۲۳:۱۔۳ یہاں ہمیں پیٹو پن اور بسیار خوری کے خلاف تنبیہ ملتی ہے۔ جب ہم کسی بااثر شخص کے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ سامنے کون بیٹھا ہے۔ ایسا کرنے سے گویا ہم اپنے گلے پر چھری رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم کھانے پینے میں اِجتناب سے کام لیتے ہیں۔
آیت ۳ سے اشارہ ملتا ہے کہ شاید کوئی ہمیں اِس لئے کھلا پلا رہا ہو تاکہ اپنے کسی پوشیدہ مقصد کے لئے استعمال کر سکے۔
۲۳:۴،۵ مال دار ہونے کے لئے ہر وقت کوشش کرنے میں دانش مندی ہے، مگر یہ ایسی دانش مندی ہے جس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ مال دار بننے کی دُھن میں لگے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی جھوٹی اَقدار کے پیچھے ضائع کر رہے ہیں اور ایسی چیزی پر بھروسا کر رہے ہیں جو قائم نہیں رہتی۔ دولت عقاب کی طرح ہے جو آسمان کی طرف اُڑ جاتی ہے۔
۲۳:۶۔۸ ایک اَور معاشرتی صورتِ حال ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔ تنگ چشم اِنسان کے ہاں مہمان بن کر نہیں جانا چاہئے یعنی اُس کنجوس کے ہاں جو آپ کے کھائے ہوئے ہر نوالے کے ساتھ آپ کو کوستا ہے۔ بات یہ نہیں کہ وہ منہ سے کیا کہتا ہے بلکہ یہ کہ دل میں کیا سوچتا ہے۔ ویسے تو وہ کہتا ہے، ’’مہربانی سے کچھ اَور لیجئے۔ پلیز کچھ اَور کھائیں، کچھ اَور پئیں۔‘‘ دل میں وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ آپ نے کتنی روٹیاں کھا لی ہیں۔ کسی عالم نے اِس مثل کے بارے میں کچھ یوں کہا ہے:
شریر آدمی کے ساتھ کوئی سروکار نہ رکھو اور نہ اُن تحائف کی تمنا ہی کرو۔ ایسے لوگوں کی ہمدردیاں دھوکا ہوتی ہیں۔ وہ آپ کو اپنے لئے ہتھیار بنا کر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مزیدار کھانا جو وہ آپ کو کھلاتے ہیں، آپ کے پیٹ کے اندر جا کر کڑوا پن بن جائے گا اور آپ اُسے قے کر کے نکال دینا چاہیں گے اور سوچیں گے کہ آپ نے اُن کے کھانے کی تعریف بے جا کر دی۔
۲۳:۹ احمق کو کچھ سکھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ خواہ مخواہ اپنا وقت اُس پر ضائع کریں گے۔ وہ آپ کی سمجھ داری کی باتوں کی تحقیر کرے گا۔
۲۳:۱۰،۱۱ پتھروں کی قدیم حدود کو چپکے چپکے تبدیل کر کے بددیانتی سے دوسروں کی اراضی پر قبضہ نہ کر۔ یتیموں کے کھیتوں کو ہتھیا کر اُن پر ظلم نہ کر۔ اُن کا بدلہ لینے والا بڑا زبردست ہے۔ وہ خود ہی تیرے خلاف اُن کی عدالت کرے گا۔
۲۳:۱۲ علم و دانش حاصل کرنا اِتنا آسان نہیں۔ اِس کے لئے نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ساتھ اصولوں کی پیروی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس لئے اُن اشتہارات کی پروا نہ کریں جو کہتے ہیں، ’’تین دن میں فلاں علم میں مہارت حاصل کریں‘‘۔
۲۳:۱۳،۱۴ بچوں کو ہر طرح کے کام کرنے کی کھلی چھٹی دے دینا دُرست نہیں ہے۔ بائبل اِس کی تعلیم نہیں دیتی بلکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم بچوں کی ضرورت کے تحت چھڑی کے ساتھ تربیت کریں اور یہ بھی وعدہ کرتی ہے کہ اِس طرح کی تربیت سے بچہ مر نہیں جائے گا۔ حقیقت میں چھڑی کی مار سے ہم بچے کو پاتال یعنی ابدی ہلاکت سے بچا لیں گے۔
عیلی نے اپنے شریر لڑکوں کی درست تنبیہ کرنے کی بجائے اُن کی محض ہلکی سی سرزنش کی، ’’تم ایسا کیوں کرتے ہو؟‘‘ (۱۔سموئیل ۲:۲۲)۔ اُس نے گناہ کی پُرزور مذمت نہ کر کے گناہ کی پذیرائی کی اور یوں اپنے گھرانے، کہانت اور قوم پر بڑی تباہی لے کر آیا۔
بطور باپ داؤد بھی مناسب تربیت کرنے میں ناکام رہا۔ اُس نے کبھی بھی ادونیاہ کو ہلکی سی ڈانٹ ڈپٹ کر کے افسردہ نہ کیا (۱۔سلاطین ۱:۶)۔ اُس نے دو مرتبہ بغاوت کر کے تخت پر قبضہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور آخرِکار سلیمان کے ہاتھوں مارا گیا۔
۲۳:۱۵،۱۶ بیٹے کے دانا دل اور سچی بات کہنے والے ہونٹ دیکھ کر باپ کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ اُستاد کو بھی اُس وقت بڑی خوشی ہوتی ہے جب اُس کا شاگرد حکمت حاصل کر کے دوسروں کو بتاتا ہے۔ اِسی وجہ سے پولس لکھتا ہے، ’’کیونکہ اب اگر تم خداوند میں قائم ہو تو ہم زندہ ہیں‘‘ (۱۔تھسلنیکیوں ۳:۸)۔ اور یوحنا کہتا ہے، ’’میرے لئے اِس سے بڑھ کر اَور کوئی خوشی نہیں کہ مَیں اپنے فرزندوں کو حق پر چلتے ہوئے سنوں‘‘ (۳۔یوحنا ۴ آیت)۔
۲۳:۱۷،۱۸ گنہگاروں پر رشک کرنے کی نسبت بہتر کام یہ ہے کہ خداوند کی مستقل رفاقت میں زندگی گزاری جائے۔گنہگاروں کے ساتھ میل ملاپ مایوسی لاتا ہے، خداوند کے ساتھ رفاقت خوشی لاتی ہے۔ اِس لئے سبق یہ ہے کہ خدا کے ساتھ مستقل رابطے کو زندگی کا مقصد بنا لیا جائے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ مستقبل میں گنہگاروں کی ایک دن عدالت ہوگی جبکہ راست بازوں کے لئے روشن اُمید یہ ہے کہ اُنہیں اجر ملے گا۔ یہ اجر یقینی ہے اور اِس میں مایوسی کا امکان بھی نہیں۔
۲۳:۱۹ دوسرے لوگ خواہ کچھ بھی کریں فرماں بردار بیٹا باپ کی ہدایات کی پیروی کرتا ہے۔ وہ دانا بن کر اپنے دل کی دُرست راہ یعنی خدا کی راہ پر راہبری کرتا ہے۔
۲۳:۲۰،۲۱ دو طرح کے بسیار خور ہیں۔ ایک وہ جو بہت شراب پیتے ہیں اور دوسرے وہ جو بہت کھاتے ہیں۔ جو کوئی بھی اچھی زندگی چاہتا ہے اُسے اُن کے ساتھ کوئی میل ملاپ نہیں رکھنا چاہئے۔ دونوں کا انجام مفلسی ہے۔ بسیار خوری سے جو نیند آتی ہے وہی اُنہیں چیتھڑے پہنائے گی۔
۲۳:۲۲ نوجوانوں کو اپنے باپ کی نصیحت پر کان لگانا چاہئے اور اپنی ماں کو اُس کے بڑھاپے میں حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔ بزرگوں کے پاس سالوں کا وسیع تجربہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو یہ بات تسلیم کرنی چاہئے بلکہ اُن کے تجربے سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہئے۔
۲۳:۲۳ ہمیں سچائی کی خاطر ہر طرح کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے اور اِس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرنا چاہئے۔ یہی اصول حکمت، تربیت اور فہم کے لئے بھی ہے۔ اِن کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی دُکھ درد کی پروا نہیں کرنی چاہئے اور دُنیا کی کسی شے کے بدلے اِنہیں ردّ نہیں کرنا چاہئے۔
۲۳:۲۴،۲۵ آج کل کے دَور میں سمجھا جاتا ہے کہ عید، تہوار یا کسی خاص موقعے پر ماں باپ کو کچھ تحفہ دے کر بچے اُنہیں خوش کر دیتے ہیں۔ لیکن مثل بتاتی ہے کہ والدین اُس اولاد سے بہت خوش ہوتے ہیں جو راست بازی اور دانش مندی سے زندگی گزارتی ہو۔
۲۳:۲۶۔۲۸ سنجیدہ پکار، ’’اے میرے بیٹے! اپنا دل مجھ کو دے…‘‘ کے الفاظ حرام کاری اور شراب نوشی کے خلاف تنبیہ کا آغاز کرتے ہیں۔ مصنف کہہ رہا ہے، ’’میری باتوں کو غور سے سنو اور میری نصیحت پر عمل کرو۔‘‘ فاحشہ گہری خندق ہے اور جو دھیان نہیں دیتا اُس کے لئے وہ پھندا ہے۔ وہ ایسا تنگ گڑھا ہے جس میں کوئی آسانی سے گر سکتا ہے، لیکن اُس میں سے نکلنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ وہ راہزن کی طرح گھات لگائے بیٹھی رہتی ہے۔ وہ ہر روز بے وفا مردوں کی تعداد میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ یہ وہ مرد ہیں جو اپنی ازدواجی زندگی اور اپنے خاندان کو تباہ کر دیتے ہیں۔
۲۳:۲۹، ۳۰ اِس باب کا باقی حصہ شراب نوش کی تفصیلی تصویر کشی کرتا ہے۔ شراب نوش اپنے اُوپر ہر قسم کی مصیبتیں اور پریشانیاں لاتا ہے۔ وہ ایک غم سے نکل کر دوسرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اُس کی زندگی میں لڑائی جھگڑے کی کبھی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ وہ تو خود اِس کا دلدادہ ہے۔ وہ مسلسل شکوے شکایت کرتا رہتا ہے، لیکن اُسے خود کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ اِس سارے فساد کی جڑ تو وہ خود ہے۔ غیر ضروری لڑائیوں کی وجہ سے اُس کے بدن پر زخم اور خراشیں عام نظر آتی ہیں۔ اُس کی آنکھیں سرخ اور بوجھل نظر آتی ہیں۔ وہ ساری رات شراب خانے میں ایک کے بعد دوسرا جام پی پی کر گزار دیتا ہے۔
۲۳:۳۱،۳۲ اُسے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ مے کی سرخی پر جو آنکھوں کو بڑی خوش نما معلوم ہوتی اور دل کو بڑا لبھاتی ہے فریفتہ نہ ہو۔ افسوس وہ اِس خبرداری پر کان نہیں دھرتا اور اِسی لئے سنگین نتائج کا سامنا کرتا ہے۔ یہ نتائج ایسے ہیں جیسے سانپ کا کاٹنا اور افعی کا زہر آلود اور درد بھرا ڈسنا۔
۲۳:۳۳،۳۴ شراب نوش کی آنکھیں عجیب چیزیں دیکھیں گی۔ غالباً اشارہ ہے اُس شدید ذہنی اِنتشار کی طرف جو حد سے زیادہ اور متواتر مے نوشی سے پیدا ہوتا ہے۔ اُس کے منہ سے اُلٹی سیدھی باتیں نکلتی ہیں۔ وہ سمندر کی سطح پر پڑی ہوئی کسی چیز کی مانند ہو جاتا ہے جو اُوپر نیچے ہچکولے کھاتی رہتی ہے یا اُس مستول کی طرح ہوتا ہے جو آگے پیچھے حرکت کرتا رہتا ہے۔
۲۳:۳۵ اُس کے نشے کی حالت میں کوئی اُس کی خوب پٹائی کر دیتا ہے۔ ہوش آنے پر وہ کہتا ہے مجھ کو چوٹ نہیں لگی۔ نشے کی حالت میں دیکھ کر کئی لوگوں نے اُس کو مارا بھی مگر اُسے معلوم بھی نہ ہوا۔ جیسے ہی وہ ہوش میں آتا ہے وہ پھر پینے کے لئے مے خانہ جانے کا منصوبہ بناتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ جب تو حاکم کے ساتھ کھانے بیٹھے تو خوب غور کر کہ تیرے سامنےکون ہے۔
۲ اگر تو کھاو ہے تو اپنے گلے پر چھری رکھدے۔
۳ اُسکے مزہ دار کھانوں کی تمنا نہ کر کیونکہ وہ دغابازی کا کھانا ہے۔
۴ مالدار ہونے کے لئے پریشان نہ ہو ۔اپنی اِس دانشمندی سے باز آ۔
۵ کیا تو اُس چیز پر آنکھ لگائیگا جو ہے ہی نہیں؟کیونکہ دولت یقیناًعقاب کی طرح پر لگا کر آسمان کی طرف اُڑجٓاتی ہے۔
۶ تو تنگ چشم کی روٹی نہ کھا اور اُسکے مزہ دار کھانوں کی تمنا نہ کر
۷ کیونکہ جیسے اُسکے دِل کے اندیشے ہیں وہ ویسا ہی ہے ۔لیکن اُسکا دِل تیری طرف نہیں۔
۸ جو نوالہ تونے کھایا ہے تواُسے اُگل دیگااور تیری میٹھی باتیں بے سود ہونگی۔
۹ اپنی باتیں احمق کو نہ سُنا کیونکہ وہ تیرے دانائی کا کلام کی تحقیر کر یگا۔
۱۰ قدیم حدود کو نہ سرکا اور یتیموں کے کھیتوں میں دخل نہ کر۔
۱۱ کیونکہ اُنکا رہائی بخشنے والا زبردست ہے۔وہ خود ہی تیرے خلاف اُنکی وکالت کریگا ۔
۱۲ تربیت پر دِل لگا اور علم کی باتیں سُن۔
۱۳ لڑکے سے تادِیب کو دریغ نہ کر۔ اگر تو اُسے چھڑی سے مار یگا تووہ مرنہ جٓائیگا۔
۱۴ تو اُسے چھڑی سے ماریگا اور اُسکی جٓان کو پاتال سے بچائیگا۔
۱۵ اَے میرے بیٹے !اگر تو دانا دِل ہے تو میرا دل ۔ہاں میرا دل خوش ہوگا۔
۱۶ اور جب تیرے لبوں سے سچی باتیں نکلینگی تو شادمان ہوگا۔
۱۷ تیرا دِل گنہگاروں پر رشک نہ کر ےبلکہ تو دِن بھر خداوند سے ڈرتا رہ۔
۱۸ کیونکہ اجر یقینی ہے اور تیری آس نہیں ٹویئگی ۔
۱۹ اَےمیرے بیٹے !تو سن اور دانا بن اور اپنے دِل کی راہبری کر۔
۲۰ تو شیرابیوں میں شامل نہ ہو اور نہ حریص کبابیوں میں
۲۱ کیونکہ شرانی اور کھاو کنگال ہو جٓائینگے اور نیند اُنکو چتھڑے پہنائیگی ۔
۲۲ اپنے باپ کا ج س سے تو پیدا ہوا شنوا ہو اور اپنی ماں کو اُسکے بڑھاپے میں حقیر نہ جٓان ۔
۲۳ سچائی کو مول لے اور اُسے بیچ نہ ڈال حکمت اور تربیت اور فہم کو بھی۔
۲۴ صادق کا باپ نہایت خوش ہوگااور دانشمندکا باپ اُس سے شادمانی کر یگا۔
۲۵ اپنے ماں باپ کو خوش کر۔اپنی والدہ کو شادمان رکھ۔
۲۶ اَے میرے بیٹے!اپنا دِل مجھ کو دے اور میری راہوں سے تیری آنکھیں خوش ہوں۔
۲۷ کیونکہ فاحشہ گہری خندق ہے اور بیغانہ عورت تنگ گڑھا ہے۔
۲۸ وہ راہزن کی طرح گھات میں لگی ہےاور بنی آدم میں بدکاروں کا شمار بڑھاتی ہے۔
۲۹ کون افسوس کرتا ہے؟کون غمزدہ ہے؟کون جھگڑالوہے؟کون شاکی ہے ؟کون بے سبب گھایل ہے؟اور کس کی آنکھوں میں سرخی ہے؟
۳۰ وہی جو دیر تک مے نوشی کرتے ہیں۔وہی جو ملائی ہوئی مے کی تلاش میں رہتے ہیں۔
۳۱ جب مے لال لال ہو۔جب اُسکا عکس جٓام پر پڑے اور جب وہ روانی کے ساتھ نیچے اُترےتو اُس پر نظر نہ کر
۳۲ کیونکہ انجام کار وہ سانپ کی طرح کاٹتی اور افعی کی طرح ڈس جٓاتی ہے۔
۳۳ تیری آنکھیں عجیب چیزیں دیکھینگی اور تیرے منہ سے اُلٹی سیدھی باتیں نکلینگی ۔
۳۴ بلکہ تو اُسکی مانند ہو گا جو سمندر کے درمیان لیٹ جٓائے یا اُسکی مانند جو مستول کے سر ے پر سورہے۔
۳۵ توکہیگا اُنہوں نے تومجھے پیٹا ہے پر مجھے معلوم بھی نہیں ہوا۔میں کب بیدارہو نگا؟میں پھر اُسکا طالب ہونگا۔