ب۔ راستی کے طرزِ زندگی کی فضلیت (۱۶:۱۔۲۲:۱۶)
۱۶:۱ خداوند (عبرانی میں یہوواہ) کا نام اِس باب کی پہلی گیارہ آیات میں نو (۹) مرتبہ آیا ہے۔ ہو سکتا ہے اِنسان اپنے خیالات کے مطابق پہلے سے ہی کوئی منصوبہ تیار کر لے، لیکن خداوند قادرِ مطلق ہے اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اِنسان کے ہر منصوبے پر غالب آتا ہے۔ مثال کے طور پر بلعام اسرائیل کے لوگوں پر لعنت کرنا چاہتا تھا، لیکن اُس کے منہ سے برکت کے الفاظ نکلے (گنتی ۲۲:۳۸؛ ۲۳:۷۔۱۰)۔ یا کائفا کا خیال کریں جس نے اپنی حکمت سے بالاتر بات کی (یوحنا ۱۱:۴۹۔۵۲)۔ ہیرودیس اور پیلاطس نے سازش کر کے یسوع کے ساتھ وہی کچھ کیا جو پہلے ہی سے خدا کی قدرت اور مصلحت سے ٹھہر گیا تھا (اعمال ۴: ۲۷،۲۸)۔ اِس کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ایذا رسانی سہنے والے خدا کے لوگوں نے اگرچہ پہلے سے سوچا کہ اپنے دفاع میں کیا کہیں گے، لیکن خدا نے اُن کو موقعے کی مناسبت سے موزوں الفاظ عطا کئے (متی ۱۰:۱۹)۔
۱۶:۲ اِنسان اپنے کاموں کو خارجی بنیاد پر پرکھتا ہے اور اُسی کے مطابق وہ اُنہیں پاک قرار دیتا ہے۔ لیکن خدا دل کے ارادوں اور باطنی نیت پر نگاہ کرتا ہے۔ ’’کون اپنی بھول چوک کو جان سکتا ہے؟ تُو مجھے پوشیدہ عیبوں سے پاک کر‘‘ (زبور ۱۹:۱۲)۔
۱۶:۳ اپنے خوابوں اور مقاصد کو پورا ہوتے دیکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے سب کام خداوند پر چھوڑ دیں۔ خدا کا ایک خادم اِس کے بارے میں کچھ اِس طرح کہتا ہے:
’’کبھی کبھار خدا کا کام کرتے ہوئے ہم اپنے آپ کو بہت مایوس اورپریشان حال دیکھتے ہیں۔ کیا خدا کا کام کرنے سے بھی بڑھ کر کوئی اَور چیزہو سکتی ہے؟ یاد رکھیں، خدا مضطرب روح کے ذریعے کام کرنا پسند نہیں کرتا۔ اِس لئے جب کبھی بھی کوئی ایمان دار مسیحی اپنے آپ کو اِس طرح کی حالت میں دیکھتا ہے تو اُسے فوراً رُک کر اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہئے، ’ مَیں کس کا کام سرانجام دے رہا ہوں؟‘ اگر یہ خدا کا کام ہے تو یاد رکھیں کہ یہ بوجھ بھی اُسی کا ہے۔ اِس کو پورا کرنے کے لئے آپ اِتنے اہم نہیں ہیں بلکہ مسیح اہم ہے۔ وہ ہمارے ذریعے اپنا کام کر رہا ہے۔ تو پھر جب کام بن نہ پڑ رہا ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ہمیں اُس کے پاس جانا ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یہ نافرمانی ہو گا۔‘‘
دعا: اے خدا مجھے آنکھیں عطا کر جو تیری تمام قدرت کو دیکھ سکیں، اور ہاتھ جو ہر کام کے کرنے میں تیری خدمت کر سکیں اور دل جو ہر بات میں تجھے مبارک کہہ سکے۔
۱۶:۴ یہ آیت اِس بات کی طرف اشارہ نہیں کرتی کہ خدا نے کچھ اِنسانوں کو ابدی ہلاکت کے لئے پیدا کیا ہے۔ بائبل مقدس میں کہیں بھی نجات سے محرومی کی تعلیم نہیں دی گئی۔ اِنسان اپنے چناؤ کی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے نہ کہ خدا کے حکم سے۔ اِس مثل کا مفہوم یہ ہے کہ خدا نے ہر چیز کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ ہر کام کا کوئی نتیجہ ہوتا ہے، یعنی ہر کام کے لئے جزا یا سزا ملتی ہے۔ خدا نے شریروں کے لئے تکلیف اُٹھانے کا وقت مقرر کر رکھا ہے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح اُس نے اپنے محبت کرنے والوں کے لئے فردوس تیار کر رکھی ہے۔
۱۶:۵ اِنسان کے غرور سے خدا کو نفرت ہے، اِسی لئے خدا اُسے سزا دیتا ہے۔
۱۶:۶ اِس آیت میں موجود علمِ الٰہیات کو لازماً پوری بائبل کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے۔ یہاں یہ ہرگز مراد نہیں کہ اِنسان شفقت اور سچائی کے بل بوتے پر نجات حاصل کرے گا، نجات ایمان کے وسیلے سے فضل ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ صرف اِس لئے کہ شفقت اور سچائی نجات بخش ایمان کی علامات ہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ شفقت اور سچائی بدی کا کفارہ ہیں۔
مثل کا دوسرا حصہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔ خداوند کا خوف مان کر ہی اِنسان بدی سے باز آتے ہیں۔
۱۶:۷ دیگر کئی اَمثال کی طرح یہ مثل بھی ایک عمومی اصول بتاتی ہے، لیکن اِس کا اطلاق تمام صورتِ حال میں نہیں ہوتا۔ کسی ملک کے صدر کا مخالف پارٹی کا آدمی اُس کی پالیسیوں پر بے پناہ تنقید کیا کرتا تھا۔ بعض اوقات اُس کی تنقید نہایت ظالمانہ ہوتی تھی، لیکن لیکن یہ ایمان دار صدر کبھی بھی اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دیتا تھا بلکہ بڑی خندہ پیشانی سے سب برداشت کرتا۔ صدر کی وفات کے بعد اُسی شخص نے آنسوؤں کے ساتھ اعتراف کیا کہ صدر کے رُوپ میں اُس نے دُنیا کے عظیم ترین راہنما کو دیکھا ہے۔
۱۶:۸ ایمان داری کے ساتھ کمائی ہوئی تھوڑی سی آمدنی بدعنوانی کے ساتھ کمائی گئی بہت بڑی آمدنی سے بہتر ہے۔
۱۶:۹ جیسا کہ ہمیں اِس باب کی پہلی آیت میں یاد دلایا گیا تھا کہ اِنسان اپنی زندگی کے لئے بڑے بڑے منصوبے بناتا ہے، لیکن صرف خداوند ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سے منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچیں گے۔ ترسُس کے ساؤل نے دمشق کے مسیحیوں کو ایذا دینے کا بڑا منصوبہ بنا رکھا تھا، لیکن اپنے منصوبے کو کامیاب کرنے کے بجائے وہ خود بھی مسیحی بن گیا۔ اُنیسمس نے فلیمون سے ہمیشہ کے لئے بھاگ جانے کا منصوبہ بنانا، لیکن خدا عجیب طریقے سے اُسے فلیمون کے پاس لے آیا اور یہی نہیں بلکہ ایک بہتر تعلق کی صورت میں۔
۱۶:۱۰ چونکہ حکمران خدا کی مرضی سے مقرر ہوتا ہے (رومیوں ۱۳:۱)، اِس لئے اُس کے احکام اور فیصلے حتمی اِختیار کے حامل ہیں۔ اِسی لئے اُس کا منہ عدالت کرنے میں خطا نہیں کرتا۔
۱۶:۱۱ خدا معیاروں کا تعین کرتا ہے اور اُنہیں قائم رکھتا ہے۔ وہ ہی دُرست ترازو اور باٹ مقرر کرتا ہے۔ جب اِنسان اُس کے معیاروں کے مطابق کام کرتے ہیں تو وہ اِس سے خوش ہوتا ہے اور اُنہیں برکت دیتا ہے۔
۱۶:۱۲ حقیقت میں شرارت کا کام کرنا کسی کے لئے بھی اور خاص کر بادشاہ کے لئے قابلِ نفرت ہوتا ہے۔ حکمران تو زمین پر خدا کے نمائندے ہوتے ہیں، اِس لئے اُن پر زیادہ بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ تخت کی پائیداری کا دار و مدار درست کام کرنے پر ہوتا ہے۔ اِس آیت کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی بھی حکمران اپنی رعایا کو شرارت کے کام کرتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتا۔ لازم ہے کہ راست بازی کے ذریعے باضابطہ اور دُرست حکومت کو قائم رکھا جائے۔ جہاں اخلاقی معیاروں پر سمجھوتے ہو جاتے ہیں وہاں بدنظمی حکومت کرنے لگتی ہے۔
۱۶:۱۳ اچھے بادشاہ خوشامد اور ریاکار لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔ اُنہیں قابلِ بھروسا، سچے اور مخلص لوگ اچھے لگتے ہیں۔
۱۶:۱۴ بادشاہ غصے میں آ کر کسی کو بھی موت کی سزا سنا سکتا ہے۔ عقل مند آدمی حکمران کو خواہ مخواہ طیش نہیں دلاتا بلکہ اُس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
۱۶:۱۵ جب بادشاہ خوش ہوتا ہے تو اُس کے چہرے کی خوشی ہر سُو پھیل جاتی ہے۔ اُس کی مہربانی آخری برسات کی مانند تازگی کا باعث ہوتی ہے۔
۱۶:۱۶ زمینی مال و دولت کا مقابلہ علم اور حکمت سے نہیں کیا جا سکتا۔ مال و دولت جلد ختم ہو جاتے ہیں، لیکن روحانی حکمت آخر تک قائم رہتی ہے۔
۱۶:۱۷ راست باز شخص گناہ کی راہ پر جانے کی بجائے پاکیزگی کی شاہراہ پر چلتا رہتا ہے۔ جو کوئی بھی اِس شاہراہ پر سیدھا چلتا رہتا ہے اپنی جان کو نقصان اور بدحالی سے بچائے رکھتا ہے۔
۱۶:۱۸ اُونچا درخت گرج دار بجلی سے محفوظ نہیں رہ پاتا۔ خدا بھی متکبر لوگوں کو پست کرتا ہے۔ گھمنڈی لوگ عموماً پست کرنے والے ایسے تجربات میں سے گزرتے ہیں جو اُن کی اَنا کے غبارے سے ہوا نکال دیتے ہیں۔ سوئی کی ہلکی سی چبھن سے بہت بڑا غبارہ ڈھیر ہو جاتا ہے۔ غرور ہی نے لوسیفر کو پٹخ کر رکھ دیا۔
۱۶:۱۹ مغرور کے ساتھ ظاہری فائدہ اُٹھانے کی نسبت حلیمی اِختیار کر کے مسکین کا ساتھ دینا زیادہ بہتر ہے۔
۱۶:۲۰ یہ مثل کہہ رہی ہے کہ اپنی بائبل کا بلاناغہ مطالعہ کرو، اُس کی باتوں پر توجہ دو اور جس نے اِسے لکھا ہے اُس پر بھروسا کرو۔
۱۶:۲۱ دانا شخص کی دانائی اُس کی سمجھ داری اور اِمتیاز کرنے کی قوت کی وجہ سے تسلیم کی جائے گی۔ اِس کے علاوہ اُس کے گفتگو کے خوش گوار طریقے کی وجہ سے دوسرے لوگ اُس کی بات غور سے سنیں گے اور اُس سے سیکھیں گے۔
۱۶:۲۲ عقل مند کی عقل اُس کے لئے حیات کے چشمے کا کام کرتی ہے۔ نیز اُسے تازگی بخشتی ہے، جبکہ احمقوں کے لئے اُن کی حماقت ہی تربیت کا باعث ہے۔ ایسی تربیت جو اُن کو سزا کے انجام تک لے جاتی ہے۔
۱۶:۲۳ دانا شخص کی گفتگو اُس کے دل کی عکاسی کرتی ہے وہ اپنی کہی ہوئی باتوں سے اپنا علم ظاہر کرتا ہے۔ اُس کی باتوں میں قائل کرنے والی صلاحیت ہوتی ہے کیونکہ وہ اُنہیں معقول اِختیار کے ساتھ کہتا ہے۔
۱۶:۲۴ مہربان اور خوش گوار باتیں شہد کی خوبیوں سے لبریز ہوتی ہیں، جو منہ کو میٹھی معلوم ہوتی ہیں اور ہڈیوں کو صحت عطا کرتی ہیں۔ واچ مین نی ایک ایسی عورت کی کہانی بتاتا ہے جس کے خاوند نے کبھی بھی اُس کی تعریف نہیں کی تھی حالانکہ بطوربیوی اور ماں کے اُس نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی۔ وہ مسلسل یہی سوچتی رہتی کہ بحیثیت بیوی اور ماں کے وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ممکن ہے اِسی سوچ و فکر میں وہ ٹی۔بی جیسے مرض میں مبتلا ہو گئی۔ جب وہ بسترِ مرگ پر پڑی تھی تو اُس کے شوہر نے کچھ یوں کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ اب ہم کیا کریں گے۔ تم نے تو ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔‘‘ بیوی نے سوال کیا، ’’آپ نے یہ بات پہلے کیوں نہیں کہی؟ اِس سارے عرصے میں مَیں اپنے آپ کو الزام دیتی رہی کہ مَیں اچھی بیوی اور ماں نہیں ہوں۔ کیونکہ آپ نے ایک مرتبہ بھی میری حوصلہ افزائی اور تعریف نہیں کی۔‘‘
۱۶:۲۵ تاکید کے لئے یہی آیت ۱۴:۱۲ کے بعد دُہرائی گئی ہے۔ یہ بات بڑی منطقی اور معقول معلوم ہوتی ہے کہ اِنسان اچھے اور نیک کام کر کے جنت یا آسمان پر جائے گا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فضل کے ذریعے نجات پائے ہوئے گنہگار ہی آسمان پر جا سکیں گے۔
۱۶:۲۶ محنت کرنے والا اپنے لئے محنت کرتا ہے اور اِس کے لئے اُس کا خالی پیٹ اُسے ترغیب دیتا ہے۔ اُسے معلوم ہے کہ اگر وہ کام نہیں کرے گا تو اُجرت نہیں پائے گی اور اُجرت نہیں ملے گی تو خوراک نہیں خرید سکے گا۔ اِس لئے اگر کام نہ کرنے کی آزمائش بھی آئے تو بھوک کا کرب اُسے کام کرنے کی طرف لے جائے گا۔ روحانی زندگی میں بھی یہ بات سچ ہے۔ روحانی بھوک کا گہرا احساس ہمیں پاک کلام اور دعا کی طرف لے جاتا ہے۔
۱۶:۲۷ آیات ۲۷۔۳۰ میں ہمیں شرارت کی مختلف تصویر نظر آتی ہے۔ اوّل ہمیں خبیث آدمی نظر آتا ہے جو شرارت کو کھود کر نکالتا ہے اور اُس کی گفتگو جلانے والی آگ ہے۔
۱۶:۲۸ کج رَو آدمی سچائی کو جھوٹ بول کر، حقیقت پر پردہ ڈال کر یا حقائق کو چھپا کر توڑ مروڑ دیتا ہے جس کے نتیجے میں جھگڑے پھیلتے ہیں۔ غیب کرنے والا دوستوں میں جدائی پیدا کرتا ہے۔
۱۶:۲۹ جلد ناراض ہو جانے والا شخص اپنے ہمسائے کو گمراہ کرتا ہے۔ وہ اُس کو جرم میں شریک ہونے کی ترغیب دیتا ہے (دیکھئے رُومیوں ۱:۳۲)۔
۱۶:۳۰ چہرے کے تاثرات غلط تاثر بھی دے سکتے ہیں۔ آنکھ مارنے کا مطلب کوئی غلط قسم کی حرکت بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح ہونٹ چبانے سے لڑائی جھگڑا بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ ہر معاشرے میں مختلف تاثرات کے مختلف مفہوم لئے جاتے ہیں۔
۱۶:۳۱ سفید بال لمبی عمر کی عکاسی کرتے ہیں۔ اُنہیں شوکت کا تاج کہا گیا ہے کیونکہ یہاں اُنہیں راست باز زندگی کے اجر کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ آیت زبور ۵۵:۲۳ کے اُلٹ ہے: ’’خونی اور دغاباز اپنی آدھی عمر تک جیتے نہ رہیں گے۔‘‘
۱۶:۳۲ جو آدمی اپنے غصے پر قابو پا سکتا ہے وہ کسی بھی فوجی فاتح سے عظیم تر ہے۔ غصے پر فتح شہر فتح کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ یقین نہ ہو تو آزما کر دیکھ لیں۔
۱۶:۳۳ پرانے عہدنامے میں بلکہ پینتی کوست تک خدا کی مرضی معلوم کرنے کے لئے قرعہ ڈالا جاتا تھا۔ قرعہ ڈالنے کا سارا معاملہ بڑا اتفاقیہ معلوم ہوتا ہے، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا اِس عمل میں بھی قادرِ مطلق خدا تھا۔
آج کے دَور میں خدا کا کلام ہماری راہنمائی کے لئے خدا کی عمومی مرضی فراہم کرتا ہے۔ جب ہمیں خاص معاملوں میں خدا کی خاص راہنمائی جو کلام پاک میں براہِ راست نہیں ملتی درکار ہوتی ہے تو ہم دعا کے ذریعے اُسے خدا سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہمیں پتا چل جاتا ہے کہ ہر فیصلہ خداوند کی طرف سے ہے۔
مقدس کتاب
۱ دل کی تدبیریں اِنسان سے ہےلیکن زبان کا جواب خدواند کی طرف سے ہے۔
۲ اِنسان کی نظر میں اُسکی سب روشیں پاک ہیں لیکن خدوند روحوں کو جٓانچتا ہے۔
۳ اپنے سب کام خداوند پر چھوڑدے تو تیرے اِرادے قائم رہینگے ۔
۴ خداوند نے ہر ایک چیز خاص مقصد کے لئے بنائی ۔ہاں شریروں کو بھی اُس نےبُرے دِن کے لئے بنایا۔
۵ ہر ایک سے جس کے دِل میں غرور ہے خداوند کو نفرت ہے یقیناًوہ بے سزا نہ چھوٹیگا۔
۶ شفقت اور سچائی سے بدی کا کفارہ ہوتا ہے اور لوگ خداوند کے خوف سے سبب سے بدی سے باز آتے ہیں۔
۷ جب اِنسان کی روشیں خداوند کو پسند آتی ہیں تو وہ اُسکے دشمنوں کی بھی اُسکے دوست بناتا ہے۔
۸ صداقت کے ساتھ ساتھ سا مال بے اِنصافی کی بڑی آمدنی سے بہتر ہے۔
۹ آدمی کا دِل اپنی راہ ٹھہراتا ہےپر خداوند اُسکے قدموں کی راہنمائی کرتا ہے۔
۱۰ کلام ربانی بادشاہ کے لبوں سے نکلتا ہے اور اُسکا منہ عدالت کرنے میں خطا نہیں کرتا۔
۱۱ ٹھیک ترازو اور پلڑے خداوند کے ہیں تھیلی کے سب باٹ اُسکا کام ہیں۔
۱۲ شرارت کرنے سے بادشاہوں کو نفرت ہے کیونکہ تخت کی پایداری صداقت سے ہے۔
۱۳ صادق لب بادشاہوں کی خوشنودی ہیں اور وہ سچ بولنے والوں کو دوست رکھتے ہیں۔
۱۴ بادشاہ کا قہر موت کا قاصد ہے پر دانا آدمی اُسے ٹھنڈا کرتا ہے۔
۱۵ بادشاہ کے چہرہ کے نور میں زندگی ہے ور اُسکی نظر عنایت آخری برسات کے بادل کی مانند ہے۔
۱۶ حکمت کا حصول سونے سے بہت بہتر ہےاور فہم کا حصول چاندی سے بہت پسندیدہ ہے۔
۱۷ راستکار آدمی کی شاہراہ یہ ہے کہ بدی سے بھاگے اور اپنی راہ کا نگہبان اپنی جٓان کی حفاظت کرتا ہے ۔
۱۸ ہلاکت سے پہلے تکبر اور زوال سے پہلے خودبینی ہے۔
۱۹ مسکینوں کے ساتھ فروتن بننا متکبروں کے ساتھ لوٹ کا مال تقسیم کرنے سے بہتر ہے۔
۲۰ جو کلام پر توجہ کرتا ہے بھلائی دیکھیگااور جس کا توکل خداوند پر ہے مبارک ہے۔
۲۱ دانا دِل ہوشیار کہلائیگا اور شیرین زبانی سے علم کی فراوانی ہوتی ہے۔
۲۲ عقلمند کے لئے عقل حیات کا چشمہ ہے ہر احمقوں کی تربیت حمایت ہے۔
۲۳ دانا کا دِل اُسکے منہ کی تربیت کرتا ہے اور اُسکے لبوں کو علم بخشتا ہے۔
۲۴ دِل پسند باتیں شہد کا چھتا ہیں۔وہ جی کو میٹھی لگتی ہیں اور ہڈیوں کے لئے شفاہیں۔
۲۵ ایسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہےپر اُسکی اِنتہا میں موت کی راہیں ہیں۔
۲۶ محنت کرنے والے کی خواہش اُس سے کام کراتی ہےکیونکہ اُسکا پیٹ اُسکو اُبھارتا ہے۔
۲۷ خبیث آدمی شرارت کو کھود کر نکالتا ہےاور اُسکے لبوں میں گویا جلانے والی آگ ہے۔
۲۸ کجرو آدمی فتنہ انگیز ہےاور غیبت کرنے والا دوستوں میں جدائی ڈالتا ہے۔
۲۹ تند خو آدمی اپنے ہمسایہ کو ورغلاتا ہےاور اُسکو بُری راہ پر لے جٓاتا ہے۔
۳۰ آنکھ مارنے والا کجی ایجاد کرتا ہے اور لب چبانے والا فساد برپا کرتا ہے ۔
۳۱ سفید سر شوکت کا تاج ہے۔وہ صداقت کی راہ پر پایا جٓائیگا ۔
۳۲ جو قہر کرنے میں دِھیما ہے پہلوان سے بہتر ہے اور وہ جو اپنی رُوح پر ضابطہ ہے اُس سے جو شہر کو لے لیتا ہے۔
۳۳ قرعہ گود میں ڈالا جٓاتا ہےپر اُسکا سارا اِنتظام خداوند کی طرف سے ہے۔