۲۷:۱ کسی کو کل کا کچھ پتا نہیں۔ اِس لئے جو کچھ توکل کرنا چاہتا ہے اُس کا فخر نہ کر: اُس احمق امیر آدمی کو یاد رکھو (لوقا ۱۲:۱۶۔۲۱)۔ یعقوب ۴:۱۳۔۱۵ دیکھیں۔
۲۷:۲ اپنے منہ میاں مٹھو بننا ہرگز درست نہیں۔ ایک حقیقی سلجھا ہوا شخص اپنے آپ کو ہمیشہ پس پردہ رکھتا ہے اور دوسروں کو سامنے لاتا ہے۔
۲۷:۳ احمق کے مسلسل پریشان کرنے والے الفاظ بہت بھاری ہوتے ہیں۔ بھاری پتھروں اور ریت کو اُٹھانا احمق کے مسلسل پریشان کرنے والے الفاظ کو برداشت کرنے سے آسان ہوتا ہے۔
۲۷:۴ غضب اور قہر بڑے ظالم ہیں تاہم اکثر یہ تھوڑی دیر کے لئے رہتے ہیں، لیکن حسد گھن کی طرح مسلسل اندر ہی اندر کھاتا چلا جاتا ہے، اِسی لئے زیادہ خطرناک ہے۔ اِس مثل کا اطلاق اُس جوڑے پر ہو سکتا ہے جن کی ازدواجی زندگی کسی تیسرے شخص کی موجودگی سے متاثر ہوئی ہو۔
۲۷:۵ کھلی ملامت، ملامت پانے والے کے لئے فائدہ مند ہوتی ہے، لیکن چھپی محبت سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا۔ چھپی محبت وہ محبت ہوتی ہے جو دوسرے کی غلطی کی نشان دہی کرنا پسند نہ کرے یا ایسی محبت ہے جس کے وجود کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔
۲۷:۶ بہت سے لوگ آپ کی غلطیوں کے بارے میں آپ سے ایمان داری سے بات نہیں کرتے۔ اُنہیں ڈر ہوتا ہے آپ کہیں اُن سے ناراض نہ ہو جائیں۔ لیکن ایک سچا دوست ہی ہے جو آپ کی مدد کرنے کی غرض سے آپ کی دیانت داری سے تعمیری تنقید کرتا ہے۔
مثل کا دوسرا حصہ ہے ’’دشمن کے بوسے باافراط ہیں‘‘ یہوداہ اسکریوتی نے نشان دہی کرنے کے لئے کہ یسوع کون ہے بوسہ کو بطور نشان استعمال کیا۔ اُس کے اِس عمل میں محبت کے اِظہار کا عالم گیر نشان شرم ناک حالت میں پیش ہوتا نظر آتا ہے۔
’’ اُس کے پکڑوانے والے نے اُن کو یہ نشان دیا تھا کہ جس کا مَیں بوسہ لوں وہی ہے اُسے پکڑ لینا اور فوراً اُس نے یسوع کے پاس آ کر کہا اے ربی سلام! اور اُس کے بوسے لئے‘‘ (متی ۲۶:۴۸،۴۹)۔
۲۷:۷ جو پہلے ہی کھا کھا کر سیر ہو چکا ہے اُسے نہایت لذیذ خوراک بھی اچھی نہیں لگتی۔ لیکن بھوکا شخص عام سی خوراک کے لئے بھی بہت شکرگزار ہوتا ہے۔ یہ مثل نہ صرف مادی باتوں کے لئے دُرست ہے، بلکہ روحانی اعزازات کے لئے بھی سچ ہے۔
۲۷:۸ وہ شخص جو اپنے گھر سے اِدھر اُدھر بھٹکتا پھرتا ہے حقیقت میں بے اِطمینان اور بے سکونی کا شکار ہے۔ اُسے پھرنے کا خبط ہو گیا ہے۔ وہ اُس پرندے کی مانند ہے جو اپنے گھونسلے سے دُور رہنے لگا ہے اور یوں گھونسلے کو تعمیر کرنے کی ذمہ داریوں سے کترا رہا ہے۔
۲۷:۹ تیل اور عطر کی خوش گوار خوشبو کا موازنہ دوست کی محبت بھری مشورت سے کیا گیا ہے۔ دوست کی رفاقت میں حقیقی طور پر کوئی ایسی بات ضرور ہے جو دل کو گرما دیتی ہے۔
۲۷:۱۰ لازم ہے کہ دوستوں کے ساتھ تعلقات قائم رہیں اور انہیں فروغ دیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ دیرینہ دوستیاں بہترین ہوتی ہیں۔ اِسی لئے دوستوں کی قدر کریں اور خاص کر پرانے دوستوں کی۔
’’… بھائی کے گھر نہ جا۔‘‘ صاف ظاہر ہے کہ اُس بھائی کے گھر نہ جا جو دُور رہتا ہے۔ جب مصیبت آئے گی تو آپ قریبی وفادار ہمسائے سے زیادہ مدد حاصل کر سکتے ہیں بہ نسبت اُس رشتہ دار کے جو گھر سے دُور رہتا ہے۔
۲۷:۱۱ بیٹے کا کردار ظاہر کرتا ہے کہ اُس کے باپ نے اُس کو کس قسم کی ہدایات دی ہیں۔ ایک شاگرد اپنے اُستاد کے لئے باعثِ عزت یا باعثِ ذِلت ہوتا ہے۔
۲۷:۱۲ نوح دانا شخص تھا اِسی لئے وہ اپنے خاندان کو لے کر کشتی میں چھپ گیا۔ لیکن اُس دور کے لوگوں نے اُس کی نصیحت کی کوئی پروا نہ کی اِسی لئے نقصان اُٹھایا (دیکھیں ۲۲:۳ کی تشریح بھی)۔
۲۷:۱۳ اِس مثل کا مفہوم یہ ہے کہ جو کوئی کسی بیگانہ یا اجنبی کا ضامن ہوتا ہے، اُس سے لین دین کرنے سے پہلے اِس بات کا یقین کر لے کہ تیرے پاس کوئی قانونی تحفظ موجود ہے، کیونکہ بالفرض اگر وہ تیرا دین دار ہو لیکن اُس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو تو تُو اپنے قانونی تحفظ کے ذریعے اُس سے اپنی رقم نکلوا سکے۔
۲۷:۱۴ کوئی بھی صبح سویرے، جب نیند زوروں پر ہوتی ہے، بلند آواز میں کچھ بھی سننا پسند نہیں کرتا خواہ یہ دعایِ خیر ہی کیوں نہ ہو۔ اِس طرح کی خوشامدی دعا برکت کی بجائے مصیبت کا باعث ہوتی ہے۔
۲۷:۱۵،۱۶ برسات کے موسم میں چھت سے مسلسل بارش کے پانی کا ٹپکنا اور گھر کے اندر جھگڑالو بیوی کے ساتھ رہنا ایک ہی بات ہے۔ یہ دونوں کام اِنسان کو پاگل کر دیتے ہیں۔ ’’جو اُس کو روکتا ہے ہوا کو روکتا ہے اور اُس کا دہنا ہاتھ تیل کو پکڑتا ہے۔‘‘ آپ بیوی کو جیسے مرضی سمجھا لیں، وہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی عذر بیان کر دے گی یا دوسرے پر الزام لگائے گی۔ بارش کا پانی ٹپکتا ہی رہے گا۔
۲۷:۱۷ جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اِسی طرح لوگوں کے مابین خیالات کا تبادلہ لوگوں کی سوچ کو نکھارتا ہے۔ خیالات اور آرا کا تبادلہ نظریات کو نئی روح عطا کرتا ہے۔ سوال پوچھنے سے عقل روشن ہوتی ہے۔ دوستانہ گفت و شنید شخصیت کو نئے انداز بخشتی ہے۔
۲۷:۱۸ جو کوئی انجیر کے درخت کی نگہبانی کرے گا وہ اُس کا پھل کھانے کا حق دار ہو گا۔ محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے والے کو خوراک کی کمی نہ ہو گی۔
یہ بھی سچ ہے کہ جو کوئی وفاداری سے اپنے آقا کی خدمت کرتا ہے عزت حاصل کرے گا۔ یسوع نے فرمایا، ’’اگر کوئی میری خدمت کرے تو باپ اُس کی عزت کرے گا‘‘ (یوحنا ۱۲:۲۶)۔
۲۷:۱۹ جب آپ صاف پانی کے تالاب میں دیکھتے ہیں تو آپ کو اپنے چہرے کا عکس نظر آتا ہے۔ جب آپ دوسروں کا بھی بغور مطالعہ کرتے ہیں تو آپ کو اُن کے اندر بھی وہی جذبات، آزمائشیں، عزائم، خیالات، خوبیاں اور کمزوریاں نظر آتی ہیں جو آپ کے اپنے اندر ہیں۔ اِسی لئے تو کہتے ہیں کہ جب کوئی اپنے آپ کو وعظ سناتا ہے تو بہت سے دوسرے اِس وعظ سے متاثر ہوتے ہیں۔
۲۷:۲۰ پاتال اور ہلاکت کبھی اُس مقام پر نہیں پہنچتے جہاں وہ کہیں کہ ہمیں مزید جانوں کی ضرورت نہیں، اِسی طرح اِنسان کی آنکھیں کبھی سیر نہیں ہوتیں۔ تاہم ہمارے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ مسیح میں ہمیں مکمل آسودگی حاصل ہوتی ہے۔
۲۷:۲۱ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے اُس کی تعریف اُس کا اِمتحان ہوتی ہے۔ تعریف سن کر اُس کا ردِ عمل بتاتا ہے کہ وہ کس طرح کا شخص ہے۔ کیا وہ تعریف سن کر بھول جاتا ہے اور یوں اپنی بربادی کا سامان پیدا کرتا ہے یا کیا وہ اسے حلیمی اور بردباری سے قبول کرتا ہے۔
اِس آیت کا یہ بھی مفہوم ہو سکتا ہے کہ اِنسان کی آزمائش اُن چیزوں سے ہوتی ہے جن کی وہ تعریف کرتا ہے۔ تعریف کی جانے والی چیزوں کا معیار اُس کے کردار کا عکس ہے۔
۲۷:۲۲ احمق کو اُکھلی میں ڈال کر جتنا مرضی مُوسلوں سے کوٹیں اُس کی حماقت کو اُس سے علیٰحدہ نہیں کر سکیں گے۔ دوسرے لفظوں میں اُکھلی اور موسل کی مدد سے گندم کے دانوں کو فصل سے الگ کیا جا سکتا ہے، مگر احمق اور اُس کی حماقت ایک دوسرے سے جدا نہیں کئے جا سکتے۔
۲۷:۲۳۔۲۷ یہ حصہ دیہاتی زندگی کی خوبیوں کو اُجاگر کرتا ہے، لیکن اِس کے ساتھ کسان کی محنت کی اہمیت پر بھی اُتنا ہی زور دیتا ہے۔ ریوڑوں اور گلّوں کی پرورش اور نگہداشت پر دل لگا کر دھیان دینا لازم ہے۔ مستقل محنت کے ذریعے ہی معاشی خوش حالی کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ یہ اُصول مقامی کلیسیا کی پاسبانی خدمت پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔
دولت سدا نہیں رہتی اور شاہی عزت و وقار زیادہ دیر برقرار نہیں رہتا بلکہ صرف اُتنی دیر ہی قائم رہتا ہے جب تک اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طریقے سے سرانجام دیا جاتا ہے۔
کسان کو اُس وقت کتنی تسلی ہوتی ہے جب وہ فصل کو اُگتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ’’سبزا نمایاں ہوتا ہے اور وہ پہاڑوں پر سے چارا کاٹ کر فراہم کیا جاتا ہے۔‘‘ چارا کھا کر برّے کپڑوں کے لئے اُون فراہم کریں گے اور کسان بکریاں بیچ کر اضافی کھیت خرید سکتا ہے۔ اُس اور اُس کے خاندان اور اُس کے نوکروں کے لئے خوراک کی کمی نہیں ہے۔
مقدس کتاب
۱ کل کی بابت گھنڈنہ کر کیونکہ تو نہیں جٓانتا کہ ایک ہی دِن میں کیا ہوگا۔
۲ غیر تیری ستایش کرے نہ کہ تیرا ہی منہ ۔بیغانہ نہ کرے نہ کہ تیرے ہی لب ۔
۳ پتھر بھاری ہے اور ریت وزن دار ہے لیکن احمق کا جھنجھلانا اِن دونوں سے گران تر ہے۔
۴ غضب سخت بے رحمی اور قہر سیلاب ہے لیکن حسد کت سامنے کون کھڑا رو سکتا ہے؟
۵ چھپی محبت سے کھلی ملامت بہتر ہے۔
۶ جو زخم دوست کے ہاتھ سے لگیں پر وفا ہیں لیکن دُشمن کے بوسے بااِفراط ہیں۔
۷ آسودہ جٓان کو شہد کے چھتے سے بھی نفرت ہے لیکن بھوکے کے لئے ہر ایک کڑوی چیز میٹھی ہے۔
۸ اپنے مکان سے آوارہ اِنسان اُس چڑیا کی مانند ہے جو اپنے آشیانہ سے بھٹک جٓائے ۔
۹ جیسے تیل اور عطرسے دِل کو فرحت ہوتی ہےویسے ہی دوست کی دِلی مشورت کی شیرینی سے۔
۱۰ اپنے دوست اور اپنے باپ کے دوست کو ترک نہ کر اور اپنی مصیبت کے دِن اپنے بھائی کے گھر نہ جٓا کیونکہ ہمسایہ جو نزدیک ہو اُس بھائی سے جو دُور ہو بہتر ہے۔
۱۱ اَے میرے بیٹے! دانا بن اور میرے دِل کو شاد کر تاکہ میں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکوں ۔
۱۲ ہوشیار بلا کو دیکھکر چھپ جٓاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جٓاتے اور نقصان ُٹھاتے ہیں۔
۱۳ جو بیغانہ کا ضامن ہو اُسکے کپڑے چھین لے اور جو اجنبی کا ضامن ہو اُس سے کچھ گرو رکھ لے۔
۱۴ جو صبح سویرے اُٹھ کر اپنے دوست کے لئے بلند آواز سے دعا ی خیر کرتا ہے اُسکے لئے یہ لعنت محسوب ہوگی۔
۱۵ جھڑی کے دِن کا لگاتار ٹپکا اور جھگڑالوبیوی یکسان ہیں۔
۱۶ جو اُسکو روکتا ہے ہوا کو روکتا ہے اور اُسکا داہنا ہاتھ تیل کو پکڑتا ہے۔
۱۷ جس طرح لوہا لوہے کو تیز کرتا ہے اُسی طرح آدمی کے دوست کے چہرہ کی آب اُسی سے ہے ۔
۱۸ جو انجیر کے درخت کی نگہبانی کرتا ہے اُسکا میوہ کھا ئیگا اور جو اپنے آقا کی خدمت کرتا ہے عزت پائیگا۔
۱۹ جس طرح پانی میں چہرہ چہرہ سے مشابہ ہے اُسی طرح آدمی کا دِل آدمی سے۔
۲۰ جس طرح پاتال اور ہلاکت کو آسودگی نہیں اُسی طرح اِنسان کی آنکھیں سیر نہیں ہوتیں۔
۲۱ جیسے چاندی کے لئے کٹھالی اور سونے کے لئے بھٹی ہے ویسے ہی آدمی کے لئے اُسکی ستایش ہے۔
۲۲ اگرچہ تو احمق کو اناج کے ساتھ اُکھلی میں ڈالکر موسل سے کوٹے توبھی اُسکی حمایت اُس سے کبھی جدا نہ ہوگی۔
۲۳ اپنے ریوڑوں کا حال دریافت کرنے میں دِل لگا اور اپنے گلوں کو اچھی طرح سے دیکھ
۲۴ کیونکہ دولت سدا نہیں رہتی اور کیا تا جوری پشت درپشت قائم رہتی ہے؟
۲۵ سوکھی گھاس جمع کی جٓاتی ہے۔پھر سبزہ نمایاں ہوتا ہےاور پہاڑوں پر سے چارہ کاٹ کر فراہم کیا جٓاتا ہے۔
۲۶ برے تیر ی پوشش کے لئے ہیں اور بکریاں تیرے میدانوں کی قیمت ہیں
۲۷ اور بکریوں کا دودھ تیری اور تیرے خاندان کی خوراک اور تیری لونڈیوں کی گذران کے لئے کافی ہے۔