کتاب میں ہمیں طرح طرح کے لوگ ملتے ہیں۔ یہاں ہم اُس شخص کو دیکھتے ہیں جو گناہ کے صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ آخری مرتبہ آپ اُسے مُردوں کے غول میں پڑا ہوا دیکھتے ہیں۔
۲۱:۱۷ عیش و عشرت اور مزے کی زندگی (یعنی تیل اور مے) تسکین و خوشی دینے کا وعدہ تو کرتے ہیں، لیکن اِنسان کو غربت میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ وہ مالی وسائل کو خالی کر دیتے ہیں اور روحانی طور پر بھی مفلس بنا دیتے ہیں۔
۲۱:۱۸ یسعیاہ ۴۳:۳ میں خدا اپنی قوم اسرائیل کو فرماتا ہے ’’ مَیں نے تیرے فدیہ میں مصر کو … دیا۔‘‘ چونکہ شاہِ فارس خورس نے یہودیوں کو اپنے ملک جانے کی اجازت دی اِس لئے خدا نے بھی اُسے مصر اور دیگر اِرد گرد کی قوموں پر فتح نصیب کی۔ وسیع تر مفہوم میں آیت سے مراد یہ ہے کہ شریروں کو سزا دی جاتی ہے تاکہ راست بازوں کو رہائی مل سکے۔
۲۱:۱۹ یہاں ہمیں شائستہ مزاج کا اشارہ ملتا ہے۔ مثل کا مصنف جھگڑالو بیوی کے ساتھ رہنے کی نسبت بیابان کی بے آرامی، تنگی اور تنہائی کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔
۲۱:۲۰ یہاں ہمارے سامنے ایک دانا کے چھوٹے سے گھر جس میں ہر طرح کی اچھی چیزیں کثرت سے موجود ہیں کا موازنہ ہے احمق کے گھر سے جس میں گناہ، بربادی اور ہر طرح کی فضول خرچی ہے۔
مجھے اُس شرابی کی کہانی یاد آتی ہے جو اپنے گھر کا سازوسامان بیچ کر شراب خریدا کرتا تھا۔ یسوع مسیح کو قبول کرنے کے بعد اُس کی زندگی یکسر بدل گئی۔ جو پیسے شراب کے لئے خرچ ہوتے تھے اب وہی پیسے گھر کے فرنیچر خریدنے کے لئے استعمال ہونے لگے۔ ایک دن کسی نے اُس سے سوال کیا، ’’آپ یقیناًاُن کہانیوں پر یقین نہیں کرتے جو یسوع کے بارے میں بتائی جاتی ہیں کہ اُس نے پانی کو مے بنا دیا وغیرہ۔‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’ مَیں پانی کو مے بنانے کے بارے میں تو نہیں جانتا مگر یہ ضرور جاتا ہوں کہ یسوع نے شراب کو فرنیچر بنا دیا ہے۔‘‘
۲۱:۲۱ یہاں نکتہ یہ ہے کہ جو صداقت اور شفقت کی پیروی کرتا ہے اُسے اُس کی خواہش سے بڑھ کر ملتا ہے۔ اُسے زندگی اور عزت جیسی اضافی برکتیں بھی ملتی ہیں۔
۲۱:۲۲ دانا مسیحی مخالف ابلیس کے زبردست شہروں کو گرا دیتا ہے، لیکن جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ نہیں بلکہ ایمان، دعا اور خدا کے کلام کے ساتھ (دیکھیں ۲۔کرنتھیوں ۱۰:۴)۔ روحانی جنگ میں حکمت وہ کچھ کر دیتی ہے جو بڑے بڑے جنگی ہتھیار بھی نہیں کر پاتے۔
۲۱:۲۳ جو کوئی اپنے منہ کو قابو کر پاتا ہے وہ اپنے آپ کو کئی مشکلات سے بچا لیتا ہے۔ ’’اِسی طرح زبان بھی ایک چھوٹا سا عضو ہے اور بڑی شیخی مارتی ہے۔ دیکھو تھوڑی سی آگ سے کتنے بڑے جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔ زبان بھی ایک آگ ہے۔ زبان ہمارے اعضا میں شرارت کا ایک عالم ہے اور سارے جسم کو داغ لگاتی ہے اور دائرۂ دُنیا کو آگ لگا دیتی ہے اور جہنم کی آگ سے جلتی رہتی ہے‘‘ (یعقوب ۳:۵،۶)۔
۲۱:۲۴ اگر آپ کی ملاقات کسی متکبر و مغرور شخص سے ہوتی ہے تو اُسے ’’ٹھٹھاباز‘‘ کا نام دے دیں۔ یہی اُس کا نام ہے۔ اور یاد رکھیں کہ نام اُس شخص کی ذات کی عکاسی کرتا ہے۔ ’’… جیسا اُس (شخص) کا نام ہے ویسا ہی وہ ہے…‘‘ (۲۔سموئیل ۲۵:۲۵)۔
۲۱:۲۵،۲۶ سُست آدمی دو باتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف تو اُس کے دل میں امیر بننے کی بڑی خواہش ہے اور دوسری طرف محنت سے اِنکار کا اُس کا مصمم ارادہ ہے۔ یہ کش مکش اُسے مار ڈالتی ہے۔ جبکہ وہ اپنے خوابوں کی دُنیا میں وقت گزارتا ہوتا ہے، صادق محنت کر کے کمائی کر لیتا ہے تاکہ اُس کے پاس ضرورت مندوں کو دینے کے لئے کچھ ہو۔
۲۱:۲۷ اُس شخص کے ہدیے سے خدا چڑتا ہے جس نے اپنے گناہوں سے توبہ نہ کی ہو، لیکن اُس وقت تو خدا کو بہت غصہ آتا ہے جب ہدیہ اِس لئے دیا جائے کہ وہ کسی خطا سے درگزر کرے، بلکہ اُسے قبول کرے یا کسی بُرے منصوبے کو برکت دے۔
۲۱:۲۸ جھوٹا گواہ خدا کے حضور قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ سچ کہے گا، لیکن ایسا کرتا نہیں۔ اِس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو بغور سنتا ہے اور بڑی دیانت داری سے جواب دیتا ہے۔ یہی وہی شخص ہے جو ایسی گواہی دیتا ہے جو کبھی بھی جھٹلائی نہ جائے گی۔
۲۱:۲۹ شریر کا سخت چہرہ اِس بات کو پیش کرتا ہے کہ وہ اپنی شرارت سے ٹس سے مس نہیں ہو گا۔ اُس کا ماتھا گویا پیتل کا ہے۔ لیکن صادق چونکہ سیکھنے کی روح رکھتا ہے اِس لئے وہ محفوظ اور اپنے رویے میں قائم رہے گا۔
۲۱:۳۰ اِنسان سمجھ، فہم اور حکمتِ عملی میں خدا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اُس کے کوئی بھی منصوبے خدا کے آگے نہیں چل سکتے۔ ’’خداوند کے ارادے … قائم رہیں گے‘‘ (یرمیاہ ۵۱:۲۹)۔
۲۱:۳۱ فتح کو یقینی بنانے کے لئے اِنسان کئی طرح کے منصوبے بنا سکتا ہے، لیکن جنگ والے دن فتح خداوند کی طرف سے آتی ہے۔ رتھوں، گھوڑوں یا جدید جنگی اسلحہ پر بھروسا کرنے کے بجائے خدا پر توکل کرنا زیادہ بہتر ہے (دیکھئے زبور ۲۰:۷)۔
مقدس کتاب
۱ بادشاہ کا دِل خدوند کے ہاتھ میں ہے ۔وہ اُسکو پانی کے نالوں کی مانند جدھر چاہتا ہے پھیرتا ہے۔
۲ اِنسان کی ہر ایک روش اُسکی نظر میں راست ہے پر خداوند دِلوں کو جٓانچتا ہے۔
۳ صداقت اور عدل خداوند کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔
۴ بلند نظری اور دِل کا تکبر اور شریروں کی اِقبالمندی گناہ ہے۔
۵ محنتی کی تدبیریں یقیناًفراوانی کا باعث ہیں لیکن ہر ایک جلد باز کا انجام محتاجی ہے۔
۶ دروغگوئی سے خزانے حاصل کرنا بے ٹھکانا بخارات کی مانند ہے اور اُنکے طالب موت کے طالب ہیں۔
۷ شریروں کا ظلم اُنکو اُڑا لے جٓایئگا کیونکہ اُنہوں نے انصاف کرنے سے اِنکار کیا ہے۔
۸ گناہ آلودہ آدمی کی راہ بہت ٹیڑ ھی ہے پر جو پاک ہے اُسکا کام ٹھیک ہے۔
۹ گھر کی چھت پر کونے میں رہناجھگڑالو بیوی کے ساتھ کشادہ گھر میں رہنے سے بہتر ہے ۔
۱۰ شریر کی جٓان برائی کی مشتاق ہے۔اُسکا ہمسایہ اُسکی نگاہ میں مقبول نہیں ہوتا۔
۱۱ جب ٹھٹھا کرنے والے کو سزا دی جٓاتی ہے تو سادہ دِل حکمت حاصل کرتا ہے اور جب دانا تربیت پاتا ہے تو علم حاصل کرتا ہے۔
۱۲ صادق شریر کے گھر پر غور کرتا ہے ۔شریر کیسے گر کر برباد ہوگئے ہیں۔
۱۳ جو مسکین کا نالہ سُنکر اپنے کان بند کرلیتا ہے وہ آپ بھی نالہ کریگا اور کوئی نہ سُنیگا۔
۱۴ پوشیدگی میں ہدیہ دینا قہر کو ٹھنڈا کرتا ہےاور انعام بغل میں دے دینا غضب شدید کو۔
۱۵ اِنصاف کرنے میں صادق کی شادمانی ہے لیکن بدکرداروں کی ہلاکت ۔
۱۶ جو فہم کی راہ سے بھٹکتا ہے مردوں کے غول میں پڑا رہیگا۔
۱۷ عیاش کنگال رہیگا۔جو مے اور تیل کا مشتاق ہے مالدار نہ ہوگا۔
۱۸ شریر صادق کا فدیہ ہوگااور غا باز راستبازوں کے بدلہ میں دِیا جٓایئگا۔
۱۹ بیابان میں رہنا جھگڑا لو اور چڑچڑی بیوی کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔
۲۰ قیمتی خزانہ اور تیل داناوں کے گھر میں ہیں لیکن احمق اُنکو اُڑدیتا ہے ۔
۲۱ جو صداقت اور شفقت کی پیروی کرتا ہے زندگی اور صداقت وعزت پاتا ہے۔
۲۲ دانا آدمی زبردستوں کے شہر پر چڑھ جٓاتا ہے اور جس قوت پر اُنکا اِعتماد ہے اُسے گرا دیتا ہے۔
۲۳ جو اپنے منہ اور اپنی زبان کی نگہبانی کرتا ہے اپنی جٓان کو مصیبتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
۲۴ متکرو مغرور شخص جو ٹھٹھا باز کہلاتا ہےبہت تکبر سے کام کرتا ہے۔
۲۵ کاہل کی تمنا اُسے مار ڈالتی ہے کیونکہ اُسکے ہاتھ محنت سے اِنکار کرتے ہیں۔
۲۶ وہ دِن بھر تمنا میں رہتا ہے لیکن صادق دیتا ہے اور دریغ نہیں کرتا۔
۲۷ شریر کی قربانی نفرت انگیز ہے خصوصاًجب وہ بدنیتی سے لاتا ہے۔
۲۸ جھوٹا گواہ ہلاک ہوگا لیکن ج س شخص نے بات سُنی ہے وہ خاموش نہ رہیگا۔
۲۹ شریر اپنے چہرہ کو سخت کرتا ہے لیکن صادق اپنی راہ پر غور کرتا ہے ۔
۳۰ کوئی حکمت کوئی فہم اور کوئی مشورت نہیں جو خداوند کے مقابل ٹھہر سکے۔
۳۱ جنگ کےدِن کے لئے گھوڑا تو تیار کیا جٓاتا ہے لیکن فتحیابی خداوند کی طرف سے ہے۔