۶۔ اجور کے پیغام کی باتیں (باب ۳۰)
۳۰:۱ اجور کے بارے میں جو معلومات ہمیں میسر ہیں وہ تمام اِسی باب میں ملتی ہیں۔ اُس کے باپ کا نام یاقہ تھا۔
۳۰:۲ اجور اِس اعتراف کے ساتھ آغاز کرتا ہے کہ وہ فہم حاصل کرنے کے قابل نہیں ہے۔ بظاہر یہ حقیقی حلیمی کا بیان ہے یعنی ہر اُس شخص کا مناسب رویہ ہے جو خدا کے کام اور اُس کی راہوں کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کا متمنی ہے۔
۳۰:۳ وہ اِس بات کا دعویٰ نہیں کرتا کہ اُس نے حکمت سیکھ لی ہے یا یہ کہ اِنسانی طور پر تلاش کر کے خدا کو پا لیا ہے۔ وہ اِس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اُس کے اندر خدائے قدوس کا عرفان حاصل کرنے کی قدرت نہیں۔
۳۰:۴ وہ کئی سوال پوچھ کر خدا کی عظمت جو قدرتی چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے کا بیان کرتا ہے۔ پہلا سوال بتاتا ہے کہ خدا کو کائنات کی اِنتہائی بلندی اور گہرائی پر رسائی حاصل ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کوئی بھی اِنسان پہنچ نہیں سکتا۔ دوسرا سوال بتاتا ہے کہ اُس کو کائنات کی ایک بہت بڑی قوت یعنی ہوا پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ تیسرا سوال ظاہر کرتا ہے کہ خدا پانی کو قابو میں رکھ کر کتنا قدرت والا ہے۔ وہ پانی کو بادل کی صورت میں زمین کے اُوپر کنٹرول کرتا ہے یا زمین پر بڑے بڑے سمندروں میں رکھ کر قابو کرتا ہے۔ اگلا سوال بتاتا ہے کہ اُس نے زمین کی حدود مقرر کی ہیں۔ آخری حصہ کہتا ہے، ’’اگر تُو جانتا ہے تو بتا اُس کا کیا نام ہے اور اُس کے بیٹے کا کیا نام ہے؟‘‘ اِس کے پیچھے خیال یہ ہے کہ ’’کون عقل سے ماورا، اِس قدر پُراَسرار، قادرِ مطلق، ہر وقت ہر جگہ موجود عظیم ہستی کو کُلی طور پر جان سکتا ہے؟‘‘ اِس کا جواب ہے، ’’کوئی بھی اُس کو مکمل طور پر سمجھنے کا اہل نہیں ہے۔‘‘ لیکن ہم یہ تو جانتے ہیں کہ اُس کا نام خداوند (یہوواہ) ہے اور اُس کے بیٹے کا نام خداوند یسوع مسیح ہے۔
یہ عبارت بہت سے یہودیوں کو حیران کر دیتی ہے کیونکہ اُنہیں تو ہمیشہ سے یہی سکھایا گیا ہے کہ خدا کا کوئی بیٹا نہیں۔ اِس آیت سے عہد عتیق کو ماننے والے سمجھ سکتے تھے کہ خدا کا کوئی بیٹا ہے۔
۳۰:۵ اجور اب فطرت میں خدا کے مکاشفے کو چھوڑ کر کلام میں اُس کے مکاشفے کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ دعوے سے کہتا ہے کہ خدا کا پاک کلام خطا سے پاک ہے __ ’’خدا کا ہر ایک سخن پاک ہے۔‘‘ اِس کے بعد وہ بائبل مقدس پر ایمان رکھنے والوں کے تحفظ کا ذِکر کرتا ہے __ ’’وہ اُن کی سپر ہے جن کا توکل اُس پر ہے۔‘‘
۳۰:۶ اگلی آیت بتاتی ہے کہ خدا کا کلام ہر طرح سے کافی ہے یعنی اِس میں کسی قسم کی کمی بیشی کی ضرورت نہیں۔ اِس لئے کسی بھی اِنسان کو خدا کے کہے ہوئے میں کسی قسم کے خیال اور تصور کو بڑھانے کی جرأت نہیں کرنی چاہئے۔ یہ آیت اُن بدعتوں کی مذمت کرتی ہے جو اپنی تحریروں اور روایات کو وہی مقام و اِختیار دیتے ہیں جو بائبل مقدس کو حاصل ہے۔
۳۰:۷۔۹ اِن آیات میں اَمثال کی کتاب میں پائی جانے والی واحد دعا ملتی ہے۔ دعا مختصر اور مخصوص نکات پر مرکوز ہے۔ اِس میں دو درخواستیں موجود ہیں۔ ایک کا تعلق روحانی زندگی سے اور دوسری کا جسمانی زندگی سے۔
اوّل، اجور چاہتا ہے کہ اُس کی زندگی مفید اور راست ہو۔ وہ اِسے معمولی چیزوں کی سوچ و فکر کے پیچھے ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ وہ زندگی کی چھوٹی موٹی باتوں میں اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہتا۔ وہ نہ دوسروں کو دھوکا دینا چاہتا ہے اور نہ دوسروں سے دھوکا کھانا چاہتا ہے۔
جسمانی زندگی کے تعلق سے وہ کہتا ہے کہ خدا اُسے نہ بہت زیادہ دولت مند بنا دے اور نہ بہت زیادہ کنگال کر دے۔ اگر اُس کی روزمرہ کی ضروریات پوری ہوتی رہیں تو اُس کے لئے یہی تسلی بخش ہے۔ درحقیقت وہ کہہ رہا تھا، ’’میری روز کی روٹی مجھے آج بخش دے۔‘‘
آگے چل کر وہ اُن وجوہات کو بیان کرتا ہے جن کی وجہ سے وہ دولت مند اور کنگال نہیں ہونا چاہتا۔ اگر وہ ہر طرح سے آسودہ ہو جائے تو ممکن ہے وہ یہ سمجھنے لگ پڑے کہ اُسے خدا کی بھی ضرورت نہیں اور یوں وہ اُس کا منکر ہو جائے۔ وہ کہنے لگ پڑے، ’’خداوند کون ہے؟‘‘ یعنی ’’وہ کون ہے کہ مَیں اپنی ضروریات کے پورا ہونے کے لئے اُس کی طرف توجہ کروں؟‘‘
دوسری طرف کنگال ہونے میں بُرائی یہ ہے کہ وہ اپنی محتاجی میں چوری کرے اور پھر اُس پر پردہ ڈالنے کے لئے قسم کھا کر کہے کہ اُس نے چوری نہیں کی۔
۳۰:۱۰ اِس آیت میں موضوع اچانک بدل جاتا ہے۔ اجور خبردار کرتا ہے کہ نوکر پر اُس کے مالک کے سامنے تہمت نہ لگا۔ اِس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ وہ تجھ پر لعنت کرے اور تُو مجرم ٹھہرے۔ ایسا اِس لئے ہو جائے گا کیونکہ خدا مسکینوں کا دفاع کرتا ہے۔ نیا عہدنامہ ہمیں خداوند کے خادموں پر الزام لگانے سے خبردار کرتا ہے، کیونکہ اُن کا قائم رہنا یا گر پڑنا اُن کے مالک یعنی خدا سے تعلق رکھتا ہے (رومیوں ۱۴:۴)۔
۳۰:۱۱ جس پشت کا اِس آیت میں ذِکر ملتا ہے وہ بڑی حد تک موجودہ دَور اور آنے والے اخیر زمانے کے لوگوں سے ملتی ہے (۲۔تیمتھیس۳:۱۔۷)۔ درج ذیل خصوصیات پر غور فرمائیں:
ماں باپ کے نافرمان: وہ اپنے باپ پر لعنت کرتے ہیں اور ماں کے بالکل شکرگزار نہیں۔ اِس طرح وہ پانچویں حکم کو توڑتے ہیں۔ اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور اُن کی عزت نہ کرنا ہمارے آج کے دَور کے نوجوان بچوں کی نمایاں خصوصیت بن گئی ہے۔
۳۰:۱۲ اپنی نگاہ میں پاک: یہ لوگ نہایت بُرے اور ناپاک لوگ ہیں، لیکن اُن میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں۔ باہر سے وہ سفیدی پھری ہوئی قبریں ہیں مگر اندر مُردہ ہڈیاں پڑی ہیں۔
۳۰:۱۳ مغرور و گھمنڈی: یہ وہ لوگ ہیں جو ربی شمعون بن یوکائی سے بہت ملتے ہیں۔ اُس نے کہا، ’’اگر دُنیا میں کوئی دو راست باز شخص موجود ہیں تو وہ مَیں اور میرا بیٹا ہیں اور اگر صرف کوئی ایک راست باز شخص ہے تو وہ مَیں ہوں۔‘‘
۳۰:۱۴ نہایت ظالم: اپنے لالچ کی بھوک میں جو کبھی ختم نہیں ہوتی وہ غریبوں کو چیرتے پھاڑتے اور ہڑپ کر جانے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ غریبوں سے سارا سارا دن محنت کرواتے ہیں، مزدوری بہت تھوڑی دیتے ہیں۔ اُن کے ہاں کام کرنے کا ماحول نہایت ہی گھٹیا ہے اور وہاں ہر طرح کی سماجی نااِنصافی ہوتی ہے۔
۳۰: ۱۵،۱۶ پچھلی آیت میں مذکور ظالم شخص کا لالچ ایسی خواہشات تک لے جاتا ہے جو کبھی بھی پوری نہیں ہوتیں۔
- بتایا گیا ہے کہ جونک کی دو بٹیاں ہیں جن میں خون چوسنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ وہ دونوں بیٹیاں کہتی ہیں ’’دے! دے! دے!‘‘
- پاتال کبھی ’’نہیں‘‘ نہیں کہتا۔ موت کبھی بھی چھٹی پر نہیں جاتی، اور قبر مزید کسی اَور کو لینے سے اِنکار نہیں کرتی۔
- بانجھ رِحم کبھی بھی اپنے بانجھ پن کو قبول نہیں کرتا بلکہ متواتر یہی اُمید رکھتا ہے کہ ایک دن وہ بھی اولاد پیدا کر سکے گا۔
- بے سیراب زمین کبھی بھی پانی جذب کرنے سے باز نہیں آتی خواہ کتنی ہی بارش کیوں نہ ہو۔
- آگ کبھی بھی ’’بس‘‘ نہیں کہتی۔ ایندھن ڈالتے جائیں گے اور یہ بڑھتی جائے گی۔
یہ اصطلاح، ’’تین ہیں … بلکہ چار ہیں…‘‘ نقطۂ عروج تک لانے کا ادبی فارمولا ہے۔ کسی عالم نے کہا ہے کہ چار کا عدد زمینی یا کائناتی کاملیت کا عدد ہے (جیسے کہ زمین کے چار کونے)۔
۳۰:۱۷ یہ مثل دیگر اَمثال سے علیٰحدہ معلوم ہوتی ہے اگرچہ آیت ۱۱ سے ملتی جلتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ جو بیٹا اپنے باپ کی ہنسی اُڑاتا ہے اور اپنی ماں کا نافرمان ہے ناگہان برباد ہو گا اور اُسے باعزت کفن دفن بھی نصیب نہیں ہو گا۔ یہودی دستور میں اگر کسی کو باعزت تدفین نصیب نہ ہوتی تو یہ اُس شخص کے لئے نہایت ہی رُسوائی اور المیہ کی بات ہوتی تھی۔ اِس آوارہ بیٹے کی لاش کو کوّے اور گدھ کے بچے کھائیں گے۔
۳۰:۱۸،۱۹ اجور یہاں چار عجیب باتوں کا ذِکر کرتا ہے۔ اِن کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں شک گزرتا ہے کہ اِن کے استعمال کے پیچھے کوئی روحانی مماثلت ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ وہ روحانی مماثلت کیا ہے؟ اور کون سی مشترک بات اُن کو اکٹھا کئے ہوئے ہے؟ علما کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ چاروں چیزیں اپنے پیچھے کوئی نشان نہیں چھوڑتیں۔ اِس کی تصدیق آیت ۲۰ میں مذکور زانیہ کے طریقے سے ہوتی ہے۔
- عقاب کی راہ ہوا میں: اِس میں ہم اُڑان کو دیکھ کر حیرت زدہ ہوتے ہیں۔ عقاب کی خوبصورتی اور رفتار تمثیلی طور پر استعمال ہوئے ہیں۔
- سانپ کی راہ چٹان پر: یہاں حیرت کی بات سانپ کی حرکت میں ہے۔ اُس کے پاس ٹانگیں، بازو یا پر کچھ بھی نہیں تو بھی وہ بڑی شتابی سے چٹانوں پر رینگتا ہے۔
- جہاز کی راہ سمندر میں: ممکن ہے کہ یہاں ’’جہاز‘‘ کو شاعرانہ ڈھب میں مچھلی کی جگہ استعمال کیا گیا ہے (دیکھیں زبور ۱۰۴:۲۶)۔ اجور سمندر میں جہاز رانی کی نزاکت سے حیران ہے۔
- مرد کی رَوِش جوان عورت کے ساتھ: اِس کی سادہ سی وضاحت تو یہ ہے کہ مرد جوان عورت کی طرف راغب ہوتا ہے اور اُس سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض مفسرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اِس سے مراد مرد کا جنسی خواہشات پوری کرنے کی خاطر جوان عورت کو ورغلانا اور پھسلانا ہے۔
۳۰:۲۰ پانچویں حیرت کی بات زانیہ کا اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کا طریقہ ہے۔ وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے بعد ایسے ظاہر کرتی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور وہ بالکل معصوم ہے۔
۳۰:۲۱۔۲۳ یہاں چار ناقابلِ برداشت چیزوں کی فہرست بتائی گئی ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے زمین لرزاں ہے۔
- غلام جو بادشاہی کرنے لگ جاتا ہے: وہ نئے مرتبے کے نشے میں دُھت بڑا مغرور اور گھمنڈی بن جاتا ہے۔
- احمق جب اُس کا پیٹ بھرے: اُس کی مالی ترقی اُسے بہت زیادہ مغرور اور گستاخ بنا دیتی ہے۔
- نامقبول عورت جب بیاہی جائے: عام حالات میں وہ اپنی نامقبولیت کی وجہ سے بیاہی نہیں جائے گی، لیکن خوش قسمتی سے اُس کی شادی ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد وہ بڑی منہ زور، گھمنڈی اور دوسروں کا تمسخر اُڑانے والی بن جاتی ہے۔ وہ اُن لڑکیوں کو بہت مذاق کرتی ہے جو ابھی تک کنواری ہیں۔
- لونڈی جو اپنی بی بی سے ترقی کر جائے: اُسے نہیں معلوم کہ اِس نئے مقام پر اُس کا رویہ کیسا ہونا چاہئے۔ وہ سلیقے، محبت، نرم زبانی سے بولنے کے بجائے غصیلی، مغرور اور بدتمیز بن جاتی ہے۔
۳۰:۲۴ اب اجور اُن چار چیزوں کی طرف رجوع کرتا ہے جو اپنے سائز کے مقابلے میں بہت زیادہ حکمت کی مالک ہیں۔
۳۰:۲۵ چیونٹیاں۔ چھوٹی اور حقیر سی مخلوق ہیں تو بھی گرمیوں کے مہینے میں اپنے آپ کو بہت مصروف رکھتی ہیں۔ چیونٹیوں کی کئی اقسام ہیں اور اُن میں سے بہت سی چیونٹیاں سردیوں کے موسم میں خوراک فراہم نہیں کرتیں کیونکہ ایک تحقیق کے مطابق سردیوں کے موسم میں وہ ایک جگہ اکٹھی ہو کر سو کر گزارتی ہیں۔ آیت میں تاکید چیونٹیوں کے خوراک جمع کرنے کے لئے مصروف رہنے کے نکتے پر ہے۔
۳۰:۲۶ سافان فطرتی طور پر ناتوان مخلوق ہیں، لیکن وہ اِتنی سمجھ رکھتے ہیں کہ چٹانوں کے بیچ پناہ تلاش کر لیتے ہیں۔
۳۰:۲۷ ٹڈیوں کا بظاہر کوئی حکمران نظر نہیں آتا، تو بھی وہ بڑی ترتیب سے چلتی پھرتی ہیں۔
۳۰:۲۸ چھپکلی ایک چھوٹا سا جانور ہے، لیکن بادشاہوں کے محل میں رہتی ہیں۔ مسیحیوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اپنی حقیر سی حیثیت کے باوجود وہ اہم جگہوں پر ہوتے ہیں۔ خدا نے کبھی بھی اپنے آپ کو اہم اور نمایاں جگہوں مثلاً شاہی محل وغیرہ میں بے گواہ نہیں چھوڑا۔
۳۰:۲۹۔۳۱ آخر میں خوش رفتاری اور چلنے میں خوش نمائی کی چار مثالیں ملتی ہیں۔
- ببر شیر جانوروں کا بادشاہ اپنی چال ڈھال میں بڑا بارُعب اور مطمئن۔
- دوسری مثال کے بارے میں یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ کون سا جانور ہے۔ اُردو ترجمے میں اِسے جنگی گھوڑا کہا گیا ہے۔ وہ بھی اپنی تیز رفتاری کی وجہ سے بہت متاثر کن ہے۔
- تیسری مثال بکرے کی ہے جو بڑی شان سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا گلّے کے آگے آگے چلتا ہے۔
- چوتھی مثال کے بارے میں بھی کچھ شکوک پائے جاتے ہیں کہ اِس کا ترجمہ کس طرح ہونا چاہئے۔ ہمارے اُردو ترجمے میں آیا ہے ایسا ’’بادشاہ جس کا سامنا کوئی نہ کرے‘‘ یا ایسا ’’بادشاہ جو اپنی فوج کے ہمراہ ہے۔‘‘ ترجمہ کچھ بھی ہو بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بادشاہ بڑی عظمت اور وقار کے ساتھ چل رہا ہے۔
۳۰:۳۲،۳۳ یہ باب اِن دو آیات کے ساتھ اِختتام کو پہنچتا ہے۔ تاہم اِن آیات کا پچھلی آیات کے ساتھ کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ مفہوم بڑا سیدھا سادا ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی حماقت میں خدا کے خلاف کچھ کہہ یا کر دیتا ہے یا اُس نے کوئی خیال ہی سوچا ہے تو اُسے حکمت سے کام لیتے ہوئے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لینا چاہئے کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یقیناًاِس کا کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا۔ جس طرح دودھ بلونے سے مکھن نکلتا ہے اور ناک مروڑنے سے لہو، اِسی طرح غصہ بھڑکانے سے لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ یاقہ کے بیٹے اجور کے پیغام کی باتیں اُس آدمی نے اِتی ایل ہاں اِتی ایل اور اُکال سے کہا
۲ یقیناًمیں ہر ایک اِنسان سے زیادہ حیوان ہوں اور اِنسان کا سا فہم مجھ میں نہیں ۔
۳ میں نے حکمت نہیں سیکھی اور نہ مجھے اُس قدوس کا عرفان حاصل ہے۔
۴ کون آسمان پر چڑھا اور پھر نیچے اُترا ؟کس نے ہوا کو اپنی مٹھی میں جمع کر لیا؟ کس نے پانی کو چا در میں باندھا؟ کس نے زمین کی حد ود ٹھہرائیں ؟اگر تو جٓانتا ہے تو بتا اُسکا کیا نام ہےاور اُسکے بیٹے کا کیا نام ہے؟
۵ خدا کا ہر ایک سخن پاک ہے۔وہ اُنکی سپر ہے جنکا توکل اُس پر ہے
۶ تو اُسکے کلام میں کچھ نہ بڑھانا۔مبادا وہ تجھکو تنبیہ کرے اور تو جھوٹا ٹھہرے ۔
۷ میں نے تجھ سا دو باتوں کی درخواست کی ہے میرے مرنے سے پہلے اُنکو مجھ سے دریغ نہ کر۔
۸ بطالت اور دروغگوئی کو مجھ سے دور کردے اور مجھ کو نہ کنگال کر نہ دولتمند ۔میری ضرورت کے مطابق مجھے روزی دے۔
۹ اَیسا نہ ہو کہ میں سیر ہوکر اِنکا ر کروں اور کہوں خداوند کون ہے؟ یا مبادا محتاج ہو کر چوری کروں اور اپنے خدا کے نام کی تکفیر کروں ۔
۱۰ خادم پر اُسکے آقا کے حضور تہمت نہ لگا تانہ ہو کہ وہ تجھ پر لعنت کرے اور تو مجرم ٹھہرے ۔
۱۱ ایک پشت اَیسی ہے جو اپنے باپ پر لعنت کرتی ہے اور اپنی ماں کو مبارک نہیں کہتی ۔
۱۲ ایک پشت اَیسی ہے جو اپنی نگاہ میں پاک ہے لیکن اُسکی گندگی اُس سے دھوئی نہیں گئی ۔
۱۳ ایک پشت اَیسی ہے کہ واہ وا کیا ہی بلند نظر ہے!اور اُنکی پلکیں اُوپر کو اُٹھی رہتی ہیں۔
۱۴ ایک پشت اَیسی ہے ج س کے دانت تلواریں ہیں اور ڈاڑھیں چھریاں تاکہ زمین کے مسکینوں اور بنی آدم کے کنگالوں کو کھا جٓائیں۔
۱۵ جو نک کی دو بیٹیاں ہیں جو دے !دے!چلاتی ہیں۔تین ہیں جو کبھی سیر نہیں ہوتیں بلکہ چار ہیں جو کبھی “بس ” نہیں کہتیں ۔
۱۶ پاتال اور بانجھ کا رحم اور زمین جو سیراب نہیں ہوئی اور آگ جو کبھی “بس”نہیں کہتی ۔
۱۷ وہ آنکھ جو اپنے باپ کی ہنسی کرتی ہے اور اپنی ماں کی فرمانبرداری کو حقیر جٓانتی ہے وادی کے کوے اُسکو اُچک لے جٓائینگے اور گدھ کے بچے اپسے کھا ئینگے ۔
۱۸ تین چیزیں میرے نزدیک بہت ہی عجیب ہیں بلکہ چار ہیں جنکو میں نہیں جٓانتا ۔
۱۹ عقاب کی راہ ہوا میں اور سانپ کی راہ چٹان پر اور جہاز کی راہ سمندر میں اور مرد کی روش جوان عورت کے ساتھ ۔
۲۰ زانیہ کی راہ اَیسی ہی ہے ۔وہ کھاتی ہے اور اپنا منہ پونچھتی ہے اور کہتی ہے میں نے کچھ برائی نہیں کی ۔
۲۱ تین چیزوں سے زمین لرزان ہے بلکہ چار ہیں جنکی وہ برداشت نہیں کر سکتی ۔
۲۲ غلام سے جو بادشاہی کرنے لگے اور احمق سے جب اُسکا پیٹ بھرے
۲۳ اور نامقبول عورت سے جب وہ بیاہی جٓائے اور لونڈی سے جو اپنی بی بی کی وارث ہو۔
۲۴ چار ہیں جو زمین پر ناچیز ہیں لیکن بہت دانا ہیں۔
۲۵ چیونٹیا ں کمزور مخلوق ہیں تو بھی گرمی میں اپنے لئے خوراک جمع کر رکھتی ہیں
۲۶ اور سافان اگرچہ ناتوان مخلوق ہیں تو بھی چٹانوں کے درمیان اپنے گھر بناتے ہیں
۲۷ اور ٹڈیاں جنکا کوئی بادشاہ نہیں تو بھی پرے باندھ کر نکلتی ہیں
۲۸ اور چھپکلی جو اپنے ہاتھوں سے پکڑتی ہے اور تو بھی شاہی محلوں میں ہے۔
۲۹ تین خوش رفتار ہیں بلکہ چار جنکا چلنا خوشنما ہے ۔
۳۰ ایک تو شیر ببر جو سب حیوانات میں بہادر ہے اور کسی کو پیٹھ نہیں دِکھاتا ۔
۳۱ جنگی گھوڑا اور بکرا اور بادشاہ جس کا سامنا کوئی نہ کرے۔
۳۲ اگر تو نے حمایت سے اپنے آپ کو بڑا ٹھہرایا ہے یا تو نے کوئی برا منصوبہ باندھا ہے تو ہاتھ اپنے منہ پر رکھ
۳۳ کیونکہ یقیناًدودھ بلونے سے مکھن نکلتا ہے اور ناک مروڑنے سے لہو ۔اِسی طرح قہر بھڑکا نے سے فساد برپا ہوتا ہے۔